۔13 جولائی محض کوئی تعزیتی ریفرنس نہیں | کشمیر کا اپنے ماضی کیساتھ تعلق تبدیل کرنے کی کوشش

1۔آج "یوم شہدا" ہے۔ اس دن 89 سال پہلے مہاراجہ مخالف کارکن کے مقدمے کی سماعت کے خلاف احتجاج کرنے والے بائیس افراد کو ہری سنگھ کی پولیس فورس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 2۔ اس سال کے شروع میں یونین ٹیرٹری انتظامیہ نے  ہر سال 13 جولائی کو یوم شہداء منانے کی اپنی دیرینہ سرکاری سرپرستی واپس لے لی۔ آج کے دن اب سرکاری تعطیل نہیں رہی۔ حکومت کے سربراہ کی طرف سے " مزار شہدا" میں پھولوں کی چادر چڑھانے کی رسمی  تقریب اب سرکاری پروٹوکول نہیں رہے گا۔ 3۔ بادی النظر میں انتظامیہ میں کسی نے اس کا جارج اورول اچھی طرح سے پڑھا ہے۔ 1984 میں اپنی کلاسیکی تخلیق میں ارول نے لکھا ، "ماضی کو کنٹرول کرنے والا مستقبل کو کنٹرول کرتا ہے اور حال پر قابو رکھنے والا ماضی پر دسترس رکھتا ہے ‘‘۔  4۔ بزرگ کشمیریوں کے لئے تیرہ جولائی " سیکھی یا پڑھی ہ

احساسِ ذمہ داری کا جذبہ اور کشمیری عوام

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں یا معاشروںکیسیاسی قائدین یا مذہبی اکابرین کے مابین نظریات کا ٹکرائورہااور لوگوںکے اجتماعی مفادات کی حفاظت اور حصولِ مقاصدکے تئیں منافرت رہی ،اْن قوموں میں اصول پرستی اور اجتماعی مفادات کی جگہ خود غرضی اور منفعت پرستی نے لیلیں۔اْن کے دِلوں میں خوف ِ خدا کا تصورباقی نہ رہا اور اْنہیںہمہ گیر خرابیوں اور بْرائیوں نے گھیر لیا ،جس کے نتیجہ میںوہ ہمیشہ مسائل ،مشکلات اور مصائب میں مبتلا رہیں،اْن کا نہ کبھی بھَلا ہوا نہ ہی وہ کسی کام کی پیش رفت میں سرْخ رو ہوسکیںاوروہ ہر میدان اور ہر شعبہ? زندگی میں ناکام ثابت ہوئیں ،اسی طرح جن اقوام یا معاشروں میں ایثار و اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ باقی نہ رہا ، وہ بھی خود پرستی،ہٹ دھرمی اور لاتعلقی کے دلدَل میں دھنس کر نیست و نابود ہوتی گئیں۔  بلاشبہ کشمیری قوم کی بد قسمتی رہی ہے کہ اْسے ہر اودار میں زیادہ ت

سازشی نظریات اور اس کے اثرات سے تحفظ کیسے ممکن ہے؟ | کووڈ۔ ۱۹ کے تناظر میں ایک تجزیاتی نقطہ نظر

انفجار اطلاعات کے اس دور میں صحیح اطلاعات کی پرکھ باقاعدہ ایک مشق کی طالب ہونے لگی ہے۔ تلبیس اطلاعات (Disinformation)یعنی اطلاعات کو ایسا لباس پہنانا جس سے کوئی خاص قسم کا مقصد حاصل ہوسکے، باقاعدہ ایک منفی فن کی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ سازشی نظریات انفجار اطلاعات کے دور کی ناقابل انکار حقیقت ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سازشی نظریات اس سے قبل موجود نہیں تھے۔ یقیناً سازشی نظریات کی تاریخ انسانی شعور کی تاریخ سے متصل ہے لیکن ماضی بعید و قریب اور حال میں یہ فرق ہے کہ پہلے ان سازشی نظریات کو پھیلانے ، عوام الناس میں ان کے نفوذ ، خواص کے ذہنوں میں اسے پیوست کرنے اور ان کے صحیح ہونے کے لیے غیر معمولی جدوجہد، پیسہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی درکار ہوتی تھی۔ اب مواصلاتی انقلاب کے بعد ان سازشوں کو پھیلانا اور عوام الناس میں ان کو معقول بنانا محض کلکس کا محتاج ہے اور یہ چٹکی بجانے سے زیادہ آسان کام

