’ارطغرل غازی ‘ کی دھوم کیوں؟ ! | تاریخی ڈرامہ کے کردار سچے اور آج بھی چلتے پھرتے

مسلم دنیا میں گذشتہ کچھ عرصہ سے ترک ڈرامہ ' ارطغرل غازی ' کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ڈرامہ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اور پسند کئے جانے والے سیریلوں کی فہرست میں نمایاں مقام تک پہنچ گیا ہے ۔لوگوں کی اکثر تعداد اس ڈرامہ کو انتہائی دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھتی ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اس کیخلاف سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں یہاں تک کہ اس کے ’شرعی اور غیر شرعی‘ پہلوئوں کو بھی زیر بحث لایا جارہا ہے۔البتہ ماہرین و تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ پر اعتراض جتانے والے اسلام میں فنونِ لطیفہ کے قائل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوںکی بھی کمی نہیں ہے جو سوشل میڈیا پر اس ڈرامہ کے فنکاروں کو اُن کی نجی زندگیوں کی بنا پر شدید تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ کچھ بھی ہو،سلطنت عثمانیہ کے بانی کی کہانی نے مسلمانان عالم کو اپنے سحر میں جکڑ لیاہے

عیش پرستی بربادی کا سبب، زندگی سے لڑنا شیوہ مسلمانی

عیش پرستی ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو انسان کے غیرت اور ہمت کو موت کی نیند سلا کر تباہ کرتا ہے۔اس بیماری سے انسان زندگی کے حقیقی مٹھاس سے بے خبر رہتا ہے۔اس لیے علامہ اقبال ؒ نوجوان کو کبھی شاہین کے اڑان کا پیغام دیتا ہے تو کبھی پہاڑ میں بسیرا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔عیش پرستی چھوڑ کر جب انسان کاہلی سے دور ہوکر ہمت سے کمر بستہ ہوتا ہے تو پھر وقت کے حالات اس کے تابع بن جاتے ہیں۔  ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تک  (ہمت والے انسان کے آگے اگر سمندر یا دریا بھی ہو وہ اس کو بھی ٹھکرا کر آگے جاتا ہے. اے کم ہمت اور عیش پرست انسان کب تک معمولی شبنم کے قطروں پر قناعت کرو گے. محنت اور ہمت سے اپنے عظمت کا سامان تیار کر) سماجی تحقیق سے جب انسان لوگوں کے حال واحول کو پڑھتا ہے تو پھر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جو لوگ زندگی کے سفر کے پ

عالمی معیشت کے سبھی ستون لرزہ براندام | کورونا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے اب تک دنیا پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں اور اس وبا کے ختم ہونے کے بعد کی دنیا کیسے ہو گی ،یہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال ہے۔سوال کے پہلے حصہ کا جواب تلاش کرنے کے لیے ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے موجودہ اعداد و شمار پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ وبا کے بعد کی دنیا کیا ہو گی؟ یہ سوال کا دوسرا حصہ ہے، جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے دنیا کے معتبر اور نامور ماہرین اقتصادیات کی پیش گوئیوں اور تجزیوں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح موجودہ اور بعد کی دنیا کے بارے میں جو خاکے بن رہے ہیں، وہ معاشی ہیں۔ ان کی فلسفیانہ اور سیاسی تو ضیحات کے لیے ابھی شاید کچھ وقت درکار ہو گا۔دنیا بھر میں2ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے لاک ڈائون کے نتیجے میں تمام ملکوں کی معیشت خستہ ہوگئی ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین میں کورونا کا پہلا کیس نومبر2019 میں سامنے آیا تھا لیک

منشیات کے دلدل میں دھنسا کشمیری معاشرہ

آج کل منشیات نے سماج کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ 27 دسمبر 2019کو حکومت جموں و کشمیر حکومت کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ افراد منشیات کے دلدل میں پھنس چکے ہیں جنہیں علاج و معالجہ کے علاوہ پیشہ وارانہ مدد کی نہایت ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 99607 افراد شراب نوشی کے شکار ہیں جبکہ 25731 گانجہ، 124508 فکی، 2401 سیڑیٹیویز، 29882 انہالینٹس، 831 اے ٹی ایس کے شکار ہیں اور 25098 انجکشن کے ذریعے منشیات کو جسم میں براہ راست داخل کرنے والے مریض بن چکے ہیں۔ اسی طرح باقی منشیات کے مد مقابلہ میں ہیروئن (Heroin) کا استعمال وادی کشمیر میں کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ رجسٹرڈ مریضوں میں سے 90 فی صدی ہیروئن کے شکار ہے جن میں 20 سے 30 فی صدی اس مہلک و جان لیوا نشہ کو براہ راست انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں۔

بیروزگار ی اور ناقص حکومتی پالیسیاں | دردِ سرکہیں دردِ جگر نہ بن جائے

معاشرے کا سب سے اہم اور پیچیدہ مسئلہ بیروزگاری ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ایک معاشرے کے علاوہ ملکی معیشت کو بھی ایک دھیمک کی طرح کھوکھلا کردیتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بھی آئے روز بیروزگاری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس سے ہماری نوجوان نسل ذہنی بیماری میں مبتلا ہورہی ہے اور کئی اپنی بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی جیسے اقدامات بھی اٹھارہے ہیں اور بیروزگاری کو سماجی ناسور بھی سمجھا جاتا ہے۔  سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی نامی ادارہ کی ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی شرح فیصد 24.3سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ لیبر کے مطابق اپریل کے مہینے میں لگ بھگ ایک سو دو لاکھ لوگ وبائی بیماری کویڈ۔ 19کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ کے مطابق بیروزگاری کی شرح فیصد مئی کے مہینے میں29فیصد ہوگئی ہے جبکہ یہ

جدید معاشرے میں حساس ذہنیت کے لوگ آخر کہاں جائیں؟

جب جب دنیا میں ظلم و بر بریت کا دور شروع ہوجا تا ہے تو مظلوم سہم کر رہ جاتے ہیں ۔اس وقت انسانیت انسانوں سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے اور ظالم ،ظلم پر ظلم ڈھاتے جاتے ہیں ۔اس ظلم و بر بریت کا دوسرا نام جہالت بھی ہے ۔مالکِ کائنات نے بندوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔روزی روٹی کا معاملہ اُس نے اپنے ذمہ لیا ہے ،مگر اس کے لیے پختہ یقین ہونا چاہیے ۔اسی طرح اگر ہم مُسلم اور مُنکر کے بیچ فرق کی بات کریں تو لفظ ’’مُسلم ‘‘کے لُغوی معنی ہیں اطاعت و فرماں برداری کرنے والا بندہ ۔ہر بندہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اُسے ایک عظیم طاقت والے نے اس ناپائیدار دنیا میں لایا ہے۔انسان خود نہیں آتا بلکہ ا سے لایا جاتا ہے ۔جس شخص نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اُس کا خالق ،مالک اور روزی رساں ایک خدا ہے تو وہ مُسلم کہلاتا ہے ۔ان جیسے بندوں کو ہم حساس یا باضمیر کہتے ہیں ۔یہ شرافت اور ن

تازہ ترین