تازہ ترین

ایران۔چین اقتصادی معاہدہ اور ہندوستان

 امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے چین کے ساتھ 25 سالہ اقتصادی معاہدہ کرلیاہے۔یہ معاہدہ 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مبنی بتایا جارہاہے۔ماہرین اقتصادیات اس معاہدہ کو عالمی اقتصادی نظام کے لیے بڑی حصولیابی مان رہے ہیں۔اس معاہدہ کا براہ راست اثر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر بھی مرتب ہوگا۔خاص طورپر سعودی عرب،پاکستان ،افغانستان ،ہندوستان اور دیگر ممالک اس معاہدے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔چونکہ اس وقت ان دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن امریکہ ہے اس لیے یہ معاہدہ مزید اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔جوہری معاہدے سے امریکہ کے فرار کے بعد ایران عالمی بازار میں اپنی خاطر خواہ نمایندگی چاہتا تھا جو چین کے ذریعہ ممکن ہوگی۔وہیںامریکہ کی چین کے ساتھ کشیدگی نے اس تجارتی معاہدے کو مزید تقویت بخشی۔اس معاہدے کے نفاذ کے بعد چین ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور ایران سستے داموں پر اسے تیل ،گ

طبی ایمر جنسی کا دوسرا مرحلہ!

دنیا کے بیشتر حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی مہلک کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سلسلے کی جاری دوسری لہرکافی خطرناک ثابت ہورہی ہے ۔ماہرین بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہے کورونا وائرس کو لیکر فکر مند ہیں اور وہ عوام کو احتیاطی تدابیر کی صلاح دے رہے ہیں۔لیکن بعض حقائق کو لیکر لوگوں کے استفسارات جواب طلب ہیں تاکہ پہلے کی طرح ہی ’سازش‘ کی تھیوری عوامی اذہان میں جگہ نہ بنانے پائے۔بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے احتیاطی طور بند کرنا تو ٹھیک ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کا کیا جہاں اور لوڈ میں لوگ ایک دوسرے کے سروں پر سوار رہتے ہیں؟چھوٹی گاڑیوں کو لیجئے تو ایک ساتھ نو دس افراد ایک دوسرے سے چمٹ کر بیسیوں کلو میٹر کا سفر بحث و مباحثوں میں طے کرتے ہوئے سماجی دوری یا ماہرین کی زبان میں بولیں تو ایس او پیز کی ایسی تیسی کرلیتے ہیں۔اور تو اور چہروں پرماسک کی بھی