حیراں ہوںدل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں!

شکایت تھی کہ سجاد غنی لون کی گپکار الائینس سے علیحدگی پر اس اتحاد کے روح رواں اور خالق محترم فاروق عبداللہ کی طرف سے کوئی بیان یا وضاحت نہیں آئی تھی اور اب یہ شکایت کسی کو نہ رہی کیونکہ ایک شوروم کی افتتاحی تقریب کے دوران فاروق صاحب نے اپنے روائتی انداز میں اپنی پالیسی بیان کو پھر ایک بار دہرایا کہ وہ ریاست کے مفادات یعنی ر یاستی درجے کی بحالی کے لئے ’’ لڑتے‘‘ رہیں گے بلکہ اب انہوں نے اس تقریب میں یہ بھی کہا کہ370 کی بحالی بھی ان کی مانگ ہے ،، سجاد غنی لون کی علیحدگی پر جو مختصر باتیں انہوں نے کی ہیں ،ان کا متن بڑا واضح اور صاف تھا کہ ’’ سجاد صاحب اپنی ذاتی مجبوریوں کی بنا پر ہی الائینس سے الگ ہوئے ہیں اور یہ کہ ہمیں ان وجوہات کا علم نہیں‘‘ ۔ ظاہر ہے کہ اس ایک جملے کے کئی معنی لئے جاسکتے ہیں اور ہر سیاسی تجزیہ نگار اس پر مختلف انداز

جھیل ِ ڈل آبی کھیلوں کا مرکز

کشمیر کو خالق ِ کائنات نے ہر طرف حسن و جمال بخشا ہے۔ پوری وادی کو سجا کر اس کی زینت میں نمائشی انداز میں چار چاند لگا دیا ہے۔ وادیٔ کشمیر کی سر ِ زمین کو آبی زخائر کی فراوانی سے خود کفیل بنا کر مالا مال کر دیا ہے ۔جھیلوں کی بات کی جائے تو وسطی کشمیر دنیا کے نقشے پر اس میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ گرمائی راجدھانی سرینگر کی ڈل جھیل پوری دنیا میں سیاحت کے نقشے پر اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے ۔ولرجھیل کے بعد ڈل جموں و کشمیر کی دوسری بڑی جھیل مانی جاتی ہے ۔یہ دنیا کے مشہور و معروف جھیلوں میں سے شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے مشرق کی جانب زبرون کی کوہساروں سے گھیر رکھا ہے جس سے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس جھیل کی لمبائی تقریباً 7.44 کلو میٹر، چوڑائی 3.5 کلو میٹر اور گہرائی 4.7 فٹ یعنی پونے دو میٹر ہے۔ زمین پر کھیلی جانے والی کھیلوں کے مقابلے میں آبی کھیلیں بڑی ہی س

گمشدہ دولت …تنقیدی جائزہ

 ’گمشدہ دولت ‘ طارق شبنم (اجس بانڈی پورہ کشمیر) کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو سال رواں2021 میں منظر عام پر آیا ۔طارق شبنم کئی برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ ان کے افسانے اخبارات،رسائل،سوشل میڈیا سائٹس پر نظرسے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی قلم کار مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے تو تجربے کی بنیاد پر اس کی تحریر یا تخلیق میں بھی پختگی آتی رہتی ہے جوکہ طارق شبنم کے بیشتر افسانوں سے عیاں ہے۔اس مجموعہ میں27 افسانے شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو قلم کار ڈگری یا شعبہ جاتی سطح پرعملی طور اردو زبان وادب سے منسلک نہیں ہیں ،ان میں کئی لوگ بہترین شعر وادب تخلیق کررہے ہیں اور انہیں حوصلہ افزائی سے نوازنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔طارق شبنم کی اردو تعلیم واجبی ہے یعنی میٹرک کے بعد وہ سائنس کے اسٹوڈنٹ رہے ہیں اور روزگارکے تعلق سے محکمہ زراعت میں ملازم ہیں۔ان جیسے لوگ اگر ا

