ڈومیسائل:حقوں نہیں ، صرف اصول

جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں وکشمیر سول سروسز غیر مرکوزیت و بھرتی ایکٹ 2010 میں 31 مارچ 2020 کو ترمیم کرنے کے بعد جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (طریقہ کار) قواعد 2020 کونوٹیفائی کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ایکٹ میں ’’جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں‘‘کے الفاظ ’’مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل‘‘سے تبدیل کیے گئے۔ یہ تبدیلی محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہے۔ اس کے وسیع پیمانے پر مضمرات ہیں۔ اول آئینی طور پر’’مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے کا ڈومیسائل‘‘ جیسا کچھ نہیں ہے۔ دستور ِہند ہندوستان میں صرف ایک ڈومیسائل ، یعنی ڈومیسائل آف انڈیا کو تسلیم کرتا ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 5 اس نکتے پربالکل واضح ہے۔ اس میں صرف’’ہندوستان کی سرزمین میں رہائش پذیر‘‘کا ذکر ہے۔ آئین ہند

دستکاری کشمیر کی گھریلو صنعت

جموں کشمیر میں بے روزگاری اور معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔بے روزگاروں کی شرح ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ایک طرف لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان بے روزگار ہیں تو دوسری جانب مہنگائی عروج پر ہے۔بے روز گاری فی الوقت دنیا میں ایک بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو غریب اور ترقی پذیرملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک میں بھی روزگار کے مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے تخریب کاری نے جنم لیا ہے۔ اگر ترقی یافتہ معاشروں کی حالت بگڑسکتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کہاں کھڑے ہیں کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں بے روزگاری کے مسئلہ سے نکلنے کیلئے دور دور تک کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے ۔   وادی کشمیر ان دنوں گونا گوں مسائل سے دو چار ہے ،سماجی اور معاشی تانا بانا الجھاہوا ہے۔ سماج ک

تازہ ترین