صاف ستھرا ماحول ۔ خدا کی اَنمول نعمت | اپنے ماحول کی روحانی جہت کو پامال نہ کیا جائے

اللہ تبارک و تعالی کی ذات اقدس ہی منعم حقیقی ہے۔ اس نے انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں صاف ستھرا ماحول بھی ایک اعلی درجہ کی نعمت ہے۔ اسی ماحول میں انسان آنکھ کھولتا ہے اور زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہے۔ یہ ماحول انسان کے لئے ماں کی گود کا درجہ رکھتا ہے۔ جس طرح ماں کی گود کے بغیر انسان کی نشوونما ادھوری اور ناقص رہتی ہے، بالکل اسی طرح صاف ستھرے ماحول کی عدم موجودگی میں انسان کی زندگی اجیرن ہوسکتی، بلکہ ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ہم بالعموم اللہ تعالی کی نعمتوں کا قولاً شکر کرتے رہتے ہیں، لیکن ہم ماحول جیسی نعمت، جس میں اللہ تعالی نے جنت کا تعارف رکھا ہے، کا شکر ادا نہیں کر پاتے۔اگرچہ شکر کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زبان کو کلمات شکر سے تر رکھیں، لیکن اس شکر میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نعمتوں کی قدر کی جائے۔ اور نعمتوں کی قدر میں ان کی حفاظت شامل ہے۔ اگر ایسا رویہ اپنا

بُنکروں کی حقیقت اوربُنکروں کی صنعت

یوں تو بھارت میں بہت سی صنعتیں ہیں مگر کپڑا صنعت کی بات ہی کچھ اور ہے اور اسے ہر حال میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ پہلے کپڑے کی بُنائی کرنے والے کو بنکر کہاجاتا تھا اور اب بھی کہاجاتاہے مگر پہلے کی بہ نسبت اب کافی فرق آچکا  ہے۔ کل تک کپڑے کی تنائی بُنائی سے وابستہ ایک مخصوص برادری تھی، جسے انصاری برادری کے نام سے جانا جاتا تھا اور جانا جاتا ہے، جسے کچھ شخصیات نے لعن و طعن کا شکار بھی بنایا اور تقریر و تحریر اور لغت کے ذریعے اس برادری کی دلآزاری بھی کی گئی، آج بھلے ہی اسے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ اس برادری کو تعلیم سے محروم رکھنے کی بڑی بڑی سازشیں بھی رچی جاچکی ہیں۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آج بھی ان کی نیت صاف ہے یا نہیں! دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب دیگر برادریاں بھی تنائی بُنائی کا کام کرنے لگی ہیں یعن

’’ کو ہ ماراں‘‘۔ نسائی ادب کے باب میں قابل قدر اضافہ

کوہ ماراں" نامی سہ ماہی رسالہ سال  2021میں جاری کیا گیا جس کے مدیر علی جناب سہیل سالم ؔہیں، جو خود بھی اردو زبان و ادب کے ایک سچے عاشق بھی ہے اور ایک مخلص خادم بھی ۔ اس رسالے کو جاری کر کے انہوں نے اردو کی ترقی و بہبودی کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ اس مجلے کے اب تک تین شمارے آ چکے ہیں۔ لیکن تیسر ا شمار ،خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسکو خواتین کے لئے مخصوص کیا گیا اور اس میں علمی، ادبی، تحقیقی و تنقیدی مضامین کے ساتھ ساتھ نظمیں اور افسانے بھی شائع ہوئے جوتمام کے تمام خواتین کے لکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ خواتین مقالہ نگاروںنے ہی خواتین کی ہی تصنیفات پر مقالے لکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس شمارے کو ’’جموں و کشمیر میں نسائی ادب ‘‘کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس شمارے سے ہم  ان مصنفات، شاعرات اور افسانہ نگاروں سے واقف ہو گئے جن کو یہاں کی ادبی فضا نے