گوشہ اطفال|11جولائی2020

گُد گُد یاں…!!! ایک دیہاتی اور ایک انگریز گاڑی میں سفر کررہے تھے۔ دیہاتی حقہ پیتا تو انگریز کو غصہ آتا تھا اور جب انگریز اپنے کتے کو پیار کرتا تو دیہاتی کو غصہ آتا۔ دیہاتی کسی کام سے دوسرے ڈبے میں گیا تو انگریز نے اس کا حقہ اْٹھا کر باہر پھینک دیا۔دیہاتی جب واپس آیا تو وہ اپنا حقہ نہ پا کر بہت پریشان ہوا مگر آرام سے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد انگریز کسی ضرورت سے گیا تو دیہاتی نے اس کا کتا پکڑ کر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ جب انگریز واپس آیا تو اس نے کہا۔ کہاں گیا میرا کتا؟…دیہاتی نے فوراً جواب دیا۔ وہ میرا حقہ پینے گیا ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭ ایک آدمی کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ تمام لوگ آگ بجھانے کیلئے دوڑے لیکن دور سے ایک آدمی بہت تیزی سے دوڑتا ہوا آرہا تھا اور زور سے بولا، ٹھہرو ٹھہرو! لوگوں نے سمجھا کہ یہ آدمی آگ پر جلد قابو پانے کی کوئی ترکیب جانتا ہوگا، ا

انتظار اُس مسیحا کا جو مُردے میں جان ڈال دے

نیشنل کانفرنس کے روح رواں ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظربندی ختم ہونے کا ان کے دوست اور دشمن سب بے صبری کے ساتھ انتظار کررہے تھے ۔بڑا تجسس تھا کہ وہ باہر آئیں گے تو کیا بولیں گے ۔ کس لہجے میں بات کریں گے اور کس رفتار کے ساتھ بولیں گے ۔لیکن ان کے باہر آنے کے ساتھ ہی یہ راز بھی کھلا کہ اب ڈاکٹر فارو ق عبداللہ وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نہیں جس کی شوخی ٔ گفتار کا چرچا کشمیر میں ہی نہیں بلکہ برصغیر میں جاری و ساری رہا کرتا تھا ۔جس کی ہر ادا میں ایک نئی ادا ہوتی تھی ۔اُ س ڈاکٹر فاروق کو بھی 5اگست نے دفعہ 370کے ساتھ ہی نگل لیا ۔پابندیوں سے چھوٹ جانے کے بعدانہوں نے کوئی بڑی بات نہیں کی ۔کوئی الٹی سیدھی بات بھی نہیں کی۔ہر سوال کو ٹال دیا اور ہر بات کو گول کردیا ۔ان کے منہ سے کوئی تیکھا جملہ نہیں نکلا ۔لگتا ہے کہ اب وہ خود نہیں بول رہے ہیں بلکہ ان کی زبان سے

کشمیر:اے واک تھُرو ہسٹری!

کشمیر اے واک تھرو ہسٹری (kashmir a walk throuh history)خالد بشیر صاحب کی انگریزی زبان میں لکھی گئی تصنیف ہے۔ خالد بشیر کا تعلق وادی ِکشمیر سے ہے۔ موصوف تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر وشاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسزکے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کتاب سے پہلے تاریخ کشمیر پر ان کی ایک اور کتاب بھی کشمیر: ایکسپوزنگ دی میتھ بیہاینڈ دی نیریٹیو (kashmir: exposing the myth behind the narrative)قارئین نے خاصی پسند کی ہے۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے کشمیرکی تاریخ کے چند واقعات کو منفرد انداز میں قلم بند کیا ہے۔کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے غیر ریاستی اور غیر مسلم مورخین کے حوالوں سے کشمیر کے چندتاریخی حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے اورچند ذیلی عنوانات کے تحت مختصر اور جامع انداز میں واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ڈوگروں کے مظالم اور نیشنل کانفرنس کے قائدین کی دغا با

