تازہ ترین

انسانی امن کی پرَکھ سماج میں ہوتی ہے

آج ہم جس عہد میں زندگی گزار رہے ہیں ،بلا شبہ اسے ڈِس انفارمیشن کا دور کہا جا سکتاہے۔ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا سے دن رات ہر قسم کا پروپیگنڈہ پڑھنے اور سننے کو ملتاہے۔ ایک ہی موضوع پر مثبت اور منفی، متضاد دلائل دستیاب ہیں۔ ایسے میں انسان حیران و پریشان رہ جاتاہے کہ سچ تک کیسے پہنچا جائے۔ انسان کے لئے اگرچہ سچ ڈھونڈنا دشوار ضرور ہوتا ہے ناممکن نہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان کسی نہ کسی طرح جھوٹ کی فضا میں بہک جاتا ہے اور جھوٹ میں بہہ کر سچ کے سامنے اندھا ،بہرا اور گونگا بن جاتا ہے،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جھوٹ بالآخر جھوٹ ہی ہوتا ہے جسے چھپانے کے لئے بہت ساری سچائیوں کا دَم گھونٹناپڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میںزیادہ تر انسان محض اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے اور اِس محتاجی کے باعث کسی بھی وقت اپنے اصل درجے سے گِر کر اْلجھ جاتا ہے ، بھٹک جاتا ہے اور پھر گم

معاشرے یونہی تبدیل نہیں ہوتے

انسان نے یقیناہر دور میں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب انہوں نے اجتماعی طور پر فطرت کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا۔  کوئی بھی معاشرہ مکمل جامد تو کبھی نہیں ہوتا۔ کچھ نہ کچھ بدلتارہتا ہے۔ یہ عمل بالعموم غیر محسوس نوعیت کا ہوتا ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ بدل چکاہوتا ہے تب کسی بڑی تبدیلی کا دیدار ہوتا ہے اور ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی معاملہ اپنی اصل میں حیرت انگیز نہیں۔ اگر ہم معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں اور دیکھنے والی نظر پیدا کریں تو بہت کچھ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی بھی دیتا ہے اور محسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ کشمیری معاشرہ بھی تبدیلیوں کے مختلف مراحل سے گ

محکمہ جل شکی اقبالِ جرم کرے

پینے کے پانی کی قلّت سے متعلق سالہاسال سے خبریں اور مضامین شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں شایع شدہ مضامین اور خبروں کی چند جھلکیاں:  * مضمون : ضلع پونچھ کے سیڑھی چوہانہ علاقے میں 35 سالہ خاتون سلمیٰ بانو کی کہانی کشمیر عظمیٰ میں ہی چھپی تھی۔ سلمیٰ نے پینے کے پانی کی قلّت کے باعث تعلیم کو ترک کردیا ہے کیونکہ پینے کا پانی لانے کے لئے اْسے روزانہ تین کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے اور اس مہم میں تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ اْن کا کہنا تھا: ’’میں بچپن سے ہی کھانے پینے اور نہانے دھونے کے لئے پانی سر پر اْٹھا رہی ہوں۔ گھر میں مہمان ہوں تو اْنہیں تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، دریا سے پانی لاتی ہوں پھر جاکے اْن کی تواضع کرتی ہوں۔ سیڑھی چوہانہ کی کئی بستیوں کا یہی حال ہے۔ * خبر:  پٹن کے گھاٹ علاقے میں سرپنچ کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کی پانی کی سپلائی پائپیں ضبط کی گئیں اور محک

صفحۂ کاغذ پر جب موتی لٹا تا ہے قلم

کانپتے ہیں اس کی ہیبت سے سلاطین زمین  دبدبہ فرمان رواؤں پر بٹھاتا ہے قلم جب قلم فیصلہ صادر کرنے والے لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے توموت اور زندگی کا تعین کرتاہے ۔یہی قلم جب حساب لکھنے والے فرشتوں کے ہاتھ آتا ہے تو آدمی گناہ اور ثواب کے ترازو میں لٹک جاتا ہے اور آخرت کے لئے قلمبند ہو جاتا ہے ۔ ایک طالب علم دنیا کے تمام علوم کو جب حاصل کر لیتا ہے ،پڑھ لیتا ہے ، جان لیتا ہے اور دماغ میں ان علوم کے حاصل شدہ مقاصد کو محفوظ رکھتا ہے تو اس کاابتدائی سفر قلم کی سیاہی سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔اس طرح طالب علم اور قلم کے درمیان گہرا رشتہ پیدا ہو جاتا ہے ۔یہ وہ رشتہ ہوتا ہے جس کا خون سے بھی عزیز تر ہونا لازم ہے کیونکہ اسی سے علوم کودوام حاصل ہے کہ وہ رقم ہو رہا ہے ۔  شاعر اور ادیب تب نام حاصل کرتے ہیں جب ان کا کلام ،کام تحریری صورت میں عوام یا قاری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ رشتہ شاع

