تازہ ترین

مذہب کے نام پر خوں ریزی

دنیا میں رونما ہونےوالی زیادہ تر جنگوں کی دو اہم وجوہات رہی ہیں ۔مذہب اور عورت ۔ بادشاہوں نے کسی ایک خوبصورت عورت کے حصول کے لیے ملک کے ملک تباہ کردیے ۔اسی طرح مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں نے زمین پر خوں ریزی اور انسان کشی کے واقعات میں اضافہ کیا ۔عورت کے نام پر ہونے والی جنگیں اتنی خطرناک نہیں ہوتی تھیں جس قدر مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں کے ہول ناک نتائج سامنے آئے ۔استعماری طاقتوں اور ہوس پرست سماج نے عورت کے حصول کو اس قدر آسان بنادیا کہ اب جنگیں فقط مذہب کے نام پر رونما ہوتی ہیں ۔عورت کا حاصل کرنا اب اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہا جتنا سمجھا جاتا تھا ۔آج استعماری طاقتیں اپنے آلۂ کاروں کے لیے حسین ترین عورتوں کا انتظام کرتی ہیں اور انہیں تعیش پرستی کے تمام تر اسباب و سائل مہیا کرائے جاتے ہیں ۔اسی طرح دیگر ملکوں کے سیاسی رہنمائوں اور سرمایہ داروں کے لیے بھی عورت کا حصول بہت مشکل کا

روز رُلاتی ہے نوجواں کی بے حِسی

 کل صبح بھی جب اخبار اٹھایا تو ایک خبر پہ نظر پڑی، چند نوجوان منشیات کی خرید و فروخت کے جرم میں گرفتار کئے گئے تھے ۔ روزانہ ایسے واقعات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں دیکھنےاور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ ایسے بدترین واقعات کو پڑھتے پڑھتے اب آنکھیں تھک چکی اور زبان گنگ ہو کر رہ گئی ہے۔ جب نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد ان ناجائز اور غیر قانونی کاموں میں مبتلا ہو جائے توقوم کے زوال میں دیر نہیں لگتی۔ قوم تباہی کے دلدل میں پھنس جاتی ہے اور آنے والی نسلیں بھی مختلف خرابیوں اوربُرائیوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں ۔حق بات تو یہی ہے کہ ہر ماں باپ اپنے بچوںکو نیک سیرت انسان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے یہاںتو اب باوا آدم ہی نرالا ہوا ہے۔ اول توبچوں کو اچھی تربیت کی گائڈینس ہی نہیں ملتی اور دوم بہتر رہبری کرنے والوں کا جیسے کال پڑچکا ہے۔۔نتیجتاًہمارے بچے کمسنی میں ہی فحش کاموں میں مبتلا ہو جاتے

ایک شاخ کے دو پھول

میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا پہلا مقدس رشتہ ہے۔میاں بیوی دونوں ایک ہی شاخ کے دو پھول ہیں ،یہ ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔خالق کائنات نے سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جنت میں داخل کیا ،جہاں اس کے لئے عیش و آرام کا سارا سامان مہیا تھا،ہر قسم کی ضیافتیں میسر تھیں،جو چیز چاہتا وہ حاضرتھا ۔وہاں کسی بھی قسم کی کوئی پریشان نہیں تھی ۔لیکن اس کے باوجود آدم علیہ السلام کو کسی چیز کی کمی محسوس ہورہی تھی ۔وہ پوری طرح سے مطمئن نہیں تھا،دل میں بےاطمینانی موجود تھی،ایک انجانی چیز کی چاہ تھی ،جس کو خدا کے بغیر کوئی سمجھ ہی نہیں پاتا ۔بلا ٓخر خالق کون و مکاں نے کا ئنات کی پہلی عورت حضرت حواؑ کو پیدا کیا اور حضرت آدم کے پاس میں بیٹھنے کا حکم دیا ۔آدم علیہ السلام جب نیند سے بیدار ہوئے تو پاس میں ایک حسین و جمیل خاتون اول کو دیکھ کر خوشی سے مسکرانے لگے ۔روح کو سکون ملا اور دل کو اطمینان ۔بعد

سبیل القرآن۔ ایک تفسیر،ایک دعوت

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بے مثال کلام نازل فرمایا۔وہ قرآن نازل فرمایا جو ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ معرفت کا خزینہ ہے۔ ایک لامثال معجزہ (Ultimate Miracle) ہے ۔ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت کی صبح تک انسانیت کو معجزات سے نوازتا رہے گا۔ ہر زمانے میں انسانیت کو ہدایات سے مالامال کرتا رہے گا۔ دنیا کتنا ہی ترقی کرے ، یہ کبھی غیر متعلق  (Irrelevant) نہیں ہو پائے گا۔ اللہ پاک نے ہر زمانے میں ایسے پاک نفوس پیدا کئے ، جنھوں نے راتوں کی نیند (Mid night oil) جلا کر اس مقدس کلام کو سہل و آسان بنا کر بندگان خدا پہنچا یا ۔ قرون خیر سے آج تک ہزاروں کی تعداد میں اور دنیا کی قریب قریب ہر چھوٹی بڑی زبانوں میں اس کے تراجم اور تفاسیر لکھے گئےاور لکھے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ غیر مسلموں نے بھی یہ فریضہ انجام دیا ہے۔ ایسے میں اردو زبان جو ایک عالمی زبان کا درجہ رکھتی ہے ، میں بھ

مشتاق مہدی کا افسانوی مجموعہ۔’’آنگن میں وہ ‘‘

کشمیر میں اردو افسانہ آج کامیابی کے جس پائیدان پر ہے ،اس کو یہاں تک پہنچانے میں جن انشا پروازوں نے قلم کی جولانیاں دکھائیں۔ اُن میں مشتاق مہدی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ مشتاق مہدی پانچ دہائیوں سے اردو اور کشمیری ادب کی آبیاری کر رہے ہیں۔پہلے مشتاق احمد مشتاق کے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے،1977 ء میں یہ نام ترک کرکے مشتاق مہدی رکھ لیا۔ مشتاق مہدی نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزلوں اور ڈراموں کے علاوہ ٹی وی سریل بھی لکھے ہیں لیکن بطور افسانہ نگار ادبی حلقوں میں پہچان بنائی۔ اب تک آپ کے دو افسانوی مجموعے مٹی کے دِیے  1975ء ( یہ افسانوی مجموعہ تین دوستوں نے مل کر شائع کیا تھا اور اس مجموعے میں مشتاق مہدی کے علاوہ سید یعقوب دلکش اور غلام نبی شاہد کے افسانے بھی شامل ہیں) اور’’ آنگن میں وہ‘‘2010ء میں شائع ہوچکا ہے۔ ’آنگن میں وہ‘ کو م