تازہ ترین

ایک لمحۂ فکریہ!

انہی دنوں میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں امام صاحب مسجد نبوی شریف نے ایک خطبہ ارشاد فرمایاہے۔ یہ خطبہ جہاں بہت فکر انگیز تھا وہاں کرب اور سوز و گداز سے بھی لبریز تھا۔اس کے دوران وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور حاضرین کو بھی رلا دیا انہوں نے فرمایا: " اللہ نے مخلوقات اور آباد شہروں میں ایک چھوٹی سی مخلوق چھوڑی تو شہروں کے شہر خالی ہو گئے۔سخت سے سخت جسم بربادہو گئے۔مجمعوں کے مجمعے بکھر گئے۔ مال کا کثیر حصہ تباہ ہو گیا۔اس نے بڑے بڑے سرکشوں کو رسوا کر دیا۔ان کے جمے قدموں کو اکھیڑ دیا، اونچی عمارتوں کو چھوڑا نہ بڑے بڑے لشکروں کو، نہ نیکو کاروں اور عبادت گزاروں کو اور نہ نافرمانوں اور سرکشوں کو۔ جب یہ گنجان اور آباد شہروں اور سخت اتحاد و اتفاق والے علاقوں میں پہنچی تو سانسیں رک گئیں اور حرکت شل ہو گئی گویا کہ کل وہاں کچھ تھاہی نہیں۔۔۔دوستوں کو بھی دشمنوں

رجوع الی اللہ واحد راستہ

انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ شاہد ہے کہ بہت سی نافرمان قومیں اللہ تعلیٰ کے عذاب و عتاب کا شکار ہوکر صفحہ ہستی سے اس طرح نیست ونابود ہوچکی ہیں کہ گویا کبھی اُن کا وجود ہی نہ تھا۔ قومِ نوحؑ سے متعلق ارشاد ہوا ہے(مِمَّاخَطِیٓئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوانَارًافَلَمْ یَجِدُوْالَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنصَارًا)’’یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دئے گئے اور جہنم میں پہنچادئے گئے‘اور اللہ کے سوا اپناکوئی مددگار انہوں نے نہ پایا‘‘[سورہ نوح؍25]۔حضرت نوحؑ کی قوم جب گناہوں میں غرق ہوگئی اور نوحؑ کے سمجھانے پر بھی باز نہ آئے تو اللہ تعلی کے عذاب نے انہیں آپکڑلیا کہ آسمان سے پانی برسا اور زمین سے چشمے ابل پڑے اور چشمِ زدن میں پوری کی پوری قوم غرقِ آب ہوگئی ‘کوئی تدبیرکام نہ آسکی ‘کوئی مددگار اُن کی مدد نہ کرسکااُن کے سارے معبودانِ باطل بے بس او

ایک جان لیوا وباء

کورونا وائرس نامی مہلک بیماری 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوئی اور آج پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ امریکہ ، چین، اٹلی وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بے بس اور لاچار دکھائی دے رہے ہیں۔ روزانہ کورونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مہلوکین کی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ پوری دنیا ایک ایسی وباء کا شکا ر ہے جس کا تاحال دنیا کا کوئی بھی ملک علاج یا کوئی موثر دوا دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ کورونا وائرس کا پہلا شکار چین جہاں اب صورتحال قابو میں ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مریض صحتیاب ہورہے ہیں۔ چین میں ہر طرح کی آمد و رفت معطل اور شہروں کے تمام بازار بند ہیں۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک نے لاک ڈاون کی راہ اختیار کرکے اس مہلک وائرس کو روکنے کی کوششیں شروع کیں۔  آج سوشل میڈیا پر مکمل خبریں آرہی ہیں اور اخبارات وغیرہ کے ذریعے سے ہم

جھوٹ کا عالمی دن !