عقل بہترین رفیق کار

انسان کا اپنی خصوصیات سے نکلنا اور ایسے ذہنی و نفسیاتی مزاج سے علاحیدہ ہونا جس میں کوئی کجی نہ ہو ،انسان کی زندگی خراب کردیتا ہے اور اس کے طرز عمل میں انتشار پیدا کردیتا ہے۔کوّاجب ہنس کی چال چلنے لگتا ہے تو وہ نہ تو زمین پر ہی چل پاتا ہے اور نہ ہی آسمان میں اُڑپاتا ہے۔انسان کچھ اور بن جائے یہ تو بہت دشوار چیز ہے خواہ وہ کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرلے۔ماہرین نفسیات کے حساب سے جو کچھ ہمیں ہونا چاہئے تھا اگر ہم اپنے آپ کو اس معیار پر جانچیں تو صاف نظر آئے گا کہ ہم نصف زندہ ہیں کیونکہ ہم اپنے جسمانی و ذہنی وسایل کا بہت کم حصہ استعمال کرتے ہیں یعنی ہم میں سے ہر شخص اُن تنگ حدوں میں زندگی گذارتا ہے جو اُس نے اپنی حقیقی حدوں کے اندر بنا رکھی ہیں۔وہ مختلف طرح کی بہت سی صلاحیتیں رکھتا ہے لیکن عام طور پر اُن کا احساس نہیں کرتا یا اُن کا بھرپور استعمال نہیں کرتا ۔ہماری تخلیق اتنی باریکی سے کی گئی ہ

اسلامی کیلنڈر کے گیارہویں مہینہ ’’ذی قعدہ‘‘ کی اہمیت

ذی قعدہ اسلامی سال کا گیارہواں مہینہ ہے ۔ اس ماہ کو عربی زبان میں ذو القعدہ یا ذی القعدہ کہتے ہیں۔ یہ دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ذو یا ذی کے معنی ’’والا‘‘ اور قعدہ کے معنی ’’بیٹھنے‘‘ کے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عرب لوگ اس ماہ میں جنگ وجدال کو حرام سمجھتے تھے اور اسلحہ رکھ دیتے تھے۔ کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا تھا حتی کہ باپ بیٹے کے قاتل کو بھی اس ماہ میں کچھ نہیں کہا جاتا تھا۔ چونکہ عرب لوگ اس مہینہ میں قتل وقتال سے الگ تھلک ہوکر بیٹھ جاتے تھے اس لئے اس مہینہ کو ذو القعدہ یا ذی القعدہ کہا جاتا ہے۔ اردو زبان میں ذی قعدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی حج کیا جاتا تھا، جس میں مکہ مکرمہ کے علاوہ دوسرے مقامات سے بھی لوگ آتے تھے۔ حاجیوں کے استقبال اور ان کی سہولیات کے لئے بھی عرب لوگ اِس ماہ میں جنگ وقتال سے دور رہتے تھے۔  ذی قعدہ&l

نکاح کی ضرورت و اہمیت

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیاہے۔ ان نعمتوں میں ایک خاص نعمت نکاح  ہے ۔ نکاح ایک ایسی دولت ہے جس کی خواہش بچپن سے ہی ایک انسان کے اندر جلوہ گر ہوتی ہے ۔ایک انسان بچپن سے ہی اس فکر میں مبتلا ہوتاہے کی مجھے اچھی گاڑی،اچھابنگلہ اور اچھی بیوی مل جائے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک انسان کے اندر فطری طور پر بیوی کی خواہش رکھی گئی ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک جائز طریقہ بھی واضع کیا گیا ہے یعنی وہ نکاح ہے۔ نکاح کے بغیرانسان کی زندگی مکمل نہیں ہے۔یہ ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کہ ایک عورت میں مرد کا سکون چھپا ہوا ہے۔ اس صورت میں ایک انسان اس سے قطعاََ انکار نہیں کر سکتا۔ حالانکہ نکاح کے بغیر بھی زندگی کی گاڑی چل سکتی ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا جب انسان کو اپنے ایک ساتھی کی ضروقت محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت نکاح ہی ایک ایسا عمل ہے جس کا بدل دنیا میں کسی چیز سے ممکن نہیں۔ اس