خوشیوں ،خواہشات اورتمنائوں کی موت

پوری دنیا فی الوقت منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے اور کھائے جارہی ہے۔اس کے استعما ل پر پابندی کے قوانین بظاہر موجود ہیں،اس کے استعمال کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی۔ انسان نے اس کا استعمال کب شروع کیا اور سب سے پہلے کس نے منشیات کا استعمال کیا اس بارے میںصحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ تمام مذاہب نے اس کے استعمال کو منع کیا ہے۔ منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشے کا عادی شخص درد ناک کر

کیرالہ کی چیرامن جامع مسجد

آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل جب نبی آخر الزمان حضرت محمدؐ نے عرب کی سرِ زمین پر ، جو ہر لحاظ سے گمراہی، جہالت،تکبر اور دیگر خرافات میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی، وہاں دینِ حق قائم کرکے عرب میں کیا بلکہ پورے عالم میں خوشگوار انقلاب لایا، جس سے لوگوں کی حالت ہی بدل گئی۔چونکہ اہلِ عرب کو حق کی بات سمجھانا نہایت دشوار تھا ، لہٰذا اس میں کافی محنت درکار تھی۔آخر کار ہمارے پیارے نبی ؐ نے ان تھک محنت کرکے عرب کے لوگوں کو راہِ راست پر لایا ،جس کیلئے آپ کو بے شمار تکالیف سینے پڑے۔ اسلام کی اشاعت میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے،کیونکہ یہ نہ صرف عبادات کا مرکز ہوتی ہے ،بلکہ یہ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے، جہاں سے ان کی تمام مذہبی، اخلاقی،اصلاحی ،تعلیمی و تمدنی، ثقافتی وتہذیبی،سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔اْس دور میں مسلمانوں کے تمام معاملات مس

انتخابی حد بندی رقبہ کے زاویہ سے

حد بندی کے معیار کے طور پر رقبے کا استعمال اس بیماری کا علاج ہوگا جو موجودہی نہیں ہے۔در حقیقت یہ ایک نئی بیماری کا سبب بنے گا۔ 1۔حدبندی معاملہ پر کالم سیریز کے دوسرے حصے میں یہ دکھایا گیاتھا کہ صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر کے مابین اسمبلی انتخابی حلقوں کی تعداد میں کسی قسم کی تفاوت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ آبادی کی بنیاد پرمجموعی آبادی میں42.68فیصد حصہ داری کے باوجود جموں کو87 رکنی اسمبلی میں سے 37 نشستیں ملی ہیں جو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا 42.52 فیصد ہے۔  2۔تاہم جموں مرکوز سیاسی جماعتوں کی جانب سے جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کا معاملہ اور جموں کے لئے زیادہ سے زیادہ نمائندگی کیلئے مطالبہ کی بنیاد یہ ہے کہ یہ رقبہ میں کشمیر سے بڑا ہے۔ نیز یہ بھی دلیل پیش کی گئی ہے کہ جموں کے ہر حلقہ انتخاب میں کشمیر کی نسبت لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کو "ایک شخص ، ایک ووٹ"

ایس آر او 202کی منسوخی اور بیروزگاری

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پہلے ریاست اور اب مرکزی حکومت کی طرف سے یوٹی کا درجہ دینے کے بعد جموں وکشمیر باقی ریاستوں کے مقابلے میں تعلیم کو فروغ دینے میں صف اول میں شمار ہوتی ہے۔جہاں اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے طلباوطالبات ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے قلیل تعداد کے تعلیم یافتہ مختلف محکموں میں اچھے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔لیکن ان مختلف شعبوں میں تعلیم کا شعبہ ایک اہم شعبہ مانا جاتا ہے۔اور اس سے منسلک استاد کا پیشہ سب سے معتبر پیشہ تصور کیا جاتا ہے۔جس کو حاصل کرنے میں عرق ریزی اور جانفشانی سے دن رات محنت شاقہ کرنی پڑتی ہے۔ان ہی اساتذہ صاحبان میں گورنمنٹ ہائراسکنڈریوں میں کام کرنے والے ایس آر او202کی سکیم کے تحت سال 2016میں تعینات بحیثیت لیکچراروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً باون ہزار کے قریب مقرر کی گئی ہے۔ان ہی ہائرسکنڈریوں میں تعینات عارضی طور پرلیکچراروں کی ماہ

فلسطین کے انضمام کا معاملہ فی الحال ٹل گیا!

اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف زمانہ امن کے دوران سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں سے ایک، وقتی طور پر ہی صحیح ،لیکن فی الحال التوا میں پڑ گیا ہے۔  اسرائیل کے وزیر برائے علاقائی تعاون اوفر اکونس کا کہنا ہے کہ فلسطین کے انضمام کی یہ کارروائی جولائی میں یقینی طورپر ہوگی لیکن اسے امریکہ کے ساتھ مل کر انجام دیا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا’’ انضمام کی کارروائی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد عمل میں آئے گی۔‘‘ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع بینی گینٹز کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق نیتن یاہو کو کابینہ یا پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد مغربی کنارہ کے انضمام کے متنازعہ منصوبے کا یکم جولائی کو اعلان کرنا تھا۔ انضمام کا منصوبہ  نیتن یاہو کی طرف سے پیش کردہ انضمام کے منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کو وادی اردن اور مغربی کنارہ کے کچھ ع

نکاح کا مبارک عمل خرافات کی نذر

اسلام میں نکاح کا مسنون طریقہ بالکل آسان، مبارک اور واضح ہے۔ ایجاب و قبول اور مہر کی ادائیگی کے بعد رخصتی دراصل پورے نکاح کا لْب لباب ہے۔ لیکن اس عمل کو آج کل ہمارے کشمیر میں یہ اتنا مہنگا اور کٹھن بنایا گیاہے کہ ہم نے اس پورے سلسلے پر ایک طرح کی روک لگا کر غلط راستوں کے در وا کئے ہیں۔ ہمارے سماج نے نکاح کے سلسلے میں ایسے ایسے ہزار ہا رسوماتِ بد کو ایجاد کیا کہ یہ کٹھن اور دشوار گزار گھاٹی کی مانند ہی اب کسی کسی سے سَر ہوتی ہے۔ نمبرشمار لگائیں اور پھر آگے قوسین میں چیزوں کا اندراج اور ساتھ میں خرچے کی رقم کو جمع کر کے لکھتے جائیں تو ایک نہ تھمنے والا سلسہ جاری و ساری ہوتا ہے۔ یہاں ہم نکاح کے حوالے سے ہمارے سماج میں ادا ہونے والی کچھ بڑی اور فضول رسومات کا اجمالی خاکہ پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔   1۔  "تَھپ تَراوِن" آپ اس لفظ پر غور کیجئے۔یہ آگے ہمارے

رسوماتِ بد کی فلک بوس لہریں

مجموعی طور پر اگر ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیں۔خواہشات کی غلامی، حرص و ہوس ،تمنائے مال و متاع اور بے جا اخراجات سے سماج میں اضطراب کی فلک بوس لہریں پیدا ہوگئی ہیں۔اسراف میں ایک دوسرے پر سبقت اور بے جا تمناؤں نے حلال و حرام،جائز و ناجائز کی تمیز ختم کردی ہے۔ مقتدر دین میں اعلیٰ انسانی اقدار پائمال ہوتی جارہی ہیں۔ دولت کے پجاری دنیا پر آخرت کو ترجیع دے رہے ہیں سادہ طرز زندگی کو حقارت کی نظر اور قناعت پسند لوگ تنگ نظری کے شکار ہورہے ہیں۔اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔ افسوس صد افسوس ہم مدہوش نیند میں خراٹے لے رہے ہیں اور برائیوں کی کثیف لحد میں کروٹیں بدل رہے ہیں۔بے جان ملت کی بد عملی ،مفاد پرستی ،ضمیر فروشی اور غفلت شعاری سے مسلم معاشرہ بربادی کے دھلیز پر کھڑا ہوگیا ہے۔  بے جا اخراجات اور دولت کی نمائش نے ہمارے پاک و صاف معاشرے کوجکڑ کر رکھ دیا۔شادی بیاہ اور دیگرانفرادی و اجتماعی

