’میرادم گھٹ رہا ہے ، میں سانس نہیں لے سکتا‘

پچھے تین مہینوں سے ہر روز ایک ہی خبر سب سے بڑی اور سب سے اہم رہی ہے اور وہ تھی کرونا وائرس متا ثرین کی تعدا د اور اموات ۔ دوسری بڑی خبریں بھی کرونا سے متعلق ہی ہوا کرتی تھی ۔دنیا کے کس ملک کی کیا حالت ہوگئی ہے ۔ معیشت پر اس کے کیا اثرات ہیں ۔ ویکسین تیار ہونے کے کیا امکانات ہیں ۔غرض اس کے سوا مشکل سے ہی کچھ اور سننے اور دیکھنے کو ملتا تھا اور عام انسان کا ذہن بھی اس کے علاوہ کچھ اور سوچنا گوارا نہیں کرتا تھا ۔عام سوچ یہ تھی کہ کرونا وائرس اس کائنات کو پیدا کرنے والے خالق کی طرف سے انسان کی بداعمالیوں سزا ہے۔ہر مذہب اور ہر عقیدے کے معلم توبہ کرنے اور دعا کرنے کی تلقین کررہے تھے ۔ایسے میں امریکہ میں ایک سیاہ فام وکیل کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کا ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے عالم انسانی کے رونگٹے کھڑے کردئیے ۔واقعہ کا ویڈیو وائرل ہوا تو عالم انسانی نے دیکھا کہ دنیا کی سب بڑی جمہوری

مسئلہ فلسطین اور امام خمینی

جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے ساتھ ہی ایک نئی دنیا سامنے آئی تاہم برطانوی سامراج نے اپنے پائوں سمیٹنے سے قبل برصغیر کی تقسیم اور دنیا بھر سے یہودیوں کو مجتمع کرکے مقدس سرزمین فلسطین پر ایک یہودی ریاست قائم کرکے دو ایسے مسائل کو جنم دیا جن پر نہ صرف کئی جنگیں لڑی گئیں بلکہ آج بھی کئی ممالک ان سے بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں۔خاص طور پر بالفور معاہدے سے جنم لینے والے مسئلہ فلسطین نے عالم اسلام کیلئے ایک نئی پریشانی کھڑی کردی جس کا اسرائیلی ریاست کے باقی رہتے ہوئے کوئی حل دکھائی نہیں دیتاہے۔یورپ اور دیگر سامراجی طاقتوں کی مدد سے 1948میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کرلیاجو ہر گزرتے دن کے ساتھ وسیع ہی ہوتاجارہاہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر دوسرے ممالک میں مہاجرین کی زندگی بسر کرناپڑرہی ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول صہیونیوں کی دسترس میں جاچکاہے۔ اگرچہ ابتدامیں ک

گوشہ اطفال

نظم سدا اپنے بزرگوں کا کہا مانو مرے بچو  حقیقت زندگانی کی ذرا جانو مرے بچو  عمل ماں باپ کی باتوں پہ کرتے رہنا تم ہر دم نصیحت اپنے استادوں کی بھی مانو میرے بچو  لگا کر دل کتابوں سے ترقی کا سبق پڑھنا ہمیشہ اپنی ہی محنت کا پھل کھالو مرے بچو  ہوا نفرت کی پھیلاتے ہیں جو الفت کی دنیا میں  ارادوں پر ذرا ان کے کفن ڈالو مرے بچو  جہاں تعلیم ملتی ہے چراغوں کو جلانے کی  سکولوں میں ترانے شکر کے گالو مرے بچو  نئی کروٹ بدل ڈالی ہے نفرت نے یہاں عادلؔ  یہاں اب گیت اُلفت کے تم ہی گالو مرے بچو اشرف عادل کشمیر یونیورسٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   بوجھو تو جانیں…! 1۔باپ نے بیٹے کو ایک چیز دی اور کہا، بھوک لگے کھالینا، پیاس لگے پی لینا، سردی لگے جلالینا۔ بتائیں کیا چیز ہے؟ 2۔ایک ج

تازہ ترین