’’نعمت ِ ارزاں‘‘۔ ایک مختصر جائزہ | دنیائے تصوف کو سمجھنے کامددگار ذریعہ

جناب پرو فیسر سید شاہ حسین احمد کی تقد یم و ترتیب کردہ کتاب ’’نعمت ِ ارزاں ‘‘ میدان تصوف کے لئے  یقیناً ایک نعمت ہے جس میں تحقیق کی بنیاد پر صاحبِ کتب نے بہت گراں قدر معلومات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس کتاب کے مطالع سے علم و فہم کے کئی در یچے کھلتے ہیں اور میدان تصوف کو سمجھنے میں ایک عام قاری کی رہنمائی ہوتی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ’’نعمت ِ ارزاں ‘‘ایک خاص قسم کے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو تصو ف کو اپنی زندگی میں  مقام دیتے ہیں۔اور جن کے دلوں میں بزر گانِ دین اور او لیاء اللّه کی محبّت اور قدر ہوتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اولیاء اللّه کا تذکرہ اور ان کے ارشادات پڑھنے سے انسان میں دین کی رغبت اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا شوق دل میں پیدا ہوتا  ہے اور ایک اللّه والے کی زندگی کے شام و سحر کس طرح سے گزرتے ہیں اس کا ا

ملک کی پہلی نوبل انعام یافتہ شخصیت

گرودیب رابندر ناتھ ٹیگور (رابی ٹھاکر) ایک بنگالی شاعر، قلم کار، فلاسفر، سماجی مصلح اور مصور تھے۔ انہوں نے بنگلہ ادب کی نئے سرے سے تشکیل کی۔ وطن عزیز ہندوستان میں مغربی بنگال وہ ریاست ہے جو علم و فن کا گہوارہ ہے۔ تعلیم و تہذیب کا مرکز ہے۔ قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فوقیت حاصل ہے۔ کہتے ہیں بنگال وہ سر زمین ہے جس پر ہمیں بے حد ناز ہے، اردو، انگریزی ، بنگلہ اور ہندی کا پہلا اخبار یہیں سے شائع ہوا ۔ اردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاںنما‘‘ اپنے شہر کولکاتا سے ہی سب سے پہلے شائع ہوا۔ آزادیٔ بغاوت ۱۸۵۷ء کا آغاز بنگال کے بارکپور کی فوجی چھاؤنی سے منگل پانڈے نے کیا تھا ۔ گو کہ بغاوت ناکام ہوئی۔ لیکن تحریک آزادی کو تقویت ملی جس کا نتیجہ تھا کہ ۱۵؍ اگست ، ۱۹۴۷ کو بھارت فرنگیوں کی طوق غلامی سے آزاد ہوا ۔ ہندوستان کا پہلا میٹرو ریلوے کولکاتا میں اکتوبر، ۱۹۸۴ء کو

پانی کا غیر ضروری استعمال اور اسلامی تعلیمات

بلاشبہ، پانی قدرت کا انمول عطیہ اور جملہ مخلوقات کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے، اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرو یا، پھر وہ اس پانی سے ایسی کھیتیاں وجود میں لاتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں سوکھ جاتی ہیں تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ پیلی پڑ گئی ہیں، پھر وہ انہیں چُورا چُورا کر دیتا ہے۔ یقیناً ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الزمر، آیت 21) آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی سے وابستہ ان چار نظاموں کا ذکر فرمایا جن کے ہونے سے زندگی موجود ہے اور نہ ہونے سے زندگی مفقود۔ یہ نظام درج ذیل ہیں۔بارش کا پانی۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کا نظام۔ زراعت کا نظام۔ زراعت کے نتیجے میں انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا نظام۔ آسمان سے ب

خدمتِ خلق اور مظلوموں کی دادرسی!

