تازہ ترین

وادی کشمیر کے طالب علم | ہوم ورک میں مشغول رہنا بہتر

جب یہ کائنات وجود میں آئی تو انسان کی بھی تخلیق ہوئی۔خالق کائینات نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔جب ہمارے جدامجد حضرت آدم علیہ سلام کو خالق ارض وسماء  نے بنایا تو پھر آدم علیہ سلام کو چیزوں کے نام سکھائیے۔ان چیزوں کے نام سکھانے کو ہم علم کہتے ہیں,جو ?ربالعزت نے حضرت آدم علیہ سلام کو عطا فرمایا۔اس طرح یہ دنیا کا کارواں تب سے جب تک رواں دواں ہے۔اللہ تعالیٰ کی  منشاسےاس دنیا میں بہت سے انبیاء کرام بھی تشریف لائے۔آخر پر ?رب العزت نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔جب وحی کا نزول ہوا تو سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی ،وہ سورہ العلق کی ابتدائی آیات ہیں۔پہلی ہی وحی میں نبی اکرم صلی?علیہ وسلم سے فرمایا گیا’’اقراء‘‘یعنی پڑھو۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد عربی صلی?علیہ وسلم تک ت

چراغ دل کا جلاؤٔ بہت اندھیرا ہے

 خالق کائنات نے اس کائنات کو ایک منظم صورت میں پیدا فرمایا ہے ۔ موسموں کا تغیر وتبدل،گردش روز وشب،پیدائش وموت ،مظاہر فطرت میں ایک خاص طرح کا توازن غرضیکہ پورے نظام عالم پہ نظر دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے کار وبے فائدہ پیدا نہیں فرمائی ہے ۔ہر انسان پر بالغ ہونے کے بعدیہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق ان تین بنیادی اوراہم سوالوں کے جوابات کی تلاش و تجسّس میں لگ جائے ۔ پہلا سوال یہ کہ میں اس دُنیا میں کہاں سے آیاہوں؟ یا یہ کہ میرا اصلی خالق ومالک کون ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ مجھے اس دُنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟ تیسر ا سوال یہ کہ مجھے مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ان تینوں سوالات کے جوابات کی تفہیم کے لیے اللہ رب العالمین نے ابتدائے آفرینش سے یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں کو مبعوث  فرمایا ۔

اَندھیر ے کو کوسنے سے کچھ نہیں ہوگا

اس وقت ملک سنگین حالات سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں بھی مودی جی نے من کی بات کر ہی لی۔ 21 دن کے لوک ڈاؤن سے ہو رہی پریشانی کے لئے معافی مانگی مگر اسے ضروری بتایا۔ تیاری اور سوچے سمجھے بغیر اٹھائے گئے لاک ڈاؤن کے قدم نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی یاد تازہ کر دی۔ نوٹ بندی کو بھی انہوں نے ضروری بتایا تھا۔  ملک تب بھی لائنوں میں کھڑے ہو کر تکلیف کو جھیل گیا۔ لائن میں لگنے سے 125 سے زیادہ لوگوں نے جان گنوائی اور جی ایس ٹی نے کاروبار کو برباد کر دیا۔ لوگ اب بھی گھروں میں بند ہو کر دقت برداشت کر رہے ہیں۔ اس بار وجہ جائز بھی ہے کیونکہ سوال زندگی کا ہے۔ مگر مسئلہ اس بے گھر غریب آدمی کا ہے جو سرکار کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے گاؤں اور شہر کے بیچ پھنس کر رہ گیا ہے۔ وہ پیدل ہی اپنے گھر کی طرف نکل پڑا ہے۔ سماجی فاصلہ بنا کر رکھنے کے قاعدہ کے باوجود وہ بس اڈوں کا حصہ بن رہا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ

ٹِــک ٹـــاک | اسلامی تعلیمات کے تناظر میں

ٹک ٹاک یہ ایک وڈیو ایپ ہے، جس کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے وڈیو بنائے جاتے ہیں اور انٹر نیٹ پر اپلوڈ کرکے اسے پھیلایاجاتا ہے۔ جو لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیںان تک اس طرح کی وڈیوز کی عام رسائی ہوتی ہے۔اس ایپ کو۲۰۱۶ء میں چین نے لانچ کیا تھا محض دو سال کی مدت میں اس نے شہرت کی بلندیوں کو حاصل کرلیا اور یوٹوب اور فیس بک ،واٹس ایپ جیسے مشہورایپ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ صرف دوسال میں اسے ۵۰۰ ملین لوگوں نے لوڈکیا ہے اور دنیا کے ۱۵۰ ملکوں میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔۲۰۱۹ء میں اسے جدید طور پر لانچ کیا گیا جس کے بعد ہندوستان بشمول بیشتر ملکوں میں اس کو خوب پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ ٹک ٹاک ، سوشل میڈیا کا ایک بڑھتا ہوا فتنہ ہے، جس کا بنیادی مقصد بے حیائی کو فروغ دینا ہے ،اس کے مختلف مفاسد اس وقت سامنے آچکے ہیں۔یہی وجہ ہے بہت سے ممالک نے اس کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اور نوجوان نسل پر اس کے بر

اَفسردگی چھوڑ دو , ہر حال میں شاکررہو

 بلا شبہ منفی سوچ ناکامی کا سبب بنتی ہے جبکہ مثبت سوچ کامیابی کے لئے اولین شرط ہے۔اس کی وجہ سے انسان میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور پُر خطر حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے ۔حالات کتنے ہی پیچیدہ اور کشیدہ ہوں ،مثبت طرز عمل راہیں نکال ہی لیتا ہے ۔انسان کو اپنے کام پر شرح صدر ہو اور اپنے طریقۂ کار اطمینان ہو اور یکسوئی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتی ۔حالات کے نشیب و فراز اس کے کام میں خلل انداز نہیں ہوسکتے،راستے میں حائل رکاوٹیں اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتیں۔اگر افراد میں مثبت سوچ کے بدلے منفی سوچ پروان چڑھنے لگے تو انسان کے دیکھنے کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے ۔کامیابی کی جگہ ناکامی نظر آتی ہے ۔حوصلے کی جگہ پستی و نامرادی آجاتی ہے ۔دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا ہوجاتے ہیں ،انسان اپنی منزل کے بجائے خطرات اور مشکلات ک

کو رونا کی وبا باہمی تلخیوں کو مٹانے کا ذریعہ | کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا گناہ ہے

کورونا وائرس ایک قدرتی آفات ہے اور اس سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے اور ہر ملک اپنے شہری کی حفاظت کیلئے اپنے طور پر ہر قسم کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس وبا نے انسانی معاشرے کو خوف و ہراس میں جینے پر مجبور کر دیا ہے ۔اب تک لاکھوں افراد اس وبا کے شکار ہو گئے ہیں اور چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔دنیا بھر میں اس وبا سے مقابلہ کرنے کے لئے طبی معائنہ اور خود شاختۂ بندی کر ناہی ضروری اقدامات کے طور پر اپنا رہے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی کوئی دوا تلاش نہیں کر سکے ہیں ۔چین جہاں سے یہ وبا پھیلی ہے اس نے بھی ایک علاقے اوہان میں لاک ڈاؤن شروع کر کے ہی قابو پایا ہے ۔اس لئے اپنے ملک میں بھی یہی ترکیب اپنائی گئی ۔اگر چہ کچھ دیر سے یہ قدم اٹھایا گیا لیکن ملک کے عوام نے اس وبا سے لڑنے کیلئے جو حوصلہ دکھایا ہے وہ قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل تحسین ہے ۔مگر افسوس ہے

تازہ ترین