شفیع احمدکی مزاحیہ کالم نگاری

کشمیر کی اردو مزاحیہ کالم نگاری میں شاعرانہ انداز برتنے والے شفیع احمد ایک انفراد کے مالک ہیں جن کے یہاں بیشتر تحریروں میں نثری تخلیق شعری پیرائے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور مفاہیم کے ہزاروں دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں جیسے معنوں کے سمندر نکل کر سامنے آجاتے ہیں اور قاری غوطہ زن ہونے کا من بنا لیتا ہے۔ اس عمل کے دوران نئی سرحدیں تخیل کی پرواز کرتی چلی جاتی ہیں گویا ان کے لفظوں کا انتخاب بعض اوقات پیش کئے گئے کردار کا لفظی پوسٹ ماٹم کرتا ہے جو کہ سائنسی ڈاکٹر کے پیش کردہ پوسٹ ماٹم سے کئی گنا حقیقی ثابت ہو جاتا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے وابستہ کالم نگار جناب شفیع احمد کے کالم بھی اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے حلقہ تخلیق کا دائرہ نہایت وسیع بھی ہے اور جاندار بھی ۔سیاسی موضوعات ان کے یہاں خصوصیت کے ساتھ ملتے ہیں۔ ۱)پھر بڑھے آگے یہاں سے ووٹ کے ارمان ۲) شیخ جی کے ووٹ کو لیکن جانے نہ دیجئے

مشکل کُشا صرف اللہ

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا اور پیغمبروں میں برگزیدہ کیا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اولاد نہ ہونے پر دعا فرمائی:’’اے پروردگار میرے ! میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں اور میں تجھ سے شرما کر فرزند مانگ رہا ہوں کہ میں بد نصیب نہ ہوں اور میری موت کے پیچھے لوگ مجھ کو طعنہ دیں اور یہ بھی تجھے معلوم ہے کہ میری بیوی بانجھ ہے۔پس اے خدا عنایت فرما مجھے ایک صالح اور خوبصورت فرزند تاکہ وہ میرا والی وارث ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا بھی وارث ہواور وہ فرزند بھی تیرا پسندیدہ ہو‘‘۔   پس حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے زکریا علیہ السلام !ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ تیرے تئیں ایک لڑکے کی کہ نام اس کا یحییٰ علیہ السلام ہے۔نہیں پیداکیا ہ

شعور کی تربیت …اہمیت ا ور ضرورت

اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو انفرادی یا اجتماعی طور اپنی خداداد صلاحیتوں سے فض یاب کیا ہے اُنہیں عقل ِ سلیم ،دانائی ،سوچ و سمجھ ،تفکر و تدبر ،صبر و شکر،حُسنِ اخلاق ،نیکی و بدی اور حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت اور شعور کی پُختگی کے ساتھ فیصلے لینے کی قوت ارادی سے نوازا ہے ،ان لوگوں کی طرزِ زندگی سلام و کلام ،نشست و برخاست ،بھائی چارہ ،محبت و اخوت ،عدل و انصاف ،دوستی کا حق ادا کرنا ،دوسروں کے لئے خود کو مشقت میں ڈالنا ،ظلم کے خلاف جہاد کرنا ،یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ِ خاصہ ہوتا ہے اور یہ اوصاف ِ حمیدہ دوسروں کے لئے مشعل راہ کے کام آتے ہیں۔ کسی قوم کے لئے سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ و ہ صحیح شعور سے خالی ہو۔ایک ایسی قوم جو ہر طرح کی صلاحیتیں رکھتی ہو اور دینی و دنیاوی دولتوں سے مالا مال ہولیکن انہیں نیک و بد کی تمیز نہ ہو،وہ اپنے دوست دشمن کو نہ پہچانتے ہوں ،سابقہ تجربوں سے

فکری اختلاف …متوازن رویہ

اسلام کاایک اہم تقاضا یہ ہے کہ جودین کواختیارکرے وہ تواصی بالحق کے جذبے کے تحت دوسروںکوبھی برابراس کی تلقین ونصیحت کرتے رہیں۔دین کایہی مطالبہ ہے جس کے لئے ہم دعوت وتبلیغ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔قرآن کے مطالعے سے اس کاجوقانون واضح ہوتاہے وہ مختلف حیثیتوںسے بالکل الگ الگ صورتوںمیںاس کے ماننے والوںپرعائدہوتاہے۔پیغمبروں کی دعوت کسی وضاحت کی حاجت نہیںرکھتی البتہ رسولوںکی دعوت میںانذار،اتمامِ حجت اورہجرت وبراء ت کے مراحل سے گزرکر دین کی شہادت جب قائم ہوتی ہے اوربالکل آخری حدتک رسول علیہ السّلام مدعو قوم پرحجت کااتمام کرتاہے تودنیاوآخرت میںفیصلہ الٰہی کی بنیادبن جاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالٰی رسولوںکوغلبہ عطاکرتاہے اوراس دعوت کے منکرین کواس دنیامیںہی عبرت کانشان بناتاہے۔ آخری رسول حضرت محمدﷺ کے بعدامت پراس کی ذمہ داری آن پڑی کہ وہ بے کم وکاست اس دعوت حق کواپنی بساط،صلاحیت اورحدودمیںرہ

