تازہ ترین

کورونا مہاماری سے مچی تباہی | مصیبت کی ان گھڑیوں میں مسیحا بننے کی ضرورت

 گزشتہ ہفتے میرا ایک کالم اس مہلک بیماری کے حوالے سے کشمیر عظمیٰ میں شائع ہواتھا۔اور آج مجبوراً اسی طرح ملک کے درد انگیز حالات کودیکھتے ہوئے ایک اور مضمون لکھنے پہ مجبور ہو گیا۔ملکی حالات اس وقت قابل رحم بنے ہوئے ہیں ،لاشوں کے انبار ایسے لگ گئے ہیں جیسے کسی ہول سیل دکان پہ لاشوں کی خریدوفروخت ہو رہی ہے ۔سب اپنے غم میں مبتلا ہو گئے ہیں ، کوئی اپنے جوان بیٹے کی نعش اُٹھا رہا ہے تو کوئی بُزرگ اپنی بیوی کی نعش کو ایمبولینس نہ ملنے  کے سبب اپنی سائیکل پہ شمشان گھاٹ کی اورلے جا رہا ہے ۔کوئی آکسیجن کے لئے تڑپ رہا ہے تو کوئی اسپتال میں بیڈ نہ ملنے کے سبب سرِ راہ موت کی آغوش میں جا رہا ہے ۔غرض پورے ملک میں اس بیماری نے حکمرانوں کی بے حسی کے سبب تباہی مچا دی ہے۔ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی غریب اور مجبور عوام ہوتی ہے ،مجبوروں اور بے بسوں کو اس وقت خاصی پریشانیوں کا سامنا

قدرتی آکسیجن اور مصنوعی آکسیجن | شجر کاری سے ہو ا صاف و شفاف رہتی ہے

جب سے عالمی وبا کورونا وائرس دنیا میں پھیلی ہے تب سے عالم ِدنیا اس کے دفع کے لئے ہر ممکن کوشش میں لگی ہے ۔کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ دنیا میں متعدد امراض جنم لئے ہیں اوروبائی امراض سے لا کھوں افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔ ۲۰۱۹ ہی میں کورونا نے اپنی پہچان شہر اوہان سے کرائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ماہرین کے مطابق اس وبا پر شکنجہ بھی کسا گیا مگراپریل ۲۰۲۱ میں پھر سے کورونا وائرس بڑی تیزی کے ساتھ کئی ملکوں کو لاک ڈائون کرنے پر مجبور کردیا ۔انہی ملکوںمیں ایک ملک ہندوستان بھی ہے۔ اب کورونا کے بڑھتے معاملات میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اپریل۲۰۲۱ میں کورونا کا ایسا قہر جاری ہے کہ ایک دن میں ساڑے تین لاکھ سے بھی زائد کورونا مثبت پائے جارہے ہیں۔کورونا کی دوسری لہر کا قہر اتنی شدت کے ساتھ قائم ہے کہ کہیں کورونا سے انسانوں کی ا موات واقع ہورہی

شب قدر … خیر و برکت والی رات

قرآن مجید جو تمام انسانوں کو حقیقی راستے کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے نازل کیا گیا اس کے نزول کے لیے اللہ تعالی رمضان لمبارک کے مہینہ کو منتخب کیا گیا اور رمضان میں سب سے بہترین اور عظیم رات شب قدر کا انتخاب فرمایا۔قرآن مجید ایک عظیم اور بے مثال کتاب ہے ، اس کی عظمتوں اور رفعتوں کی کوئی انتہا نہیں ،ہدایت اور اصلاح ،انقلاب اور تبدیلی، ظاہر و باطن کی درستگی اور دنیا و اخرت کی تما م تر بھلائیوں اور کامیابیوں کو اللہ تعالی نے اس میں جمع کر رکھا ہے ،علوم ومعارف ،اسرار وحکم کی تمام باتیں بیان کی گئی۔ رمضان المبارک جو انسانوں کی اصلاح وتربیت اور ان کی عملی زندگی کو درست کرنے کا مہینہ ہے ،جو ایمان والوں کو تقوی کے زیور سے آراستہ کرتا ہے اور بندوں کے تعلق کو خالق سے جوڑتا ہے،راہِ ہدایت کی طرف انسانوں کو گامزن کرتا ہے۔اس عظیم مہینے کو اللہ تعالیٰ نے جس عظیم کتاب یعنی قرآن مجید کے نزول کیلئ

