ایک ملک، ایک الیکشن

ایسے وقت جب کہ ہندوستان اپنی جمہوریت کے 71سال مکمل کر کے 72ویں سال میں داخل ہورہا ہے، ملک میںیہ موضوع زیرِ بحث آ رہا ہے کہ سارے ملک میں ایک ہی مر تبہ انتخابات ہونے چا ہئیں۔ 2014میں پہلی مر تبہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد برسر اقتدار پارٹی کے حلقوں کی جانب سے اس بحث کا آ غاز کیا گیا تھا کہ کیوں نہ عوام کو زحمت سے بچانے کے لئے اور سرکاری خرچ کو کم کرنے کے لئے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت منعقد کئے جائیں۔ اس پر سیاسی پارٹیوں سے رائے بھی طلب کی گئی تھی۔ ملک کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے اس کے خلاف رائے دی تھی۔ بی جے پی چونکہ اس نظریہ کی محرک ہے۔ اس لئے اس نے ایک ہی وقت الیکشن رکھنے کی بھر پور وکالت کی تھی۔ چند دن پہلے خود وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس موضوع کو چھیڑا ہے۔ بی جے پی اس مو ضوع پر ملک گیر سطح پرسمیناربھی رکھنے کا اعلان کر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے پس

گُپکار الائنس…نااتفاقی کا اتحاد

سجاد غنی لون کی سربراہی والی پیپلز کانفرنس نے گذشتہ ہفتے پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ سے علیحدگی اختیار کی۔یہ اتحاد مقامی مین اسٹریم جماعتوں پر مشتمل ہے جس کا قیام گذشتہ برس ماہ اکتوبر میںعمل میں لایا گیا تاکہ’’جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے مشترکہ طورجد و جہد کی جاسکے‘‘۔اتحاد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دفعہ370کی منسوخی کے فیصلے کے رد میں ایک مفصل’وائٹ پیپر‘جاری کرے گا لیکن یہ اعلان کرنے والے سجاد لون نے خود کو ہی اتحاد سے الگ کردیا۔سجاد لون کا الزام ہے کہ حالیہ منعقدہ  ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات میں پراکسی امیدوار کھڑا کرکے اتحادی پارٹیوں کے مابین اعتماد کی خلاف ورزی ہوئی ہے ’جوعلاج سے ماورا‘ ہے۔ حالانکہ عوامی اتحاد کے لیڈران نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اُن کی منزل ان

سِول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

اگر میں اس بات کا دعویٰ کروں کہ یوپی ایس سی کے سارے پرچوں میں سب سے اہمیت کا حامل اختیاری مضمون ( Subject Optional) ہے تو شائد یہ کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مینز میں میرٹ کے لیے گنے جانے والے ہرپرچے کے نمبرات 250ہوتے ہیں لیکن جب بات آپشنل یا اختیاری پرچہ کی آتی ہے تو اس میں کل500نمبرات ہوتے ہیں۔500نمبرات کی یوپی ایس سی میں کتنی اہمیت ہے ،یہ کہنے کی مجھے ضرورت نہیں ۔اگرچہ آپشنل کے دو پرچے ہوتے ہیں لیکن دونوں میں آپ کو ایک ہی مضمون(Subject) کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔اس کے اہم ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ چونکہ یوپی ایس سی کا دامن کافی وسیع ہے اور اس کا نصاب بھی کافی کشادہ ہوتا ہے،آپ کو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف مضامین پڑھنے ہوتے ہیں جن میں سے بعض آپ کو نا پسند بھی ہوسکتے ہیں ۔لیکن بات جب آپشنل کی آتی ہے تو یہاں آپ کو مکمل اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ درجنوں مض

نوجوان قوم و ملت کا سرمایۂ عظیم

کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کہلانے کا حقدار جو طبقہ ہو سکتا ہے وہ نوجوانوں کا ہے۔اسی طبقہ کی صحت پر پورے معاشرے کی صحت کا دارو مدار ہے اگر اس طبقہ میں کسی بھی نوعیت کی بے اعتدالی پائی جائے تو اس سے پورے معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ نوجوان زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹ( plate  Tectonic) کی مانند ہے جس میں زیر چٹان لاوا (lava) کے دبائو کی وجہ سے ذرا بھی شگاف پڑ گیا تو پوری ٹیکٹونک پلیٹ جھولتی ہے اور متاثرہ سطح پر زلزلہ آتاہے،جس کے بھیانک نتائج سے ہر ایک واقف ہے۔ایک نوجوان کی معاشرے میں ایسی ہی کچھ حیثیت ہے اگر اس کی شخصیت میں کسی بھی قسم کی ناہموارگی پیدا ہوئی تو پورے معاشرے کو اس کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے،اس کے آس پاس کی پوری سوسائٹی کو اس نوجوان کی اخلاقی آوارگی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ایک نوجوان کے اندر انقلابی جوہر موجود ہے لیکن اس کا اسے معلوم نہ ہونا شیر کو اپنی طاقت کے با

انسان حقیقت کے آئینے میں

زندگی کے سفر میں انسان مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے الگ الگ واقعات اور حادثات سے دوچار ہوتا ہے۔ کشمکش زندگی کے شب وروز میں رونما ہوئے ایسے واقعات اور لمحات کچھ لوگوں کیلئے آگے آنے والی زندگی میں یادوں اور تجربوں کا ایک عظیم سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں۔ مختلف انواع فکر ومکتب کے لوگوں کی صحبت میں گذارے ہوئے لمحات اور اُن کے ساتھ پیش آنے والے ترش وشیرین معاملات انسان کو ایک ایسی تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے جہاں وہ زندگی کے مختلف پہلو کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے افکار کو وقت کے تپتے ہوئے آوے میں تپاتپا کر سونے سے کندن بنا دیتا ہے۔  کون نہیں جانتا ہے کہ رب کائینات نے انسان کو بدبو دار گارے سے تخلیق کرکے پھر اس میں روح پھونک کر شرف اشرف المخلوقات سے نوازا لیکن ابن آدم نے خود کو اس قدر مبہم اور پرُ پیچ بنا دیا کہ اس کی نیت اور ارادوں کو سمجھنے کیلئے صدیاں بھی ناکافی ہے۔ مخلوقات میں کتے کو نہا

تازہ ترین