کانگریس میں قیادت کا بحران کب ختم ہوگا؟

ہندوستان کی قدیم قومی سیاسی جماعت کا نام کانگریس ہے۔ اس جماعت نے ملک کے ترقیاتی ڈھانچہ کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کیاہے ،اس میںکوئی شک و تردد نہیں! جہدو جہد آزادی میں بھی کانگریس کی خدمات اظہر من الشمس ہیں اور انہیں ہرگز فراموش نہیںکیا جاسکتا۔جواہر لال نہرو اسی جدوجہد کے نتیجے میں ملک کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔کانگریس نے ہمیشہ ملک کو اعلیٰ قیادت کے بہترین اور کامیاب چہرے دئے ہیں جن میں مہاتما گاندھی، گوپا کرشن گوکھلے ،مدن موہین مالویہ ،لالہ لاجپت رائے ،مولانا محمد علی جوہر ،مولانا ابوالکلام آزاد ،سروجنی نائیڈو،جواہر لال نہرو،راجندر پرساد،اندرا گاندھی ،شنکر دیال شرما،راجیو گاندھی،اورایسے ہی دیگر اہم نام شامل ہیں۔ہندوستان کا موجودہ ترقیاتی ڈھانچہ بھی کانگریسی پالیسیوں کا مرہون منت ہے جبکہ موجودہ مقتدر سیاسی جماعت بی جے پی کے پاس آج بھی ملک کی ترقی کے لیے کوئی نیا منصوبہ

احربل …کشمیر کا ’نیا گرا‘ آبشار

احربل ، جو "کشمیر کے نیاگرا فالس(Niagara Falls of Kashmir)" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، جموں و کشمیر کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک ( Station  Hill) پہاڑی سٹیشن ہے جوگرمائی دارالحکومت (Capital )سری نگر کے جنوب میں ہے۔احربل تحصیل دمہال ہانجی پورہ ، ضلع کولگام میں پڑتا ہیں۔یہ جگہ ٹریکنگ (Trekking)، فوٹو گرافی اور ماہی گیری( Fishing) کے لحاظ سے موزوں ہے۔ گھاس کے میدان ، دیودار کے درخت، جنگلات ، متناسب برف پوش پہاڑوں کی دلکش نظاروں کی وجہ سے ، آبشار بہت سے ہندوستانی اور بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ جغرافیہ( Geography) احربل جموں و کشمیر کے ضلع کولگام کے نور آباد میں واقع ہے۔ یہ دریائے ویشو پر واقع ہے۔ یہ دریائے جہلم کی ایک آبدوشی ، پیر پنجال پہاڑوں کے اندر دیودار (Deodar) اور فر (Fur) کے درختوں میں ڈھکی ایک الپائن وادی (Alpine) میں سے گزرتا ہے۔ ی

شادی کے صرف دو روز بعد

 موت ایک اٹل حقیقت ہے اور کسی کو موت سے فرار سے حاصل نہیں ہے۔ موت ہر کسی کو اپنے مقررہ وقت پر آنی ہے۔ آئے روز ہزاروں لوگ موت کے شکنجے میں جاکر ابدی نیند سوجاتے ہیں اور اس دُنیائے فانی سے کوچ کرلیتے ہیں اور یہ کا ئنات کا دستور ہی ہے۔موت کس کو کب، کہاں اور کیسے آئے گی، کسی کی معلوم نہیں۔ انگریزی میں ایک مشہور مقولہ ہے Death keeps no  calender یعنی موت کا کوئی کلینڈر نہیں ہے۔ عصر ِ حاضر میں وادی کے یمین و یسار میں چہار سوُ موت کی خبریں موصول ہورہی ہیں،بچے ہوں یا بوڑھے، خواتین ہوں یا مرد، پیر وہوں یا جواں غرض اموات کی شرح کافی زیادہ بڑھ رہی ہے۔ خود کشی کا گراف بڑھ رہا ہے، طبعی موت میں اضافہ ہورہا ہے، مہلک بیماریوں کی وجہ سے شرحِ اموت میں اضافہ ہورہا ہے اور حرکت ِ قلب بند ہونے کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ غرض مختلف بہانوں سے روزانہ سینکڑوں لوگ ہم سے رخصت ہورہے ہیں،ہر سو اندوہنا