شب قدر کی اہمیت و فضیلت

 ماہ رمضان المبارک ان لوگوں کیلئے رحمت ،برکت اور مغفرت کا مہینہ بھی ہے جو اس مہینے میں روزہ رکھتے ہیں۔ یہ وہ عظمت و فضیلت والا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے ان تک اپنے حبیب حضرت محمدؐکے ذریعے قران مجید کو پہنچایا ہے تاکہ بندے گمراہ نہ ہوجائیں ۔جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کو خلاصی ازنارِ جہنم سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ عشرہ نجات حاصل کرنے کیلئے بہترین وقت ہے اور یہ عشرہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی عشرے میں لیلۃ القدر یعنی شب قدر بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاشتے رہیں تاکہ آپ سعادتمند لوگوں میں شمار ہوجائیں۔ اسی لیے اس عشرے میں اعتکاف میں بیٹھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے کیونکہ رسول اکرم حضرت محمد ؐ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف میں ب

مجھ کو اک سانس کی ضرورت ہے

زمین پہ انسان خدا بنا تھا وبا سے پہلے وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پے (عنبرین حسیب عنبر )  گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے لگاتار دنیا کی پوری انسانی آبادی کرونا وبائی بیماری کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں جانیں اس سے تلف ہوچکی ہیں نیز پوری آبادی اجتماعی اقتصادی بحران کی شکار ہوئی ہے۔ بہت سارے لوگ نجی اداروں میں کام کرنے والے اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ماضی کی غلطیوں سے مکمل طور پر کوئی سبق حاصل نہ کرنے کی وجہ سے جو خمیازہ آج کی تاریخ میں دنیا کو اٹھانا پڑ رہا ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا لرزہ خیزی ہوسکتی ہے کہ ہر فرد زندہ رہنے کے لیے سانسوں کو خریدنے کے لیے زار و قطار رو رہا ہے اور کوئی یہ سانسیں فراہم نہیں کر پارہا ۔آئے روز کی خبریں بتا رہی ہیں کہ ہسپتالوں نے ہ

! کاش وہ رات(شب قدر) ہمیں نصیب ہو جائے

قرآن و حدیث میں شب قدر عظمت و فضیلت بہت اہمیت کے ساتھ متعدد جگہ بیان کی گئ ہے ،اور ایک مکمل سورہ ،سورہ قدر کے نام سے اللہ تعالٰی نے نازل فرمایا ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے؛بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شب قدر میں اتارا ہے ،اور آپ کو خبر ہے کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے،اس رات فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں، اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کے لئے ،سلامتی(ہی سلامتی) ہے ،وہ رہتی ہے طلوع فجر تک ۔یہ پوری سورہ شب قدر کی فضیلت اور اہمیت سے متعلق ہے اس سورہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس رات کو دیگر راتوں پر کتنی فوقیت اور برتری حاصل ہے ۔خدائے وحدہ لا شریک نے ہی تمام زمان و مکان میں پھیلی ہوئ ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے ،کسی کو فضیلت و برتری سے نوازا اور کسی کو ذلت و پستی کے قعر مذلت میں ڈال دیا، یہ سب خدا کی حکمت ہے اور اس کی شان عالی کو زبیا ہے ،جس طرح تمام مہینوں پر رمضان

