تازہ ترین

سرحدوں پر جمی یخ پگھلنے لگی

چند روز قبل ہی ہند پاک افواج کے درمیان سرحدوں پر جنگ بندی کے اعلان نے دنیا کو نہ صر ف چونکا دیا ہے بلکہ متحیر بھی کردیا ہے اور خصوصاً خطہ جنوبی  ایشیاء کے ممالک کے لئے یہ اچنبھے اور خوشگوار بات رہی ہوگی ۔مرکزی سرکار کاہر کام اور ہر قدم اب تک ناگاہ اور اچانک ہی وقوع پذیر ہوتا رہا ہے اور یہ حالیہ قدم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہی مانا جاسکتا ہے۔دراصل اس سے کام کرنے کا ’’ مودی سٹائل ‘‘ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔اعلان دونوں طرف سے مختصر اور مخصوص کچھ جملوں سے ہوا ہے ،اور آر پار یہ اس لئے حیرت کا باعث بناہوا ہے کہ بظاہر ہندوپاک کے مابین حالیہ دور میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے آثار اور کسی واضح عندیہ کے نشانات کہیں دور دور تک بھی نظر نہیں آرہے تھے ۔ اس لئے اس اعلان کے منصۂ شہود پر آتے ہی سیاسی میدانوں میں کھلبلی حق بجانب قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ اعلان اس پس ِ منظر میں بھی حیرا

انسانی عقل

  انسان کی شخصیت اُس کی سوچ سے بنتی ہے ،لہٰذا عقل کی تطہیر لازمی ہے۔ دراصل سر تا پا انسان کا پورا جسم ہی عقل کے ماتحت ہے،کیوں کہ یہ عقل ہی ہے جس کے اشارے سے ایک انسان کا جسم متحرک ہوتاہے۔ اور عقل کی بدولت ہی ایک انسان علم و انکشافات کے مختلف مرحلے طے کرتا ہے۔ لہٰذا انسان کے پاس عقل کا ہوناقدرے اہم ہے۔  عقل (intellect)اصل میں عرنی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں 1503ء سے مستعل ملتا ہے۔کہتے ہے کہ اشرف بیابانیؔ کی مشہور و معروف اردو مثنوی ’’نوسرہار‘‘ میں یہ لفظ پہلی بار استعمال ہوا ہے۔عقل کے لغوی معنی شعور،فہم،دانشمندی ،نفس ِ ناطقہ اور ادراک کے ملتے ہیں۔جبکہ فارسی زبان میں اسے ـ’خرد‘بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ عربی زبان میں ’لُبْ‘کا لفظ بھی عقل کے ہم معنی ملتاہے،البتہ دونوں میں ایک واضح فرق ہے جسے مولانا عبدالحفیظ بلیاو