میرواعظ رسول شاہ

حالیہ حالیہ دنوں میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کورونا وائرس سے نجات کی چند دعائیں تجویز کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعائیں وبائی صورتحال کے دوران اُن کے جد امجد مولانا غلام رسول شاہ عرف لسہِ بب نے قوم کو سکھائی تھیں۔5 ستمبر 1855جب مولانا رسول شاہ تولد ہوئے تو اُن کے والد مولانا محمد یحیٰ نے تاریخ ساز فقرہ کہا: ’’یہ بچہ سورچ کی طرح چمکے گا اور لوگوں کے دلوں کو روشن کرے گا۔‘‘ میرواعظ رسول شاہ کے والد مولانا محمد یحیٰ کا انتقال ہوتے ہی وہ 1891میں کشمیر کے پہلے میرواعظ (یعنی تمام واعظین کے رہنما) مقرر ہوئے۔زمین اور جائیداد سے جو رقم مولانا رسول شاہ کو حاصل ہوتی تھی اس کا خطیر حصہ وہ غریبوں، ناداروں اور بیوہ خواتین اور دوسرے ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے تھے۔  میرواعظ مولانا رسول شاہ نہ صرف علامۂ زمانہ، دانائے دہر اور علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر تھے بلکہ وہ

لاک ڈائون دریافتیں

وادئ کشمیر میں جہاں راقم کا کاشانہ ہے، بالکل مقابل ایک زمین خالی پڑی ہوئی تھی۔کشمیر میں زمینوں کو احاطہ دینے کامعمول ہے۔یہاں احاطہ کے اندر زمینوں کا زیادہ ترحصہ باغبانی کے لیے وقف ہوتا ہے۔تھوڑی سی جگہ مکان کے لیے وقف ہوتی ہے۔اس زمین کا حال بھی کچھ یہی تھا۔کچھ حصہ پر مکان بنا ہوا ، باقی حصہ خالی تھا۔گو زمین آس پاس مکانات سے گھری ہوئی ہے مگرمذکورہ مکان رہائشی نہ ہونے نیز زمین کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈرکا نظارہ پیش کر رہا تھا اور زمین پر قد آدم زہریلی و کانٹے دار گھاس اگی ہوئی تھی جسے یہاں بچھو گھاس کہتے ہیں جو انسان کومس کر جائے تو مقام گزیدہ پر کافی دیر تک جلن اور چبھن کا احساس ہوتا رہتا ہے۔جب کبھی راقم اپنے کمرے کے روشن دان سے اس مکان کی طرف نگاہ ڈالتا تو وہاں سے سائیں سائیں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔اس ہولناک منظر سے آنکھیں اکتا گئی تھیںاور گل و بلبل کے لیے ترسنے لگی تھیں۔&

خاموشی کی سیاست

جب سے مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق فیصلے لئے اور اپنے اداروں کو اُن فیصلوں کو نافذ کرنے کیلئے متحرک کیا، وادی کشمیر میں ایک پُر اسرار خاموشی نافذ ہے۔’’کون کرے گا ترجمانی‘‘ کا نعرہ لگانے والے دم بخود ہیں ! وہ اپنے’’ ترجمان ‘‘کی طرف سے خاموشی توڑنے کے منتظر تھے اور جب ایسا ہوا تو وہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو دور رس نتائج کا حامل ہے۔وہ ابھی تک اُس فیصلے کے پیچھے کارفرما وجوہات کا احاطہ نہیں کر پارہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اُن کے ’’ترجمان‘‘ کی عمر کے کچھ خاص تقاضے ہیں لیکن پھر بھی وہ ابھی تک اپنے ’’ترجمان‘‘ سے اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔مبصرین کہتے ہیں کہ جب تک علیحدگی پسند فورم کا کوئی ذمہ دار، جو ساری صورتحال جانتا ہو، آگے آکر وضاحت نہ کرے تب تک کنفیوژن بر قرار رہے گا اور &rs

قلتِ آب

بلا شبہ یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ وادیٔ کشمیر کے لوگوں کوماضی کی حکومتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لئے جس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،حال میںبھی اُنہیں اُسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ کئی معاملات میں آج وادی کے لوگوں کو ماضی سے بھی زیادہ مشکلات اور مصائب جھیلنے پڑرہے ہیں۔موجودہ صورت حال میں جہاں وادی کے عام لوگوں کی زندگی بدستور بندق و بارود ،تشدد،چیکنگ ،محاصروں،ہلاکتوں اور جھڑپوں میں ہی گذر رہی ہے وہیں وہ اشیائے ضروریہ ،بجلی ،پانی ،علاج و معالجہ،تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی اور معاملات کی فراہمی اور حصول کے لئے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ یہاں محض پینے کے پانی کے موضوع پر ہی بات کی جائے توغور طلب معاملہ یہ ہے کہ کیا وادی کے دریائوںاور ندی نالوں میں پانی کی سطح اتنی تشویش ناک حد تک کم ہوگئی ہے اور کیا سارے چشمے اور ندی نالے خشک پڑچکے ہیں کہ