مطالعہ روح کی غذا

انسان نے تفریح کی خاطر مختلف ادوار میں مختلف شوق اختیار کئے۔کبھی انسان غم غلط کرنے کیلئے تلوار بازی میں اپنے کرتب دکھایا کرتا تھا تو کبھی شکار کے پیچھے بھاگ دوڈ کرنے میں لطف کشید کرتا تھا۔گھڑ دوڈ یا گھڑ سواری اور دیگر کھیل بھی شوق کی تسکین کے لئے کھیلے جاتے تھے۔جب سے انسان کے ماتھے سے جنگلی اور وحشی کی پٹی ہٹا کر اس کی پیشانی پر مہذب ہونے کا لیبل لگایا گیا تب سے اس کے شوق، کھیل اور تفریح کا سامان بھی بدل گیا۔پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے ایسے نئے مشغلے ایجاد کئے جو اس کی تفریح کا سبب بنے۔جہاں بہت سارے شوق اور مشغلے رائج تھے وہیں کتاب بینی اور مطالعے کا شوق بھی ایک خاص طبقے اور مخصوص فکر کے لوگوں میں عام تھا۔جن لوگوں کو سیکھنے ،جاننے، نئی دنیاؤں کی جستجو کرنے کی تڑپ رہی، انہوں نے ہی مطالعہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔اس راہ پر چل کر انہیں منزل کے ساتھ ساتھ نام اور شہرت ملی اور ان کے

ہندو پاک| منفعت ایک ہی دونوں کا نقصان بھی ایک

تاریخ شاہدِ عادل ہے کہ جنگ سے آج تک کسی کا بھلا نہیں ہوا۔جو فریق پہلے تباہ ہوتا ہے وہ ہارتا ہے اور جو بعد میں تباہ ہوتا وہ فاتح قرار پاتا ہے۔گو کہ تباہی دونوں فریقوں کامقدر بن جاتی ہے جو ایک بین حقیقت ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ کچھ لوگ اس حقیقت سے روگردانی کیوں کرتے ہیں اور جنگ کوہی ہر مسلے کا حل قرار دیتے ہیں ۔کئی سال قبل میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔  ’’جنگ کے ذریعے کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرنا سرے ممکن ہی نہیں ۔پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ دونوں تاریخ کی عظیم ترین جنگیں تھیں‘مگر دونوںجنگیں صرف عالمی تباہی پر ختم ہوئیں۔ان جنگوں سے کسی بھی فریق کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ مسلح تصادم ہر حال میں بربادی کا ذریعہ ہے۔خواہ یہ مسلح تصادم ریاست کے ذریعے انجام پایاہو یا کسی غیر ریاستی تنظیم (NGO)کے ذریعے‘‘ہندوستان اور پاکستان کی موجودہ صورت

خاموشی

فلسفۂ ’حقیقت‘ کے بانی سقراط سے قبل یونان میں کوئی باقاعدہ مذہب وجود نہیں رکھتا تھا مگر یونانی مفکرین کی بھاری تعداد کسی نہ کسی طرح اس بات کی معترف تھی کہ عقل ِ انسانی بغیر تائید ایزدی کے چیزوں اور کائنات کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ البتہ ان کے ہاں وحی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ تاہم قدیم یونانیوں کے ہاں مادی حیات کے علاوہ کئی عقائد کا تذکرہ ملتا ہے جو نفس اورعقل کے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں اورجس کو فلسفہ دانوں نے سقراط کی ’حقیقت‘ سے تعبیر کیا ہے۔فلسفے میںاس’ حقیقت ‘ تک پہنچنے کیلئے درجہ بندی بھی ملتی ہے جسے طے کرنے کے بعد انسان اُس عروج کو پہنچتا ہے جس کی اُسے طلب ہوتی ہے اور جہاں ’حقیقت‘ واشگاف صورت میں اُس کے سامنے آشکاراآجاتی ہے۔  لیکن الفاظ کی دنیا میں’ حقیقت ‘کے لغوی معنی سچائی ہے جس کو جاننے کیلئے عام لوگوں ک

