اپنا مرے توزبان گنگ ،امریکی مرے تو واویلا

امریکہ کی ریاست مینے سوٹا میں 25مئی کو گرفتاری کے دوران افریقی نژاد امریکی سیاہ فام شہری جارج فلائڈ کی موت واقع ہونے سے پورے ملک میں بھوال مچ گیا ہے اور مظاہروں کا سلسلہ 25سے زائد ریاستوں تک پھیل گیا ہے۔ 46 سالہ جارج فلائڈدھوکہ دہی کے الزام میں حراست میں لئے جانے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی طرف سے طویل وقت تک گھٹنے سے گردن دبائے رکھنے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا۔فلائڈ کئی منٹ تک فریاد کرتا رہا تھا کہ ’اس کا دم گھٹ رہا ہے، اس کے سینے میں تکلیف ہورہی اور ایسی صورت میں وہ مرسکتا ہے‘ تاہم پولیس اہلکار اُس کی فریاد ماننے کو تیار نہیں ہے۔کئی شہریوں نے موبائل فونوں کے ذریعے اس واقعہ کو عکس بندی کیا اور واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کے ساتھ ساتھ لوگ سڑکوں پر آگئے اور ابھی تک پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو

دوہرا لاک ڈائون اور مفلوج تعلیمی نظام

پوری دنیاکیساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں عالمگیر وباء کی وجہ سے دیگر شعبوں کیساتھ ساتھ نظام تعلیم پوری طرح سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔اکثر ریاستوں اور خطوں میں کئی جماعتوں کے سالانہ امتحان کا وقت تھا لیکن وائر س کے پھیلا ئو کو روکنے کیلئے عائد پابندیوں کی وجہ سے اس نظام پر بھی روک لگ گئی ہے ۔یو جی سی کی جانب سے یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے امتحانات و کلاسز کے سلسلہ میں  رہنما ہدایات بھی جاری کی جارہی ہیں لیکن سب کوششوں کے باوجود نہ بچوں کے ذہن اورنہ ہی انتظامیہ آئن لائن سسٹم کیلئے تیار تھی اور نہ ہی ہمار ا تعلیمی نظام اس قدر معیاری ہے کہ پیدا شدہ صورتحال کے دوران وہ معمول کے مطابق آن لائن چل سکے ۔ملک میں اکثر سیمیناروں، کانفرنسوں اور تعلیمی اجتماعوں میں تعلیم کے معیار کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام طور پر جب تعلیمی معیار کا ذکر آتا ہے، تو سکولوں کی تعداد، ان می

بستہ ،کتابیں اور ہوم ورک نہیں، تو پھر کیا؟

کورونا وائرس لاک ڈائون کے بے شمار فائدے سامنے آرہے ہیں۔ ہمارا شعبہ تعلیم بھی اس لاک ڈائون کے چلتے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کرنے کی جستجو میں ہے ۔ چنانچہ دفاتر عوامی خدمات اور نجی مسئلوںکے نپٹانے کے لئے بند ہیں اور صرف انتظامی یا ایمرجنسی کام کاج ہورہا ہے ، جس کے چلتے محکمہ تعلیم بھی اپنے اندر بہت ساری اصلاحات لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ محکمہ کے اعلی آفسران اس کے لئے مبارک بادی کے مستحق ہیں۔  کئی سارے اسکولوں کے ہیڈماسٹرس کی اسامیاں کافی عرصے سے خالی تھیں، محکمہ تعلیم اُن خالی پڑی اسامیوں کو بھی اسی دوران پُر کر رہا ہے ۔ زونل ایجوکیشن افسران کی کئی ساری کرسیاں عرصہ سے خالی تھیں، ان کو بھی حتی المقدور طریقے سے پُر کر دیا جارہا ہے ۔ محکمہ کے اندر رشورت ستانی کی بدعت کا قلع قمع کرنے کے لیے انتظامی اسٹاف کا بھی ردو بدل کیا جارہا ہے ۔ ایسے ہی مزید اقدامات اٹھانے کی خبریں ابھ

جموں وکشمیر میں اُردو زبان

موجودہ حالات میں جموں وکشمیر میں کئی طرح کی بے چینیاں پائی جاتی ہیں۔جن میں ایک بے چینی یہ بھی ہے کہ  جموں و کشمیر میں اُردو زبان کے تئیں سرکار کی عدم دلچسپی کی شکایت کا برملا اظہار ہوتا رہتا ہے۔اس کے پیچھے سرکار کی غیر واضح اور غیر منظم لسانی پالیسی ہے۔اُردو زبان کے فروغ کی کیا صورتیں ہوں گی۔تعلیم اور دوسرے معاملوں میں اُردو زبان کا کیا رول ہوگا اور ریوٹی میںلسانی فارمولے کے اطلاق کی کیا صورت ہوگی ،یہ اور اس طرح کے معاملات پر سرکار یکسر خاموش ہے۔ اُردو کو سرکاری منصب پر تو بٹھایا گیا ہے لیکن اس کے status planning کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ہماری وادی میں ابتدائی درجات کے طلبا کو اردو کی تعلیم حاصل کرنے میں جو مسائل درپیش ہیں ،ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ایک طرفہ اچھے تجربہ کار،ہمدرد ،بے لوث اور پر خلوض اساتذہ کا فقدان ہے تو دوسری طرف سب سے بڑی پریشانی نصابی کتابوں کی عدم فر اہم

سکالر شپ الرٹ

سکالر شپ نام : ڈیپارٹمنٹ آف سیول انجینئر نگ جونیئر ریسرچ فیلوشپ 2020 تفصیل: انڈین انسٹی آف ٹیکنالوجی رورکی MEاور MTechطلباء سے ڈیپارٹمنٹ آف سیول انجینئر نگ جونیئر ریسرچ فیلو شپ 2020کیلئے درخواستیں طلب کرتا ہے۔   اہلیت: سٹریکچرل انجینئر نگ /کمپوٹیشنل میکانیکس /میکانیکل انجینئرنگ میں MEیا MTechڈگری رکھنے والے طلاب کیلئے یہ فیلوشپ کھلی ہے تاہم انہوںنے GATEامتحان کوالیفائی کیا ہو۔  مشاہرہ: 35ہزار روپے تک ماہا نہ درخواست جمع کرنے کی آخری تاریخ: 15جون2020 جمع کرنے کا طریقہ: صرف آن لائن برقی پتہ : www.b4s.in/gk/DEJ3 سکالر شپ نام : نرچرنگ کلینکل سائنٹسٹس(NCS)سکیم2020 تفصیل: انڈین انسٹی چیوٹ آف میڈیکل ریسرچ (ICMR)نرچرنگ کلینکل سائنٹسٹس(NCS)سکیم2020کیلئے ایسے ایم بی بی ایس /بی ڈی ایس امیدواروں سے درخواستیں ط

تازہ ترین