گوشہ اطفال|4جولائی 2020

گُد گُد یاں…!!! بادام کھانے کا فائدہ ایک انگریز بادام فروخت کر رہا تھا۔ آئرش نے پوچھا کہ بادام کھانے کا کیا فائدہ ہے؟ انگریز: اچھا یہ بتائوکہ ایک کلو چاول میں کتنے دانے ہوتے ہیں؟ آئرش :پتا نہیں انگریز آئرش کو ایک بادام کھلا کر پوچھتا ہے کہ بتائو ایک درجن میں کتنے کیلے ہوتے ہیں؟ آئرش: بارہ انگریز: دیکھو تمہارا دماغ تیز ہوا نا… آئرش: یار یہ تو بڑے کام کی چیز ہے۔ دو کلو دے دو!!!۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محاورے مکمل کریں آسمان سے گرا۔۔۔۔۔۔۔میں اٹکا۔ اندھا کیا چاہے، دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناچ نہ جانے۔۔۔۔۔۔۔ٹیڑھا۔ آدھا۔۔۔۔۔۔۔۔، آدھا بٹیر۔ اپنے منہ میاں۔۔۔۔۔۔۔۔ بننا۔ دھوبی کا کتا۔۔۔۔۔۔ کا نہ گھاٹ کا۔ الٹا۔۔۔۔۔۔۔ کوتوال کو ڈانٹے۔ جیسا۔۔۔۔۔ ویسا بھیس۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا جانے ہنس کی چال۔ سر منڈواتے ہی۔۔۔

گیلانی صاحب کی علیحدگی اور نئے چیلنج

بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کی حریت کانفرنس سے علیحدگی کیا کوئی بہت بڑا قومی سانحہ ہے یا یہ محض ایک حادثہ یامعمول کا واقعہ ہے ۔یہ جاننا اس لئے ضروری ہے کہ گزشتہ تین دہائیوںپر حاوی قومی سوچ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات وسانحات ، بے مثال قربانیاں ، بے پناہ تباہیاں اور ان کے نتائج انہی کی ذات سے منسوب ہیں ۔ انہوںنے آدھی صدی پر چھائے ہوئے قومی ہیرو شیخ محمد عبداللہ، جو کشمیر یوں کے لئے شیر کشمیر بھی تھے اور ایشیاء کا بلند ستارہ بھی ،کی عوامی مقبولیت، محبت ، عقیدت اور عظمت، اس کے سیکولر نظر یات ، اعتدال پسند مذہبی خیالات ،ترقی پسند سیاسی عقاید اور پرامن سیاسی حکمت عملی سمیت دلوں سے کھرچ کر نظام مصطفیٰ ؐکا نفاذ ، کفر و ایمان کے عقاید ، الحاق پاکستان کی سیاست اور بندوق کی حکمت عملی دلوں اور ذہنو ں پر قائم کرکے آزادی کا سنہرا خواب قوم کی آنکھوں میں سجایا اور رہبر انقلاب کا لقب

معاشرہ سازی کیلئے اخلاق سازی لازمی

ہر قوم کی اصل قوت اس کا اخلاق و کردار ہوتاہے ۔اسی لئے پیغمبر اسلام ؐ نے حسن اخلاق کے بارے میں فرمایا’’ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں‘‘۔ انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے لیکن ہمیں ایک لمحے کیلئے رک کر یہ سوچنا چاہئے کہ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی چیز کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جانور صرف اور صرف اپنی جبلت کے تابع ہوتے ہیں۔مثلاً جب کسی جانور کو بھو ک لگتی ہے تو اس کیلئے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس کے برعکس ایک انسان زندگی کے ہر معاملے میں اخلاقی حدود کا لحاظ رکھتا ہے۔وہ جب اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی اخلاقی حس اسے خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کیلئے کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کرسکتا۔ تاہم جب انسان کی اخلاقی حس کمزور ہوجاتی ہے تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھونے لگتا ہے۔ وہ ایک جانور کی ط