کشمیری زبان| ہماری آن ،بان اور شان

ہم کشمیر میں پیدا ہوئے ہیں تو کشمیری بن گئے۔کشمیری ہونے کا مطلب ہماری زبان کشمیری ہے یعنی ہم کشمیری بولنے والے ہیں۔یہی ہماری اصل پہچان ہے اور ہم اس پہچان کو کھو نہیں سکتے۔کیونکہ پہچان کھونے کا مطلب وجود کھونا ہے۔ہم کہیں بھی جائیں یا کوئی اور زبان بولیں ہماری پہچان کشمیر سے ہے اور ہم کشمیری ہی کہلائیں گے۔انگریزی بولنے سے ہم انگریز نہیں بن سکتے اور پنجابی بولنے یا سننے سے ہم پنجابی نہیں بن سکتے۔ہم چاہیے کشمیری بولیں یا نہ بولیں دونوں صورتوں میں ہم کشمیری ہی رہیں گے۔دنیا کے نقشے پر کشمیر واحد جگہ ہے جہاں لوگ اپنی مادری زبان بولنے سے شرم محسوس کرتے ہیں۔حا لانکہ یہ زبان ہماری نس نس میں ودیعت ہے۔ اس کی جگہ دوسری زبانیں ودیعت نہیں ہوسکتی ۔اس کے باوجود ہم بچوں میں دوسری زبانیں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارے بچے اس کشمکش میںہیں کہ ہماری مادری زبان کیا ہے اردو

انسانی بگاڑ کا علاج فکری جاہلیت کا خاتمہ

اس کائنات میں کوئی حساس اور باشعور آدمی ایسا نہیں جس کو کوئی نہ کوئی فکر لاحق نہ ہو،کسی کو دولت کی فکر ہے کسی کو جائیداد کی فکر ہے،کسی کو عزت اور بلندی کی فکر ہے ،کسی کو دنیا میں ترقی اور کامرانی کی فکر ہے ،کسی کو اقتدار اور حکمرانی کی فکر ہیاور کسی کو محض دو وقت کی روٹی کے لئے نوکری یا روزگار کی فکر ہے،غرض ہر شخص کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہے ،کسی نہ کسی خیال میں غرق ہے اور کسی نہ کسی تشویش میں گرفتار ہے۔اس لئے بے فکر ہوکر زندگی بسر کرنا نہ صرف نا ممکن ہے بلکہ فطرت ِ انسانی کے بالکل خلاف بھی ہے۔ہاں ! یہ امر غور طلب ضرور ہے کہ آخر ہمیں کن باتوں کی فکر کرنی چاہئے؟ کیا وہ باتیں جن کی تلاش و جستجو میں ہم اپنی جان کھپاتے ہیں واقعی ہمیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔اگر نہیں تو پھر یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ ہم اپنی قیمتی زندگی لاحاصل فکر میں گزار دیں؟جبکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا سے ہماری محبت

تعلیم کیلئے تعلیمی ماحول لازمی ہے

تعلیم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے مرکز اور ریاستی حکومتیں مختلف سکیمیںچلا رہی ہیں۔لیکن اس کے باوجودآج بھی سرکاری سکولوں کی حالت قدر بہتر نہیں ہے۔گا ئوں کی بات تو دورشہروں میں بھی سرکاری سکولوں کی حالت درست نہیں ہے۔کہیں عمارت خستہ حال ہے تو کہیںسکول میں اساتذہ کی تقرری ہی نہیں ہے۔یہ حال ملک کے تقریبا تمام سرکاری سکولوں کی ہے۔ ایسا ہی کچھ حال گورنمنٹ پرائمری سکول کالا کرماڑی چنڈیال بلاک بالاکوٹ کا ہے۔جوحقیقت میںتعلیمی ادارہ نہیں اذیت خانہ ہے ۔اس سکول کی عمارت 2014 سے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے ، مگر محکمہ ہے کہ خواب غفلت میں نظر آرہا ہے ۔سرکاری اعلانات میں شعبہ تعلیم کے فروغ کیلئے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کْلی طور پر ان دعوئوں کے برعکس نظرآرہے ہیں۔سرحدی طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں انہیںعلم حاصل کرنے کہ لیے کوئی خاص مقام و ٹھکانہ نظر نہیں ا

