تازہ ترین

کوونا وائرس عذاب یا آزمائش

کوونا(کرونا)وائرس کی دوسری لہر نے ایک بار پھر پورے ملک میں قہر برپا کیا ہوا ہے۔ان گنت وبے شمار لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔بلا امتیاز رنگ ونسل، مذہب وملت سبھی اس وباء کا شکار ہورہے ہیں۔پورے ملک میں عجیب سی مہاماری کی کیفیت طاری ہے۔لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ ڈرے ہوئے ہیں۔پہلے تو صرف بزرگ یا بڑی عمر کے لوگ اس وبا کا شکار ہوتے تھے لیکن اب حالت یہ ہے کہ چھوٹے بڑے، عورت مرد، جوان بزرگ، عالم جاہل، پڑھے لکھے ان پڑھ سبھی اس وبا کا شکار ہورہے ہیں۔ان گنت وبے شمار لوگ لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ ہر سو ماتم کا سماں ہے۔ لوگ اپنوں کے کھودینے پررنج والم کا شکار ہیں اورخود اپنی جان کے تحفظ کے لیے خوف و دہشت کے عالم میں مبتلا ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وائرس عالم انسانیت کے لیے عذاب کے مترادف ہے یا یہ ایک آزمائش سے عبارت ہے یا پھر تمام بیماریوں کی طرح سے یہ ایک مہلک بیماری ہے؟ بعض علماء کا خیال ہے کہ کر

جل شکتی یا جل سختی؟ | محکمے نے مرکز کی بہترین سکیم کو بھی بیمار کردیا

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے صحت عامہ کے حوالے سے پینے کے پانی اور صفائی و ستھرائی سے متعلق بعض انقلابی سکیمیں جاری کی ہیں۔ جل جیون مشن ان ہی سکیموں میں سے ایک ہے۔ اس سکیم پر براہ راست 50 ہزار کروڑ روپے اور پنچایتی اداروں کے ذریعے 26 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ21/2020 کے مالی سال کے لئے جموں کشمیر کے محکمہ جل شکتی کی خاطر 6346 کروڑ روپے کے بجٹ مصارف منظور کئے گئے۔ پارلیمنٹ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے لئے منطور کی گئی رقم سے 5102 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے اس رقم میں محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی تنخواہ، پینشن، گاڑیوں اور دیگر اثاثوں کے رکھ رکھائو کا خرچہ شامل ہے، لیکن بجٹ میں اضافہ کا مطلب ہیکہ مرکزی حکومت جل جیون مشن کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے۔  دو سال قبل مرکزی

ہم بھارت کے لوگ کبھی سدھرنہیں سکتے

جس ملک ہم میں رہتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں انسان کی کوئی قیمت نہیں ، جی ہاں یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک میں انسان کی کوئی قیمت نہیں، روزانہ میڈیا یعنی سوشل میڈیا میں آنے والی تصویریں ہمیں ڈراتی ہیں، اخبارات کی سرخیاں اور ٹیلی ویزن کے ڈیبیٹس ذہن ودماغ کو جھنجھوڑتے ہیں، ایک عام آدمی کی زندگی جہنم بن چکی ہے، ترقی اور کامیابی کے سارے نعرے بے معنی ہوچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم جنگل راج میں پوری طرح واپس آچکے ہیں۔ بلکہ کبھی کھبی ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ ، حکومت اور پورے سسٹم نے عام لوگو ں کا مذاق بنا رکھا ہے۔  کرونا کی وبا بے قابو ہوچکی ہے، حکومتوں کو ہمارے کورٹوں نے بہت ہی سخت الفاظ میں پھٹکار لگائی ہے، صوبای حکومتیں ، مرکزی حکومت اور اب تو ہسپتال بھی کورٹ پہونچنے لگے ہیں، الزام در الزام کا دور جاری ہے، اور یہ سب کیوں ہورہا ہے سب کو سمجھ میں آرہا ہے، مگر کسی کی ہمت نہیں کہ وہ

کورونا کے بدلتے تیور اور اس کا علاج

کورونا(کرونا) نے جو تباہی مچائ ہے وہ آپ سب کے سامنے موجود ہے۔ اس عالمی وبا نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو تباہ و تاراج کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ حکومتیں جو جوہری طاقت سے لیس ہیں۔ ایک خوردبینی جرثومہ یعنی وائرس کے آگے بے بس و لاچار نظر آتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس وائرس سے ہونے والی بیماری پر مزید روشنی ڈالوں، اس وائرس کا تھوڑا سا تعارف ہوجائے۔ یہ ایک RNA وائرس ہے جو سردی، زکام اور فلُو کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کا اصل نام SARS-CoV-2 ہے اور اس سے ہونے والی بیماری کو COVID-19 کہا جاتا ہے۔ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہُوا ہے۔ اسکے اوپری سطح پر نوکدار کیل یا کانٹے دار اجسام ہوتے ہیں (اسی لئے اس کو کرونا وائرس Coronavirus سے بھی پکارا جاتا ہے) جو پروٹین کے سالمات سے بنتے ہیں اور یہی نوکدار پروٹین کے ذریعہ وائرس ACE2 receptor کے ذریعے شُشی خلیوں یا پھیپھڑوں کے خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔ ی

کوروناوائرس ویکسین کے تعاقب میں

پوری دنیا اس وقت بے چینی کے عالم میں ہے۔ اگر یہ بھی کہا جائے کہ دنیا تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے تو یہ بات بھی سو فیصد درست ہے۔ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جس نے کئی اور مصیبتوں کو جنم دے کر پورا نظام درہم برہم کر دیا۔ ہم اس دور میں جی رہے ہیںجہاں آدمی کو دوسرے آدمی پر اعتماد نہ رہا، جہاں امن و سکون نام کی چیز باقی نہ رہی اور جہاں زندگی کے تمام شعبے اسیری کا مزہ چکھ رہے ہیں۔ کہنے کو مُشتِ پرَ کی اسیری تو تھی مگر   خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا پورا عالم اسی انتظار میں تھا کہ کب اس وبائی مرض کا ویکسین تیار ہوجائے تاکہ وہ زنجیریں جن میں لوگوں کے پیرجکڑے ہوئے ہیں،نیست و نابود ہوجائیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک اس کارنامے کو انجام دینے میں مصروف رہے۔ پہلے ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ کب اس لہر کو قابو کرنے میں کامیاب ہوج