انتخابی حد بندی:سیاق و سباق

وفاقی حکومت نے 6 مارچ 2020 کو جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے ساتھ ساتھ دیگر چار ریاستوں کے انتخابی حلقوں (پارلیمنٹ اور اسمبلی) کی سرنو حد بندی کے لئے ایک حد بندی کمیشن تشکیل دیا۔ بادی النظر میں یہ انتخابی انتظامیہ میں معمول کی مشق ہے جو وقتاً فوقتاً کرائی جاتی ہے تاہم سیاسی طور یہ دو انتہائی اہم نوعیت کے معاملات کا فیصلہ لیتی ہے۔اول یہ کہ تمام ریاستوں میں عوامی نمائندوںکی تعداد کیا ہوگی جن میں ممبرا ن پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران شامل ہوتے ہیں ۔دوم پارلیمانی و اسمبلی حلقوںکی سر نو حدبندی کا کی نشاندہی کرنا۔  اگر انتخابی حدود وقتا فوقتا ایڈجسٹ نہیں کیے جاتے ہیں تو ریاستوں ، خطوں، صوبوں اور اضلاع میں آبادی میں عدم مساوات پیدا ہوتاہے۔یوںآئین ہند کے آرٹیکل 82 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ دس سال کے بعدہر مردم شماری کے بعد حد بندی کی جانی چاہئے۔ یہ لوگوں کی موجودہ اور ہم عصر

موبائل فون اور تعلیمی نظام

آپ سب نے موبائل سکولوں کا نام تو سنا ہی ہوگا ۔یہ وہ سرکاری سکول میں جو جموں وکشمیر انتظامیہ نے خانہ بدوش طبقہ کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے بنائے ہیں ۔ان موبائل سکولوں کے ذریعہ جموں و کشمیر کے میدانی علا قوں سے اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ پہاڑی علا قوں کی جانب ششماہی ہجرت کرنے کے دوران بچوں کو ڈھوکوں و میدانی علا قوں میں تعلیم فراہم کر نے کیلئے خصوصی ٹیچر تعینات کرنے کیساتھ ساتھ دیگر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جبکہ موبائل سکولوں کی پوری کارکردگی پر متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسران نگرانی رکھتے ہیں لیکن لاک ڈائون کے دوران موبائل فون بھی اب سکولوں کو چلانے کا کام کرنے لگے ہیں ۔ جموں وکشمیر میں موبائل فون کی آمد کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں پر موبائل فون ساتھ لانے پر پابندی عائد کر دی گی تھی جبکہ سکولوں و کالجوں میں اگر کسی بھی بچے سے موبائل فون ملتا تو متعلقہ ٹیچر و پرنسپل ا

جَل شکتی یا جَل سختی !

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بہترین نعرہ دیا تھا’جل بنا جیون نہیں‘۔ اس کے بعد انہوں نے سبھی خطوں اور ریاستوں میں محکمہ واٹرورکس کا نام بدل کر جل شکتی رکھ دیا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک، بنگال اور دوسری ریاستوں کے اْن علاقوں میں بھی اب پینے کا پانی مہیا کیا گیا ہے جہاں لوگ ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے تھے۔  لیکن کشمیر میں مرکز کے خوشگوار اعلانات کا بھی اْلٹا نتیجہ برآمد کیوں ہوتا ہے؟ جونہی کشمیر کا پی ایچ ای محکمہ جل شکتی کہلانے لگا ، پینے کے پانی کے لئے ہاہاکار نہ صرف چند علاقوں بلکہ وادی کے چپے چپے  پر گونج اْٹھی۔ مقامی اخبارات کی سرخیاں اور اداریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادی میں محکمہ جل شکتی اب جل سختی بن گیا ہے۔ کشمیر میں محکمہ کے 24 انجینئرنگ ڈویژن ہیں، جسکا مطلب ہے کم از کم 100ماہر انجینئراور سینکڑوں معاون اہلکار۔  اس کے باوجود کھنہ بل سے کھاد

