تازہ ترین

جبینِ نیاز اور شخصیت کے خدوخال

اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ جبین یا پیشانی میں انسان کی شخصیت کے تمام رموز موجزن ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ "چہرہ دماغ کا اشاریہ ہے یعنی فیس از دی انڈکس آف مائنڈ" لیکن اگر چہرے کا بھی کوئی انڈکس (اشاریہ) ہے تو وہ جبین ہی ہے۔ انسان کی "پر اسرار شخصیت" کے اندر موجزن مختلف قسم کے جذبات و احساسات ہر آن پیشانی کے ذریعے آشکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشی کے لمحات میں پیشانی کھل اٹھتی ہے اور آنکھیں پر رونق نظر آتی ہیں، جبکہ حزن و ملال پیشانی پر افسردگی کا ایک دبیز پردہ چڑھاتے ہیں اور "غم جانگسل" اکثر اوقات کھلتی چشموں کو چھلکنے پر مجبور کرتا ہے۔ پیشانی ہی ناراضگی کے اظہار کے لئے شکن آلود ہوتی ہے اور کسی کے سخن دلنواز سے متاثر ہوکر چاند کی طرح چمکتی ہے اور "مہ جبین" کہلاتی ہے! انسان کسی کا دل موہ لے تو جبین پر بوسہ دیکر ہی اس کا اظہار ک

چین کا خلائی پروگرام- ایک نیا عالمی خطرہ

جولائی 2021کے دوران دو بڑے سرمایہ کاروں کی خلائی پرواز نے خلا میں سفر کرنے کو عام انسانوں کے لیے حقیقت میں بدل دیا ۔ ان دونوں سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد ہی تجارتی طور پر خلا میں پرواز یں شروع کردیں گے۔ یہ تو خلائی سفر اور تحقیق کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا دوسرا تشویش ناک پہلو چینی حکومت کا دفاعی اور صنعتی خلائی پروگرام ہے۔ یوں تو روس اور امریکہ سمیت دنیا کے ہر بڑے ملک کا اپنا خلائی پروگرام موجود ہے لیکن 1991میں روس اور امریکہ کے درمیان START معاہدے کے بعد ان خلائی پروگراموں کے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال اور خلائی جنگ شروع کرنے پر عالمی پابندی عائد ہوگئی تھی۔ تاہم اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چین کا خلائی پروگرام اپنے ملک کی دعاتی طاقت کو بڑھانے کے علاوہ اس کا منفی استعمال کرنے کے فراق میں بھی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ چین کا خلائی پروگرام صرف امری

مظفرایرجؔ۔ جہانِ شعر کا گوہرِ نایاب

مرے حریف ہیں اک دوسرے سے صف آرا  کسی کو زخم لگا میری آنکھ بھر آئی میری وضع بھی الگ اور میری خو بھی جدا  نہ دل سے ہرزہ سرا ہوں نہ سر سے سودائی ان ِاور انِ جیسے لاتعداد بے لوث خلوص ومحبت اور ایثار و ہمدردی سے بھرے اشعار کے خالق شاعر مظفر ایرجؔ اب ہم میں نہیں ہیں اور مظفر ایرج بھی ۔۔۔۔۔۔؟ ہمیں اپنے بزرگوں اپنے اسلاف کے تئیں جو عزت ومحبت، خلاص و احترام ہو نا چاہئے تھا، اس سے ہم روز بروز محروم ہوتے جارہے ہیں اور ہمارے دلوں سے ہمدردی ،رواداری ، محبت وشفقت اور جذبہ مروت غائب و مفقود ہوتا جارہاہے ۔ خاص طور پر جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرجاتے ہیں ۔جن اسلاف کا خون ہماری رگوں میں محوِ گردش ہوتا ہے، جن کے اثاثوں کے ہم وارث کہلائے جاتے ہیں ،جن کی سخت مشقت،جان فشانی اور خون پسینے کی محنت سے ہم کسی مقام ومنصب تک پہنچ جاتے ہیں اور جنہوں نے اپنے رات دن کی کوششوں اور کاو

