تازہ ترین

کانگریس دھڑ ہ بندی

یوں تو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس کی حالت برسوںسے بگڑی ہوئی ہے جس کا اعتراف کانگریس کے کئی سینئر لیڈران وقتاً فوقتاً کر چکے ہیں اور لگاتارکبھی میڈیا کے سامنے تو کبھی عوامی اجتماعات میں اپنے سیاسی خطابات کے ذریعے کر بھی رہے ہیں لیکن پارٹی کی حالت سدھارنے کیلئے ابھی تک بھی کوئی متفقہ رائے نہیں بن پا رہی ہے،ٹانگ کھینچائی، ناک کھینچائی ،ہاتھ کھینچائی اور بانت بانت کی بولیوں کے ذریعے جماعت کی ’’ساکھ مٹائی ‘‘کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور نہ جانے کب تک اِس عمل کو جاری رکھتے ہوئے آپسی رنجشوں اور بغاوتوںکی کشتی لڑوائی جائیگی۔ کانگریس جماعت میں لیڈرشپ کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ ایک ہی جماعت کے پہلوانوں کو آپس میں لڑوایا جارہا ہے اور حیران کن امر تو یہ ہے کہ ’’پہلوان ‘‘آپس میں لڑتے جا رہے ہیں،کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں، کوئی پوچھنے وا

معیاری خوراک صحت مند زندگی کیلئے ضروری

معیاری خوراک انسانی بقاء اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ناگزیر ہے۔ غذا کی اہمیت انسانی زندگی میں ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار نا ممکن ہے۔زمانہ قدیم سے خوراک لوگوں کے آپس میں میل جول اور تعلقات قائم ہونے کا باعث ہے۔ اچھی خوراک کے ہماری سماجی زندگی پر بیش بہا اثرات ہیں۔ دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیلنے والے انفیکشنز کی بنیادی وجوہات میں غذائی کمی کے علاوہ غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی شامل ہے۔کہا جاتا ہے کہ معیاری اور مناسب غذا صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ محفوظ ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہر شہری کا بنیادی حق ہے اورتندرست و توانا رہنے کیلئے ضروری ہے کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے لیکن کیا محض خوراک کی مقدار ہی اہم ہے؟ بالکل نہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا میں غیر محفوظ غذاکی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے 600 ملین وا

آج کی حدود میں زندگی گزاریں!

اپنے طویل مستقبل کے بوجھ سے اپنے حال کو بوجھل بنائے رکھنا انسان کی ایک بھاری غلطی ہے۔بہت ساری اُمیدیں قائم کرکے انسانی سوچ کا دائرہ لامحدود ہوجاتا ہے ،پھر جلدی ہی ان اُمیدوں سے متعلق وسوسے اور ادہام پیدا ہونے لگتے ہیں ،پھر یہی وسوسے پریشان کُن فکرو غم کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔آخر ہم اپنے دل ودماغ میں شک وشبہ اور تشویش کو کیوں دخل انداز ہونے دیں۔ہم کیوں نہ ’’آج‘‘کی حدود میں زندگی گذاریں کہ یہی ہمارے لئے مناسب اور بہتر ہے۔کامیاب لوگ کل کی فکر میں پڑنے کے بجائے آج ہی کی فکر میں رہتے ہیں اور اسی کے مسائل کو حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھ کر آج اور کل دونوں کو محفوظ بنا لیتے ہیں ۔کامیاب لوگوں کا کام یہ نہیں ہوتا ہے کہ اپنی توجہ دُور دراز کے نشانوں پر مرکوز کریں بلکہ اُن کے سامنے جو واضح کام ہوتا ہے اُسی کو پورا کرنے کی کوشش کو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ آ ج کی

کورونا جتنی ہی مہلک ہے ماحولیاتی تبدیلی

حالیہ عرصہ میں کورونا وبا کی کسی ممکنہ سازش میں شراکت کے الزام کے علاوہ گزشتہ عرصہ میں ملیریا،ایچ آئی وی ، ایبولا اور کوویڈ جیسی وبائوں کے خلاف لڑنے کے بعداب ارب پتی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے اپنی توجہ اور کاوشوں کا مرکز ماحولیاتی تبدیلی کو بنایا ہے۔ 2021ء کے آغاز سے ہی بل گیٹس نے ہر کسی کی توجہ انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنج یعنی ماحولیاتی تبدیلی کی طرف مبذول کرانے کی کوشش ،خاص طور سے کوویڈ 19 وبا کے پس منظر میں کی ہے۔ بل گیٹس نے اپنی نئی کتاب ’’کس طرح ایک ماحولیاتی تباہی سے بچیں ‘‘ میں جو فروری میں منظر عام پر آئی تھی اس میں دنیا کو 2050ء تک کاربن گیس سے پاک کرنے کے لئے نئے قوانین اور طریقہ کار اپنانے پر بحث کی ہے۔   گیٹس کا کہنا ہے کہ انہیں کتاب لکھنے کی ترغیب اس وجہ سے ہوئی کہ وہ اپنے قارئین کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے بہترین

ادویات اور کیمیاوی کھادوں کااستعمال

موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی کشمیر میں ایک نئی چہل پہل دیکھنے کو ملتی ہے۔اس سلسلے میں لوگ موسم سرما کی لمبی قید سے نکل کر اپنے کھیت کھلیانوں اور باغات کا رخ کرتے ہیں۔یوں نئے سال کی نئی آن بان شروع ہوتی ہے اور کام کاج کا سلسلہ بھی۔لوگ سپرے موٹرز کو زنگ آلودہ سٹور رومز سے نکال کر ان کا معائینہ کرتے ہیں اور چھڑکائو کے لئے تیار بھی۔باغات میں کیمیاوی کھاد ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بازار میں دستیاب دوائیاں اور کھادیں معیاری ہیں ؟ لوگ جن ڈیلروں پر بھروسہ کرتے ہیں ،کیا وہ واقعی ایماندار اور مخلص ہیں ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب محکمہ باغبانی جموں وکشمیر کو دینا چاہئے کیونکہ دولت کمانے کی لت میں کاروباری کسی بھی حد تک گر جاتے ہیں۔غیر معیاری اور نقلی ادویات کا دھندا ہمارے سماج میں سب سے زیادہ مقبول دھندا ہے۔راتوں رات رئیس بننے کی دوڑ میں تاجر زندگیوں کا سودا کرتے

تازہ ترین