کشمیر یونیورسٹی اور انتظامی سُقم

 یہ لمحہ نہایت ہی اہم اور حوصلہ افزا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کو حال ہی میں قومی ادارہ جاتی درجہ بندی فریم ورک 2020 کے ذریعہ ہندوستان کی پہلی 50 یونی ورسٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اگر چہ اس مشہور جامعہ نے تعلیمی ترقی کے لیے کافی کوششیں کی، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کو اپنے مقررہ وقت پہ پورا کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیاجس کی وجہ سے ڈگریوں کے لیے طے شدہ مقررہ وقت گزرجانے کے بعد بھی ابھی تک طلبہ کی تعلیم پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائی جو یونیورسٹی کی کارکردگی پر مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ابتدائی مراحل میں اگر چہ طلباء مختلف تعلیمی شعبوں میں داخلہ لینے کے بعد خوشی محسوس کرتے ہیںلیکن بعد میںیونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی انتظامات کے سلسلے میں غفلت شعاری اور ناقص رویہ کی وجہ سے جامعہ میں داخلہ لینے کے اس فیصلے پر سخت افس

چین میں مسلم کُشی

ویغور مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھایا جا رہا ہے عام طور پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اور تو اور حقوق انسانی کے نام پر نعرہ لگانے والے تمام ادارے خاموش ہو جاتے ہیں جو چیزیں ہم تک پہنچتی ہیں یا تو وہ بے بنیاد ہوتی ہیں یا دروغ گوئی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حقائق تک رسائی بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ چینی حکومت اپنی مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے نسلی اقلیت ایغور باشندوں کو شرح پیدائش کم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ چینی حکومت ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی شرح پر کنٹرول کے لیے بہت سخت اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری طرف ہان نسل کی اکثریتی آبادی کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ متعدد خواتین انفرادی طور پر جبری فیملی پلاننگ کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کرتی آئی ہیں تاہم خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے اس بارے

لالچوک | کشمیر کے نشیب و فراز کا عینی گواہ

لاک ڈائون میں بھٹکا ہوا ایک اجنبی مسافر گہرے اندھیرے میں رات گزارنے کیلئے ٹھکانے کی تلاش میں لالچوک سے گزر رہا تھا…اُسے دو لوگوں کی آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتے ہوئے آگے کی جانب چل رہا تھا۔ گھنٹہ گھر کے قریب پہنچ کر کسی نے اُسے پکارا … ’’ارے بھائی رات کے اندھیرے میں کہاں جارہے ہو، یہاں تو آج کل دن میں بھی کوئی بھٹکتا نہیں ہے‘‘۔ اجنبی مسافر نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن اُسے کوئی بھی انسان دکھائی نہیں دیا، اُس نے سوچا کہ شائد یہ اُس کا وہم ہے اور اُس کے کان بج رہے ہیں۔ وہ آگے بڑھنے لگا لیکن پھر سے آواز آئی… ’’ارے بھائی ادھر دیکھو میں بول رہا ہوں‘‘…  مسافر دم بخود ہوگیااور ڈر کے مارے اُس کے پسینے چھوٹنے لگے… اُس کی ٹانگیں جیسے جم گئی

کووڈ 19- | سائنسی اور مذہبی تناظر میں

دسمبر 2019کے آخری ہفتے میں چین کے شہر وُہان (Wuhan) سے نمونیا نما ایک بیماری’’ کرونا وائرس‘‘ پھوٹ پڑنے کا خلاصہ ہوا جس نے پہلے پورے چین اور پھر پوری دُنیا کوتیز رفتاری سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وبائی شکل اختیار کی۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کی نظر بس اس وائرس کے طبی پہلوؤں(یعنی کتنی اموات ہوئی،کتنے لوگ اس کی زد میں آگئے وغیرہ) پر جاتی ہے ،چنانچہ اس وائرس کے کئی اور پہلو بھی ہے جن کی جانب ہماری توجہ مبذول نہیں ہوئی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وبا سے پوری دُنیا کا نظام بدل سکتا ہے۔عالمی سطح پر سیاسی اُتھل پتھل جنم لے سکتی ہے اور اقتصادی پہلو کی بات کی جائے تو اس حوالے سے شائد اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ فقط چین میںماہِ جنوری اور فروری میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے(بحوالہ: CNBC)،دُنیا پر رعب جمانے والے اور خود کو سپر پاور کہنے والے ام

