تازہ ترین

عظیم مہینہ اُمتِ مُسلمہ پرسایہ فگن

رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ رمضان آنے سے پہلے آپ لوگوں کے ذہن استقبالِ رمضان کے لیے تیار کرتے تھے تا کہ اس عظیم مہینے سے پوری طور فائدہ اٹھا سکیں۔ احادیث میں ایسے خطبوں کا تذکرہ آتا ہے، جو خاص اس مقصد کے لیے آپﷺ نے رمضان کی آمد سے پہلے دئے ہیں۔ خاص طور پر وہ خطبہ مشہور ہے جو شعبان کی آخری تاریخ کو دیا گیا ہے، یہ نہایت ہی طویل اور مشہور خطبہ ہے اور اس کے راوی حضرت سلمان فارسیؓ ہیں، اس خطبہ میں آپ ؐ نے یہ خوش خبری دی ہے کہ : تم لوگوں پر جلد ہی ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کے مختلف پہلو پیش فرمائے۔ اس میں روزے کے فیوض و برکات کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ اچھی طرح پورے ذوق و شوق کے ساتھ کمر بستہ ہو جائیں۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو پھر سے رمضان کی ساعتیں میسر آئیں۔ اور انتہائی بد نصیب ہو گا وہ جسے یہ ماہِ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ رم

فکری اختلاف…متوازن رویہ

غلبہ دین کے بارے میںغامدی صاحب لکھتے ہیں؛’رسالت یہ ہے کہ نبوت کے منصب پرفائزکوئی شخص اپنی قوم کے لئے اس طرح خداکی عدالت بن کرآئے کہ اس کی قوم اگراسے جھٹلادے تواس کے بارے میںخداکافیصلہ اسی دنیامیںاس پرنافذکرکے وہ حق کاغلبہ عملََااس پرقائم کردے:’’اورہرقوم کے لئے ایک رسول ؑہے ۔پھرجب ان کاوہ رسولؑ آجائے توان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیاجاتاہے اوران پرکوئی ظلم نہیںکیاجاتا۔‘(یونس۴۷) رسالت کایہی قانون ہے جس کے مطابق خاص نبیﷺکے بارے میںقرآن کاارشادہے:ـ’وہی ہے جس نے رسولؑ کوہدایت اوردینِ حق کے ساتھ بھیجاکہ اسے وہ(سرزمین عرب کے)تمام ادیان پرغالب کردے۔‘(الصف ۹)۔۔۔‘(میزان۷۲) قرآنی آیات سے استدلال کرکے ان کامانناہے کہ اظہارِدین رسولوںکے ساتھ خاص تھااوریہ دلیلِ نبوت میںسے ہے۔امتِ مسلمہ کویہ کام نہیںسونپاگیاہے۔امت کاکام شہادتِ حق اورانذارِ