تازہ ترین

دُعا۔وَبا سے نجات پانے کا ذریعہ

انسانیت پر نبی کریم ﷺ کے بے شمارولاتعداد احسانات ہیں ،ان ہی احسانات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے مختلف حالات اور مواقع کے لحاظ سے دعا کرنے کا سلیقہ بھی سکھایااور کس طرح رب سے مانگنا چاہیے اور کیا کیا مانگنا چاہیے اس کا طریقہ بھی بتایا۔زبان ِ نبوت سے نکلی ہوئی دعائیں تاثیر وانقلاب میں غیر معمولی ہوتی ہیں۔آپﷺ نے امت پر احسان فرمایااوراپنی مبارک زبان سے دعائیں سکھائیں۔انسان مجموعہ ٔ حاجات ہے ،ہر وقت کوئی نہ کوئی حاجت اور ضرورت انسان کو لاحق رہتی ہے ،انسان کے ساتھ اچھے حالات بھی پیش حالات ہیں اور خراب حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ،خوشیاں بھی نصیب ہوتی ہیں اور غم سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے ،موافق اور سازگار دور بھی رہتا ہے اور ناموافق اور پریشان کن مرحلے سے بھی گزرنا پڑتا ہے ،غرض یہ ہے کہ انسان ہر موقع پراللہ تعالی کا محتاج ہے ،اللہ تعالی کے کرم و عنایت اور فضل و مہربانی کے بغیر انسان ای

ہلاکت خیزوبائی صورت حال کے اسباب

احکام خداوندی کے خلاف بغاوت کرنے والوں پر عذاب الٰہی کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا ہے لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پوری دنیا کے لئے رحمت ہے ، اس لئے اس اُمت کو اتنے وسیع عذاب سے محفوظ رکھا جو پوری بنی نوع انسان کو تباہی سے دوچار کردے ، گویا کہ اس امت محمدیہ پر باری تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد عوام الناس قہر خداوندی سے بالکل محفوظ ہوگئے اور نافرمانوں کو انتہائی گھناونی حرکتیں کرنے کے لئے آزادی مل گئی…! یاد رکھنا چاہئے کہ انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ آخرت میں تو ضرور ملے گا لیکن دستور خداوندی کے مطابق بعض گناہوں کی سزا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہیں جس کا مقصد عذاب دینا نہیں بلکہ انکی غلطیوں پر تنبیہ کرنا اور آخرت کے بھیانک عذاب سے بچانا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کی یہ آیت اس مقصد پر واضح دلیل ہے: 

شعبان المعظم کی فضیلت اور اہمیت

اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کے لیے کھلے رہتے ہیں۔اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو،اُس کی فضائوںمیں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا پردہ ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے۔ان خاص لمحوں، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ،ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ کشمیر میں بہت ساری خواتین نماز پڑھتی ہیں مگر بلا عذر بیٹھ کر پڑھتی ہے ۔بیماری کی وجہ سے مرد حضرات و خواتین بیٹھ کر نماز پڑھیں، تو اس کا مسئلہ اپنی جگہ ہے ۔ مگر ہم نے ایسی بہت ساری خواتین کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا ہے، جو صحت مند اور تندرست ہوتی ہیں اور سارے کام کھڑے ہو کر کر پاتی ہیں۔ چلنا پھرنا سب کچھ آرام سے ہوتا ہے مگر نماز پڑھنی ہو تو بیٹھ کر پڑھتی ہیں ۔اس نماز کا کیا حکم ہے؟ جمیل الرحمٰن بلاوجہ بیٹھ کر نماز پڑھنا جواب:۔نماز میں جو امور فرض ہیں اُن میں سے ایک اہم امر قیام بھی ہے۔ اگر کسی نے بلا عذر قیام چھوڑ دیا۔ مثلاً بیٹھ کر نما زپڑھی تو وہ نماز ادا نہ ہوگی۔ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ پائے تو اُسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ جناب رسول اکرم ﷺ نے اس پورے عرصہ میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی جب وہ گھوڑے پر درخت سے ٹکرانے کی بنا پر زخمی ہو ک