آہ! فدا ؔ راجوروی

’’دور تاحد نظر سبزہ ہی سبزہ پھیلا ہوا ہے۔ نظر خیرہ ہورہی ہے۔ کائنات جیسے اپنے سارے حسن وتنوع کے ساتھ دعوت نظارہ دے رہی ہے۔ میرے سامنے دور تک کھیت ہیں۔ سر سبز لہلہاتے کھیت، ہر یالی، پہاڑ، میدان، جہاں تک نظر جاتی ہے قدرت کی بوقلمونی، درخت سبزوردی میں ملبوس، جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اونچے درمیانہ ، چھوٹے مگر وردی سب کی ایک۔ خدا کا کارخانہ بھی کیسا عجیب اور دعوت نظارہ دینے والا ہے۔(۱/ اگست ۲۰۰۳ء) ہر ذرہ ایک جہاں معنی لیے ہوئے ہے۔ ہر پتہ ایک گلستان رنگ وبو کا امین ہے۔ ہر لمحہ صدہا واقعات کا گواہ۔ ہر دل میں صدہا تار بجتے ہیں جن سے نغمے اور ساز ترتیب پاسکتے ہیں لیکن مغنی ومطرب کی تلاش وجستجو میں سرگرداں ساز اور نغمے وقت کے عمیق سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں۔ ذرے بکھر جاتے ہیں لمحے گزر جاتے ہیں اور برگ وبار نذر خزاں ہوکر چمنستان رنگ وبو کی غمازی کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ (۳ جولائی ۱۹۸۵ء

! وادیٔ گلوان سے کشمیر تک | تماشائے اہلِ سِتم دیکھتے ہیں

جب جنوب ایشیا کی دو بڑی طاقتیں لداخ کی گلوان وادی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیاروں کے بغیر نبرد آزما تھیں، ٹھیک اُسی وقت پاکستان کی درخواست پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے ورچیول اجلاس میں کشمیری عوام کی’’ جدوجہد‘‘ کی ایک بار پھر روایتی حمایت کا اعلان کیا گیا۔او آئی سی کا یہ روایتی اعلان اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں موجود کشمیر مسئلہ اہمیت کا حامل ہے  اور دنیا کے کئی ممالک کی خارجہ پالیسیاں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔اور تو اور چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک چھوٹے سے ویڈیو میں بھی وہاں کے خارجہ سیکریٹری کو جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔  تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع جموں کشمیر کا خطہ کئی طرح کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے اور ہر مسئلے کی بنیاد سیاست میں پیوست ہے۔یہاںہر طرف انسانی خون بہہ رہا ہے، چاہے وہ ج

سیاسی شراکت داری۔ نظام کو دوام بخشنے کا واحد ذریعہ

لفظ ’’سیاست‘‘ اردو میں ’’ساس ‘‘ سے مشتق ہے۔ انگریزی میں اِسے   کہتے ہیں جو کہ یونانی لفظ  سے اخذ کیا گیا ہے۔ دونوں کا مطلب شہر، ریاست، خطہ اراضی، ملک وغیرہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانا ہے۔ اول روز سے ہی یہ لفظ اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔لیکن اِس علم میں باقی علوم کی طرح کوئی ایک مخصوص نظریہ نہیں پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس علم کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا سب سے زیادہ زُور اِس بات پر رہا ہے کہ کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں کس طرح کے طریقہ ہائے کار اختیار کیے جائیں ۔ اُن طریقہ کاروں میں بھی جس ایک چیز پر سب سے زیادہ دھیان دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جس خطہ اراضی کی آبادی کو کسی نظام کے تلے منضبط کرنا ہو ، اُس میں آ

آہ! فداؔ راجوروی | ’شہر دل‘ کا مسافر’ پتھرو ں کو آئینہ‘ بناکرابدی سفرپر روانہ

راجوری ہی نہیں،جموںوکشمیر کے مشہور شاعرو ادیب جناب عبد الرشید فدا صاحب ۲۴ جون ۲۰۲۰ء کو بوقت فجر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری سمیت پورے جموںوکشمیر کی علمی وادبی فضا سوگوار ہوگئی۔ ان کے ساتھی ، دوست، احباب، شاگرد ، اہل خانہ سبھی اشکبار ہوگئے۔ وہ راجوری کی ادبی محفلوں کے لیے لازم وملزوم تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر، اچھے قلمکارو ادیب ، مخلص استاد،صوم وصلوۃ کے بے انتہا پابند، نہایت حساس ذہن ودماغ اور فکر واحساس کے مالک تھے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری کی علمی وادبی ادبی فضا میں خلا سا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ میری جب سے ان کے ساتھ شناسائی ہوئی اس وقت سے لے کر ان کی وفات تک ان کے ساتھ میرا تعلق اور میری عقیدت کا رشتہ قائم رہا۔ اس لیے ا ن کی رحلت سے مجھے ذاتی طور سے صدمہ پہنچا۔ یہ غالبا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ مجھے کسی صاحب نے ایک مختصر سا کتابچہ عنایت کیا۔ نام تھا’&rs

