تازہ ترین

مرحبا اے شہرالقرآن مرحبا

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے‘‘۔(185:02) ماہ رمضان ہم پرسایہ فگن ہورہا ہے اور اس کی آمد امت مسلمہ کے لئے باعث مسرت وتسکین ہے۔اس ماہ کی عظمت کا اعتراف یقینی ہے جہاں نیکیاں آسان اور برائیاں مشکل ہوتی ہیں،جہاں نفل کا ثواب فرض کے برابر کردیا جاتا ہے اور فرائض کا ثواب ستر گنا زیادہ،یہ مبارک ساعتیں جس میں شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں اور رحمت خداوندی اپنے عروج بالا پر ہوتی ہے۔موسلا دھار بارش کی مانند برستی رحمت،برکت،مغفرت کی بوندیں ہر آن مومنین کو بشارت و خوشخبری کی نوید سناتی ہیں۔ جس ماہ کی ایک رات کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا۔جو رات اتنی افضل ترین ہ

سیاحتی شعبے کی ترویج و ترقی ٹھیک لیکن۔۔۔؟

سال2016 کے بعد2019کے حالات اور 2020میں کورونا بحران کی وجہ سے پیدا صورتحال کے نتیجے میں پہنچے پے در پے دھچکوں کے بعد رواں برس کے آغاز میں وادی کشمیر کی سیاحتی صنعت اب لگتا ہے کہ پٹری پر آنے لگی ہے۔متعلقین کے دعوے صحیح مانے جائیں تو اس سال ابھی تک کم و بیش ڈیڑھ لاکھ سیاح وادی کشمیر میں وارد ہوئے ہیں۔ ان میں اگر چہ غیر ملکی سیاح برائے نام تھے ،لیکن پہلے گلمرگ میں سرمائی کھیلوں میں بھاری شرکت اور بعد میں باغ گل لالہ کی اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کی سیاحت سے سال کا حوصلہ افزا آغازہوگیا۔متعلقین کا بھی ماننا ہے کہ اس سال ابھی تک ہوٹلوں کی بکنگ اچھی خاصی رہی۔اس کی وجہ شاید پہلے بھاری برفباری اور بعد میں ٹیولپ گارڈن کی بہتر مارکیٹنگ تھی۔ذرائع کے مطابق سرینگر، گلمرگ اور پہلگام میں قائم اکثرہوٹلوں کی ماہ جون تک اچھی خاصی بکنگ تھی تاہم اس میں کورونا پھیلائو میں اچانک آئی تیزی کی وجہ سے بعد میں

رمضان المبارک جلوہ افروز،حکومت اور ہم

 اسلامی مہینوں میں سب سے افضل و مقدس مہینہ رمضان المبارک جلوہ افروز ہوا ہے ۔مسلمانانِ عالم کی طرح وادیٔ کشمیر کے مسلمان بھی رضائے الٰہی کے جذبے کے تحت اس مہینہ کےتمام افضل ایام کا تزک و احتشام کے ساتھ اہتمام کرتے ہیںاور بظاہر وہ سبھی کام کرتے ہیں جو بحیثیت اُمتِ محمدی ؐاُن پر لازم ہیںلیکن اس مُبارک و افضل مہینےمیں کیا  وادی کےتمام مسلمان حقیقی معنوں میں وہ سبھی کام کرتے ہیں جوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور دین ِ اسلام کے احکامات کے مطابق اُن پر عائد ہیں۔ یہاں کے پیروکارانِ اسلام، اقوامِ آدمیت ،انسان سے محبت ،بھائی چارہ گی،خوش اخلاقی ،ایمانداری ،حق پرستی ،خطائوں کی معافی ،گناہوں سے توبہ ،میانہ روی اور انصاف کے اصولوں پر کتنے کاربند رہتےہیں،کس حد تک اپنے دینی کاموںپر عمل کرتے ہیںاورانسان ہونے کے ناطے انسانیت کے اُن تقاضوںکا کہاں تک لحاظ رکھتے ہیں ،جس پر انسان ک

نافرمانی ۔۔۔۔ارادہ شامل ہوجائے تو ایمان ڈگمگا جاتا ہے

انسانی طبیعت میں غلطی اور بھول چوک داخل ہے،بہت سی غلطیاں بغیر ارادہ سرزَد ہوجاتی ہیں،مثلاً ایک کمپوزیٹر یا ٹائپِسٹ کو لیجئے ،پہلی بار ٹائپ یا کمپوز کرنے کے بعد متعدد غلطیاں نکل آتی ہیں پھر صحیح کرنے کے بعد غلطیاں ختم ہوجاتی ہیں۔کام کرنے والا تو یہی کوشش کرتا ہے کہ پہلی ہی بار میں کوئی غلطی نہ رہ جائے لیکن اس کے ارادہ و خواہش کے باوجود غیر ارادی طور پر غلطی ہوجاتی ہے۔درزی ایک بار ناپ لینے کے بعد پوری کوشش کرتا ہے کہ لباس بالکل فِٹ آجائے لیکن ایسا نہیںہوتا ،جسم پر پہنا کر دیکھنے سے ہی کسر سمجھ میں آتی ہے۔ظاہر ہے اس طرح کی کسی خامی میں انسانی ارادہ کا دخل نہیں ہوتا بلکہ خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔اسی طرح ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرسکتا ہے اور نہ ایسا چاہ سکتا ہے۔اگر اُس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ کسی خطا کے بعد اُس کے دل میں جو ندامت پیدا ہوتی ہے وہ

ترقی کیسے پہنچے جب رابطہ پل موت کا کنواں ہو!

ہر دور میں ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی کے خواب دکھا کر صاحب اقتدار کرسی پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔لیکن اب تک صاحب اقتدار بے بس ولاچار عوام کی جانب سے عطا کی گئی کرسی پر بیٹھ کر عوام کے دکھ درد کو بھول جاتے ہیں۔ جس عوام نے اپنے بہتر مستقبل کے لئے ہر قسم کی مصیبتوں کے باوجود اپنے نمائندگان کو منتخب کیا تھا۔عام عوام تو درکنار اپنے دور اقتدار کے دوران وہ  صنف نازک کی خاطر بھی سہولیات کا کوئی کام نہ کر پائے۔ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں حسین و جمیل آبشار اور وادیاں بلند و بالا پہاڑیوں کو چیرتے ہوئے ہوئے دودھ کی طرح سفید برف کی طرح ٹھنڈے جڑی بوٹیوں کی آمیزش سے لبریز دریا اور نالے رواں دواں ہیں لیکن کبھی یہ خوبصورت دریا اور نالے یہاں کے مکینوں کے لئے پریشانی اور موت کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے مشرق کی جانب تحصیل منڈی کا بلاک لورن واقع ہ

بوئے گل ہے،ہے فصل بہار بھی محبت !

شہید محبت نہ کافر ہے نہ غازی ! محبت کی رسمیں نہ ترقی نہ تازی وہ کچھ اور شے ہے محبت نہیں ہے سکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی یہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے تو ہے علم و حکمت فقط شیشہ سازی نہ محتاج سلطاں,نہ مرعوب سلطاں محبت ہے آزادی و بے نیازی   میرا فقر بہتر ہے اسکندری سے  یہ آدم گری ہے وہ أئینہ سازی (علامہ اقبالؒ) محبت دوستی کا نشان ہے،الفت کا بیان ہے،مسرت کی جان ہے،انسانیت کی پہچان ہے،رفعت کا سامان ہے، تلوار کی میان ہے،شرافت کی میزان ہے،رشتوں کی شان ہے،اور سچ پوچھئے تو اصل ایمان ہے۔ سلام ہے،پیام ہے،انعام ہے،اکرام ہے،الفت ہے ،اخوت ہے،شفقت ہے،برکت ہے،عزت ہے،رفعت ہے،مسرت ہے ،مروت ہے،راغ ہے ،سراغ ہے،شرم ہے ،کرم ہے،مید ہے،نوید ہے۔ دیکھتے ہیںوہ کون سے اعمال ہیں جو مینار محبت کی قباء کے دامن عفیف کو خاموشی سے نحیف و ضعیف کر کےانسانی و ایمانی رشتے

رمضان کےروزے کا مقصد

" روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اورایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایاجائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے ،اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے۔ اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا۔ قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا ہے’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ آیت ۱۸۳) ترجمہ۔اے ایمان والو! تم پر روزے فرض

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار

سائنس میزانِ عقل میں اپنے معنوی ثقل کی وجہ سے خرد کے جملہ جزئیات کو متاثر کرتی ہے لیکن اپنے وجود کی تعبیر کے لئے عقل کی ہمیشہ محتاج  ہے۔سائنس نے انسانی دماغ کے مادی خلیوں کے باریک سے باریک گوشوں تک کا مشاہدہ اور معائنہ کیا لیکن عقل کے وجود پر اپنا حکم چلانے سے قاصر رہتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے میں یکسر ناکام ہے۔سائنس عقل کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے ۔اگر سائنس کو عقل کی لونڈی کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کیونکہ سائنس عقل کی مصروفیت ومشغولیت ،محنت و مشقت اور غور وفکر کی محتاج ہے۔اگر عقل کا وجود نہیں ہوتا  تو سائنس نام کی کوئی چیز وجود میں نہیں آتی۔دنیا کا کوئی سائنسی آلہ عقل کو ڈیفائین(Define) نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ عقل کے شاہکار کے طور پر اپنا کرتب پیش کر پاتا ہے۔عقل ہی عقل کو کسی حد تک سمجھ سکتی ہے اور اس کے صغریٰ ، کبریٰ پرتبدیلی کیاثرات مرتب کر پاتی ہے۔جیسے اس دنیا  م

حضرت مولانا سید ولی رحمانی

 ۳ /اپریل ۲۰۲۱ ء کی صبح سویرے حضرت مولانا سید ولی رحمانی کی طبیعت زیادہ ناساز ہونے کی اطلاع ملی،اللہ تعالی سے جلد شفایابی کی دعاء  زبان پر جاری ہی تھی کہ کچھ گھنٹوں بعد اس اندوہناک خبر کی اطلاع  سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ،جس کا خطرہ دل ودماغ کو صبح سے بے چین کر رکھا تھا،انتقال پر ملال کی یہ خبر ایک بجلی کی طرح ہم جیسے لاکھوں محبین ومعتقدین کے دلوں پر گری،انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اغفرلہ وارحمہ۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے،یہ کوئی الفاظ کی جادوگری نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے ایک ساتھ جتنی خوبیوں سے آپ کو نوازا تھا، ان سب کا ایک شخصیت میں جمع ہونے کی مثال بہت نادر ہے،علم، تقوی، صلاح، تقریر کی جادوگری، تحریر کی چاشنی،عصر حاضر کی ذمہ داریوں سے آگہی، علم قانون شریعت میں پوری گہرائی وگیرائی،قانون ہند پر گہری نظر، جرأت

ماہِ رمضان تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے۔اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لئے ہے۔ اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰہْمَّ بَارِک لَنَا فِی رَجَبَ وَشَعبَانَ وبَلِّغنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/375، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیج

چراغ حسن حسرتؔ کا تخلیقی وجدان

وادی پونچھ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی گود میں چراغ حسن حسرتؔ کا بچپن اور جوانی دیوانی کے دن گزرے۔یہی اُن کی تعلیم وتربیت ہوئی اور آگے چل کر مولانا نے ستاروں پر کمندیں ڈالنا سیکھا۔مولانا حسرتؔ بڑے مزے کے آدمی تھے۔اصل میں اللہ تعالیٰ حقیقی و تخلیقی بصیرت کی توفیق ہر کسی کو نہیں دیتا ۔ اس کے لئے جگر کا خون اور آنکھوں کا نور صرف کرنا پڑتا ہے۔سینے کی آرزوئیں قُربان کرنی پڑتی ہیں۔موجودہ دور میں فلسفہ معنی ہو کہ فلسفہ حقیقت یا پھرفلسفہ حسن تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔حقیقت ہر گز وہ نہیں ہے کہ جو سامنے نظر آ رہی ہے۔’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ،،بحرحال پھر بھی ہم تخلیقی بصیرت کے لئے دل کی گہرائیوں سے دُعا کرتے ہیں۔جھوٹ کے سمندر میں بھی سچ کی ایک چمک ہوتی ہے۔ اپناحسن ہوتا ہے۔ ایک شان ہو تی ہے۔ایسے ہی ایک سچے کھرے اور باغ و بہار شخصیت کے مالک چراغ حسن حسرتؔ ہوئے ہیں ۔ لوگ پ

بارہویں کے بعد بنا سکتے ہیں ان شعبوں میں کیرئیر

کئی طلباء جو آئندہ کے لیے ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں یا جو گریجویشن کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید صرف بنیادی بی اے، بی ایس سی اور بی کام سے واقف ہیں ان کے کئی ایسے کورسز دستیاب ہیں جو وہ اپنی دلچسپی کی بناء اختیار کرسکتے ہیں اور ایک کامیاب کرئیر بناسکتے ہیں۔ بارہویں کامیاب ہونے والے زیادہ تر طلباء اپنی ہی فیکلٹی میں گریجویشن کے تعلق سے معلومات رکھتے ہیں لیکن کئی ایسے کورسیس ہیں جن کے لیے کسی مخصوص فیکلٹی سے گریجویشن کرنا لازمی نہیں ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کسی بھی فیکلٹی سے بارہویں کامیاب ہوں یہ کورسز کرسکتے ہیں۔  ۱۔  بیچلر آف آرٹس /بیچلر آف کامرس/ بیچلر آف سائنس عموماً بارہویں کے بعد جوطلبہ گریجویشن کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی ہی فیکلٹی میں گریجویشن میں داخلہ لیتے ہیں لیکن دھیان رہے کہ سائنس سے کامیاب طلبہ بارہویں کے بعد سائنس کے علاوہ کامرس اور آرٹس دونوں شعبوں می

جاہ کی چاہ نہیں خواہش ِ منصب بھی نہیں

سیاسی میدان ہو یا سماجی ، معاشی شعبے ہوں یا تعلیمی ، دینی درسگاہیں ہوں یا ملی ادارے، مذہبی تنظیمیں ہوں یا سرکاری محکمے، ہر جگہ عہدئہ ومنصب کے حصول کی دوڑ لگی رہتی ہے، خواہش ہوتی ہے  کہ ان اداروں ومحکموں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے انہیں مقدم رکھا جائے ، انہیں اس کا صدر ومنتظم اعلیٰ بنا دیا جائے، ان کی یہ خواہش یا تگ ودو یا تو دوسروں کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے مقصد سے ہوتی ہے یا عزت وشرف ، شہرت اور دنیوی مفادات واغراض کے حصول کے لیے ہوتی ہے جبکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ اس ذمہ داری وصدارت اور عہدئہ ومنصب کے آخرت میں کیا نتائج برآمد ہونے والے ہیں، بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کی خواہش محض رضاء الٰہی اور اسلام ومسلمانوں کی بھلائی کے لئے رکھتے ہیں۔  جاہ کی چاہ نہیں خواہش منصب بھی نہیں میرے اندر کوئی درویش ہوا چاہتا ہے بنیادی طور پر اسلام نے عہدہ ومنصب کے

چار اپریل 2020سے پانچ اپریل 2021تک

خاکسار کو اپنی چھ دہائیوں کی عمر میں یہ یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلے کبھی ایک سال کے درمیان اتنی اہم مذہبی، علمی وادبی شخصیات نے عالم فانی سے عالم بقا کے لیے رخت سفر باندھا ہو۔ چار اپریل 2020 سے لے کر پانچ اپریل 2021کے درمیان اتنی علمی شخصیات دنیا سے اٹھ گئیں کہ اگر ان کی صرف فہرست سازی کی جائے تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ چار اپریل 2020 کو طنز و مزاح کے معروف شاعر اسرار جامعی کا دہلی میں انتقال ہوا جو ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ چار اپریل 2021 کو ماہنامہ شاعر کے مدیر افتخار امام صدیقی دنیا سے چل بسے اور پانچ اپریل 2021 کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے مرکز برائے مطالعات اردو ثقافت و نظامت ترجمہ و اشاعت کے ڈائرکٹر پروفیسر ظفر الدین کا اچانک حیدرآباد میں انتقال ہو گیا۔ اس سے دو روز قبل یعنی تین اپریل کو ملک کے جید عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری م

عالمی یومِ ہومیو پیتھی اورہانیمی کے اصولوں سے انحراف

10 اپریل کو ہر سال  یومِ ہومیو پیتھی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر سیموئیل ہانیمین کی یومَ پیدائیش کا ہے۔ پہلے مختصر تعارف ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر ہانیمیں اور ان کے طریقہ علاج کا  ہو جائے۔ ہومیوپیتھی کی بنیاد اٹھارویں صدی میں ایک جرمن فزیشین ڈاکٹر سیمو ئیل ہانیمین نے رکھی تھی ۔ ہا نیمین10؍ اپریل1755میں جرمنی کے قصبے سیکسونی میں پیدا ہوئے ۔انکا پورا نام سیموئیل کرسچن فراڈرک ہانیمن تھا۔ وہ زبانیں سیکھنے کے شوقین تھے۔انہوں نے کم عمری میں ہی  یونانی ، عربی لاطینی وغیرہ معتدد زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا اور زبانوں کے استادسمجھے جانے لگے تھے۔ شروع میں انھوں نے کتابوں کے ترجمے کے کام کو اپنا یا۔ اسکے بعد انہوں نے آسٹریا میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔پھر ’ویانا ‘ آگئے۔1779 میں وہ میڈکل ڈاکٹر بن گئے اور ڈیسڈن میں پریکٹس شروع کر دی۔ اس

ابوبکر محمد بن زکریا رازی | عظیم سائنس داں مشہور عالم طبیب اور نفسیاتی معالج

ایران میں ایک قدیم شہر ’’رے‘‘ کے نام سے مشہور رہا ہے جو اس وقت بھی اسی نام سے تہران کے صوبہ میں شامل ہے۔ تہران آج کے ایران کا پایہ تخت ہے۔ عالم اسلام کے ان گنت ارباب کمال اسی شہر’’رے‘‘ سے اُٹھے ہیں اور اپنی جائے ولادت کی نسبت سے ’الرازی یا رازی‘کہلاتے ہیں۔ عہد وسطیٰ کے مشہور طبیب اور سائنسدان ابو بکر محمد بن زکریا رازی (المتوفیٰ ۳۱۱ھ ؍ ۹۲۵ء) ،یگانہ روزگار مفسر قرآن امام فخرالدین رازی (المتوفیٰ ۶۰۶ھ؍۱۲۹ء) اوربلندپایہ صوفی نجم الدین رازی (المتوفی ۶۵۴ھ  /۱۲۵۶ء اسی مردم خیزشہر’رے‘سے تعلق رکھتے ہیں۔  ۲۵۱ ھ ؍ ۸۶۵ ء میں ’رے ‘میں ایک غریب خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا۔ افلاس کے ماحول میں بچے نے معمولی تعلیم پائی۔ لڑکپن میں وہ اپنا وقت عود بجانے اور یار دوستوں کے ساتھ گھومنے

! ناکامی کے پیچھے ہی کامیابی ہے

کامیابی خواہ بڑی ہو یا چھوٹی، ساری کامیابیوں کے پس پردہ ناکامیوں کی ان گنت کہانیاں ہیں، جتنی بڑی کامیابی ملتی ہے اتنی ہی زیادہ ناکامیاں ہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ جانے کتنے لوگ اپنی کامیابی کا سفراس وقت ختم کر دیتے ہیں اور ہمت ہار بیٹھتے ہیں  جب وہ اپنی منزل سے صرف بالشت بھر قریب ہوتے ہیں۔  آپ کا مقصد چاہے جتنا بڑا ہو اگر آپ کو اپنے اوپر بھروسہ نہیں ہے کہ آپ اس کی تکمیل کر سکتے ہیں تو کبھی بھی آپ کو کامیابی نہیں ملے گی۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا پروبلم یہ ہے کہ وہ چند بار کوشش کرنے کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں اور پھر اپنی شکست اور ہار تسلیم کر لیتے ہیں۔ مگر دنیا میں جن لوگوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان لوگوں نے اتنی ہی ناکامیوں کا منھ بھی دیکھا ہے۔ آئیے! ہم دنیا کے چند نامور مصنفین، ناول نگاروں، سائنسدانوں اور کھلاڑیوں کی ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہیں: مشہور سائن

انتخابی جنگ میں عوامی مسائل نظر انداز

 ملک کی چار اہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ میں اسمبلی انتخابات کی مہم کا فی زوروں پر چلی۔ سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ رائے دہندوں کو لبھانے اور للچانے کے لئے جو ترغیبات دی گئی اس کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔ کسی سیاسی پارٹی نے خاتون رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کر نے کے لئے بر سر اقتدار آنے پرواشنگ مشین دینے کا وعدہ کیاتو کسی دوسری پارٹی نے ضعیفوں کے وظیفہ کو بڑھانے کا تیقن دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کے آ تے ہی وعدوں کی بارش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر الیکشن کے موقع پر وعدوں کی سوغات لے کر رائے دہندوں کے درمیان آنا اور الیکشن کے بعد ان وعدوں کو بڑی بے التفاتی سے بُھلا دینا ہمارے سیاستدانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد جہاں عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں انحطاط آتا گیا وہیں ملک کے انتخابی نظام میں بھی کئی

کورونا:سازشی تھیوری اور لاپرواہی

کووڈ19 ایک عالمی وبا ہے۔اس کی لپیٹ میں دنیا کا تقریباً ہر چھوٹا بڑا ملک آچکا ہے۔عالمی اقتصادیات کو اس وبا نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔اس طور سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک آفت ہے، قہر ہے جو دنیا پر مسلط کیا گیا ہے۔یہ ایک لہر ہے جو لاکھوں کو بیمار بناتی ہے اور ہزاروں کو از جان کرتی ہے۔اقوام متحدہ نے اس وبا کو اب عام بیماریوں کی طرح ایک بیماری تسلیم کرلیا ہے جو ممکن ہے ہر سال مارچ کے مہینے سے سر اٹھائے گی۔اس بیماری کا تعلق نہ کسی مذہب ،علاقہ ،زبان ،رنگ ،نسل یا عمر سے ہے اور نہ ہی کوئی اس معاملے میں مستثنیٰ ہے۔بڑے بڑے رئیس ،عالم دین ،سادھو سنت ،ڈاکٹر ،سائنسدان ،سیاستدان ،بوڑھے ،جوان ،بچے ،مرد اور عورتیں اس بیماری کے شکار ہوگئے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ،مرد اور عورتیں بیوہ بن گئے اور والدین بے اولاد۔نماز اور تہجد ادا کرنیوالے عابد ،زاہد اور عارف بھی اس بیماری سے نہیں بچ سکے

’شہر نامہ ‘(اوجڑی کیمپ کے حوالے سے)

اتوار 10اپریل1988ء کے روز صبح 9بجکر45 منٹ پر فیض آباد راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپومیں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش شروع ہوئی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ایک ہفتہ تک افراتفری کا عالم رہا۔ دھماکوں کی آوازوں سے ہر طرف وحشت، نفسانفسی اور افراتفری کا ماحول تھا۔ فضا میں جو گردو غبار اور دھواں چھایا ہوا تھا وہ اس قدر ہولناک تھا کہ قیامت کا سماں تھا۔  اوجڑی کیمپ اسی ایکڑ پر پھیلا تھا۔ افغان جنگجوئوں کیلئے امریکہ روس کے خلاف لڑنے کیلئے جو سامان پاکستان بھیج رہا تھا اس کا 70 فیصدی اسلحہ اسی کیمپ میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں افغان جنگجوئوںکیلئے اسلحہ کے سولہ ڈیپو اور فوجی تربیت کے سڑسٹھ کیمپ موجود تھے مگر اوجڑی کیمپ ہیڈ کوارٹر تھا۔ جہاں امریکی اسلحے کا بڑا ذخیرہ تھا دوسو اڑ تالیس سٹنگر مزائل بھی اسی کی