! رمضان کا آخری عشرہ | آئیں عبادات میں منہمک ہوجائیں

جس طرح رمضان المبارک کو باقی مہینوں پر برتری و فوقیت حاصل ہے اسی طرح ماہِ رمضان کا آخری  عشرہ پہلے دو عشروں پر فضیلت رکھتا ہے۔ اس ماہ مبارک کے آخری عشرے میں ایک ایسی رات "لیلۃ القدر" ہے جس کو قرآن کریم نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔اس مقدس رات کا ایک سیکنڈ باقی دنوں کے مقابلے میں کئی گھنٹوں سے بہتر اور افضل ہے ۔اس طرح اس عشرے کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس رات میں اللہ رب العالمین اپنے بندوں کو اپنے ساتھ تعلق جوڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مغفرت کی رات ہے۔ یہ خیر کثیر حاصل کرنے کی رات ہے۔ یہ رات اب تک کی ہوئی کوتاہیوں کو دور کرنے اور نیکیوں میں رہ گئی خامیوں کو پورا کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔ اس عشرے میں رب الزوجلال اپنی رحمت سے بہت سارے مسلمانوں کی بخشش کرتے ہیں اور اس طرح ان کو کامیابی کی نوید سنائی دی جاتی ہے۔ واقعتاًیہی بڑی اور حقیقی کامیابی

کورونا وائرس کی دوسری لہر اور تباہ کن معاشی صورت حال

 گذشتہ برس 24؍مارچ کو عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے ضمن میں بغیر کسی منصوبے کے ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے عام آدمی سے لے کر متوسط طبقے کے لوگ سخت پریشان ہوئے اور ان کی معاشی صورت حال نہایت ہی ابتر ہوگئی۔ کورونا کے شروع ہونے سے لے کر اب تک ایک برس سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں کورونا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بلکہ اب تو ہندوستان میں کورونا کی پہلے سے زیادہ شدید اور مہلک دوسری لہر چل رہی ہے۔ اب تو کورونا سے متاثر ہونے والوں مریضوں کو مائع آکسیجن کی قلت ہورہی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو بستر نہیں مل رہے ہیں۔ ضروری ادویات کی قلت ہے۔ عوام کی اکثریت اپنی روزمرہ زندگی میں بے حال ہوچکی ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست نقل مکانی کرکے محنت مزدوری کرنے والے مزدور اپنی آبائی ریاست جانے کے لیے بے چین ہیں۔ یومیہ مزدوری کرنے والوں کے س

کورونا کی کارستانی اور انتظامی سہل انگاریاں

رواں برس مارچ کے آغاز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ ملک کے اندر کوروناوبا اختتامی مرحلے میں ہے لیکن موقر ’دی گارجین‘ کے مطابق’’ ہندوستان اب ایک زندہ جہنم میں تبدیل ہوگیا ہے‘‘۔ ملک کو تباہ کن کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور اب تک اس نے اتنی تباہی مچائی ہے کہ اسپتالوں میں بستر اور طبی آکسیجن کی شدید کمی ہے۔شمشان گھاٹ اس حد تک مصروف ہیں کہ گھروں میں لاشیں سڑنے کے لئے چھوڑ دی گئی ہیں ۔اب تو شمشان گھاٹوں سے ایسے ٹوکن فراہم ہونے لگے ہیں جن پر لاشوں کو آخری رسومات کیلئے لانے کی تاریخ اور وقت تحریرہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پورے ملک میں وبا انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل رہی تھی ملک کی پانچ ریاستیں انتخابی مراحل سے گذر رہی تھیں ،یہاں تک کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مودی بھی انتخابی مہم چلانے سے دستبردار نہیں ہ

