تازہ ترین

انتخابی جنگ میں عوامی مسائل نظر انداز

 ملک کی چار اہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ میں اسمبلی انتخابات کی مہم کا فی زوروں پر چلی۔ سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ رائے دہندوں کو لبھانے اور للچانے کے لئے جو ترغیبات دی گئی اس کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔ کسی سیاسی پارٹی نے خاتون رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کر نے کے لئے بر سر اقتدار آنے پرواشنگ مشین دینے کا وعدہ کیاتو کسی دوسری پارٹی نے ضعیفوں کے وظیفہ کو بڑھانے کا تیقن دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کے آ تے ہی وعدوں کی بارش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر الیکشن کے موقع پر وعدوں کی سوغات لے کر رائے دہندوں کے درمیان آنا اور الیکشن کے بعد ان وعدوں کو بڑی بے التفاتی سے بُھلا دینا ہمارے سیاستدانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد جہاں عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں انحطاط آتا گیا وہیں ملک کے انتخابی نظام میں بھی کئی

کورونا:سازشی تھیوری اور لاپرواہی

کووڈ19 ایک عالمی وبا ہے۔اس کی لپیٹ میں دنیا کا تقریباً ہر چھوٹا بڑا ملک آچکا ہے۔عالمی اقتصادیات کو اس وبا نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔اس طور سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک آفت ہے، قہر ہے جو دنیا پر مسلط کیا گیا ہے۔یہ ایک لہر ہے جو لاکھوں کو بیمار بناتی ہے اور ہزاروں کو از جان کرتی ہے۔اقوام متحدہ نے اس وبا کو اب عام بیماریوں کی طرح ایک بیماری تسلیم کرلیا ہے جو ممکن ہے ہر سال مارچ کے مہینے سے سر اٹھائے گی۔اس بیماری کا تعلق نہ کسی مذہب ،علاقہ ،زبان ،رنگ ،نسل یا عمر سے ہے اور نہ ہی کوئی اس معاملے میں مستثنیٰ ہے۔بڑے بڑے رئیس ،عالم دین ،سادھو سنت ،ڈاکٹر ،سائنسدان ،سیاستدان ،بوڑھے ،جوان ،بچے ،مرد اور عورتیں اس بیماری کے شکار ہوگئے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ،مرد اور عورتیں بیوہ بن گئے اور والدین بے اولاد۔نماز اور تہجد ادا کرنیوالے عابد ،زاہد اور عارف بھی اس بیماری سے نہیں بچ سکے

’شہر نامہ ‘(اوجڑی کیمپ کے حوالے سے)

اتوار 10اپریل1988ء کے روز صبح 9بجکر45 منٹ پر فیض آباد راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپومیں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش شروع ہوئی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ایک ہفتہ تک افراتفری کا عالم رہا۔ دھماکوں کی آوازوں سے ہر طرف وحشت، نفسانفسی اور افراتفری کا ماحول تھا۔ فضا میں جو گردو غبار اور دھواں چھایا ہوا تھا وہ اس قدر ہولناک تھا کہ قیامت کا سماں تھا۔  اوجڑی کیمپ اسی ایکڑ پر پھیلا تھا۔ افغان جنگجوئوں کیلئے امریکہ روس کے خلاف لڑنے کیلئے جو سامان پاکستان بھیج رہا تھا اس کا 70 فیصدی اسلحہ اسی کیمپ میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں افغان جنگجوئوںکیلئے اسلحہ کے سولہ ڈیپو اور فوجی تربیت کے سڑسٹھ کیمپ موجود تھے مگر اوجڑی کیمپ ہیڈ کوارٹر تھا۔ جہاں امریکی اسلحے کا بڑا ذخیرہ تھا دوسو اڑ تالیس سٹنگر مزائل بھی اسی کی

فیملی فوٹو سے سیلفی فوٹو تک

رفتہ رفتہ سب تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں کتنے چہرے ایک پرانے البم میں مر جاتے ہیں خوشبیر سنگھ شاد    انسانی تاریخ نے اپنے ماضی کو محفوظ کرنے ،حال کو دلچسپ بنانے کے لئے اور مستقبل میں ان گزرے اوقات کی تلخ وشیریں نیز حسین یادوں کے جروکوں میں باہیں وا کرنے کی خاطر مختلف تراکیب متعین کی ہیں جن میں تحریری ،تقریری، تصویری ،ویڈیوگرافی سے تیار کردہ مختلف مواد شامل ہیں۔مصور کے کیمرے سے لی گئی تصویروں کو سنبھال کر البم کی صورت میں محفوظ رکھنا ہمارے اسلاف کا ورثہ خاص مانا جاتا تھا اور ماننے کے قابل بھی تھا جس میں نئی نسل کے لئے وراثت کے بطور اسلاف کے ہنر، انکی کامیابی،ناکامی اور اجتماعی طور پر انکی زندگی کی تفصیلی صورت حال کو گویا تفسیر کی حالت پر بزبان حال تصویروں میں مقید کیا جاتا۔ اس طرح سے ہر خوشی ،غم،ہر قسم کی کیفیت ،تجربوں کی خوش کن تاریخ ،احساسات ،مشاہدات کی غیر

کورونا اور رمضان کی دو بارہ آمد

رمضان المبارک کا محترم مہینہ ایک بار پھر ہمارے اوپر سایہ فگن ہونے جارہا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کی یلغار اب تک کم نہیں ہوئی ہے تودوسری جانب ایک مرتبہ پھر مسلمانوں بلکہ پورے عالم کے لئے ایک متبرک مہینہ کی آمد ہوا چاہتی ہے جو اپنے ساتھ رحمتیں، برکتیں اور بے شمار و لازوال چیزیں لیکر ہم پر کرم فرما ہونے والا ہے۔  رمضان کے مبارک مہینہ کا پہلا عشرہ رحمتوں کے نزول کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ دوسرا عشرہ گناہوں کی خلاصی کا ہے، انسان سے اگر برے کام سرزد ہوئے ہوں اور وہ گناہوں میں مبتلا ہو تو اپنے رب سے تعلق بناکر اس سے معافی تلافی اور مغفرت طلب کرکے اپنے آپ کو پاک کرنے کا ہے۔ اور تیسرا عشرہ نار جہنم سے نجات حاصل کرنے کا ہے۔ رمضان المبارک میں کیا ہوا ایک ایک عمل باعث اجر و ثواب اور نجات پانے کا ذریعہ ہے۔ اس مبارک ماہ میں قرآن کا نزول ہوا ہے جس وجہ سے اسے شہر