 اسلام دشمن طاقتیں اسلامی تہذیب،ثقافت وتمدن کوبے حیائی وعریانیت میں تبدیل کرکے اُسے روشن خیالی اورآزادی کانام دینے کے لئے مکمل طورسے کوشاں ہیں،وہ فحاشی پرمبنی رسوم کواس طرح آراستہ کرکے پیش کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی پاکیزہ تہذیب وعمدہ تمدن کوچھوڑ کراغیارکے تہواروں کادلدادہ ہوتاجارہاہے۔آزادی کے نام پرغیرمحرم کے ساتھ گھومنے پھرنے اورجنسی تعلقات قائم کرنے کوباعث فخرسمجھاجارہاہے،جس کے نتیجہ میںیہ حیاسوزحرکتیں صرف کلبوں اورہوٹلوں ہی میں نہیں کی جارہی ہیںبلکہ کالجوں اورسڑکوں پربھی طوفان بے حیائی وبدتمیزی بپاکیاجارہا ہے۔احساس کمتری میں مبتلالوگ مغرب کی ہرچھوٹے بڑے معاملہ میں تقلیدونقالی کواپنے لئے ترقی وکامیابی کارازسمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج اگراُمتِ اسلامیہ کے حالات پرذراسی نظرڈالی جائے توبے شماربیماریاں ایسی نظرآئیں گی جن کااسلامی تہذیب ومعاشرت سے دورکابھی واسطہ نہیں،بلکہ شریعت اس

ابھی بھی وقت ہے سنبھل جا!

آج طبی قید (quarantine) میں ہمارا چھٹا دن تھا۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے واڈ ممبران (patients) اپنی اپنی رضائی اوڑھے لیٹ گئےتھے۔ کچھ دیر گزر جانے کے بعد ایک عورت جس کے دو چھوٹے اور معصوم بچے تھے، اس کے موبائل پر کال (call) آئی۔ کال رِسیو کرنے کے بعد وہ اچانک کہنے لگی، ’’یہ کیسے ہوا؟کیا وہاں کسی ہمسایہ کو بھی خبر نہ ہوئی ؟؟ کیا کسی اور گھر میں بھی ایسا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟‘‘ پھر اس عورت نے شکستگی سے موبائل نیچے رکھ دیا۔ ان کے نزد?ک والے بیڈ (bed) پر بیٹھے افراد نے پوچھا، ’’بہن کیا ماجر?اہے؟ سب خیریت تو ہے نا۔۔۔؟؟‘‘ اس عورت کی آنکھوں سے بے بسی کے موٹے موٹے آنسو نکلنے لگے، اپنے آپ کو سنبھالتے ہو?ئےکہنے لگی ’’ہمارے گھر پر چوروں نے ڈھاکہ ڈالا ہے، سب لوٹ کر لے گئے ہیں۔۔۔!‘‘ یہ بات سن کر سارے واڈ میں سناٹا سا

کشمیر کی معروف علمی شخصیت

حالات ِزندگی اورسماجی خدمات     سید محمد اشرف اندرابی  ؒ جنھیں محبت اور احترام سے مولانا انداربی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ایک مثالی شخصیت تھیں جنہوں نے معاشرتی ، سیاسی اور مذہبی محاذ پر بہت ساری اصلاحات لائیں۔  دسمبر 1926ء  میں زڈورہ پلوامہ میں ایک نیک سید خاندان سید میر محمد امین اندرابی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وکیل بننے کی خواہش تھی، لیکن مولانا اندرابی نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آباؤ اجداد کے مہم کو آگے بڑھایا۔ مولانا انداربی ؒ اپنے دادا کے مشورے پر جن کا نام سید احمد اندرابی تھا، خاندانی مہم کو آگے بڑھائیں ، یعنی اسلام کی خدمت کے لئے دینی علوم حاصل کیا۔ اس طرح مولانا اندرابی گوجرانوالہ پاکستان میں ایک دینی مدرسے میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اترپردیش کے سہارنپور کے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور مولانا حسین احمد مدنی کی رہنمائی می

ہرکُرسی عارضی اور فانی

لفظ ’کُرسی‘کا تصور ذہن میں آتے ہی عموماً ایسے اسم ِ بے جان کی شبیہ دماغ کے پردے پر اُبھرتی ہے جو انسان مخصوص انداز میں بیٹھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔کُرسی مغربی معاشرتی معنوں میں کوئی نئی چیز نہیں ہے البتہ ہمارے لئے یہاں اس کی نئی نئی تشریحات ہیں۔کیونکہ ہمارے یہاں اسے ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔صدیوں سے ہمارے یہاں فرش نشینی کا رواج رہا ہے اور کرسی نشینی جدید طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہے ۔اردو ادب میں ’کرسی‘صرف کاریگری اور ہُنر مندی کا نمونہ نہیں بلکہ یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔’کرسی‘طاقت ،اقتدار ،اختیار ،عہدے اور حکمرانی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اس جمہوری دور میں جو عام چنائو ہوتے ہیں،ان میں کرسی حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ میں شامل مخصوص افراد عام لوگوں کے خوابوںاور امیدوں کو ’کرسی ‘ کے آس پاس ہی نہیں بلکہ اس کے بہت قریب لاتے