کورونا قہر اور سسکتی انسانیت

کورونا وائرس کی ہوش رُبا تبا ہی سے اس وقت ساری انسانیت تڑپ رہی ہے۔ ہمارے اپنے ملک ہندوستان کے حالات دن بہ دن دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر روز مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر طرف ایک نفسا نفسی کا عالم ہے۔ دواخانوں میں مریضوں کو بیڈ نہیں مل رہے ہیں۔ وقت پر آکسیجن نہ ملنے سے لوگ موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں۔ ہر آدمی حیران اور پریشان ہے۔ حکمرانوں کی کاہلی اور ان کی غفلت کی سزا عوام بھگت رہی ہے۔ گزشتہ سال کوویڈ کی پہلی لہر نے ملک میں خوف اور دہشت کا جو ماحول پیدا کر دیا تھا ، اس سال اس سے کئی گُنا زیادہ حالات بد ترین ہو گئے ہیں۔ حالات کی اسی سنگینی کا نوٹ لیتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کویڈ۔19     کے بڑھتے ہوئے بھاری اضا فہ کو "قومی بحران"قرار دیتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے ہیلتھ انفرا سٹر کچر کے متعلق رپورٹ طلب کی۔ سپریم کورٹ نے منگل ( 27؍

’’آکسیجنو فوبیا‘‘

   کب کوئی دیش دروہی ٹھہرے پتہ ہی نہیں چلتا- زندگی کی پہلی ضرورت جسکو عرف عام آکسیجن کہا جاتا ہے مانگنا بھی کبیرہ گناہ بن گیا ہے۔ آکسیجن سے ڈرنے کی ساری کہان ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے گرد گھومتی ہے۔ اس سے پہلے مختلف اقسام کے فوبیوں مثلاً ہاییڈرو فوبیا، اسلامو فوبیا وغیرہ کے بارے میں تو سن رکھا تھا لیکن آکسیجن سے بھی کوئی ڈرتا ہے پہلی بار دیکھا ۔ پتہ نہیں یوپی کا موجودہ ایوان اقتدار آکسیجن کی ڈیمانڈ کرنے پر سیخ پا کیوں ہو جاتا ہے ۔ کرونا کی دوسری لہر نے ملک بھر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ یقین جانیں جس طرف نظریں اٹھاؤ لاشوں کے انبار دکھائی دے رہے ہیں ۔صبح اٹھ کے اخبارات دیکھو تو ان سے بھی موت کے انگارے بھڑک رہے ہیں ۔ پوری دنیا سے ہمدردیوں و امدادی پیکیج کا سلسلہ جاری ہے ۔ مختلف ممالک سے یہ امدادی پیکیج آکسیجن کی صورت میں بھارت پہنچ رہی ہے ۔ ملک کے ہسپتال آکسیجن

گرافک ڈیزائننگ اور انیمیشن

تکنیکی ترقی نے جن کورسیس میں انقلابی تبدیلی اور روزگار کے کثرت سے مواقع پیدا کیے ہیں ان میں گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، وی ایف ایکس، اسپیشل افیکٹس، سائونڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ایڈورٹائزنگ کے شعبے اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ٹیلیویژن، فلموں، آن لائن پلیٹ فارمس، نیوز چینلس ، میڈیا، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک گرافک ڈیزائنریا اینیمیٹرکسی فلم ، میڈیا کمپنی میں ملازمت بھی کرسکتا اور اسے خود روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں ، ٹیکنالوجی سے شغف ہو، انھیں ان کورسیس کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ آئیے ان کورسیس کا جائزہ لیں۔  گرافک ڈیزائنر  (Graphic Designer)  ایک گرافک ڈیزائنر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، پبلشنگ اور میڈیا ہائوسیس، ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے

SCREAMING SILENCE

نام کتاب؛ Screaming Silence  مصنف؛ ڈاکٹر مدثر احمد غوری سن اشاعت؛2021 ناشر؛ Ink Links Publishing House J&K ڈاکٹر مدثر احمد غوری کا تعلق کشمیر کے موضع تلنگام پلوامہ سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں کے اسکول گورنمنٹ مڈل اسکول تلنگام سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر مدثر نے جھانسی کا رخ کیا اور وہاں سے انگریزی میں پوسٹ گریجویشن گولڈ میڈل حاصل کرنے کے ساتھ مکمل کی۔ بعد میں ایم فل کی ڈگری وکرم یونیورسٹی اُجین سے 2014ء میں حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی سے امتیازی شان کے ساتھ حاصل کی ۔ مصنف اس وقت مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے ڈی ڈی ای کے شعبۂ انگریزی میں بحیثیت گیسٹ فیکلٹی کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مدثر احمد غوری محقق بھی ہیں، شاعر بھی ہیں اور نقاد بھیـ

احکام رمضان المبارک

رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔ روزہ کی نیت:نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔ مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے: (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادۃً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا

ماہ صیام کی رونقیں کورونا قہر کے سائے میں

انسانی بحران ، مصائب ومشکلات ‘بدترین حالات اور آزمائش کی گھڑی میں عام طور پر لوگ دین ومذہب کا سہارا لیتے اور اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو کر عبادتوں کے ذریعہ سکون واطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر کرونا وباء کے پھیلائو کے زمانہ میں اہل اسلام تو اپنے رب کو راضی کرنے کی طرف متوجہ ہوئے توبہ واستغفار میں مشغول ہوئے لیکن اس ملک کے دیگر اہل وطن کم ہی اس وباء سے بچنے کے لئے دین ومذہب کا سہارا لیا، یا اہل یورپ اور یہود ونصاری کم ہی چرچوں اور عبادت خانوں کا رخ کیا، خود دنیا کے مسلم ملکوں نے بھی مساجد کے دروازے بند کردیئے اور با جماعت نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔ اور حج وعمرہ جیسی عظیم الشان عبادت پر پابندی لگا دی۔  اس بحث سے قطع نظر کہ کرونا آسمانی بلاہے یا زمینی پیدا وار، یہ قدرتی آفت ووباء ہے یا مصنوعی اور اس میں مارے جانے والے حقیقی معنوں میں اس مرض کا شکار ہو کر مرے ہیں

جذبات کی تربیت

انسان جیسے ہی اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو وہ یہاں کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور آئے دن نئی چیزوں اور نئے عوامل کا علم حاصل کرتا ہے۔ چونکہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے انسان کو مختلف اعضاء عطا کیے ہیں جن کے وجہ سے وہ محسوس کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ یہی اعضاء اْس کو  پہلے پہل نئی چیزوں کا علم عطا کرتے ہیں اور نئے عوامل سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ بعد میں پھر وہ زندگی کے حاصل کردہ تجربات سے اور سماج میں پہلے ہی رائج کردہ علم سے نئی معلومات حاصل کرتا ہے۔ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین اس کی پرورش کرنے کے دوران چاہتے ہیں کہ اْنکا بچہ صرف اچھی چیزیں سیکھے، اس میں صرف اچھے عادات حامل ہوجائیںاور تو اور اْنکا بچہ صرف وہی سیکھے جو وہ لوگ اسکو سکھانا چاہتے ہوں اور اس کے سوا اور کچھ نہ سیکھے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیقات کے مطابق بچے کی پیدائش سے لیکر چھ یا سات سال کی عمر تک بچے کے دماغ کا %

فاتح خیبراور دامادِ رسولﷺ

خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ اسلام  نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے بلند کیں۔ اگر چہ یہ گھر بالکل سادہ ہے نقش و نگار اور زینت و آرائش سے خالی ہے ، مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت و سعادت کا سرچشمہ اور عزت و حرمت کا مرکز و محور ہے، اور آج بھی اس کی مرکزیت و اہمیت اسی طرح قائم و دائم ہے۔وہ پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، ان کی ہدایت کا ذریعہ ہے،مسلمانوں کا قبلہ، خانہ کعبہ ہے. اس بابرکت مکان کی نشاندہی قرآن نے اس طرح کی ہے کہ یہ مکان سرزمین بکہ پر ہے (شہر مکہ کا قدیمی نام بکہ ہے)۔ اس گھر کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا اور اسی لیے اس مکان کو ‘بیت اللہ’ یعنی ‘اللہ کا گھر’ کہا جاتا ہے۔قرآن میں اس مکان کی عظمت کے بارے میں متعدد آیات موج

