تازہ ترین

سیکولر پارٹیاں، موہوم اُمیدیں اورہندوستانی مسلمان

      مسلمانوں کے خلاف ہندو منافر تنظیموںکی موشگافیاں تو آزادی کے قبل ہی شروع ہو چکی تھیں اور مسلمانوں کا ایک حلقہ آزاد ہندوستان میں اپنے مستقبل کو لیکر اندیشوں میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا ۔مسلم لیگ نے اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی تقسیم کی مانگ شروع کی اور آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بتانے میں  مصروف رہے۔ کچھ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی اور تقسیم ِہندکے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے وطن عزیز کی مٹی سے جدا ہونا گوارہ نہ کیا۔وہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے،بھلے ہی عبادت کے طریقے الگ ہوں لیکن انکی تہذیب مشترک تھی۔ زبان، لباس اور رسومات میں یکسانیت تھی۔خوشیوںاور غموں میں ایک ساتھ تھے ۔لیکن آزادی کے بعد بتدریج بدلتے حالات نے ثابت کیا کہ تقسیم کی بنیادکے اندیشے بالکل ہی بے بنیاد نہ تھے۔ اگرچہ ہندوستان

محکمۂ بجلی کے عارضی ملازمین

       ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی جموں و کشمیر بالخصوص وادی کے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جن میں ایک اہم مشکل بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ظاہر ہے جونہی وادی کے اطراف واکناف میں باری برفباری ہوجاتی ہے تو جہاں مختلف علاقوں کے لئے عبور و مرور کا سلسلہ مسدود ہوکر رہ جاتا ہے تو وہیںبرف باری سے مختلف دور درا ز اور دشوار گزار علاقوں میں بجلی کے کھنبے گرنے ،ترسیلی لائنیںٹوٹنےاور نصب شدہ بجلی ٹرانسفارمرز خراب ہوجانے سے بجلی سپلائی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہےاور صارفین بجلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اکیسویں صدی میں بجلی انسانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بن کر رہ گئی ہے اور اس کے بغیر زندگی کا نظام ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔چنانچہ اس صورت ِ حال کو پیش ِ نظر محکمہ بجلی، صارفین کے لئے بجلی سپلائی بحال رکھنے میں ہمہ جہت کام میں ل

دعا ہی سبیل ِ واحد | دعا۔درحقیقت ترک ِ گناہ کا نام ہے

سابق اقوام بھی جب غیر اللہ کو پُکارنے کی روش اختیار کرنے لگے اور آخرت کے حوالے سے شفاعت کا غلط تصور لئے ہوئے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے لگے تو اللہ تعالیٰ کا تازیانہ حرکت میں آنے لگا اور ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔کائنات میں جو بھی چیز قائم کردہ حدود کو پھلانگتے ہوئے تجاوز اختیار کر لیتی ہے تو عین وقت اسے تباہی و بربادی سے کوئی بچا بھی نہیں پاتا اور بالآخر اُسے چوٹ کھانی ہی پڑتی ہے۔قرآنِ پاک میں ذیل کی آیتِ مبارکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ مختلف ظالم قوموں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ آنے والے لوگ عبرت پکڑ کر اپنی نجات کا راستہ لیں۔وہ معبودانِ باطل پر بھروسہ کر کے اپنا سارا وجود اور اپنے سارے معاملات ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن بحکمِ خدا جب عذاب اپنی اصلی شکل میں رونما ہوا تو یہ خود ساختہ معبود ان کے کچھ کام نہ آسکیں بلکہ انہوں نے ان کی بربادی میں مزید اضافہ کر دیا۔اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی نشاندہی ان

کشمیریوں کو بجلی کےبحران سے نجات ملے گی؟

ہم بچپن سے یہ بات سُنتے آرہے ہیں کہ انسان کوزندگی گزارنے کے لئے روٹی ،کپڑا اور مکان کی ضرورت ہوتی ہےمگر جُوں جُوں ہماری عمر بڑھتی گئی اور جوانی میں قدم رکھا، توآہستہ آہستہ اُ ن باتوں کا احساس ہونے لگا کہ روٹی ،کپڑے اور مکان کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جوزندگی گذارنے کے لئے ضروری ہیں ،جن کے بغیر انسانی زندگی ناپائیدار ہے۔خاص طور پر موجودہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میںکیا محض اُنہی چیزوں پر زندگی گذاری جاسکتی ہے جن کا نام ہم بچپن سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ہم اس مضمون میں ضروریات زندگی کی اُن تمام چیزوں پر بات کرسکیں،جو انسانی  زندگی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ہم یہاں صرف موجودہ دور میں درکار دو اہم چیزوں پر ہی بات کرلیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ کیا واقعی روٹی کپڑے اور مکان کی موجودگی میں ہماری زندگی کا گزر بسر ہوسکتا ہے؟ جبکہ زندگی کا نظام چلانے کے لئے