حالات وواقعات کا عکاس

کشمیراُردو شعرو ادب کے حوالے سے دور رفتہ میں ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیر میںاُردو زبان کی ابتدا سے موجودہ دور تک بے شمار ادباء اور شعراء پیدا ہوئے ہیںجنہوں نے اُردوزبان کو وسیلہ اظہار بنا کر اُردو شعر و ادب کی خوب خدمت کی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اس دوران مختلف ادوار میں مختلف شعراء اور ادباء نے اپنی انفرادیت قائم کر نے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس سلسلے میںجب ہم کشمیر میں۱۹۶۰ء کے بعد اُردو شاعری خاص طور پر اُردو غزل کی وادی میں سیر کرنے والے شعراء کو تلاش کرتے ہیں اور ہماری نظر جن نمائندہ شعراء پر ٹھہرتی ہے ان میں ،حکیم منظور ‘ حامدی کاشمیری ‘ فاروق نازکی ‘ ہمدم کاشمیری ،رفیق رازکے ساتھ ساتھ مظفر ایرج کا اسم گرامی بھی کئی اعتبار سے قابل ذکر ہیں ۔ محمد مظفر نقشبندی المتخلص بہ مظفر ایرج یکم اگست ۱۹۴۴؁ء کو سرینگر کے محلہ صفا کدل میں پیدا ہوئے۔یہ علاقہ

شہریوں کی شخصی آ زادی

کس قدر تشویش ناک بات ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران اپنے ہی شہریوں کی جا سوسی کرنے میں لگے ہیں اور اس کے لئے بیرونی ایجنسیوں کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پیگاسس جاسوسی معاملہ نے پورے ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ یہ مسئلہ ملک کے اقتدار اعلیٰ اور اس کی سا لمیت سے جڑا ہوا ہے۔ عام آدمی سے لے کر سیاستدانوں، صحافیوں، اور ججس کی جاسوسی کی جارہی ہےاور اب ملک میں شہریوں کی نِجی زندگی کے سارے راز طشت ازبام ہونے لگے ہیں۔ مرکز ی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے کسی کو اپنے ملک کے شہریوں کی جا سوسی کر نے کی اجازت نہیں دی ہے۔ وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ اس حساس مسئلہ پر کوئی واضح بیان دینے سے ہچکچارہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ اس سارے معاملہ کی غیرجانبدرانہ تحقیقا ت ہونی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں اس پر کافی ہنگامہ آ رائی ہو رہی ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان کو

اسرائیلی جاسوسی نظام !

اسرائیل اپنی تخریبی کاروائیوں کے لیے عالمی شہرت کا حامل ہے ۔آج پوری دنیا میں جو افراتفری مچی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری بھی اسرائیلی استعماری پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے ۔استعمار نے جس طرح منظم سازش کے تحت اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں استحکام بخشا اور اس کو بہ حیثیت ریاست تسلیم کروانے کے لیے جو خونی کھیل کھیلاگیا ،اس کی مثال نہیں ملتی ۔آج مشرق وسطیٰ کی عدم استحکامیت ،مختلف ممالک پر تھوپی ہوئی جنگیں اور بدتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال ،اور نہ جانے کتنے ایسے مسائل ہیں جو دنیا کے سامنےچیلینج بن کر کھڑے ہوئے ہیں ،ان سب کی ذمہ داری اسرائیلی استعماری پالیسیوںپر عائد ہوتی ہے ۔اسرائیلی ایجنسیاں اپنی تخریب کاری اور جاسوسی کے لیے دنیا بھر میں بدنام ہیں ۔اس وقت دنیا کے اہم اور طاقتورترین ممالک اسرائیلی جاسوسی نظام کی زد میں ہیں ۔پیگاسیس جاسوسی کا انکشاف مختلف ملکوں میں ہواہے جس کے بعداس جاسوسی نظام کی تباہ

انسان اور سائنس کا مستقبل

سائنس  اور ٹیکنالوجی نے دور جدیدمیں انسانی زندگی کا ہر پہلو اسطرح  سےمتاثر کر رکھا ہے کہ اب سائنس کے بغیر ان کے وجود کے بارے میں سوچنا تک عجیب محسوس ہوتا ہےکیونکہ جدید نسل نے اپنی زندگی کا ہر  پل اور ہرسانس سائنس اور ٹیکنالوجی کے سائے میں  لینے کا تجربہ حاصل کیا ہے اس لئے زندگی کے جملہ شعبہ جات سے سائنس کی علیحدگی ایسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسے انسانی جسم سے لباس علیحدہ کیا گیا ہو۔انسان کی جدید تہذیب وتمدن کا مرکزی ستون ہی سائنس اور ٹیکنولوجی ہے جس کی عدم موجودگی میں جدیدیت کے مختلف النوع گوشے قدیمیت کےزیر اثررہتے  لیکن ٹیکنولوجی نے ان میں ایک نئی روح پھونک کر انہیں قابلِ رشک بنا دیا اور ہر جگہ اپنی موجودگی کو محسوس کروایا۔سائنس کا دخل  ایک باریک خلیائی اعضاء سے لیکر کائنات کے بڑے بڑے گوشوں میں دیکھا جاسکتا ہے،  جینیاتی ٹیکنالوجی(Gene technology) سے لیکر

درپردہ تاریخی حقائق سے پردہ سرکانے کی کوشش

کشمیر ایکسپوزنگ دِی میتھ بہائینڈ دِے نیریٹو(Kashmir Exposing the myth behind the Narrative)خالد بشیر احمد کی انگریزی زبان میں لکھی گئی مشہور تصنیف ہے۔موصوف کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ خالد بشیر تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔ آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز آفیسر بھی رہ چُکے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے علاوہ موصوف کی دیگر تصانیف کو قارئین نے کافی سراہا ہے جن میں خاص طور سے ’’کشمیر اے واک تھرو ہسٹری  (kashmir a walk through history)اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب کشمیر لوکنگ بیک اِن ٹائمز( kashmir looking back in times) قابل ذکر ہیں۔ سابقہ کتابوں کی طرح زیر نظر کتاب کو بھی قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں موصوف نے کشمیر کی اصل تاریخ کو چند واقعات کے ذریعے سے ہم تک بہترین انداز میں پہنچانے کی کوشش کی ہے، دوسرے الفاظ میں کشمیر کی تار

سروس رُولز میں ترمیم

جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 19 جولائی کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمہ جل شکتی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام ہسپتالوں، آنگن واڑی مراکز اور سکولوں کو پانی فراہم کرنے سے متعلق جاری کاموں کو 15 اگست تک مکمل کیا جائے۔شہروں، قصبون اور دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلّت کا نوٹس لیتے ہوئے ایل جی سنہا نے صاح اور محفوظ پانی کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی فرد یا گاوٴں کو پینے کے صاف پانی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیئے۔‘‘ ایل جی موصوف نے مزید کہا کہ جل جیون مِشن مرکزی حکومت اور جموں کشمیر انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے لہذا متعلقہ افسران اس معاملے میں غفلت شعاری سے کام نہیں لے سکتے۔  اس سے قبل 17 جولائی کو گورنر انتظامیہ

شادی شدہ زندگی اور کنوارہ پَن

ہمارے ہاں جو عمل بیک وقت مقبول اور بدنام ہے ،وہ شادی ہے۔جو اس پل صراط کے پار گیا جنت پائی اور جو ابھی پار کرنے کا سوچ رہا ہے وہ بھی جنت میں ہی ہے۔شادی شدہ افراد شادی کرنے کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے کنوارے شادی سے پہلے ہوتے ہیں۔قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ شادی شدہ بہتر ہے یا کنوارا۔ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کس کو فاتح قرار دیا جائے، کون خسارے میں اور کون فائدے میں ہے۔دونوں فریقین کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا ۔نتائج  حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن نکلے۔ اتنا ہی نہیں دونوں سے رائے لی گئی کہ بہترین زندگی کنواروں کی ہے یا شادی شدگان کی لیکن کسی کی رائے پر کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔بعض حضرات شادی کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسے برا سمجھ کر اس برائی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو دو دو تین تین مرتبہ اس مہم کو سر کرتے ہیں لیکن کنواروں کو نصیحت ک

افغانستان۔ تہذیبوں کا کھنڈر

 اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے مگر جب یہی انسان اسفلسافلین کی سطح پر آتا ہے تو انسانیت شرم سے اپنا سر پیٹتی ہے۔ امریکا کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ طاقت کے نشے میں چور وہ دنیا پر اپنی چودھراہٹ دکھارہا تھا ۔اپنی چودھراہٹ میںبدمست ہوکراُس نےآج سے قریباً بیس سال قبل یعنی  2001میںنیویارک کے ٹریڈ سینٹر ٹاورس پر دہشت گردانہ حملے کی آڑ میں یورپ کے نیٹوممالک کے تعاون اور معاونت حاصل کرکے تمام تر طاقتور ٹیکنالوجی اورجدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر چڑھائی کی اور بے شمار افغانیوں کا قتل عام کرکے یہاں کی طالبانی حکومت کو برخواست کیا اور کٹھ پُتلی حکومت قائم کرکےناجائز قبضہ جمایا۔افغانستان کے تمام وسائلزپنے کنٹرول میں لانے کے بعد بھی وہ یہاں کی راجدھانی کابل اور بعض گنے چُنے اضلاع کے علاوہ اپنا دبدبہ قائم نہ کرسکااور یورپی ممالک کے تعاون کے باوجود افغان حر

حضرت میر سید عزیزاللہ حقانیؒ

کشمیر کی مٹی جس قدر زرخیر ہے، اس سے کہیں زیادہ مردم خیز بھی ہے۔یوں تویہاں کئی ادیب ،عالم اورمورخ پیدا ہوئے ،اور اسی ادب پر حقانی جیسا ستارہ بھی طلوع ہوا ہے،جس نے بیک وقت تاریخ ،شاعری ،نثرنگاری،طباور علمی ودینی گوشوں کی ضیافشانی کی ہے۔ میر سید عزیز اللہ حقانی رحتہ اللہ علیہ کی ولادت ۱۱ ربیع الثانی 1278ہجری مطابق 1861ء کو ہوئی۔ آپؒ کے والد گرامی حضرت میر سید شاہ محی الدین حقانیؒ خاندان ِحقانیہ میں نمونہ اسلاف تھے۔ جن ایام میں آپؒ تولدہوئے وہ کشمیر کی انتہائی غلامی کا زمانہ تھا۔اُس وقت ملک ِکشمیر سکھاشاہی کے بعد ڈوگرہ راج میں پابہ زنجیر تھااور ملک سیاسی ، سماجی، دینی اور علمی طور ناگفتہ بہ حالات کے بھنور میں پھنسا ہواتھا۔ ان پُرآشوب ایام میں حضرت حقانیؒ بہت سارے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے قلم اور فکر کی توانائی کے بل پر تابندہ ستارے کی مانند آسمانِ علم وا دب اور میدان

امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؄ کی شہادت

  مدینے میں سخت قحط پڑ ہوا تھا۔ اناج اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے۔ ان چیزوں کے لیے لوگوں کو دور دور جانا پڑتا تھا۔ مدینے کے ایک حصے میں یہودی آباد تھےجن کے محلے کے پاس کنواں تھا۔ کنویں کا مالک اس کا پانی بہت زیادہ قیمت میں فروخت کرتا تھا ۔ غریب مسلمانوں نے یہ بات رسول اکرم ﷺ کو بتائی ۔ آپ ﷺنے اعلان فرمایا کہ لوگوں کو پانی کی تکلیف سے بچاکر اللہ کی خو شنودی کون حاصل کرے گا؟ یہ اعلان سن کر آپ ﷺ کے ایک صحابی کنویں کے مالک سے ملے ۔ انہوں نے اس سے کنواں خریدنے کی بات کی ۔ بڑے سودے بازی کے بعد یہودی صرف آدھا کنواں فروخت کرنے پر راضی ہوا۔  آدھا کنواں اس شرط پر فروخت کیا گیا کہ ایک دن تو کنواں خریدنے والا اس کا پانی استعمال کرے گا اور دوسرے دن یہودی کنوئیں کے پانی کا مالک ہوگا۔ کنواں خریدنے والے صحابی؄ نے سودا منظور کرلیا۔ جس دن کنواں ان کا ہوتا، مدینے ک

اسلام میں خیر خواہی کی اہمیت

آج کے پُرفتن دور میں اگر کوئی چیز انسانوں کو انسانیت کا احساس دلاتی ہے تو وہ ہے ’’خیر خواہی‘‘ یعنی بھلا چاہنا۔ وہ انسان انسانیت کا علم بردار ہے جو اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ہمیشہ بھلائی چاہتا ہے، راقم اپنی دینی تقاریر میں کہا کرتا ہے کہ انسانیت کا مکمل درس اسلامی نصاب میں موجود ہے، اسلام آیا تو انسانیت زندہ ہوئی، اسلام نے انسانیت کے ہر راستے پر آدمی کو چلنے کی ہدایت دی اور طریقہ بتایا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بات کرنی چاہیے، انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھا، اسلام ہی انسانیت کا حامی مذہب ہے، انسانیت کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں وہ سب کی سب نصابِ اسلام میں موجود ہیں؛ لہذا جو انسانیت کو فروغ دینے کی باتیں کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کریں، انسانیت خود بخود عام ہوجائے گی۔  انسانیت کا کوئی مترادف

راستی اور انصاف،افضل ترین عمل

مذہب ِاسلام میں قربانی کرنے کے اصول اور اس کا شرعی حکم احادیث کی مستند کتابوں کے ساتھ ساتھ مقدس کتاب، کتاب ِزندگی امامُ الکتاب قرآن مجید میں اسکا ذکر حضرت ابراہیم کے تواسط سے ملتا ہے کہ کس طرح وہ صالح اولاد کی تمنا میں دُعائیں کیا کرتے تھے اور کیسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اولادِ صالح عطا کیا، یہاں پر بھی اُمت کے لئے ایک درس اللہ کو دکھانا مقصود تھا جیسے کہ سماج میں ایسے بہت سارے شادی شدہ جوڑے ہیں، جو اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔  روایات  میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم   ؑ کی عمر 86 سال کے قریب تھی اور حضرت ہاجر ؑ بھی عمر رسیدہ تھی ،چنانچہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ کے دربار میں عاجزی و انکساری سے دُعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اولاد صالح سے نوازا۔ صرف حضرت ابراہیم نہیں آپ کو تواریخ کی مستند کتابوں میں بہت سارے ایسے واقعات مل جائینگے جن میں حضرت ذکریا  ؑکا واقعہ می

چاپلوسی نفرت انگیز بُرائیوں کا مجموعہ

چاپلوسی ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی چاپلوس اپنا مطلب آسانی سے پوری کر لیتا ہے ، کیونکہ ہر انسان اپنی تعریف سن کر خوش ہو تا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب اس کی کوئی ایسی خوبی بیان کی جا ئے جو کہ اس میں سرے سے موجود ہی نہ ہو ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاپلوس یعنی خو شامد شیطان کی ایجاد ہے ، یہ بھی کہاجا تا ہے کہ جب شیطان کی تمام کوشیش نا کام ہو جا تی ہیں تو پھر وہ چاپلوسی کا حربہ استعمال کر تا ہے۔ تاریخ انسانی اس بات کی شاہد  ہے کہ بڑے سے بڑا کام جو طاقت کے بل بو تے پر نہ ہو سکا وہ چاپلوسی کے ذریعہ چند منٹوں میں طے پا گیا ۔ انسان کو خدائی کے دعویٰ کی ترغیب بھی شیطان ہی نے دی، انسانوں کو لڑایا بھی ان ہی چاپلوسیوں نے ، ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو بڑے بڑے سر براہان مملکت ہمیں چاپلوسیوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور سلسلہ آج بھی اسی زور و شور سے جا رہی ہے۔  حالانکہ چاپلوسی

بجلی کی آنکھ مچولی | عارضی بحران کو دائمی مرض نہ بننے دیں

اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوتے ہیں تاہم اس بار چونکہ سیکریٹریٹ کے بیشتر دفاتر گرمیوں میں بھی کووڈ انیس کی وجہ سے جموں میں کھلے ہیںجبکہ بیشتر بیروکریٹ اور لیفٹنٹ گورنر سے لیکر اُن کے مشیر بھی جموں آتے جاتے رہتے ہیں تو یہ امید کی جارہی تھی کہ شاید اس بار جموں باسیوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے نجات مل جائے گی لیکن یہ امیدیں بھر نہ آئیں اور بجلی کٹوتی اپنی انتہا پر ہے۔جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ عالم ہے کہ اکثرو بیشتر گرمی کی وجہ سے بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال رہتے ہیں۔حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔

اسوہ ٔابراہیمی ؑ اور مستقبل کی تعمیر | اچھے اعمال ہی انسان کو خدا سے ملاتے ہیں

حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر اور انبیاء کرام میں سے برگزیدہ شخصیت تھے جنہیں تاریخ میں ایک عظیم مقام حاصل ہے ۔وہ داعی حق اور توحید کے ایک عظیم علمبردار تھے ۔انہوں نے نوع ِانسانیت اور تحریک اسلامی کو اپنے نقوش اور کردار سے منور کیا ۔ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی قربانیوں اور داعیانہ کردار سے پُر تھی ۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر دعوتی سرگرمیوں (Dawah-Activism)میں متحرک تھے ۔وہ ایک عظیم قائد تھے ، ان کی قیادت میں نوعِ نسانیت کو ہر لحاظ سے فیض پہنچا ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک عالمگیر رہنما  تھے ، ان کی رہنمائی میں عالم انسانیت نے پھرسے اللہ کے ساتھ رشتہ استوار کیا ۔وہ نوع انسانیت کے حقیقی بہی خواہ تھے۔قرآن مجید نے جس مطلوبہ قائد کا تصور پیش کیا ، اس کی ایک اعلیٰ مثال حضرت ابراہیم کی شخصیت ہیں ۔وہ ایک بے لوث اور بے باک قائد تھے، ان کی قیادت کسی طبقہ،مسلک ، قوم یا علاقہ کے لئے نہ تھی ، وہ قو

عبد الکلام اور ایک ہندوستانی مسلمان کی زندگی | اے پی جے عبدالکلام کی چھٹی برسی کے موقع پر خراج عقیدت

یہ 2002 کا موسم سرما تھا۔ میں دسویں جماعت میں تھا اور اسکول کی کوئز ٹیم کے حصے کے طور پر کوئز میں حصہ لے رہا تھا۔ کوئز کے پہلے دور میں ایک سادہ سا سوال۔ اے پی جی عبد الکلام کا پورا نام کیا ہے؟۔ یہ میرے لئے آسان تھا لیکن بالکل عام نہیں تھا۔ ایک ہندوستانی مسلمان کی حیثیت سے، اس سوال نے مجھ میں اعتماد، ہمت اور جذبے کو جنم دیا۔ آج کی نسل شاید اس کو سمجھ نہیں سکتی ہے یا اگر میں یہ کہوں تو، پرانے لوگ بھی شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ہندوستان کے ایک 14 سالہ مسلمان بچے کی زندگی میں بھارت رتن ابول پاکر زین العابدین عبدالکلام کی کیا اہمیت تھی۔ اترپردیش کے ایک چھوٹے سے شہر مظفر نگر میں رہنے والے ایک ہندوستانی مسلمان بچے نے اچانک 11 ستمبر 2011 کے بعد خود سے بہت سارے سوالات پوچھنا شروع کردیئے۔ ٹی وی پر، افغانستان کی تصاویر، بامیان کے مجسمے ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ اور امریکہ کی 'دہشت

غفلت سے بیدار ہوجا اے مسلمان | حال میں ذرا اپنی صورتِ حال تو دیکھ

انسانوں کے جو بھی مسائل ہوں چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ایک طرف مذہب اسلام نے اس کا سب سے بہتر حل پیش کیا ہے تو دوسری طرف حل تلاش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دل ودماغ عطا کیا ہے ۔جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے تو ربّ کے قرآن اور نبیؐ کے فرمان پر عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔اسلام کی تعلیمات نے لوگوں کو ربّ کی بندگی کرنے اور انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ و رسولؐ کی غلامی کا احسن طریقہ بتایا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہونا دونوں جہاں میں سرخروئی و کامیابی کی ضمانت ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہیں وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہیں۔ آج دنیا کی حرص اور ایک دوسرے پر دنیاوی سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول سے بہت دور ہوچکے ہیں اور دنیا کی کامیابی کو ہم نے اصل کامیابی سمجھ لیا ہے جبکہ دین کی خدمت کو چھوڑ کر، اسلام کی تعلیمات سے دور رہ کر ہم کبھی کامیاب ہوہی نہیں سکتے