علم کی آن لائن شمع ! | روشنی کہاں تک پہنچ پائے گی ؟

کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو نئے انداز سے دیکھنے اور تصور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہاں دنیا کے ہر شعبے میں حسبِ ضرورت کئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں تعلیمی شعبے میں بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس بدلائو میں آن لائن کلاس سرِفہرست ہیں۔ یوں تو آن لائن کلاسوں کا رواج دنیا کے بیشتر ممالک میں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن ہمارے یہاں کے طلبہ کے لیے درس و تدریس کا یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس کے لیے نہ ہمارے اساتذہ تیار تھے اور نہ ہی طالب علم، بلکہ ہمارا تو انفرااسٹرکچر بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس جدید طریقۂ تعلیم کو قبول کرسکیں، نہ ہی ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور نہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہر گھر میں موجود ہے۔  شائد شہری علاقوں میں کسی حد تک اس نئے تعلیمی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ جہاں 3 جی اور 4 جی کی سہولت ہی میسّر نہیںہے، تو کیا و

جھیل ڈل گھٹن کا شکار | قدرت کا نایاب اثاثہ آلودگی میں غرق

اس کرئہ ارض پر ہوا کے بعد سب سے زیادہ اہم اور ضروری شئے پانی ہے۔پانی ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں مفت عطا کی ہے۔پانی ہماری تمام ضروریات کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ہماری غذا،صحت ،حفظان صحت،صفائی وپاکیزی ،توانائی وغیرہ تمام کی تمام پانی کی مرہون منت ہیں۔پانی کا مناسب انتظام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔پانی کے بغیر نہ تو سماج کا وجود ممکن ہے اور نہ معیشت وثقافت کا۔انسانی ضروریات کے لئے پانی کی فراہمی ایک بین الاقومی مسئلہ ہے لیکن پانی سے متعلق مسائل اور ان کا حل اکثر مقامی حیثیت کا حامل ہے۔ہمارا قدرتی ماحول ہمیں صاف ستھرا ،پینے کے قابل پانی مہیا کرتا ہے۔جہاں تک ہماری وادی  قدرتی خوبصورتی اور مسرت بخش آب و ہرا کی وجہ سے پورے برصغیر میں جنت کی بہن کہلاتی ہے۔ بقول کلہن :’’ یہاں سورج کی دھوپ نرم ہے ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے کشیپ نے اپنی شان کے لئے تخلیق کیا۔مدارس کی اونچی اون

ماس پر موشن یا آن لائن امتحان | یا الٰہی یہ ماجراآخر کیا ہے؟

سماج کی بہبودی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے ، حکومتیں بنتی ہیں۔ استحصالی طبقوں کو کچل دینا، بے روزگاری کی لعنت کو دور کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ایمانداری اور دیانتداری کی فضا ہموار کرنا  سریرسلطنت پر براجماںحکمرانوں کا فرض منصبی ہے لیکن شومئی قسمت پچھلے ساٹھ ستربرسوںکا مشاہدہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسی کو ئی فضا قائم ہوتی نہیں دکھی۔5اگست کے تاریخی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں کشمیر کے تمام مسائل حل ہونا شروع ہوں گے مگر ایسے بھی کوئی آثار نہیں مل پارہے۔ دورِ حاضر میں جموں و کشمیر میں بے روز گاری کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کی غیر سنجیدگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔  وادی کشمیر میں گذشتہ ایک سال کے دوران جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔5اگست 2019 کے بعد پیدا ہوئے نامساعد حالات اوراس سال مارچ