اُردو زبان اور ہماری ذمہ داریاں

 اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے    وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی یہ زبان نے برصغیر ہندوپاک میں انسان کی شخصیت کی تعمیر ،تعلیم اور ہمہ جہت ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔اردو زبان ایک امانت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔موجودہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اردو کی بقا اور فروغ کی سرگرمیاں انجام دیں تاکہ سماج کے سامنے اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے وہ تمام پہلو اجاگر ہوجاہیں جنہیں ہمارا سماج ایک عرصے سے نظر انداز کرتا آرہا ہے۔اس سلسلے میں ہم چند تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۔اردو زبان سے متعلق سماج میں موجودہ کئی غلط فہمیاں (بالخصوص روزی روٹی کے تعلق سے)موجود ہیں۔ہمیں اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اردو زبان میں ابتدائی تعلیم کے حصول کی بہت سخت ضرورت ہے۔ ۲۔اردو زبان کی ارتقا اور بقا کے لے لازمی ہے کہ ہم اردو کا اگلا قاری تیار کریں۔بچوں ک

درس و تدریس کاغیر روایتی نظام

کورونا وائرس کی وجہ سے ساری زندگی ٹھپ ہوکے رہ گئی، تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے مفلوج ہیں تاہم کچھ ادارے آج بھی اِن مشکل حالات میں اپنے فرائض جان فشانی سے انجام دے رہے ہیں۔جہاںمحکمہ صحت عامہ،بجلی،پولیس، پی ایچ ای(PHE) ،محکمہ مال،بینک وغیرہ اگرچہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے فرائض روایتی انداز میں ہی انجام دے رہے ہیں وہاں کچھ دیگر ادارے غیر روایتی انداز میں اپنے کام نبھانے میں مصروف ہیں۔محکمہ تعلیم بھی ان میں سے ایک ہے،جس نے اپنے کام کاج کا انداز یکسر ہی بدل دیا ہے۔غیر روایتی انداز میں درس و تدریس کا عمل ایک نئے جوش و جذبے سے جاری ہے۔محکمہ تعلیم نے طالب علموں کی بہتری کے لیے کئی حوصلہ افزا اقدامات اٹھائے ہیں۔عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ہماری وادی میں ہمیشہ مشکل حالات میں تمام شعبوں میں سب سے زیادہ منفی اثرات تعلیم پر ہی پڑتے ہیں۔پچھلی دہائی سے خاص کر محکمہ تعلیم کو کئی مشکلات کا

نئی تعلیمی پالیسی اور نو خیز نسل

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کی زندگی اور ترقی و سر بلندی کا راز اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ اگرقوم کا تعلیمی نظام بہتر اور معیاری ہو،تو اس کے نتیجے میں اچھی اور معیاری نسلیں تیار ہوتی ہیں، جو اس قوم کی ترقی و سربلندی، خوش حالی کی جد وجہد میں اپنا رول ادا کرتی ہیں۔اب اگر صورتِ حال اسکے بر عکس ہو تو پھر نسلوں کی نسلیں غیر معیاری نظامِ تعلیم کی بھینٹ چڑھتی ہیں جسکے نتیجے میںقوموں کامستقبل تاریک بن جاتا ہے۔ مؤثر اور بہتر نظام تعلیم کے زیرِ سایہ قوموں کی تقدیرنکھاری اور سنواری جاتی ہے ۔ نظام ِتعلیم کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لئے معیاری نصابی کتابیں،ذہین و فطین اسا تذہ اور معقول تعلیم و تدریس کا بند وبست کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔معیاری کتا بیں،ماہر اور قابل اساتذہ ، دلکش کلاس روم، درس و تدریس سے منسلک ضروری مواد( TLM )دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خواشگوار ماحول کے ہوتے ہوئے بچ

تازہ ترین