تازہ ترین

کرونا وائرس: دنیا جرثوموں کی زد میں!

دنیا لرزہ بر اندام ہے اور کائنات کے ہر گوشہ ٔ زمین میں رہنے والی انسانی مخلوق دہشت زدہ ، کروناوائرس نے اودھم مچا کے رکھدی ہے۔ ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اور اَن گنت تشخیصی عمل سے گذرتے ہوئے بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ کہیں اِن کے خون کے نمونوں کی جانچ انہیں بھی وائرس زدہ بتلاکر وادی ٔ موت میں جانے کا پیغام نہ سنادے۔ ماضی میں ڈینگی کانگو، ننگلیریا نے ہاہا کار مچادی تھی اور اب ’’کرونا‘‘ زور آزمائی کرتے ہوئے ہر انسانی بدن پر لرزہ طاری کئے ہوئے ہے۔ دیکھا جائے تو پہلے پہل ان ہلاکت خیز وباؤں کے مراکز غریب ، پسماندہ، اقتصادی لحاظ سے کمزور اور طبی سہولیات سے محروم ممالک رہا کرتے تھے لیکن اسے کیا کہیے کہ اب کے ’’کرونا ‘‘نے مادی لحاظ سے مستحکم ملک چین میں ڈیرے ڈال دئے اور پھراٹلی اور ایران میں اپنے پنجے گاڑھ کر سبھی کو ہیبت زدہ کرکے رکھ

انسان اپنے رب سے رجوع کرے

 کرونا وایرس کی ناگہانی بیماری نے اب ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ہر سُو خوف و دہشت چھایا ہوا ہے۔ ہر چہرے پر سوالیہ نشان اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔آسمانی فیصلوں کے سامنے آج سا?ینس و ٹیکنالوجی کا غرور حرفِ افسوس کی تسبیح میں محو عمل ہیں۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کی بے بسی اور کمزوری کی حقیقت سر عام ظاہر ہورہی ہے۔ ڈر اورخوف کا ماحول ابن آدم پراس قدر طاری ہے کہ وہ اپنی پرچھا?یوں سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ جس ملک اور جس شہر کو دیکھو، لاچاری کی درد بھری آہوں سے پکار رہاہے کہ فضا میں یہ کیسا جنون ہے۔ وہ لوگ جو ہر بات کو سائنس کے ترازو میں تولتے تھے یا وہ لوگ جو ہر طوفان کو مٹھی میں قید کرنا جانتے تھے، آج ان کے ہونٹ مقفل اور چہروں پر لاچاری کی داستان عیاں ہے۔یہ ہمارے ان خطا?ؤں کا پھل ہے جو اس دن ہم نے کتاب زندگی میں رقمطراز کردئے تھے جب ہم نے اپنے سے کم طاق

اللہ کاعذاب کب اور کیوں آتا ہے؟

’’ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا ، اے برادران قوم!اللہ کی بندگی کرو اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ میںتمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ (اعراف:۵۹)’’آخر کاراُن لوگوں نے کہا کہ اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا۔اب تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔نوح نے جواب دیا وہ تو اللہ ہی لائے گا اگر چاہے گا اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اُسے روک دو۔‘‘ (ہود: ۳۲ /۳۳ ) ’’نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔یہ سارے کے سارے اب ڈوب

اسلام اور مغرب کے مابین تصورِ آزادی

فکری یلغار اور نظریاتی جنگ وہ ہے جو آلاتِ حرب توپ، میزائیل ، ٹینک ، گولے بارود کے بجائے دیگر ایسے ذرائع سے لڑی جاتی ہے۔ غیر معمولی منصوبہ بند اور انتہائی منظم طریقے سے اقوام و ملل کی ذہنیت، تعلیم و تربیت معاشرت و معیشت، تہذیب و تمدن اور خیالات و نظریات تبدیل کیے جاتے ہیں، گویا یہ وہ کارزار ہے جس میں انسان کے جسم کے بجائے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا ہے، جس کے اثرات صدیوں جاری رہتے ہیں، نسل در نسل تقویت کے ساتھ فروغ پاتے رہتے ہیں، دل دماغ، انداز فکر و نظر، یکسر تبدیلی کا شکار ہوکر ارتداد کی لہروں میں گم ہوجاتے ہیں۔ جن افکار میں معصیت کو خوشنما اور دلفریب بناکر پیش کیا جاتا ہے، طبیعتوں کو ہرقیدوبندش سے فرد کو ہر ذمہ داری اور جوابدہی سے آزاد باور کروایا جاتا ہے۔ چنانچہ مغربی افکار میں تو مطلق آزادی اور بے قیدی کی کھلی تبلیغ کو فروغ دیا گیا۔ زندگی سے پورے تمتع، مطالبات نفس کی پوری تک

اغیار کی نقالی !!

تہذیبوں کی آویزش ،ثقافتوں کاٹکراؤاور روایتوں کا تصادم کوئی انوکھی بات نہیں۔روزاول سے یہ سلسلہ بام عروج پرہےاور تاقیامت جاری رہےگا ۔ بالخصوص اسلامی تہذیب کوہرزمانے میں نت نئے چیلنجز درپیش ہوئے۔صلیبیوں،یہودیوں اور تاتاریوں کے ہاتھوں متعددمرتبہ اسلامی تمدن و حضارت پرشب خون مارنےاورچوطرفہ یلغار کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیںمگرہربار یا تو اسلام کےمتوالے اپنی تہذیب کے آگے سدسکندری بن کر کھڑے ہوگئےیا پھرکعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں میسر آتے رہے ۔اس وقت بھی اسلامیان برصغیر کے لیے ہندوانہ تہذیب،کشمکش کا ایک ایسا دوراہا ہے،جہاں آکرعوام کی اکثریت قلادۂ اسلام گلوں سے نکال پھینکتی ہےاور اغیار کی نقالی کو قابل فخر کارنامہ سمجھنےلگتی ہے۔کتاب وسنت کی اصطلاح میں اسی کو تشبہ کہاجاتاہےیعنی اپنی ہیئت و وضع تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع قطع اختیار کرلینا،اپنے تہذیبی ورثہ سے دست کش ہوکر دوسروں کی روایات کو