ہماری سیاسی قیا دت…اپنی غرضی کے دیوانے

قوموں کی زندگی میں دور اندیشی اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے اور غلاموں کی اس بستی میں رہنے والے ہم غلاموں کو گویا ان ہی چیزوں سے دشمنی ہے۔ناک کے آگے سے زیادہ دور تک دیکھنے کی ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی،جہاں کسی نے کوئی جذباتی نعرہ لگادیا ہم بھڑک کر اْسی کے ساتھ ہولئے اور یہ بھی نہ دیکھا کہ اْس کی بات قابل ِ عمل بھی ہے یا نہیں۔اصول پرستی نے اس قوم میں طرح طرح کے اختلاف اور انتشار کو جنم دیا،ہم نے جس شخصیت سے محبت کی اْس کے بارے میں اِتنے غلو سے کام لیا کہ ہر خوبی ہمیں اْسی میں نظر آئی ،خواہ وہ دینی اعتبار سے تھی یا علمی و سیاسی اعتبار سے۔ہم نے اگر اْسے سب سے بڑا عالم سمجھا تو سب سے بڑا زاہد و متقی اور مْرشد و رہنما بھی تصور کیا ،اْس کی کسی طرح کی خامی کو ہم نے تسلیم ہی نہ کیا اور نہ اْس کی کسی رائے سے اختلاف کو برداشت کیا ،چاہے وہ رائے بجائے خود کتنی ہی غلط

قلم و قرطاس اور تحفظ علم و اخلاق

اصل علیم و حکیم ذات اللہ تعالیٰ کی ذات بے ہمتا ہے۔ اسی ذات نے انسان کو تخلیق کرکے جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔ علم کے ذریعے ہی انسان کو اپنی ذات کے عرفان کے ساتھ ساتھ خدا کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ علم نہ ہو تو انسان کو نہ صرف دنیا ورطہ حیرت میں ڈالی رہتی ہے بلکہ اس کے لئے اپنی ذات بھی اجنبی بنی رہتی ہے۔ خدا کی ذات کا تعارف بھی اسی علم سے ہوتا ہے جو انسان کو خدا کی طرف سے ودیعت ہوا ہے اور جو انسان اپنی سعی و کوشش لیکن خدا کے فضل سے حاصل کرتا ہے۔ اس طرح سے علم ایک ایسی رسی کی مانند ہے جس سے انسان کا تعلق خدا کی ذات کے ساتھ برقرار رہتا ہے اور دنیا بھی اس کے لئے ایک معمہ نہیں بنی رہتی۔ علم نہ ہو تو انسان کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جو کسی عربی شاعر نے اس شعر میں بیان کی ہے:  کل ما ھو فی الکون وہم او خیال  او عکوس فی المرایا او ظلال یعنی جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے، یات

ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے

ادب اور سماج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ادب روز اول سے ہی نہ صرف سماج کی بہتری کے لئے کوشاں ہے بلکہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ ادب سماج کی عکاسی کرتا ہے ۔ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو، دراصل یہ اس سماج کا آئینہ ہوتا ہے جس میں یہ پروان چڑھا ہو۔ جس طرح کا سماج ہو گا ،اسی طرح کا ادب بھی تخلیق ہوتا ہے ۔سماج میں جو بھی پریشانیاں، مشکلات اور برائیاں ہوتی ہیں وہ سب ادب کا حصہ بن جاتی ہیں۔یوں تو اردو ادب کے دو حصے ہیں نثر اور نظم۔ حصہ نظم میں غزل، قصیدہ، مرثیہ ،رباعی وغیرہ شامل ہیں ۔اس حصے یعنی شاعری کے ذریعے بڑے بڑے پیغامات عوام تک پہنچائے گئے اور شاعری کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ زمان و مکان سے بہت اوپر ہوتی ہے اور شاعری کبھی پرانی نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں شاعری کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مثلاً موجودہ دور میں بھی سماج کے مختلف مسائل کے حل کے لئے اقبال اور جوش کی شاعری سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن زی

سِول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں

مالی اعتبار سے اگر کوئی شخص کمزور ہو تو کیا وہ سیول سروسز کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ اس بات کا جواب آپ اب جان چکے ہیں۔اب آئیں اس سوال کا جواب جانتے ہیں کہ کیا یو پی ایس سی سیول سروسز جیسے امتحان کو پاس کرنے کے لئے انتہائی قابل،ذہین اور ٹاپر ہونا ضروری ہے؟ ممکن ہے کہ آپ کے اذہان میں کسی نے یہ بات ڈال دی ہو کہ اگر آپ ایک اوسط (Average) درجے کے طالب علم ہیں تو سیول سروسز آپ کے بس کی بات نہیں۔یا پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں خود ہی یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ’کہاں سیول سروسز میں کامیاب ہونے والوں کی قابلیت اور کہاں میں ایک اوسط درجے کا طالب علم ‘۔اگر ایسا ہے تو اس مغالطے کو اپنے ذہنوں سے نکال دیجیے۔یہ بات میں آپ کو جھوٹی تحریک دینے کے لئے نہیں کہہ رہا،نا ہی میں جذبات کے بہائو میں ایسا کہہ رہا ہوں ۔آپ خود تھوڑی سی تحقیق کر لیجیے،یہ مغالطہ آپ کے اذہان سے خود ہی حرفِ غلط