ہمیں زمانے کے ساتھ ہی چلنا پڑے گا

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے اس کا ارتقا ئی سفر جاری ہے۔وقت کے ساتھ بہت سارے تغیر اور تبدیلی کے نشانا ت ملتے ہیں۔کل جہاں پر ندیا ں بہتی تھیں وہاں آج شہر آباد ہیں، جہاں گھنے جنگل تھے، آج چمکتا دمکتا خوبصورت شہر آباد ہے ،جہاں دور دور تک ریت ہی ریت تھی وہاں پر آج بلند و بالا عمار تیں نظر آتی ہیں ،جہاں پر زندگی کی کوئی سہو لیا ت میسر نہیں تھیں اور زندگی بڑی کٹھن تھی وہاں پر اب لوگ آرام و آسائش کی زندگی گزار رہے ہیں۔جہاں پر بھوک اور قحط سے لوگ اکثر جو جھتے تھے وہاں پر اب کھانے کی کوئی کمی نہیں بلکہ اکثر و بیشتر کھانے کی برباد ی کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ایک دور تھا ایک کتاب کو منظر عام پر آنے میں برسوں لگ جاتے تھے لیکن اب معا ملہ یہ ہے کہ سال میں ہزاروں کتابیں منظر عام پر آجاتی ہیں اور صرف منظر عام پر ہی نہیں آتی ہیں بلکہ آسانی سے دنیا میں کہیں بھی دستیاب ہو جاتی ہیں۔کسی خبر کو

والدین کی عظمت کو سلام

اس دنیا میں بہت ساری شخصیتوں نے ولادت پائی جن میں سے بہت ساری شخصیتوں نے بنا کچھ کیے یوں ہی زندگی کے دن گزار دیے تو ان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ لیکن جن شخصیتوں نے اپنے زندگی کے ہر دن اور ہر لمحہ قدر کی اور اْسکا ٹھیک طریقے سے استعمال کیا اور اپنی زندگیوں کو سنوارا ،اْنہوںنے لوگوں کے سامنے ایک بہترین آئیڈیل پیش کیا۔ اس سفر میں سارا کا سارا کردار اْنکا ہی نہیں ہوتا ہے، اْسکا سب سے بڑا حصہ اْنکے اپنے گھر خاندان اور ماحول کا ہوتا ہے۔  جس ماں کی گود میں وہ ولادت پاتا ہے اگر وہ ماں نیک دیندار اور باعزت ہے تو بچے میں بھی وہ سارے اثرات وقت کے ساتھ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جس والد کے سر کی چھانو میں وہ بڑا ہوتا ہے اگر وہ والد ایماندار، انصاف پسند اور حق شناس ہے تو وہ سارے افعال اس بچے میں بھی آ جائیںگے جو اس والد میں ہیں۔ لیکن اگر پرورش کرنے والی ماں دیندار نہیں ہے اسکو اسلامی احکام کی

اللہ تعالیٰ کی رضاہی اصل کامیابی ہے

اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ایسی ہے جو تن تنہا اس دنیا کا خالق وحدہ لاشریک اور مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی عظیم الشان ذات ہے جس کی نہ کوئی ابتداء ہے، نہ ہی کوئی انتہا ہے۔ وہ ایسی ذات اقدس ہے جو دایمی ہے۔ جیساکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا  ہے’’ کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بے نیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ ایسی ذات اقدس ہے جسکا کوئی کنارہ نہیں۔ اس کو نہ زمین کی ضرورت ہے اور نہ آسمانوں کی، نہ وہ انسانوں کا محتاج ہے، نہ ہی فرشتوں کا، نہ نبیوں کا، نہ رسولوں کا، نہ جنت کا اور نہ جہنم کا، نہ وہ کھانے کا محتاج ہے،نہ پینے کا، نہ اسکو تھکن ہوتی ہے، نہ اونگھ آتی ہے،نہ نیند آتی ہے۔ وہ ہر رشتے سے پاک ہے۔ یہ ساری ضروریات ایک انسان کی ہے۔ انسان ہر

