دل کا چو ر مرا نہیں ،سجد ہ کیا تو کیا ہوا ؟

ماہ مبارک رخصت ہوچکا ہے ۔یقین نہیں آتا کہ پورا ایک مہینہ بیت گیا۔کل ہی کی بات ہے ماہ مبارک کا چاند دیکھنے کی بے تابی تھی اور آج عید کے چاندکا انتظار ہے ۔کیا واقعی وقت کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے کہ انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ ماہ و سال کیسے اس کی زندگی سے سرک رہے ہیںیا انسانی زندگی میں ہی کچھ ایسی تبدیلیاںپیدا ہوئی ہیں کہ وہ وقت کی رفتار کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتا ۔ہر انسان یہ محسو س کررہا ہے لیکن یہ احساس محض ایک احساس ہے جس کی حقیقت سمجھنے سے وہ قاصر ہے ۔ اب کی بارتو زندگی کی رفتار پوری طرح سے تھم گئی تھی ۔لوگ گھروں میں بیٹھے تھے ۔نہ کوئی مصروفیت تھی ۔نہ کوئی جلدی تھی ،پھر بھی پتا ہی نہیں چلا کہ وقت کیسے بیت گیا ۔ شاید ذہنوںکا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ انسان کا وجود اس کے نیچے دب کر رہ گیا ہے ۔اس لئے اسے پتا ہی نہیں چل رہاہے کہ وقت کیسے سرکتا جارہا ہے ۔بہرحال یہ ایک ضمنی تذکرہ

کورونا وباسے روایتی تعلیمی نظام شدید متاثر

کوروناوائرس کی وباء نے عالمی سطح پر معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور تعلیمی مسائل پیدا کردئے ہیں اورچوںکہ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ کورونا کا جڑ سے صفایا ہونا فی الوقت ممکن نہیں۔ اس لئے اب کورونا کے ساتھ ہی زندگی گذارنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور احتیاط کے ساتھ حوصلہ بھی رکھنا ہوگا۔ لہٰذا دیگر شعبے کی طرح تعلیمی شعبے میںبھی کورونا کے بعدایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ بالخصو ص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے جو طریقہ کار ہیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار اپنانے کاخاکہ شروع بھی ہوگیا ہے۔ غرض کہ کلاس روم تعلیم اور امتحان کی جگہ آن لائن تعلیم وامتحان اور دیگر سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے بھی ذرائع ابلاغ کا سہارا لینا ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ جب تک کورونا کے وائرس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا اور جو مستقبل قریب میں ممکن نہیں اس وقت تک نئے تعلیمی طریقہ کار کو ہی اپنانا ہوگا۔

مصرفِ زکوٰۃ کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی ضرورت

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اسلامی نظام معیشت کا ستون ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیا گیا ہے۔ نماز فحش ومنکرات سے روکتی ہے تو زکوٰۃ اقتصادی نابرابری کو کم کرتی ہے۔ نماز جسم کی اور زکوٰۃمال کی عبادت ہے۔ رب کائنات نے دولت مندوں کے مال میں غریبوں، مسکینوں، کمزوروں اور بے سارا لوگوں کا حصہ رکھا ہے۔ یہ حصہ صرف دولت میں نہیں بلکہ کھیتی، موسمی پھلوں، تجارت کے جانوروں اور سامان میں بھی ہے۔ اس کی ادائیگی پر مال کی حفاظت وترقی کی ضمانت، کوتاہی یا ادا نہ کرنے پر بربادی، دقتوں وپریشانیوں کا سامناطے ہے۔ زکوٰۃسے غریبوں کی مدد، ہمدردی اور محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، انا پر لگام لگتی ہے۔ اہل دولت فقرا ء ومعذوروں کو دھتکارنے کے بجائے ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس طرح غریبوں کو بہتر زندگی ملتی ہے اور سماج سے غریبی دور ہوتی ہے۔ قرآن نے زکوٰۃپر پہلا حق فقراء ومساکین کا بتایا ہے۔ پیغمبر اسلام ؐنے بھ

اللہ کی نافرمانی عذاب لاتی ہے

قرآن کوسمجھ کر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ نوح ؑ، لوط  ؑ،شعیب  ؑ،موسیٰ ؑ،صالح  ؑاور ہود ؑ کی قوموں نے جب اپنے نبیوں کی نافرمانیاں کیں تو اُن پر اللہ کا عذاب آیا اور پوری کی پوری قوم تباہ کر دی گئی۔حضرت محمد ؐچونکہ رحمت عالم بنا کر بھیجے گئے ہیںاور ان کی قوم کوقیامت تک زندہ رہنا ہے، اس لیے اس پوری قوم کو عذاب سے تباہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے کسی نہ کسی حصے پراس کی نافرمانیوں کے سبب عذاب آتا رہے گا۔ چنانچہ اس امت پر پہلا عذاب چنگیز خاں کے ہاتھوں آیا جب بغداد میں بے شمار مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہیں۔اٹھارہویں صدی کے بعد دنیا کے سارے مسلمان حاکم سے محکوم بنا کر یہودی، عیسائی اور اہل ہنود کے غلام بنا دیے گئے۔دو جنگ عظیم میں انسانوں کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی۔پھر ایسی بیماریاں آئیں جن میں ان گنت انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔بیسویں صدی میں پھر اللہ کا عذاب اس طرح ا

اللہ کی نافرمانی عذاب لاتی ہے

قرآن کوسمجھ کر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ نوح ؑ، لوط  ؑ،شعیب  ؑ،موسیٰ ؑ،صالح  ؑاور ہود ؑ کی قوموں نے جب اپنے نبیوں کی نافرمانیاں کیں تو اُن پر اللہ کا عذاب آیا اور پوری کی پوری قوم تباہ کر دی گئی۔حضرت محمد ؐچونکہ رحمت عالم بنا کر بھیجے گئے ہیںاور ان کی قوم کوقیامت تک زندہ رہنا ہے، اس لیے اس پوری قوم کو عذاب سے تباہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے کسی نہ کسی حصے پراس کی نافرمانیوں کے سبب عذاب آتا رہے گا۔ چنانچہ اس امت پر پہلا عذاب چنگیز خاں کے ہاتھوں آیا جب بغداد میں بے شمار مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہیں۔اٹھارہویں صدی کے بعد دنیا کے سارے مسلمان حاکم سے محکوم بنا کر یہودی، عیسائی اور اہل ہنود کے غلام بنا دیے گئے۔دو جنگ عظیم میں انسانوں کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی۔پھر ایسی بیماریاں آئیں جن میں ان گنت انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔بیسویں صدی میں پھر اللہ کا عذاب اس طرح ا

حکومتی نااہلی اور میڈیا کی بے حسی

کورونا وائرس نے دنیا میں ہاہا کار مچا دی ہے ۔ملکی میڈیاسے مختلف طرح کی خبریں آرہی ہیں ۔کہیں لوگ بندشوں کے بیچ شراب کی دکانوں کے باہر شراب خریدنے میں ایسے مست ہیں کہ جیسے زندگی کی بقا کے لئے جام مفت میں تقسیم کئے جا رہے ہوںاور کہیںشراب نوش کرنے کے بعد نالیوں اور سڑک پہ مدہوشی کی حالت میں پڑے پیر وجواں ۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ کہیں مزدوروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بچوں کے ہمراہ پیدل سفر کرتے دیکھا گیا تووہیں گھر پہنچنے کے چکر میں 124سے زائدمزدور اپنی زندگی سے ہی نجات حاصل کرگئے ۔ایسی تصاویر اور ویڈیوزبھی فیس بک پہ گردش کر رہی ہیں جن میں غریب اور مجبور دو وقت کی روٹی کے لئے بلک بلک کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے دُہائیاں دے رہے ہیں،مریضوں اور بزرگوں نے جیسے اب جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ہو ۔چند سماجی تنظیمیں اور ادارے مخلصانہ اندازمیں قوم و ملت کی خدمت میں دن رات لگے ہوئے ہیں وہیں چند ضمیر

ایسے معجزات پونچھ خطے میں ہی ہوسکتے ہیں!

کبھی مردہ زندہ ہوجاتاہے، کبھی دفن کیاگیا نوجوان بیٹا کچھ ماہ بعداپنی والدہ کو فون کرکے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتاہے تو کبھی دوپہر کو کورونا وائرس کی مثبت رپورٹ کی تصدیق کے بعد شام کو یہی رپورٹ منفی ہوجاتی ہے۔موجودہ دور میں ایسے کرشمے دنیا بھر میں اگر کہیں ہوسکتے ہیں تو وہ جموں وکشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ ہے جہاں حیران و پریشان کردینے والے ایسے واقعات رونماہوتے آرہے ہیں۔تاہم اسے آپ کوئی کرشمہ سازی نہ سمجھیں بلکہ یہ انتظامی لاچارگی ہے جو حقائق کی تصدیق میں قیاس سے کام لینے کا نتیجہ ہے۔ پازیٹونگیٹو،نگیٹوپازیٹوہوگیا دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والانہ ہی کوئی ملک اور نہ ہی کوئی شخص بشمول طبی ماہرین اس بات پر یقین کریں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ پونچھ میں پہنچتے پہنچتے کورونا وائرس کی رپورٹ کے نتائج گڑبڑآنے لگ گئے ہیں۔پہلے تو یہ ضلع کورونا وائرس سے محفوظ رہا اور لاکھ کوششوں

تازہ ترین