لاک ڈائون میں قرآن کی تعلیم

ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کی جانب سے شروع کئے گئے آن لائن قرآنک کلاس کو تادمِ تحریر چھ ماہ سے زائد ہوا۔ اس کلاس میں کم از کم45بچوںنے اپنی شرکت کو لازمی بنایا ہے۔ اس کلاس میں اکثر یت اُن بچوں کی ہے جنہوں نے کسی بھی درسگاہ میں نہیں پڑھا ہے ۔ حروف کی پہچان، ان پر حرکات سے سبھی بچے بے خبر تھے۔ ابتداء میں آن لائن کلاس کے ذریعے حروف تہجی کی پہچان کرائی گئی ، بعد میں ان حروف کی مختلف شکلیں باور کرائیں گئیں ۔ تمام حروف کی پہچان ، ان پر مختلف حرکات ڈال کر اس آن لائن کلاس کے ذریعے سمجھا یا گیا۔ اس کلا س کی خاص بات یہ ہے کہ ناظرہ کے لئے اس میں کسی بھی قسم کے ’قاعدیـ‘کا سہارا نہیں لیا گیا۔بلکہ یہ کلاس ابتدا سے لے کرآج تک روایتی انداز سے ہٹ کر شروع کی گئی ۔ چونکہ یہ کلاس’ Zoom App ‘ کے ذریعے چل رہاہے اس لئے یہ ممکن نہیں کہ قاعدے کے ذریعے ان بچوں کو پڑھا یا جائے ، بلکہ

زرعی قوانین کی منسوخی ضروری کیوں؟

پچھلے تین مہینے سے ملک کے کسان احتجاج پر ہیں۔شاید ہی کوئی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ رہاہو جہاں کسان مرکزی سرکار کی طرف سے پاس کئے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر نہ نکلے ہوں۔دیکھاجائے تو 1947کے بعد ایسا پہلی بار ہورہاہے۔اس احتجاج کو سرکار کی طرف سے پنجاب تک ہی محدود رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہورہی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس احتجاج نے عوام کے ہر طبقہ کی ہمدردیاں حاصل کرکے ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کی ہے۔سرکار کی طرف سے خالصتانی ،پاکستانی یا قوم دشمنی کا کوئی بھی الزام اس بار عوام کے گلے نہیں اترسکا۔26جنوری 2021کو لال قلعہ پرایک مخصوص فرقے کاجھنڈالہرانے کی مذموم سازش سے بھی احتجاجی کسانوں کی صفوں کو کمزور نہیں کیاجاسکا،نہ ہی ان کی دیش بھگتی پر کوئی آنچ آسکی۔6فروری 2021کے چکہ جام پروگرام نے سرکار کے سخت رویہ کو اتنا کمزور کیاکہ اس کو راجدھانی دہلی جانے والی بیشتر سڑکوں کو ک

ہند۔امریکہ تعلقات: نئے امکانات

گزشتہ چار سال کے دوران سابقہ امریکی صدر کی بدتمیزی، بدتہذیبی اور انتہائی نسل پرستانہ رویہ کو برداشت کرنے کے بعد دنیاکو اب قدیم ترین جمہوریت میں عہدے کی تبدیلی رونما ہونے کے بعد امریکی سیاست میں رونما ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کا بے چینی سے انتظار ہے۔  جوبائیڈن امریکہ کے نئے صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھال چکے ہیں اور انہوں نے نئے انتظامیہ کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے واضح اشارے دیئے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اپنے پہلے خطاب کے دوران جوبائیڈن نے اپنی نئی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے روایتی رویے،اقدار اور فلسفے کے ساتھ عالمی رہنما کے طور ایک مرتبہ پھر عالمی منظر نامے پر اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار اور گامزن ہے۔ یہ جملہ بائیڈن کے ان الفاظ کی عکاسی کرتا ہے جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران استعمال کئے تھے یعنی امریکہ کی

تازہ ترین