تطبیق کی بجائے اِدغام کی پالیسی

ماہر معاشیات حسیب درابو کے "ایئر برشنگ عبد اللہ" کے عنوان سے کالم (11 مارچ ، 2020  گریٹر کشمیر) کی عصر حاضر کی شکاری ریاست کی فطرت کو دیکھتے ہوئے زیادہ عمر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر درابو کیلئے فوری پس منظر وہ تھا جس کے ذریعے شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش کی سرکاری تعطیل کو سرکاری تعطیلات کی فہرست سے باہر کیاگیا لیکن اسی وقت چنانی۔ناشری ٹنل کا نام شیاما پرساد مکھرجی ٹنل رکھا گیا۔ ایک سیاسی نام ہٹا نا اور دوسرا لایا جانا یقینی طور پر یہ ایک سیاسی / نظریاتی عمل ہے ،نہ کہ کوئی معمول کا معاملہ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 میںایک اعلامیہ جاری کیاجس میں ریاست کے "پشتینی باشندے" تصور کئے جانے والے شہریوںکیلئے حقوق ، اختیارات اور مراعات کی وضاحت کی گئی۔کیا ایسا معاملہ ہے کہ جموںوکشمیر تنظیم نو قانون2019کے تحت بنائے گئے نئے اقامتی قواعد نے مہاراجہ کو بھی ’’ایئر برش &lsq

چپہ چپہ ہے زرخیز میرے کشمیر کا

آج جبکہ اسرائیل جیسے صحرائی ملک نے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاکر ریگزاروں میں سبزیاں ،پھل اور دیگر زرعی پیداوار اگانا شروع کردیا ہے کہ ان میں چند ایک اشیاء برآمد بھی کرتا ہے تو مختلف فصلوں کیلئے موزون آب و ہوا اور موسمی حالات سے مزین جموں و کشمیر اپنی زمینوں سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ انسان کو زندگی گزارنے کیلئے جن بنیادی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ان میں خوراک ، لباس اور رہائش شامل ہیں۔چونکہ ان اجزا کا تعلق براہِ راست زراعت سے ہے ،اسلئے کسی بھی یا ریاست کیلئے زراعت کلیدی اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔ زراعت کا شعبہ نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے اورمعیشت کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔ کوروناوائرس کے نتیجے میں پیداشدہ معاشی بحران سے مستقبل میں غذائی تحفظ (فوڈسیکورٹی)اہم

زندگی آمد برائے بندگی

قسمت،تقدیر اور مقدّریہ تینوں الفاظ بالعموم ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ان سے مراد انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں۔یہ موضوع بحث طلب نہیں ہے بلکہ غور طلب ہے۔اس موضوع پر اظہار خیال کرنے سے پہلے یہ جان لینا نہایت ضروری ہے کہ آدمی کے بْرے افعال کا تعلق مقدر کے ساتھ جوڑنا سراسر حماقت ہے۔بْرے اعمال ،بْری باتیں ،بْرے طور طریقے، بْری نیت کی پیداوار ہوتے ہیں۔دراصل قسمت، مقدراور تقدیر کا تعلق نیک ارادے میں کامیابی یا ناکامیابی سے ہے۔بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دْنیا کے بْر ے لوگ اپنی تمام بد اعمالیوں کو نوشتئہ تقدیر خیال کرتے ہیں یعنی اْن کے خیال میں نعوذباللہ تمام بْرے کام خدا کرواتا ہے۔انشااللہ خاں انشا  کا یہ شعر دل میں چبھن سی پیدا کرتا ہے کہ کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر  اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل وصو

تازہ ترین