تازہ ترین

کرونا وائرس سے بچائو | ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

آج دنیابھر کے ممالک ایک مہلک جراثیم سے نبرد آزما ہیں،جس کا نام کرونا وائرس ہے، یہ وائرس اپنی نو عیت کا پہلا وائرس ہے، جس کو عالمی ادارہ صحت نے کو و ڈ 19 کا نام دیا ہے۔ کرونا وائرس کیا ہے؟کرونا وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہو ئے سانس کے نچلے نظام کو متاثر کر تا ہے اور جان لیوا نمونیا یا فلو کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس سے قبل 2003ء میں چین میں سارس نامی وائرس سے بے شمار افراد تباہی کا شکار ہو چکے ہیں اور کرونا وائرس سے اب تک تقریباً پنتیس ہزارا فراد لقمہ اجل ہو چکے ہیں اور لا کھوں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس کہنے کی وجہ:اس مہلک وائرس کو کرونا وائرس کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس نصف دائرے کی شکل میں نظر آیا اور کنارے پر اُبھار تاج کے شکل کا گول نما ہو تا ہے۔ لاطینی زبان میں اس شکل کو کرائون کہتے ہیں ،اسلئے اس وائرس کا نام کرونا رکھ دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس

بَلائیں اور آفتیں | تماشہ نہیں عذابِ الہیٰ ہیں

اس وقت کم و بیش پوری دنیا کے عوام ایک نئی جان لیوا ’کرونا وائرس‘ نامی بیماری کی مار جھیل رہے ہیں جس کے یک طرفہ پھیلاؤ سے پورا انسانی معاشرہ تھرتھر کانپ رہا ہے اورفضا کو مسموم کرنے کے بعد اس مُہلک و جان لیواوائرس’ نے چھوٹے بڑے، امیر غریب، حاکمِ اَعلیٰ و محکومِ اَدنیٰ سے لےکر اپنے پرایوں اور عام خاص کی تمیز کو یکسر مِٹا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے یہ وائرس اپنی ظالمانہ آغوش کو دراز سے دراز تَر کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے اس بھیانک اور ہر سطح پر تباہی خیز ثابت ہونے والے مادہ اور آفاقی شئی، جسے کسی طبقے کے مابین تو قُدرتی وبا و بَلا سے تشبیہ دی جا رہی ہے تو کہیں اسے قدرت کی طرف سے لوگوں کے امتحان و آزمائش سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آراء سامنے آ رہی ہیں، مثلاًیہ ایک نئی متعدّی بیماری ہے جو ملکِ چین سے پوری دنیا میں پھیلی ہے، جبکہ کچھ کا نظریہ یہ بھی ہے

بے جا تنقید سے اجتناب کرو | رشتوں میں بگاڑ پیدا ہو گا

بے جاتنقید ہر رشتے میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے ۔گھر یلو طور پر بھی اوربیرونی طور پر بھی۔اپنے رشتہ داروں میںبھی اور دوستوں میں بھی۔ بے جا تنقید ازدواجی زندگی کے رشتے کی خوبصورتی کو بھی ختم کر دیتی ہے اور تکرار زندگی کو ہی تباہ کردیتی ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں اکثر تنقید سے بچنے کیلئے خاموشی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ جذباتی رویہ لاتعلقی کہلاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کے چھوٹے موٹے جھگڑوں میں کسی ایک کی خاموشی بڑے جھگڑے کو ٹال سکتی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ساتھی کی خاموشی کے ساتھ ہی ازدواجی زندگی میں دراڑیں پڑنی شروع ہوجاتی ہیں۔ تنقید اگرچہ کسی کو اچھی نہیں لگتی لیکن امریکی محققین کا کہنا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کا تنہائی میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنا ان کے ازدواجی رشتے کو خراب کر سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں اکثر تنقید سے ب

سچائی ۔صدیقیت کا مقام ہے | تاریخی نقطہ نظر سے اپریل فول کی حقیقت

اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات انسان کو پیش کرتا ہے جس کی نظیر ملناناممکن ہے،اسلام کے تمام شعبہ ہائے زندگی میں جو راہ نما اصول مسلمانوںکے پاس ہیں کسی اور مذہب میں نہیں پائے جاتے ،چاہے وہ اخلاقیات ہوں،سماجیات ہوں، سیاسیات ہوں،یا معاشرتی زندگی ہو، نیز زندگی کے ہر شعبہ میں جامع ہدایات موجود ہیں جس سے انسان کی دنیاوی اور اخروی دونوں جہاں آباد ہیں اور اس کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا مرجع اور محوراسی دین حنیف پر موقوف ہیں۔مگر بدقسمتی سے آج یہ انسان مختلف خرافات اور باطل نظریات کا پیروکار بن چکاہے اور ستم ظریفی کا حال تو یہ ہے کہ ان خرافات میں مسلمان مرد عورتیں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں،آج کا یہ روشن خیال مسلمان جس میں زیادہ تر تعداد تعلیم یافتہ طبقے پر منحصرہیں ان غیراسلامی شعائراور روایات کو اپنانے پر فخر محسوس کرتا ہے، جن کی اسلام میںکوئی حیثیت نہیں۔انہیں غیر اسلامی رسوم میں ایک رسم اپری

کرونا وائرس کی یلغار | ترقی یافتہ ممالک نے ہتھیار ڈال دیئے

قسط :  2   اس لیے احتیاطی تدابیر سے کام لیں۔ یہی ایک صورت ہے ہم ’تیسری دنیا‘‘ کے پسماندہ شہریوں کو بچنے کی۔ تدبیر غیر فطری ہے نہ غیر اسلامی حرکت بلکہ انبیاء کی سنت اور قرآن کا مزاج ہے۔ مصر میں قحط کا دور آنے والا تھا تو وقت کے بادشاہ کو اللہ نے تمثیل کے پیرائے میںبذریعہ خواب اُس کی اطلاع دی اور قحط کے اثرات سے محفوظ کیسے رہا جائے، وہ تدبیر بھی اُسی خواب میں اُس ’مشرک‘بادشاہ کو اللہ نے سجھائی۔ جس پر وقت کے پیغمبر حضرت یوسفؑ نے عمل کر کے دکھایا۔ تدبیر ہمارے مذہبی شعور کا حصہ ہے۔ رسول اللہؐ نے اپنی زندگی میں اس کی تعلیم دی۔ توکل کے صحیح مفہوم کو واضح کیا۔ متعدی بیماریوں سے محفوظ رہنے کی راہ سجھائی۔ ایک کوڑھ مریض شخص بیعت کرنے کے لیے تشریف لائے تو رسول اللہ ؐ نے دور سے انہیں فرمایا کہ ’تیری بیعت ہم نے لے لی، آپ وہی سے واپس لوٹ جائیں۔

تازہ ترین