کووڈ 19اور4جی انٹرنیٹ

جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال اگست کے مہینے سے انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر طبقہ اور خاص کر طلاب کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال کے ماہ اگست سے ہی لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب  کرونا وائرس کی قہر کے باعث لاک ڈائون کی پریشایاںسہنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ سالِ رواں کے دوران سرکار نےجموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میںکسی حد تک اپنے رویہ میںتبدیلی لائی ہے، جسکے نتیجہ میں لاک ڈائون سے قبل ہی انٹر نیٹ کی محدودبحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سرکار نےاپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف2جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں جو ک

کورونا وائرس اور سرینگر میں پانی کی قلت

وزیراعظم نریندر مودی آ?ج کل اور باتوں کے علاوہ دن میں بار بار بیس سے تیس سیکنڈ تک پانی اور صابن سے ہاتھ دھونے پر زور دیتے ہیں۔ پوری دْنیا اور ملک کے دوسرے خطوں کی طرح کشمیر بھی کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ بچنے کی بنیادی صورت پانی سے ہاتھ صاف کرنا ہے لیکن اگر کسی خطے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہو، وہاں ہاتھ صاف کرنے کی مہم چلانا اندھوں کی بستی میں آئینے بیچنے جیسا ہے۔  غرض یہ کہ سرینگر میں پینے کے صاف پانی کی قلت کورونا وائرس کے خطرے کو دوگنا کر دیتی ہے۔ میں ارباب اختیار اور اہل نظر کی توجہ اس اہم مسلے کی طرف اس لئے مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اگر پانی کورونا وائرس کے خلاف بنیادی ہتھیار ہے تو اندازہ کریں جب لوگوں کو پانی ذخیرہ کرنا پڑے اور لاک ڈاون کے دوران کئی روز تک محکمہ پی ایچ ای کے ٹینکر کا انتظار کرنا پڑے تو لوگ کھانا پکانے اور دوسرے ضروری کاموں کو ترجیح دینگےیا بار بار ہ

لاک ڈاؤن کا فیصلہ کہیں اُلٹا نہ پڑجائے!

اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ’کورونا‘ سے لڑنے کے لیے کجریوال نے جواعلان کیا ،اس نے حکومت ہند کو نیند سے جگادیاہے۔ ویسے توانھوں نے اب تک جوبھی اعلانات کیے ہیں،اُن پر عمل درآمد ہوتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے ایک بار مہاتماگاندھی جی پربیان دیتے ہوئے انھیں ’چالاک بنیا‘کاخطاب دیاتھا۔اب ان سے عرض ہے کہ وہ کجریوال کو کس خطاب سے نوازیںگے؟ وہ آج پورے ملک میں ایک بے مثال منتظم اور بھارت ماتاکاایساسپاہی اورسپوت بن کراُبھرا ہے، جس پرنہ صرف دہلی والے جان چھڑکتے ہیںبلکہ اب توان کی قوت ارادی کالوہاپوری دنیا بھی مان رہی ہے اور ان کا بے حد احترام بھی کرتی ہے۔انھوںنے پچھلے 5سالوں میں دہلی میں کرکے دکھایاہے اور اب بھی کررہے ہیں۔ سب کویقین ہے کہ ان میں ملک اور ملک کے باسیوںکی اچھی طرح حفاظت کرنے کی پوری ہمت وطاقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی دیگرری

اسلام کا مطلوب طالب علم

اللہ تعالی نے علم کی اہمیت و افادیت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے۔۔۔۔"اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کا درجہ بلند کرتا ہے اور ان کے کئی درجات بلند کرتا ہے جن کو علم ملا ہے" ( المجادل?:۱۱) نبوت اور کلام اللہ کی ابتدا لفظ " اقرا" سے ہوئی۔۔۔اور یوں اسلام میں علم کی اہمیت اور افادیت کا خلاصہ اسلام کے آغاز میں ہی سمجھایا گیا۔پتا چلا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت علم ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ علم ہر کسی قوم کی ترقی کے لیے ایک بنیادی محور ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالی نے ایک انسان کو تخلیق کیا تو سب سے پہلے اس کو علم کی نور سے منور کیا گیا۔ علم کی وجہ سے ہی ایک انسان کو دنیا کے تمام مخلوقات پہ سبقت حاصل ہوئی۔ علم کو بنیاد بنا کر انسان نے کیسے کیسے حیران کن کارنامے انجام دیے اور اسی علم کی وجہ سے کیسے ہولناک فسادات رونما ہوئے۔ اسی علم کو مثبت طریقے س

جھوٹ وخوشامد۔اخلاقی پستی کی علامت

اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع اور بلند وبرتر ہے ۔ وہ اپنی ذات وصفات میں تنہا ویکتا ہے،اس کی قدرت و بادشاہت میں نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ مشیر ہے،وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ تمام تراوصاف حمیدہ سے متصف اور تمام صفات قبیحہ سے مبرہ اور پاک ہے۔وہ پوری کائنات اور اس کی ہر ایک چیز کا مالک ہے ،جہانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، اس کی بے شمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے۔انسان اس کی تخلیق کا ایک عظیم شاہکار ہے، انسان اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ اس میں وہ بہت سی خوبیاں رکھی گئی ہیں جن سے دوسری مخلوقات محروم ہیں ،ظاہری وباطنی دونوں لحاظ سے وہ تمام مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے عقل وفہم ،شعور وادراک اور قوت گویائی اور قوت ارادی سے مالامال کیا ہے ، دیگر کے مقابلہ میں ان چیزوں میں اسے کمال حاصل ہے ۔وہ اپنے ارادہ کی قوت وطاقت سے بہت سے بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے،وہ جا

کرونا وائرس

اس وقت پوری دنیا سخت ترین حالات سے دوچارہے، پورے عالم پرماتمی سکوت چھایا ہوا ہے ہر طرف ہو کاعالم ہے، وبا کی شکل اختیار کرنے والے اس کورونا وائرس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک تک کو زیر کردیا ہے، اس جان لیوا وائرس کا مرجع اور مصدر چین ہے جہاں کی ٹیکنالوجی کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیامیں سر فہرست ملکِ چین کو اس وائرس نے گھٹنوں کے بل جھکا دیا ہے۔وہاں کی انتظامیہ کو اس ناگہانی وباء نے مایوس اور عاجز کردیا۔ اٹلی جوایک یورپی ملک ہے جہاں کا محکمہ طب ترقی میں اتنا ایڈوانس ہے کہ اسے طب کے معاملے میں یورپ کے بیشتر ممالک پر فوقیت حاصل ہے، اس کے باوجود اس وائرس نے ان کی کمرتوڑدی ہےاور رات دن کی انتھک کوششوں کےباوجود ان کے تجربات کو ناکام کردیا ہے۔ امریکہ ،دنیا جسے سپر پاور مان رہی ہیںآ?ج وہاں بھی یہ مرض اپنے پر پھیلا چکا ہے اور وہ بھی اس وبائی مرض سےشکست خوردہ نظر آ رہا ہے۔ اس وحش

تازہ ترین