کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا خواب

بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے لے کر موجودہ وزیراعظم نریندر مودی تک سبھی رہنمائوں نے کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا عہد کیا۔ہزاروں کروڑ روپے وقتاً فوقتاً مالی معاونت کی صورت منظور بھی ہوئے، بڑے بڑے منصوبے بنائے گئے، زرِکثیر خرچ کیا گیا لیکن کشمیر کبھی سوئزرلینڈ نہیں بن پایا۔  جموں کشمیر دراصل ہندوستان کے شمال میں زنسکار، پیرپنچال اور قراقرم ہمالیائی سلسلوں سے گھِری بیضوی شکل کی ایک وادی ہے جو سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اب تو جموں کشمیر الگ اور لداخ الگ خطے ہیں، لیکن مجموعی طور پر سابق ریاستِ جموں کشمیر تہذیبی رنگارنگی، مذہبی رواداری اور الگ الگ ثقافتی رنگوں سے مزین ایک دلکش اور خوبصورت علاقہ ہے، جہاں کے بے پناہ قدرتی وسائل کو بروئے لانے اور خطے کو سوئزرلینڈ بنانے کے وعدے اب اِس قدر پْرانے ہیں کہ عام لوگ اِن وعدوں سے متاثر نہیں ہوتے۔  نامساعد

مبینہ واٹس ایپ چیٹ لیک اور ٹی آرپی قضیہ

متنازعہ اینکر پرسن ارنب گوسوامی کو پچھلے چند ماہ سے ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی) گھوٹالے کا سامنا ہے۔ اسی کیس کی تفتیش کرتے ہوئے ارنب کی ایسی مبینہ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہیں جو ہوشربا ہیں۔ دراصل پچھلے کچھ برسوں سے بھارت میں جس طرح مین سٹریم میڈیا کام کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ جان بوجھ کر کسی فرد یا کمیونٹی کا میڈیا ٹرائل کرنا ہو یا دیش بھر میں ڈھیروں اصل مدعوں سے ہٹ کر ایسے ایشوز کو ٹی وی ٹاک شوز کا حصہ بنانا جو موجودہ حکومت کا بیانیہ ہو یا کم از کم جس سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچے، یہ سب ایک منظم پلان کے تحت ہوتا ہے۔ملک کے زیادہ تر ٹی وی چینلز کم وپیش اس گیم کا حصہ ہیں۔ ٹی وی چینل یا اخبارات چند کو چھوڑ کر انگریزی ہوں یا ہندی یا کسی اور زبان میں، ان سب کا برین واشنگ کا ذریعہ مشترک ہی ہے اور وہ ہے "واٹس ایپ فاروارڈنگ" ۔ لاکھوں میں بھکتوں کی تعداد ہے جن کا سورس آف ن

علامہ اقبال ؒ سے منسوب اشعار

جیسا کہ ہم جانتے ہیں ،جب سے بنی نوع انسان معرض وجود میں آیا ، تب سے ہی اس نے اپنی ہستی کو کسی نہ کسی کام یا ہنر میں آزمایا یا پرکھا۔ نتیجے کے طور پر ہر ایک فرد نے اپنی بصیرت کے مطابق اپنے علم وعمل کو ایک مخصوص ڈھانچے میں ڈال کر اپنی شخصیت کا تعارف کروایا۔انہیں  شخصیات میں سے ایک منفرد شخصیت علامہ اقبا ل کی ہے جنہوں نے اپنے قول وفعل سے ہر میدان میں طبع آزمائی کی۔ اس لئے جہاں تک ان کے کارنامے اور ان کے پیغام کا تعلق ہے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں نے دنیا کے ہر قوم کے لئے اپنے کلام چاہے نثری ہو یا شعری سے سیراب کرنے کی بے حد کوشش کی۔لیکن اکثر لوگ اقبال اور ان کے کلام کو ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رکھتے ہیں ۔ میرے خیال سے یہ اقبال جیسے ایک عظیم فلسفی شاعر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیونکہ اس سے ادب اور تعمیر ِ ادب کو تنگ دائرے میں بند کیا جاتا ہے ۔یہ المیہ ہے کہ اقبال سے نظریاتی اختلاف

اقبال نیازی

اردو ہی میں نہیں دیگر زبانوں میں بھی ہمہ جہت ادبی شخصیات بہت کم نظر آتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کس کو کیا دے ؟کب دے ؟کیا کیا دے ؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔اقبال نیازی پر اللہ تعالیٰ مہربان ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں ۔اُن کے خوب صورت وجود میں ایک بڑا ڈراما نگار ،ہدایت کار ،ڈراماٹیچر ،ناظم ،شاعر اور افسانہ نگار موجود ہے ۔ان تمام ہنر مندانہ صلاحیتوں کے ساتھ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اردو کی خدمات میں گزارا ہے ۔اس اعتبار سے یہ کہاجاسکتا ہے کہ اقبال نیازی اردو تہذیب وثقافت کے ایک ایسے شیدائی ہیں جو مسلسل طور پر بغیر کسی ذہنی وجسمانی تھکان کے اردو ڈراما نگاری ،ہدایت کاری ،شاعری اور افسانہ نگاری کے ذریعے اردو کا حق ادا کررہے ہیں ۔   اقبال نیازی کا تعلق ممبئی جیسے مہانگر سے ہے کہ جو فلمی صنعت کے لئے بھی مشہور ہے ۔جہاں ہرروز زندگی نہ صرف تصویری البموں میں نظر آتی ہے بلکہ حیر

سرحدی گولہ باری اور خستہ حال سرکاری سکول

تعلیم جیسی بنیاددی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مرکز سے لیکر تمام ریاستی حکومتیں کوشاں رہتی ہیں۔ خاص کر بیٹیوں کو تعلیم یافتہ بنانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ اسی لئے بیٹی بچاؤ کے ساتھ ساتھ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ بھی دیا جا رہا ہے۔بیٹیوںکی تعلیم میں سب سے اہم رول پرایمری سکول کا ہوتا ہے، کیونکہ یہیں سے تعلیم کی اصل بنیاد شروع ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود بیٹیوں کی تعلیم کی شرح بڑھ نہیں رہی ہے۔آج بھی بیٹیوں کی ایک بڑی تعداد سکول نہیں جا رہی ہے،اور تعلیم جیسی اہم روشنی سے محروم ہے۔اتنا ہی نہیں سرکاری سکولوں میں بیٹیوں کی شرح فیصد غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی نسبت بہت کم ہوتی جا رہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ جہاں کہیں دور دراز اور نہائت ہی پسماندہ علاقوں میں طلبہ کی تعداد قدر بہتر بھی ہے، تووہاں عمارتوں کی کمی کی وجہ سے تدریسی نظام مفلوج ہے۔سکولی عمارتوں کا

تازہ ترین