سبزیوں کی کاشت کیجئے | اپنی آمدنی کو بڑھاوا دیجئے

آجکل کشمیر کے سیب مالکان، تاجر اور کاشت کار پریشان ہیں کہ بھارت کی میوہ منڈیوں میں ایرانی سیبوں کی وافر مقدار میں در آمد سے کشمیری سیبوں کا مستقبل اب خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہاں کے سیب مالکان اور کولڈ اسٹور مالکان کہہ رہے ہیں کہ انہیں یا تو قیمت کم مل رہی ہے یا پھر مانگ ہی نہیں ہے۔ابھی صرف ایک ملک کے سیب نے یہاں کی میوہ صنعت کو ہلا دیا، اگر دیکھا جائے گزشتہ ایک دہائی سے میوہ صنعت میں کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی آرہی ہے۔ ناشپاتی، چری، خوبانی میں ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ایسے میں ضرورت ہے کہ کشمیر سے وابستہ کسان کچھ دوسرے اوپشنز(متبادلات) پر غور کریں۔ ایک بہترین اوپشن میوہ سے سبزی کی طرف رخ کرنے کی ضرورت ہے۔ سبزی کا لوکل(مقامی) مارکیٹ کافی وسیع ہے اورسبزیاں دیگر ریاستوں میں بھی بیچی جا سکتی ہیں۔ سبزیاں ہر گھر کی ضرورت ہے اور ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں، اس کے برعکس میوہ ہر گھر م

کچھ توذہنی سکون کا بھی خیال کریں

ہم انسانوں کو غار میں رہنے والے اپنے اُن آباو اجداد پر ترس آتا ہے جن کے پاس سمارٹ فون تھا نہ لیپ ٹاپ۔ ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہ تھا۔بندے شکار کرنے نکلتے ،واپسی میں کوئی گم ہی ہوجاتا، پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس گڑھے میں گر کے مر گیا ہے۔ آج کا انسان ...Connectedہے،مطلب ہر وقت رابطے میں رہتا ہے ،ٹیکنالوجی کی مدد سے۔ پہلے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے۔ محبت کرنے والے جب دوردراز کے شہروں میں اپنے شریکِ حیات کو خط لکھتے ،تو سسرال کی تلخ باتوں کو پی جایا کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تار والے فون آئے، پھر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک انٹرنیٹ کی تار بچھا دی گئی۔سٹیلائٹ کے ذریعے لوگ ہر لمحہ رابطے میں رہنے لگےاور پھرموبائل فون آیا ، واٹس ایپ آئی اور فیس بک، گویا دنیا ہی بدل گئی۔ اب شوہر دفتر میں کام کر رہا ہوتاہے کہ بیوی کا پیغام ملتا ہے:میں تمہاری ماں کے ساتھ گزارا

یوم جمہوریہ اور مقام ِتفکر

   لمبے عرصے تک ہم گوروں سے بر سر پیکار رہے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادران وطن بھی ساتھ آتے گئے اور قافلہ بڑھتا گیا۔ پھر کیا ہونا تھا ،جب انگریزوں نے ہمارے اتفاق کو دیکھا تو انہوں نے بہ خوبی سمجھ لیا کہ اب ہمیں بھارت کو چھوڑ نا ہوگا، اور اگر راج برقرار رکھنا ہے تو ان ہندوستانیوں کے مابین دھرم اور مذہب کی بنیاد پر پھوٹ ڈالنا ہوگا۔ بعد ازاں انگریزوں نے پھوٹ ڈالنے کی بہت کوششیں کیں، کچھ ہم وطن لوگ اس دام فریب میں پھنس کر عام لوگوں کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کرنے لگے لیکن ہاتھ کیا لگا، بدنامی، غداری، ایمان فروشی اور گوروں کا چاپلوسی اور بھی اسی طرح کے بہت سے الفاظ جمیلہ ،جو ان جیسے لوگوں کے اوصاف قبیحہ کو واضح اور ظاہر کرتے ہیں۔ جب انگریزوں نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہ فریب کے جال میں پڑنے والے نہیں ہیں تو ایک دوسرا شوشہ چھوڑا کہ دو مختلف قومیں ایک ساتھ گذر بسر نہیں کر سکتی ہ