رمضان کے خشک میوے اور ان کے فوائد

معالجین کہتے ہیں کہ خشک میوے جسم میں تازہ خون بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ خشک میوے اپنے اندر وہ تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ میوے معدنیات اور حیاتین سے بھرپور ہوتے ہیں اور اسی غذائی اہمیت کے پیش ِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اطباء بھی خشک میوہ جات کی غذائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ خشک میوہ جات قدرت کی جانب سے ایک انمول تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔ خشک میوہ جات مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈرائی فروٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچائو میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط

ہر دُکھ و درد کا مداوا انسانیت ہے

یہ اٹل حقیقت ہے کہ زمینی اور آسمانی آفتوں کی تاریخ انسانی وجود سےشروع ہوتی ہے اور جب بھی کسی قوم پر خدا کی ناراضگی بڑھ جاتی ہے تو آندھی، طوفان، سیلاب ،زلزلے اور وبائی بیماری کی صورت اختیار کرکے اُس قوم کو آلام و مصائب میں مبتلا کرتی ہے یاپھر صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتی ہےاور ایسی تباہی اور بُربادی بپا ہوتی ہے ،جس کے اثرات عشروں اور صدیوں تک موجود رہتے ہیں۔گذشتہ سال کے بدترین کرونائی قہر نے جہاں پہلے مرحلے میں ساری دنیا کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات سے دوچا ر کرکے ہلا کے رکھ دیا، بڑے بڑے سُپر پاور طاقتوراور مالدار سورمائوں کی زبانیں گنگ کر دیںاور شاہانہ زندگی گذارنے والے لوگوں کوبھی معاشی بدحالی سے دوچار کردیاتووہاںآج اس وبائی قہرنے اپنےدوسرے مرحلےمیںبرصغیر کے ایک سو تیس کروڑ آبادی والے ملک بھارت کو تلپٹ کرکےاس کا نظام ِزندگی مفلوج کردیا ہے۔ ہر طرف مہا ماری کی بد ترین صورت ِحا

روزہ کشائی … پہلا روزہ

ماہ ِرمضان میں اکثر مجھے لکھنئو میں گذر ہوا اپنا بچپن یاد آنے لگتا  ہے۔آنکھوں کے سامنے سے یادوں کا معصوم ا ور ست رنگی کارواں گزرنے لگتا ہے۔ بچوں سے اپنے بچپن کی باتیںکرنے کا دل چاہتا ہے کیوں کہ ہر بچہ کا بچپن اسکی زندگی کا  پیاری پیاری باتوں سے بھرا  انمول سرمایہ ہوتا ہے۔ اس وقت میری عمر تقریباً نو یا دس سال کی ہوگی۔ شدت سے گرمی پڑ رہی تھی،جیسے آج کل پورے ملک میں گرمی کی تپش کا زور ہے۔میںروزانہ صبح سحری میں اٹھ جاتا ۔یا یوں کہیں کہ دودھ ۔پھینی اور آلو کے دیسی گھی میں تلے پراٹھوں کی خوشبو مجھے اٹھا دیتی تھی۔ اس کے علاوہ ، ان دنوں سحری کے وقت روز انہ اللہ کے کچھ نیک بندے اپنی ترنم ریز آواز میں سحری نعرہ لگاتے کہ جاگو سونے والو۔ غفلت کی نیند سے اٹھو۔سحری کا وقت ہو گیا ہے۔ نیند کا شیطان بہکائے گا۔ اس کے بہکاوے سے بچو۔ یہ مبارک مہینہ ہے، دوبارہ نصیب ہو نہ ہو۔گیا وقت