کورونا وائرس حقیقت میں وباء ہے ڈراما نہیں

۔2019کے اواخر میں ملک ِ چین کے علاقے 'وہان' میں پیدا شدہ عالمی وباء جیسے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لا کھڑا کیا ہے۔ جہاں اس چھوٹے سے وائرس کے مدمقابل سبھی انسان بے یارومددگار ہے وہیں اس کے مخالف ابھی تک دنیا سو فیصد کوئی موثر ادویات تیار کرنے میں قاصر رہی ہے۔ عالمی سطح پہ اس وقت ہر تین اشخاص میں سے ایک کی موت اس وباء کی بدولت ہو رہی ہے جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔  ہندوستان میں اس عالمی وباء کا پہلا کیس 30جنوری 2020کو پایا گیا ہے جس کے بعد یہ رفتہ رفتہ ملک کے طول و عرض میں اپنا زور پکڑتا چلا گیا اور یہ سلسلہ ابھی بدستور جاری ہے۔ اس عالمی وبائی بیماری نے امسال ہندوستان کو بْری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسی طرح اگر جموں و کشمیر کی بات کریں گے تو اعداد و شمار ملکی سطح سے مختلف نہیں ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ صورتحال قابو میں ہے لیکن جموںوکشمیر کے20اضلا

کورونا کا وار،اوپر سے بے روزگاری کی مار

ہر سمت گلستاں میں غمِ روز گار  ہے  سانسوں کی طرح تھمتا یہاں کاروبار ہے  میرے  وطن کا ایسا ابھی حال ہو گیا  دلّی کی طرح میر کا  اجڑا دیار ہے سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکانومی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی دوسری لہر کے دوران ایک کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور 97  فیصد خاندانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔جب کہ مئی 2021 کے اخیر تک بے روزگاری کی شرح تقریباً 12 فیصد ہوگئی ہے اور شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار جہاں ایک طرف بے روزگاری کی خوفناک تصویریں عیاں کرتے ہیں وہیں دوسری جانب بے شمار خاندانوں کے زبو ںحالی کی داستان بھی بیان کرتے ہیں۔ بے روزگاری اچانک کی پیداوار نہیں بلکہ آزاد ہندوستان میں روز اول سے ہی ملک کا عظیم ترین مسئلہ ہے۔ ملک کی تمام مرکزی و ریاستی حکومتوں کے روبرو جو سب سے

موبائل فون…رحمت کو زحمت نہ بنائیں

دنیا میں ہر شئے تیزی سے بدل رہی ہے۔سائنس نے اس تغیر و تبدل کو مزید تیز کر دیا ہے۔اس نے زندگی کے ہر گوشے کو بدل کے رکھ دیا ہے۔اس کے اثرات علم ، تہذیب وتمدن ،مذہب ،صنعت ، معیشت سب پر پڑرہے ہیں اور ان میدانوں میں سائنس نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔اس کی ایجادات نہ صرف محیر العقول ہیں بلکہ انسان کے لیے سہولیات اور آسانیوں کا سبب بھی ہیں۔اصول ہے کہ جب ضرورتیں بڑھتی ہیں تو انسانی ذہن وسائل کو بروکار لاکر کوئی نئی اختراع سامنے لاتا ہے۔موبائل  فون انسانی ذہن کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ضرورت کے سامنے انسان بے بس ہے۔کوئی چیز ضرورت بن جائے تو اس کے بغیر پھر گزارہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔موبائل فون  انسان کی بنیادی  ضرورت بن گیا ہے۔اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس آج کل بچے بچے کو ہے۔بچہ ہو یا بوڑھا ،مرد ہو یا عورت ہر فرد اس کا قیدی اور گرویدہ نظر آتا ہے۔پورے جہاں پر اس کا راج ہے۔تیز رفتار ز

