تازہ ترین

کورونا قہر اور سسکتی انسانیت

کورونا وائرس کی ہوش رُبا تبا ہی سے اس وقت ساری انسانیت تڑپ رہی ہے۔ ہمارے اپنے ملک ہندوستان کے حالات دن بہ دن دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر روز مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر طرف ایک نفسا نفسی کا عالم ہے۔ دواخانوں میں مریضوں کو بیڈ نہیں مل رہے ہیں۔ وقت پر آکسیجن نہ ملنے سے لوگ موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں۔ ہر آدمی حیران اور پریشان ہے۔ حکمرانوں کی کاہلی اور ان کی غفلت کی سزا عوام بھگت رہی ہے۔ گزشتہ سال کوویڈ کی پہلی لہر نے ملک میں خوف اور دہشت کا جو ماحول پیدا کر دیا تھا ، اس سال اس سے کئی گُنا زیادہ حالات بد ترین ہو گئے ہیں۔ حالات کی اسی سنگینی کا نوٹ لیتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کویڈ۔19     کے بڑھتے ہوئے بھاری اضا فہ کو "قومی بحران"قرار دیتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے ہیلتھ انفرا سٹر کچر کے متعلق رپورٹ طلب کی۔ سپریم کورٹ نے منگل ( 27؍

’’آکسیجنو فوبیا‘‘

   کب کوئی دیش دروہی ٹھہرے پتہ ہی نہیں چلتا- زندگی کی پہلی ضرورت جسکو عرف عام آکسیجن کہا جاتا ہے مانگنا بھی کبیرہ گناہ بن گیا ہے۔ آکسیجن سے ڈرنے کی ساری کہان ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے گرد گھومتی ہے۔ اس سے پہلے مختلف اقسام کے فوبیوں مثلاً ہاییڈرو فوبیا، اسلامو فوبیا وغیرہ کے بارے میں تو سن رکھا تھا لیکن آکسیجن سے بھی کوئی ڈرتا ہے پہلی بار دیکھا ۔ پتہ نہیں یوپی کا موجودہ ایوان اقتدار آکسیجن کی ڈیمانڈ کرنے پر سیخ پا کیوں ہو جاتا ہے ۔ کرونا کی دوسری لہر نے ملک بھر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ یقین جانیں جس طرف نظریں اٹھاؤ لاشوں کے انبار دکھائی دے رہے ہیں ۔صبح اٹھ کے اخبارات دیکھو تو ان سے بھی موت کے انگارے بھڑک رہے ہیں ۔ پوری دنیا سے ہمدردیوں و امدادی پیکیج کا سلسلہ جاری ہے ۔ مختلف ممالک سے یہ امدادی پیکیج آکسیجن کی صورت میں بھارت پہنچ رہی ہے ۔ ملک کے ہسپتال آکسیجن

گرافک ڈیزائننگ اور انیمیشن

تکنیکی ترقی نے جن کورسیس میں انقلابی تبدیلی اور روزگار کے کثرت سے مواقع پیدا کیے ہیں ان میں گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، وی ایف ایکس، اسپیشل افیکٹس، سائونڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ایڈورٹائزنگ کے شعبے اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ٹیلیویژن، فلموں، آن لائن پلیٹ فارمس، نیوز چینلس ، میڈیا، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک گرافک ڈیزائنریا اینیمیٹرکسی فلم ، میڈیا کمپنی میں ملازمت بھی کرسکتا اور اسے خود روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں ، ٹیکنالوجی سے شغف ہو، انھیں ان کورسیس کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ آئیے ان کورسیس کا جائزہ لیں۔  گرافک ڈیزائنر  (Graphic Designer)  ایک گرافک ڈیزائنر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، پبلشنگ اور میڈیا ہائوسیس، ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے

SCREAMING SILENCE

نام کتاب؛ Screaming Silence  مصنف؛ ڈاکٹر مدثر احمد غوری سن اشاعت؛2021 ناشر؛ Ink Links Publishing House J&K ڈاکٹر مدثر احمد غوری کا تعلق کشمیر کے موضع تلنگام پلوامہ سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں کے اسکول گورنمنٹ مڈل اسکول تلنگام سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر مدثر نے جھانسی کا رخ کیا اور وہاں سے انگریزی میں پوسٹ گریجویشن گولڈ میڈل حاصل کرنے کے ساتھ مکمل کی۔ بعد میں ایم فل کی ڈگری وکرم یونیورسٹی اُجین سے 2014ء میں حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی سے امتیازی شان کے ساتھ حاصل کی ۔ مصنف اس وقت مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے ڈی ڈی ای کے شعبۂ انگریزی میں بحیثیت گیسٹ فیکلٹی کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مدثر احمد غوری محقق بھی ہیں، شاعر بھی ہیں اور نقاد بھیـ

احکام رمضان المبارک

رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔ روزہ کی نیت:نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔ مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے: (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادۃً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا