قلم و قرطاس اور تحفظ علم و اخلاق

اصل علیم و حکیم ذات اللہ تعالیٰ کی ذات بے ہمتا ہے۔ اسی ذات نے انسان کو تخلیق کرکے جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔ علم کے ذریعے ہی انسان کو اپنی ذات کے عرفان کے ساتھ ساتھ خدا کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ علم نہ ہو تو انسان کو نہ صرف دنیا ورطہ حیرت میں ڈالی رہتی ہے بلکہ اس کے لئے اپنی ذات بھی اجنبی بنی رہتی ہے۔ خدا کی ذات کا تعارف بھی اسی علم سے ہوتا ہے جو انسان کو خدا کی طرف سے ودیعت ہوا ہے اور جو انسان اپنی سعی و کوشش لیکن خدا کے فضل سے حاصل کرتا ہے۔ اس طرح سے علم ایک ایسی رسی کی مانند ہے جس سے انسان کا تعلق خدا کی ذات کے ساتھ برقرار رہتا ہے اور دنیا بھی اس کے لئے ایک معمہ نہیں بنی رہتی۔ علم نہ ہو تو انسان کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جو کسی عربی شاعر نے اس شعر میں بیان کی ہے:  کل ما ھو فی الکون وہم او خیال  او عکوس فی المرایا او ظلال یعنی جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے، یات

ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے

ادب اور سماج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ادب روز اول سے ہی نہ صرف سماج کی بہتری کے لئے کوشاں ہے بلکہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ ادب سماج کی عکاسی کرتا ہے ۔ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو، دراصل یہ اس سماج کا آئینہ ہوتا ہے جس میں یہ پروان چڑھا ہو۔ جس طرح کا سماج ہو گا ،اسی طرح کا ادب بھی تخلیق ہوتا ہے ۔سماج میں جو بھی پریشانیاں، مشکلات اور برائیاں ہوتی ہیں وہ سب ادب کا حصہ بن جاتی ہیں۔یوں تو اردو ادب کے دو حصے ہیں نثر اور نظم۔ حصہ نظم میں غزل، قصیدہ، مرثیہ ،رباعی وغیرہ شامل ہیں ۔اس حصے یعنی شاعری کے ذریعے بڑے بڑے پیغامات عوام تک پہنچائے گئے اور شاعری کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ زمان و مکان سے بہت اوپر ہوتی ہے اور شاعری کبھی پرانی نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں شاعری کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مثلاً موجودہ دور میں بھی سماج کے مختلف مسائل کے حل کے لئے اقبال اور جوش کی شاعری سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن زی

سِول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں

مالی اعتبار سے اگر کوئی شخص کمزور ہو تو کیا وہ سیول سروسز کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ اس بات کا جواب آپ اب جان چکے ہیں۔اب آئیں اس سوال کا جواب جانتے ہیں کہ کیا یو پی ایس سی سیول سروسز جیسے امتحان کو پاس کرنے کے لئے انتہائی قابل،ذہین اور ٹاپر ہونا ضروری ہے؟ ممکن ہے کہ آپ کے اذہان میں کسی نے یہ بات ڈال دی ہو کہ اگر آپ ایک اوسط (Average) درجے کے طالب علم ہیں تو سیول سروسز آپ کے بس کی بات نہیں۔یا پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں خود ہی یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ’کہاں سیول سروسز میں کامیاب ہونے والوں کی قابلیت اور کہاں میں ایک اوسط درجے کا طالب علم ‘۔اگر ایسا ہے تو اس مغالطے کو اپنے ذہنوں سے نکال دیجیے۔یہ بات میں آپ کو جھوٹی تحریک دینے کے لئے نہیں کہہ رہا،نا ہی میں جذبات کے بہائو میں ایسا کہہ رہا ہوں ۔آپ خود تھوڑی سی تحقیق کر لیجیے،یہ مغالطہ آپ کے اذہان سے خود ہی حرفِ غلط

لاک ڈائون میں قرآن کی تعلیم

ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کی جانب سے شروع کئے گئے آن لائن قرآنک کلاس کو تادمِ تحریر چھ ماہ سے زائد ہوا۔ اس کلاس میں کم از کم45بچوںنے اپنی شرکت کو لازمی بنایا ہے۔ اس کلاس میں اکثر یت اُن بچوں کی ہے جنہوں نے کسی بھی درسگاہ میں نہیں پڑھا ہے ۔ حروف کی پہچان، ان پر حرکات سے سبھی بچے بے خبر تھے۔ ابتداء میں آن لائن کلاس کے ذریعے حروف تہجی کی پہچان کرائی گئی ، بعد میں ان حروف کی مختلف شکلیں باور کرائیں گئیں ۔ تمام حروف کی پہچان ، ان پر مختلف حرکات ڈال کر اس آن لائن کلاس کے ذریعے سمجھا یا گیا۔ اس کلا س کی خاص بات یہ ہے کہ ناظرہ کے لئے اس میں کسی بھی قسم کے ’قاعدیـ‘کا سہارا نہیں لیا گیا۔بلکہ یہ کلاس ابتدا سے لے کرآج تک روایتی انداز سے ہٹ کر شروع کی گئی ۔ چونکہ یہ کلاس’ Zoom App ‘ کے ذریعے چل رہاہے اس لئے یہ ممکن نہیں کہ قاعدے کے ذریعے ان بچوں کو پڑھا یا جائے ، بلکہ

تازہ ترین