کوروناقہر:لاپرواہی صرف تباہی | پرہیز اور احتیاط ہی واحد بچائو

یہ اٹل حقیقت ہے کہ موت کے بغیر ہر بیماری کا علاج ہے مگر جہالت اور بیوقوفی کا کوئی علاج نہیںجبکہ ربط و ضبط اعلیٰ ترین معالج ہے۔ بے خوف اور نڈر انسان بسا اوقات مشکلات اور خطرات سے بچ جاتا ہے لیکن مشکلات و خطرات سے بچائو کے تدابیر پرعمل نہ کرنا ہلاکت کا موجب ہو تا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو کوئی بیمار’پرہیز‘کی چیزوں کے ضررسے واقف ہواور پھر اِنہی کو کھاتا ہے تو انجام کار موت کا ہی نوالہ بن جاتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندگی بغیر عقل کے حیوانیت ہے اور مشکل اوقات میں عقل سے زیادہ کوئی دستگیر نہیں۔  ہم سبھی جانتے ہیں کہ انفرادی و اجتماعی زندگی کے اچھے و بْرے اوصاف اور صحیح و غلط معاملات سے انسانیت متاثر ہوتی ہے۔انسانیت اسی بات میں ہے کہ انسان زمین پر صحیح طریقے سے رہنا سیکھ لے،مشکلات و مصائب میں صبروتحمل اورعزم و استقلال کا مظاہرہ کریاورکسی بھی آزمائش میں ایسے کام نہ کریں جس سے

باپ بے مطلب دوست ،عظیم اُستاد | زندہ ہیں تو قدر کریں ،مرے ہیں تو دعا کریں

بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے موت برحق ہے اس سے کسی کو مفر نہیں۔ہماری زندگی میں ایسا بھی وقت آتا ہے کہ لگتا ہے کہ سب ٹھہر ساگیا ہے۔ملک الموت نے اللہ کے حکم سے نہ جانے کتنے کیسوں کو دبوچ لیا ۔قیامت کی صبح تک اس فرشتے کا یہ عمل جاری رہے گا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان ایک جیسے واقعات، حادثات، دُکھ دردایک جیسے رد عمل ظاہر نہیں کرتا۔کچھ لوگ اپنی داخلی کیفیت پر قابو نہیں پاتے اور اُن کا دُکھ ظاہر ہوتا ہے، اور کچھ ایسے بھی ہے جواپنے چہرے پر بناوٹی ہنسی رکھتے پھرتے ہیں وہ ایسے دیکھے جاتے ہیں جیسے اِن پر ان حادثات کاکوئی اثر ہی نہیں۔ اگر دیکھا جائے وہ اندر ہی اندر یہ دُکھ چھپا کررکھتے ہیں ،کیونکہ اُن کومعلوم ہوتا ہے ،اپنادُکھ درد ظاہر کرنے سے کیا ہوگا۔ اس دُنیا میں ہر کوئی اپنے اپنے غموں میں گھرا ہے، اب بتانے سے کیا ہوگا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ یہ دُکھ

حال تباہ کن ،مستقبل کیسا ہوگا؟ | تاریک ترین دن باقی، وائرس کے ساتھ ہی جینا سیکھ لیں

3ماہ قبل کون تصور کرسکتا تھا کہ کووڈ ۔19 نامی ایک نئی بیماری عالمی سطح پر موت کی سب سے اہم وجہ بن جائے گی؟۔5لاکھ اموات کے ساتھ عالمی سطح پر متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز ہوچکی ہے۔بھارت میں متاثرین کی تعداد سوا پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ 16ہزار کے قریب اموات ہوئی ہیں۔اوپر والے کا کرم ہے کہ ہماری یونین ٹریٹری میں یہ تعداد بہت کم ہے اور متحرک معاملات 3ہزار سے بھی کم ہیں جبکہ تاحال سو سے کم اموات ہوئی ہیں۔ اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا۔ کیا ہم آہستہ آہستہ زیادہ تعداد میں لوگوں کو انفکشن میں مبتلا کرنے جا رہے ہیں یا یہ سلسلہ کہیں رکے گا؟ یہ طوفان مچانے والا وائرس بہت مستحکم ہے اور اس بات کے بہت کم شواہد ملے ہیں کہ جینیاتی تغیرات نے اسے ہمارے حق میں بدل دیا ہے۔ مینیسوٹا یونیورسٹی سے متعدی بیماریوں کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر مائیکل آسٹرہولم کی پیش گوئی کے مطابق اس بات

تازہ ترین