ترقی کے نام پر صرف انتظار ملتا ہے دیہی عوام کو

حکومت ہند نے ہر شہری کو رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت حق دیا ہے کہ وہ متعدد محکمہ جات سے مختلف قسم کی کارکردگی سے متعلق جانکاری حاصل کر سکتا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو ملک کی دوسری ریاستوں کے علاوہ یوٹی جموں و کشمیر میں بھی لاگو کیا گیا ہے۔ یہ قانون حکومت و عوام کے لیے مشترکہ طور پر سود مند ثابت ہوا ہے۔جہاں اس قانون کے لاگو ہونے سے جموں و کشمیر کے کئی اضلاع گاؤں دیہات میں زمینی سطح پر ہورہے ترقیاتی کاموں میں بہتری آئی ہے وہیں اس ترقی یافتہ دور میں کئی علاقہ جات میں اس قانون کا کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ضلع پونچھ کے کئی علاقہ جات ایسے بھی ہیں جہاں ذاتی مفاد پرستوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ دور حاضر میں بھی یہ ذاتی مفاد پرست ملی بھگت کر کے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ غریب عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں میں کمی دیکھنے کو مل

نکتہ چینی کرنا چھوڑ ،پہلے اپنا حال دیکھ!

یہ دنیا ہے ، یہاں عجیب عجیب طرح کے لوگ ملتے ہیں ۔کوئی کسی انداز میں خوش رہتا ہے تو کوئی کسی انداز میں۔ الگ الگ مزاج بھی ہوتے ہیں، الگ فطرت بھی ہوتی ہے ۔کام کرنے والے لوگ بھی ملیں گے اور کام میں رخنہ ڈالنے والے لوگ بھی ملیں گے اور کام بگاڑنے والے لوگ بھی ملیں گے۔ ہاں کام کو مزید بہتر بنانے والے بھی ملیں گے، دوسروں پر انگلی اٹھانے والے اور خود اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے والے بھی ملیں گے، مشورہ دینے والے تو ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے لیکن مشوروں کو عملی جامہ پہنانے والے کم ملیں گے۔اسی طرح کچھ لوگوں کا مزاج ہوتا ہے کہ ہم سے ضرور مشورہ لیا جائے ، کوئی کمیٹی تشکیل دی جائے تو ہم کو سربراہ بنایا جائے اور نہ بنانے کی صورت میں وہ ناراض بھی ہوجاتے ہیں اور کمیٹی و ادارے اور مشن کو نقصان بھی پہنچا تے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی ذہنیت رکھنے والے سستی شہرت کے بھوکے ہوتے ہیں وہ اپنی بڑائی اور سرخروئی چاہ

خودکشی کا بڑھتا رجحان لمحۂ فکریہ!

آج بہت افسوس کے ساتھ ،اپنے قلب کو تھام کے اس قلم کو تھر تھراتے ہوئے ہاتھوں میں لے کے اور کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنی ترستی اور اشک بھری آنکھوں سے دیکھ کے اس بات کو تحریر کر رہا ہوں کہ جہاں پوری دنیا  ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہی ہے اور جہاں ہر ملک اول درجے پہ اپنے ملک کی ٹیکنالوجی کو لینا چاہتا ہے، جہاں ہر کوئی قوم چاند کے سفر طے کرنے کی سوچ رہی ہے ،جہاں انسانوں کی آسانی کیلئے ہر کوئی چیز مہیا ہے وہیںانسانوں کی جانوں کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی۔ اب انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بد تر سلوک کیا جا رہا ہے۔آسائش کے با وجود بھی انسان چین و سکون سے محروم ہے اور یہی انسان دنیا کی معمولی سی ناکامیوں کی وجہ سے  اپنے آپ کو ہلاک کر دیتا ہے اور انسان اس عظیم نعمت کو بے دردی کے ساتھ ہلاک کر دیتا ہے۔  زندگی میں معمولی سی ناکامیوں سے بچنے کی وجہ سے اور دیگر مصائب و آلام کی وجہ سے خودکشی

گڑ کا استعمال خطرناک بیماریوں سے بچاسکتا ہے!

گُڑ میں کیروٹین ، نکوٹین ، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو ، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ گْڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں پرانا گْڑ خشک ہے جب کہ نیا گْڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے۔ گڑ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔قبض دور کرتا اور گیس کی تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔ شیرخوار بچوں کی مائیں جن کا دودھ بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا ہو وہ صرف اتنا کریں کہ دودھ کے ساتھ سفید زیرے کا سفوف اور گْڑ صبح و شام استعمال کریں۔ اس سے دودھ کی مقدار بڑھ جائے گی۔ حافظہ تیز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں گْڑ کے حلوہ کا استعمال بہترین ثابت ہواہے۔ لہٰذا وہ طلبا جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گْڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہییگڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم