لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

ایک انسان اپنی زندگی میں کتنی بار بیمار ہو جاتا ہے؟ لیکن کیا اس کو بیماری کے دوران اپنی پوری زندگی سے شکوہ کرکے زندگی کی امید کھو بیٹھنی چاہیے ؟ انسان کے اوپر کتنی بار مشکلات اور تکالیف وارد ہو جاتی ہیں؟ لیکن کیا مشکلات اور تکالیف کے اندر کھو بیٹھے رہنے کو ہی صحیح سمجھا جائے ؟ اسی طرح سے سماج کے اوپر بحیثیت مجموعی کتنی بار آفات سماوی آجاتی ہیں؟ لیکن کیا اُن آفات پر رونے دھونے میں ہی عافیت سمجھی جا ئے ؟ اسی طرح سے اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کے وبا میں لپٹی ہوئی ہے، لیکن کیا لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان سے امید کا دامن چھڑوانے کو عقلمندی کا نام دیا جا سکتا ہے؟ الغرض، ایک فرد کی نجی زندگی سے لے کر اقوام کے اداروں تک کئی مرتبہ ایسی کئی ساری آزمائشیں آتی رہتی ہیں، جن کا مقابلہ کرنے اور ان آزمائشوں سے نکلنے کی امید کے ساتھ زندگیاں آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ تاریخ انسانی سے یہ ایک بے بدل

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا

 گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں رکتیں۔جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے، وقت اس کے کام آ جاتا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا ،وقت اس کو پیچھے چھوڑ کرآگے نکل جاتا ہے۔وقت ایک عظیم دولت ہے۔ وہی شخص دنیا میں عزت و شہرت حاصل کر سکتا ہے جو وقت سے فائدہ اٹھاتا ہے ،اس کی قدر کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں کرتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ وقت ضائع نہ کریں ،ہر کام مقررہ وقت پر کرنے کی عادت اختیار کریں اور  کبھی آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں ،یہی پابندی وقت ہے۔کسی بھی کام کو مقررہ وقت پر کرنا وقت کی پابندی کہلاتا ہے۔کسی کام کو وقت پر کرنے والا ہی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔انسان امیر ہو یا غریب ،وقت کی قدر نہ کرنے والے کو وقت اپنے پیروں تلے روند ڈالتا ہے۔اس کے برعکس چند کاموں میں وقت کی پابندی کرنے سے آدمی ساری زندگی خوش و خرم رہ کر گزار سکتا ہے۔وقت کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اسے دنیا کی کوئی تیز رفتار شئے نہیں پ

کورنا وائرس اور غریب مزدور!

کورنا وائرس کی مہاماری پوری دنیا میں جاری ہے۔ اس بیماری سے جوجھنے والے ممالک میں ہندوستان بھی ہے، جو کورونا سے متاثر ہونے میں بعض رپورٹوں کے مطابق بارہویں نمبر ہے۔ہندوستان میں اس وباء کو شروع ہوئے لگ بھگ چار مہینے ہوگئے ہیں۔اِس وقت کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب تک پہنچ چکی ہے اور اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزا ر کے آس پاس ہے۔ان سب کے بیچ ملک میں چوتھے مرحلے کا لاک ڈاؤن جاری ہے۔اس بیماری اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ملک کی جو حالت بنی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ ’’صحت‘‘ جو انسانی زندگی کا جزو ہے، اس بیماری کے چلتے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔اسی طرح تعلیم، زراعت، ٹیکنیکل اور مذہبی امور بھی ملک میں باعث چیلنج ہیں، لیکن ان سب سے بڑھ کر جو چیلنج ہے وہ بھوک اور مزدور وغریب کا ہے، لاک ڈاؤن کے چلتے مرکزی حکومت اس چیلنج پر کتنا فکر م

ڈگری یافتہ ہونے کا مطلب تعلیم یافتہ ہونا نہیں

تعلیم نسواں کا مطلب ہے عورتوں کی تعلیم۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہوتی ہے ۔اگر ایک عورت پڑھی لکھی ہوگی تو وہ اس خاندان کیلئے باعث فخر ہوتا ہے کیونکہ بچے کا پہلا درسگاہ بچے کی ماں کی گود ہوتی ہے جو کچھ اس وقت بچے کی ماں بچے کواس وقت سکھائے تو وہ عمر بھر تک بچے کو اثر انداز رہتا ہے۔ ہمارے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت دونوں پر فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے بھی مرد و عورت یعنی دونوں کو مساوی حقوق فراہم کئے ہیں ۔اسلام کی نظر میں نہ ہی مرد کا مقام و مرتبہ اعلیٰ ہے اور نہ ہی عورت کا مقام پست ہے ۔اگر اس میں تفاوت پائی جاتی ہے ،وہ ہمارے خرافاتی دماغ میں ہیں۔ ایک فلاسفر نپولین کا کہنا ہے کہ تم مجھے اچھی مائیں دیدو تو میں آپ کو ایک اچھا معاشرہ فراہم کروں گا

روح کو پاک کیسے کیا جائے؟

ایسے وقت جب حالات کا جبر انسانی سروں کی فصل کاٹ رہا ہو، انسان ہی انسانیت کا دشمن کیسے ہوسکتا ہے؟ ۔لوگوں کو بھلے ہی علم نہ ہو، لیکن اوپر والا جانتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبائی فضا کے بیچ ایسے ناعاقبت اندیش اور خدا فراموش بھی ہیں جو غذائی اجناس میں طرح طرح کی ملاوٹ کرکے نہ صرف لوگوں کو زہر کھلا کر کورونا کا کام آسان کررہے ہیں بلکہ صیام کے مبارک مہینے میں اپنے بظاہر نیک اعمال کو اپنے لئے طوق جہنم بنا رہے تھے۔ ایسے لوگ کورونا وائرس سے متاثر اُس قابل رحم انسانوں سے زیادہ بیمار ہیں، ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔کیونکہ فریب کاری اور مکاری کا جو دھیمک اُن کی روح کو چاٹ رہا ہے وہ اُنہیں کھلے عام قانون کے پرخچے اُڑنے اور انسانیت پر صریح  ظلم کرنے پر اُبھارتا رہتا ہے۔  دودھ میں صرف پانی ملایا جاتا تو بات الگ تھی ، لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ اس میں مضرصحت پ

اے مہِ نوہم کو تجھ سے الفت ِدیرینہ ہے

ماہِ صیام و قیام کی سالانہ تزکیاتی مشق اپنے اختتام کو پہنچ گئی اوراختتامی لمحات پر ہر نگاہ اْفق آ?سمان پر ٹکٹکی باندھے ہلال ِعید کی منتظر رہی ،ہر آ?نکھ میںا شتیاق اور ہر دید سے کرب و اضطراب و کرب چھلکتا رہا۔ ذرا یاد کیجئے وہ ایام جب ہمارے اقبال مندی کا زمانہ چل رہاتھا ،جب ہلال عید بہ صد احتشام ہمارے عروج و سربلندی کا ولو لہ انگیز پیام جاں فزا ء اپنے ہمراہ لے آ?تا تھا ، جب اس کی نمود ہمارے عزو وقار میں اضافہ در اضافہ کا موجب بنتا تھاکہ دنیا اس بلندی?ٔبخت پر ہمیں رشک کے ساتھ داد و تحسین دے رہی تھی۔ آ?ج حال یہ ہے کہ یہ مہ نو خود ہماری حالت زار و زبوں پر نوحہ کناں ہے۔ البتہ اس کا استقبال رونے دھونے تک محدود نہیں بلکہ یہ آ?ج بھی ہمارے حال کو ہمارے تاب ناک ماضی سے جوڑنے کے لئے ،ہمیں اپنے اسلاف کے درخشاں سیرت و کردار سے آ?گاہ کرنے کے لئے ،دنیا میں ہماری حکمرانی کے دنوں کی یاد تازہ کرنے

عید غرباء کے ساتھ! ، غم کا پہرہ ہے لگاپیہم جنہیں

زندگی خوشی اور غم کا حسین امتزاج ہے۔ بعض لوگوں کی زندگی میں خوشیوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جب کہ کچھ لوگ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ رنج وغم ہی اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہ بندے کے لئے قدرت کی طرف سے امتحان یا مسرت و حسرت کی حکیمانہ تقسیم ہے جسے کوئی انسان چیلنج نہیں کرسکتا۔البتہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کوئی مخصوص خوشی اجتماعی، قومی یا ملّی سطح پر منائی جائے جیسے عید الفطر اور عید الاضحی، تو اس میں سب کی شمولیت سب کا ساتھ اہم چیز ہے۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو خوشی منانے کے لئے سال میں دو دن عطا فرمائے: عید الفطر وعید الاضحیٰ جن کو منانے کے لئے اپنے اصول و ضوابط اسی کے مقرر کردہ ہیہیں۔ آج خیر سے عید الفطر کی خوشیاں ہمارے در پر دستک دے رہی ہے اور ستاون مسلم ممالک میں پھیلی ملت اسلامیہ اور دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان اسے جوش وخروش سے خوشی مناتے ہیں۔اسلام جہاں اس عید کو خوشی

عید صیام۔۔۔حقوق العباد کی یاد دہانی

       شب و روز اور ماہ و سال کی آ مد کا سلسلہ ایک فطری اور اٹل نظام کے تحت بدستور جاری ہے اور دنیا کے قائیم رہنے تک جاری و ساری رہے گا۔ اس فطری نظام میں کسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے اسی نظام کے تحت رمضان ا لمبارک کا رحمت و مغفرت، آزادی یعنی جہنم کی آگ سے بچنے کا،کثرت سے تلاوت قران پاک اور دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہم سے رخصت ہونے جا رہا ہے اور ہلال عید کا طلوع انشا اللہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ طلوع ہونے والا ہلال عید عالم اسلام کے لئے بلعموم اور ریاست جموں کشمیر کی آبادی کے لئے بلخصوص امن آشتی، سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنے اٰمین۔ عید الفطر امت مسلمہ کے لئے انتہائی با برکت اور خوشیوں کا موقعہ ہے۔ اس دن اللہ تبار ک تعالیٰ کی جانب سے بے شمار رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو بہتر انعام اور

ابررحمت بن کے چھاجاؤپیام عیدہے

عیدکادن بہت ہی مسعودومبارک اور خدائے تعالیٰ کے مہمان کے دن ہے۔آج کے دن ہم سب خدائے تعالیٰ کے مہمان ہیں، اسی وجہ سے آج کا روزہ حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ جب خدائے تعالیٰ نے ہمیں اپنا مہمان بنا کر کھانے پینے کاحکم دیاہے تو ہم کو اس سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ عید کے دن روزہ رکھنا گویاخدائے تعالیٰ کی مہمانی کو ردّ کرناہے ۔یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا تہوارہے۔ہمارے تہوار میں کھیل تماشہ اور ناچ گانا وغیرہ نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف دینا، ستانانہیں ہوتا بلکہ خدانے جس کو دیاہے وہ دوسرے ضرورتمندوں کی حاجتیں پوری کرتاہے۔ مالدار جب اپنے پھول سے بچوں کو اجلے اجلے نئے نرالے دلکش کپڑوں میں خوشی خوشی کھیلتے کودتے اچھلتے دیکھتاہے توغریب کے مرجھائے ہوئے چہرے اور اسکے بچوں کی حسرت بھری آنکھیں اس سے دیکھی نہیں جاتی۔مسلمان دولت مند اپنے گھرکے دس قسم کے خوشبوداراور مختلف النوع لذیذکھانوں کو اس وقت تک نہیں چھوتا

یتیموں و بیوائو ں کی دلجوئی کرنا نہ بھولیں

ہم اس وقت عید الفطر مناے رہے ہیں۔ عید عام معنو ں میں کوئی تہوار نہیں بلکہ ایہ اپنے معانی ا ور تصورو اعتبار سے آسمان جیسی وسعت رکھتی ہے ۔تہوار کیا ہوتا ہے ؟مذہب ،موسم یا قوم کی چھتری کے نیچے خوشیا ں اور رنگ رلیاں منانے ،خرمستیا ں کرنے اور جی بھر کر لطف اور مزے کی بہاریں لو ٹنے کا نام تہوار ہے ۔اس کے بر عکس عیدین دین اسلام کے سایہ رحمت میں آنے کا جلی عنوان ہیں ۔یہ رو حانی سکون پانے کے بہانے ہیں ،یہ سماج میں انسانیت کا بول بالا اور اخوت و محبت کا دور دورہ ہونے کا قرینہ ہیں ۔عید الفطر اصل خوشی خط افلاس کے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے تباہ حال اور احساس محرومی کے ڈسے ہوئے لوگو ں کو مساوات کی نرم و گداز آغوش میں لانے کا پیغام ہے ۔انہی چیزوں کی عملی تربیت رمضان المبارک کے دوران روز ہ دارو ں میں را سخ کی جاتی ہے ۔حقیقی عید توو ہی ہے جب مسلم سماج میں نفسیاتی طور پامال اور مالی لحاظ سے پسپا ک

موجودہ حالات میں نماز عید کیسے پڑھیں

  ۱۔حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ عید کے روز بارش ہوئی تو حضرت نبی کریم ﷺ نے نماز عید مسجد میں پڑھائی ۔ حدیث نمبر 1448 ابن ماجہ ، ابوداوٗد بحوالہ مشکوٰۃ  ۲۔ جناب عبیداللہ ابن ابوبکر جو خادم رسول انس بن مالک کے پوتے ہیں بیاں کرتے ہیں انسؓ اگر کبھی امام کے ساتھ نماز عیدنہ پڑھ سکتے تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کرکے اُن کے ساتھ امام کی نماز کی طرح عید بڑھ لیا کرتے تھے ۔  علامہ ابن منذر ؒ بھی یہی کہتے ہیںجس سے نماز عید فوت ہو جائے وہ امام کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھ لے ۔بحوالہ کتاب فقہ السنہ دارالسلام  نوٹ نفل چاشت و غیرہ اس کا بدل نہیں تین وجوہات کی بنا پر احتیاط  الف :۔ طاعون ، کوڑ ، موسم  طاعون جس بستی میں پھوٹ پڑے وہاں جانا اور وہاں سے نکلنا منع ہے ۔  ب:۔ جمعہ کے روز موسمی حالات کی وجہ سے جمعہ کی اذان دی گئی مگر نماز گھر میں

عید الفطر انعام الٰہی کا دن

یوم عید،ماہ رمضان کی تکمیل پر اللہ کریم سے انعام پانے کا دن ہے ،اس لئے امت مسلمہ کے نزدیک اس دن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔عید کا لفظ ’’عود‘‘سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے لوٹ آنا ہے اور چونکہ عید کا دن بھی ہر سال آتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ سال میں دودن بطور عید مناتے تھے اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے۔رسول اللہؐ نے ان سے دریافت فرمایا ’’یہ دودن،جو تم مناتے ہو،ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ؟‘‘تو انہوں نے کہا کہ’’ ہم اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے ‘‘یہ سن کر اللہ کے نبی ؓ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی نے تمہارے لئے ان دونوں تہواروں کے بدلے میںان سے بہتر دو دن مقرر فرمادئے ہے ،یوم عید الفطر اور یوم عید الاضحی‘‘۔(ابو دائود شریف) شب عید حدیث

دل کا چو ر مرا نہیں ،سجد ہ کیا تو کیا ہوا ؟

ماہ مبارک رخصت ہوچکا ہے ۔یقین نہیں آتا کہ پورا ایک مہینہ بیت گیا۔کل ہی کی بات ہے ماہ مبارک کا چاند دیکھنے کی بے تابی تھی اور آج عید کے چاندکا انتظار ہے ۔کیا واقعی وقت کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے کہ انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ ماہ و سال کیسے اس کی زندگی سے سرک رہے ہیںیا انسانی زندگی میں ہی کچھ ایسی تبدیلیاںپیدا ہوئی ہیں کہ وہ وقت کی رفتار کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتا ۔ہر انسان یہ محسو س کررہا ہے لیکن یہ احساس محض ایک احساس ہے جس کی حقیقت سمجھنے سے وہ قاصر ہے ۔ اب کی بارتو زندگی کی رفتار پوری طرح سے تھم گئی تھی ۔لوگ گھروں میں بیٹھے تھے ۔نہ کوئی مصروفیت تھی ۔نہ کوئی جلدی تھی ،پھر بھی پتا ہی نہیں چلا کہ وقت کیسے بیت گیا ۔ شاید ذہنوںکا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ انسان کا وجود اس کے نیچے دب کر رہ گیا ہے ۔اس لئے اسے پتا ہی نہیں چل رہاہے کہ وقت کیسے سرکتا جارہا ہے ۔بہرحال یہ ایک ضمنی تذکرہ

کورونا وباسے روایتی تعلیمی نظام شدید متاثر

کوروناوائرس کی وباء نے عالمی سطح پر معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور تعلیمی مسائل پیدا کردئے ہیں اورچوںکہ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ کورونا کا جڑ سے صفایا ہونا فی الوقت ممکن نہیں۔ اس لئے اب کورونا کے ساتھ ہی زندگی گذارنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور احتیاط کے ساتھ حوصلہ بھی رکھنا ہوگا۔ لہٰذا دیگر شعبے کی طرح تعلیمی شعبے میںبھی کورونا کے بعدایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ بالخصو ص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے جو طریقہ کار ہیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار اپنانے کاخاکہ شروع بھی ہوگیا ہے۔ غرض کہ کلاس روم تعلیم اور امتحان کی جگہ آن لائن تعلیم وامتحان اور دیگر سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے بھی ذرائع ابلاغ کا سہارا لینا ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ جب تک کورونا کے وائرس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا اور جو مستقبل قریب میں ممکن نہیں اس وقت تک نئے تعلیمی طریقہ کار کو ہی اپنانا ہوگا۔

مصرفِ زکوٰۃ کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی ضرورت

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اسلامی نظام معیشت کا ستون ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیا گیا ہے۔ نماز فحش ومنکرات سے روکتی ہے تو زکوٰۃ اقتصادی نابرابری کو کم کرتی ہے۔ نماز جسم کی اور زکوٰۃمال کی عبادت ہے۔ رب کائنات نے دولت مندوں کے مال میں غریبوں، مسکینوں، کمزوروں اور بے سارا لوگوں کا حصہ رکھا ہے۔ یہ حصہ صرف دولت میں نہیں بلکہ کھیتی، موسمی پھلوں، تجارت کے جانوروں اور سامان میں بھی ہے۔ اس کی ادائیگی پر مال کی حفاظت وترقی کی ضمانت، کوتاہی یا ادا نہ کرنے پر بربادی، دقتوں وپریشانیوں کا سامناطے ہے۔ زکوٰۃسے غریبوں کی مدد، ہمدردی اور محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، انا پر لگام لگتی ہے۔ اہل دولت فقرا ء ومعذوروں کو دھتکارنے کے بجائے ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس طرح غریبوں کو بہتر زندگی ملتی ہے اور سماج سے غریبی دور ہوتی ہے۔ قرآن نے زکوٰۃپر پہلا حق فقراء ومساکین کا بتایا ہے۔ پیغمبر اسلام ؐنے بھ

اللہ کی نافرمانی عذاب لاتی ہے

قرآن کوسمجھ کر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ نوح ؑ، لوط  ؑ،شعیب  ؑ،موسیٰ ؑ،صالح  ؑاور ہود ؑ کی قوموں نے جب اپنے نبیوں کی نافرمانیاں کیں تو اُن پر اللہ کا عذاب آیا اور پوری کی پوری قوم تباہ کر دی گئی۔حضرت محمد ؐچونکہ رحمت عالم بنا کر بھیجے گئے ہیںاور ان کی قوم کوقیامت تک زندہ رہنا ہے، اس لیے اس پوری قوم کو عذاب سے تباہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے کسی نہ کسی حصے پراس کی نافرمانیوں کے سبب عذاب آتا رہے گا۔ چنانچہ اس امت پر پہلا عذاب چنگیز خاں کے ہاتھوں آیا جب بغداد میں بے شمار مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہیں۔اٹھارہویں صدی کے بعد دنیا کے سارے مسلمان حاکم سے محکوم بنا کر یہودی، عیسائی اور اہل ہنود کے غلام بنا دیے گئے۔دو جنگ عظیم میں انسانوں کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی۔پھر ایسی بیماریاں آئیں جن میں ان گنت انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔بیسویں صدی میں پھر اللہ کا عذاب اس طرح ا

اللہ کی نافرمانی عذاب لاتی ہے

قرآن کوسمجھ کر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ نوح ؑ، لوط  ؑ،شعیب  ؑ،موسیٰ ؑ،صالح  ؑاور ہود ؑ کی قوموں نے جب اپنے نبیوں کی نافرمانیاں کیں تو اُن پر اللہ کا عذاب آیا اور پوری کی پوری قوم تباہ کر دی گئی۔حضرت محمد ؐچونکہ رحمت عالم بنا کر بھیجے گئے ہیںاور ان کی قوم کوقیامت تک زندہ رہنا ہے، اس لیے اس پوری قوم کو عذاب سے تباہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے کسی نہ کسی حصے پراس کی نافرمانیوں کے سبب عذاب آتا رہے گا۔ چنانچہ اس امت پر پہلا عذاب چنگیز خاں کے ہاتھوں آیا جب بغداد میں بے شمار مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہیں۔اٹھارہویں صدی کے بعد دنیا کے سارے مسلمان حاکم سے محکوم بنا کر یہودی، عیسائی اور اہل ہنود کے غلام بنا دیے گئے۔دو جنگ عظیم میں انسانوں کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی۔پھر ایسی بیماریاں آئیں جن میں ان گنت انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔بیسویں صدی میں پھر اللہ کا عذاب اس طرح ا

حکومتی نااہلی اور میڈیا کی بے حسی

کورونا وائرس نے دنیا میں ہاہا کار مچا دی ہے ۔ملکی میڈیاسے مختلف طرح کی خبریں آرہی ہیں ۔کہیں لوگ بندشوں کے بیچ شراب کی دکانوں کے باہر شراب خریدنے میں ایسے مست ہیں کہ جیسے زندگی کی بقا کے لئے جام مفت میں تقسیم کئے جا رہے ہوںاور کہیںشراب نوش کرنے کے بعد نالیوں اور سڑک پہ مدہوشی کی حالت میں پڑے پیر وجواں ۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ کہیں مزدوروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بچوں کے ہمراہ پیدل سفر کرتے دیکھا گیا تووہیں گھر پہنچنے کے چکر میں 124سے زائدمزدور اپنی زندگی سے ہی نجات حاصل کرگئے ۔ایسی تصاویر اور ویڈیوزبھی فیس بک پہ گردش کر رہی ہیں جن میں غریب اور مجبور دو وقت کی روٹی کے لئے بلک بلک کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے دُہائیاں دے رہے ہیں،مریضوں اور بزرگوں نے جیسے اب جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ہو ۔چند سماجی تنظیمیں اور ادارے مخلصانہ اندازمیں قوم و ملت کی خدمت میں دن رات لگے ہوئے ہیں وہیں چند ضمیر

ایسے معجزات پونچھ خطے میں ہی ہوسکتے ہیں!

کبھی مردہ زندہ ہوجاتاہے، کبھی دفن کیاگیا نوجوان بیٹا کچھ ماہ بعداپنی والدہ کو فون کرکے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتاہے تو کبھی دوپہر کو کورونا وائرس کی مثبت رپورٹ کی تصدیق کے بعد شام کو یہی رپورٹ منفی ہوجاتی ہے۔موجودہ دور میں ایسے کرشمے دنیا بھر میں اگر کہیں ہوسکتے ہیں تو وہ جموں وکشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ ہے جہاں حیران و پریشان کردینے والے ایسے واقعات رونماہوتے آرہے ہیں۔تاہم اسے آپ کوئی کرشمہ سازی نہ سمجھیں بلکہ یہ انتظامی لاچارگی ہے جو حقائق کی تصدیق میں قیاس سے کام لینے کا نتیجہ ہے۔ پازیٹونگیٹو،نگیٹوپازیٹوہوگیا دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والانہ ہی کوئی ملک اور نہ ہی کوئی شخص بشمول طبی ماہرین اس بات پر یقین کریں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ پونچھ میں پہنچتے پہنچتے کورونا وائرس کی رپورٹ کے نتائج گڑبڑآنے لگ گئے ہیں۔پہلے تو یہ ضلع کورونا وائرس سے محفوظ رہا اور لاکھ کوششوں

عید کی خوشیوں سے انکار نہیں | اسراف سے اجتناب لازمی

مسلمانوں کو اللہ تعالی نے اپنی خوشیوں کے اظہار کیلئے عید الفطر اورعید الاضحی سے نوازا ہے۔عیدالفطر شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے جو رمضان میں کی گئی عبادتوں کا انعام ہے جبکہ عیدالاضحی حضرت ابراہیم ؑ کی سنّت کی پیروی کیلئے ذو الحجہ کو منائی جاتی ہے۔اس عید سے قبل جانے کتنی ہی عیدیں ہم اپنی خواہشات کے مطابق منا چکے ہیں، لیکن یہ عیدبالکل ہی الگ ہے۔لاک ڈائون کے سبب ہم نے جو وقت گزرا اور گزار رہے ہیں، وہ کسی کے وہم و گمان اور خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔  اللہ تعالیٰ نے خوشی کے موقع پر ہر جائز اظہار کو پسند فرمایا ہے ۔عید کی خوشیاں ضرور منائیں، تیاریاں بھی خوب کریں لیکن یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ جہاں اللہ نے فضول خرچی کی ممانعت کی ہے وہیں نمود و نمائش کو بھی ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے کیونکہ یہ معاشرے میں محرومیوں کو جنم دینے کا باعث بنتی ہیں۔جو خرچ بھی نمودونمائش، نفس کی تسکی

تازہ ترین