اسلام اللہ تعالیٰ کا عظیم دین ہے ، یہ کوئی نیا دین نہیں ، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام ہی کے وقت سے یہ دین چلا آرہا ہے ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لئے اسی نظامِ حیات اور طریقۂ زندگی کو پسند فرمایا ہے ، قرآن کا ارشاد ہے : اللہ کے نزدیک جو دین معتبر و مقبول ہے ،وہ صرف اسلام ہے ۔ (سورۂ آل عمران: ۱۹) اس دین کو آخری اور مکمل صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا گیا ، اب جو لوگ اس سچے دین پر ایمان لے آئیں ،وہ سب گویا ایک خاندان کے افراد ہیں اور ایمان کے رشتے نے ان کو جوڑ رکھا ہے۔ یہ ایک آفاقی اور عالمگیر خاندان ہے ، جیسے پانی کے ایک قطرے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ، ہوا اُسے اُڑا لے جاتی ہے اور دُھوپ اُسے لمحوں میں جلا کر رکھ دیتی ہے ، لیکن یہی قطرہ سمندر میں مل جاتا ہے تو وہ سمندر کی وسعت و طاقت کا ایک حصہ بن جاتا ہے اور ایک ناقابل تسخیر طاقت قرار پا

رشوت سے پرہیز، پاک معاشرے کی ضمانت

رشوت ستانی یا بدعنوانی ایک دیمک کی طرح ہے جو معاشرے کو اندر سے کُھوکھلا کر دیتی ہے ۔ رشوت ستانی ایک وباء کی طرح ہے اور اس سے پرہیز کرنے سے ہی ایک پاک اور ترقی یافتہ معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے ۔ رشوت ستانی وہ وائرس ہے جو معاشرے کے چھوٹے و بڑے عہدے پر فائز سبھی سرکاری ملازمین کو آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ اس سے نجات پانے کے لیے آخر کب تک انتظار کرنا پڑے گا ۔ یہ سب تب ہی ممکن ہے جب ملک کے تمام لوگ مل کر اس سے نجات دلانے کے لیے ایمانداری سے اپنا کام انجام دینے کی وعدہ بند ہو جائیں ۔دیکھا جائے تو عالمی بدعنوانی انڈیکس میں ہندوستان ایک سو اسی واں ممالک میں سے پچاسیویں نمبر پر ہے اور یہ دیگر ہمسایہ ممالک میں سے بدعنوانی میں بہت ہی کم ہے ۔ اس پر ہمیں کوئی خوشی نہیںاور نہ ہی ہونی چاہئے بلکہ اس سے مزید کم کرنے کی تگ و دو کرنی چاہئے ۔ رشوت ستانی یا بدعنوانی کا مطلب یہ ہے کہ اپنے فرض م

جدید ٹیکنالوجی۔ مثبت اور منفی پہلو

ٹیکنالوجی دنیا میں آئی اور اس نے انسان کو اپنا عادی بنا لیا، اب انسان ٹیکنالوجی کا عادی ہو چکا ہے اور اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے لئے آسانی ڈھونڈتا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے طرح طرح کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی۔ہماری زندگی میں ایجادات کا سلسلہ جاری ہے روزانہ بیسیوں چیزیں ایسی دیکھنے میں آتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات مثلاً زراعت، توانائی، تجارت، سفر اور رابطوں کے لئے ٹیکنالوجی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر زرعی پیداوار کے لئے زرعی مشینری، توانائی کے حصول کےلئے جدید نیوکلر، شمسی اور ہوا کی توانائی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔انسان نے زمین سے اپنے سفر کا سلسلہ گھوڑے اور خچر سے شروع کیا اور اب جدید دور میں گاڑی، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز پر سفر کر رہا ہے۔جدید دور کے انٹرنیٹ نے برقی پیغامات یعنی  Email

کانگریس ۔عروج سے زوال تک !

ہندوستان میں آزادی کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ کانگریس پارٹی نے حکومت کی ہے اور کانگریس میں کبھی مولانا ابوالکلام آزاد بھی تھے، مولانا اسعد مدنی بھی تھے، کریم چھاگلہ بھی تھے، حمید دلوائی بھی تھے، سی کے جعفر شریف بھی تھے اور محسنہ قدوائی، نجمہ ہیبت اللہ، ضیاء الرحمن انصاری وغیرہ بھی تھے۔ کانگریس کا بڑا جلوہ تھا، ان مسلم سیاسی چہروں کو ساڑھے چار سال تک چھپا کر رکھا جاتا تھا صرف چھ ماہ کے لئے ان کو عوام اور بالخصوص مسلمانوں کے درمیان بھیجا جاتا تھا ۔ہاں! بیچ میں جب کہیں فرقہ وارانہ فساد برپا ہوجاتا تھا تو سکون ہوجانے کے بعد انہیں بھیجا جاتا تھا اور وہ مسلم سیاسی چہرے مسلمانوں کی آبادیوں، بستیوں اور علاقوں میں پہنچ کر کانگریس پارٹی کی طرف سے معافی مانگا کرتے تھے اور اس بات کا یقین دلایا کرتے تھے کہ اب مستقبل میں فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوں گے اور کانگریس مسلمانوں کے فلاح و بہبود کے لئے ٹھ

مسلمانوں میں تعلیمی بیداری؟

1857ء کی بغاوت تاریخ ہند میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بغاوت 1857ء ناکام ہوئی۔ لیکن اس سے ہندوستانیوں کو آزادی حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور ہندوستانیوں نے یہ ٹھان لیا کہ اب وطن عزیز ہندوستان میں غلام بن کر نہیں رہا جا سکتا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بہت عظیم مصلح پیدا ہوئے جیسے راجہ رام موہن رائے، ایشور چندر ودیاساگر، سوامی دیانند سرسوتی ، جیوتی راؤ پھولے، سوامی وویکا نند۔ اسی اثنا میں سرزمین ہند میں ایک عظیم مصلح سر سید احمد خان نے جنم لیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ سر سید اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، سرسید کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ انگریزوں سے قبل یہاں یعنی ہندوستان میں ہندوؤں کی ابتدائی تعلیم کے لیے پاٹھ شالے تھے، جب کہ مسلمانوں کے لیے مدرسے اور مکتب تھے۔ لیکن ہندوستانی انگریزی اور مغربی تعلیم سے نابلد تھے۔مٹھی بھر ہندوستانی ایسے

قصۂ موسیٰ علیہ السلام

قرآن پاک میں بہت سے انبیاء کے سبق آموز  قصے بیان کیے گئے ہیں ۔ان میں حکمت کی باتیں ہیں ۔تقریبا 26 انبیا کے قصص قرآن پاک میں موجود ہیں ۔ویسے تو تمام کے تمام نہایت دلچسپ ہیں مگر میرے پسندیدہ قصص میں یوسف ، موسیٰ ، ابراہیم اور سلیمان علیہم السلام کی کہانیاں ہیں ۔آج ہم موسیٰ علیہ السلام کی کہانی پڑھیں گے ۔ انکا ذکر قرآن میں 136 جگہ پر آیا ہے۔   موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دور میں مصر میں پیدا ہوئے تھے۔ انکی پیدائش سے پہلے نجومیوں نے فرعون کو بتایا کہ ’’ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو آپ سے آپ کی بادشاہت چھین لے گا۔‘‘ سو اس نے حکم دیا کہ’’  اس سال جتنے بھی لڑکے پیدا ہوں، اُن سب کو قتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘ اسکی فوج نے ایسا ہی کیا مگر موسیٰ  ؑکی والدہ کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ وہ اپنے بچے کو

اُمید بھی رکھ راستہ بھی چُن !

بے شک عظمت والا ،رفیق و شفیق، مہربان،مددگار صرف اور صرف اللہ ہے جو دن کو رات اور رات کو دن میں تبدیل کرتا ہے ۔ جو مایوسی کے بعد خوشی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی نااُمید نہ ہوجاؤ ۔وہ جس کے یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکالا ،ابراھیم ؑ کو آگ سے بچایا ۔ یعقوبؑ کو اپنا لخت جگر واپس لوٹایا،اللہ ہی تو ہے ۔ اگر ہم اس کائنات کا سرسری جائزہ لیں گے تو کوئی بھی نفس زندگی کے مصائب ،رنج والم سے خالی نہیں ۔ کبھی کبھار ہماری زندگیوں میں کچھ ایسا ہوتارہتا ہے، کچھ چیزوں کو ہم  چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے حق میں ہونی چاہئے اور جب وہ چیزیں ہمیں ہماری چاہت کے مطابق نہیں ملتیں تو فوراً اپنی قسمت پر بیزار ہوجاتے ہیں اور قطعاً یہ نہیں سوچتے کہ جس اللہ نے ہماری تخلیق کی ہے، ہمارا بھید جاننے والا ہے، ہمارے حال و مستقبل سے واقف اور ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے، کیسے ہمارے لیے بُر

جدید تدریسی طریقے ۔ تشہیر یا حقیقت! | اُستاد کوتکنیکی طور ترقی یافتہ ہونے کی ضرورت

 حماقت خراب پڑھنے پڑھانے،بُری تعلیم اوربُری سوچ سے پیدا ہوتی ہے۔میں اپنے دل اور روح کی گہرائیوں سے اُن اساتذہ کا احترام کرتا ہوں اور ان کی تعریف کرتا ہوں جو واقعی پڑھانے کے شوقین ہیں۔ یا وہ اُستاد جو دوسروں کے لیے مثال بننا چاہتا ہے، وہ اُستاد جو اپنے کام سے ہمیشہ خوش رہتا ہے، وہ اُستاد جسے اسکول کا ہر بچہ پسند کرتا ہے یا اُس اُستادکوجسے ہر طالب علم ساری زندگی یاد رکھتا ہے۔ کیا آپ وہ اُستاد ہیں؟ میری رائے میں ایک اُستاد کو پڑھائی اور پڑھانے سے لطف اندوز ہونا چاہیےاور اپنے طلبہ کی زندگی میں جدید ترین علم اور تدریسی طریقہ کار سے انقلاب برپا کرنا چاہیے۔ یہ کچھ اوصاف اور عادات ہیں جو آج ہر اُستاد میں ہونی چاہئیں جو میرے خیال میں بہت سی دوسری خوبیوں میں سب سے اہم ہیں، جو ایک معمولی اُستاد کو موثر اُستاد بناتی ہیں۔ جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہےکہ ’’بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری

کہاں ملے گی بھلا اس ستم گری کی مثال

اس دنیا میں جو کوئی ملک جمہوریہ کہلاتا ہے، اُس ملک کا مضبوط ترین ستون اُس کا عدلیہ ہوتا ہے، جہاں سے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جاتا ہے۔ لیکن جب اُن ملکوںکا یہی مضبوط ستون کمزور پڑتا ہے یعنی عدلیہ انصاف کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کرتا ہے،توپھر وہ ملک جمہوری کہلانے کے لائق نہ نہیں رہتا ہےاورجس میں نقصان اُس ملک کا ہی ہو جاتا ہے ۔ایک طرف جہاں عام لوگوں کا اعتماد عدلیہ پر سے اُٹھ جاتا ہے تو دوسری طرف عدلیہ کی کمزوری کا ناجائز فائدہ ملک کا ہر طاقتور فرد اور طبقہ اُٹھاتا رہتا ہے ،جس کے نتیجے میں جہاں اُس ملک کے حکمران تانا شاہ بن جاتے ہیں وہیں انتظامی ادارے بدنظمی اور خرابیوں کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ ملک کا عوام بھی خودراہ بن کے رہ جاتا ہے۔ اسی  لئےکسی بھی ملک میںجمہوریت کی بقا کو قائم رکھنے کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری وہاں کی عدلیہ پر ہوتی ہے۔کیونکہ عدلیہ کے دبدبے سے انصاف اور جمہوریت

ناکامی کی بنیادی وجہ احساس ِ محرومی! | کامیابی کا راز خود اعتمادی میں پنہاں!!

خود اعتمادی کا مطلب ہے خود پر اعتماد کرنا۔ اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا اور اپنے زورِبازہ پر بھروسہ کرنا ۔کہا جاتا ہے کہ زندگی میں کام یاب ہونے کے لیے خوداعتمادی کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس لینا۔ اسے کام یابی کی پہلی سیڑھی سمجھا جاتا ہے، اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا اور اپنے زورِبازہ پر بھروسہ کرنا جو لوگ اپنی زندگی کے مقاصد کا تعین کرلیتے اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقاصد کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں، وہی زندگی میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر پاتے ہیں۔ خوداعتمادی انسانی ترقی کی عمارت کی بنیاد میں سیمنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ بھی اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ترقی کی شاہراہ پر گام زن ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان کی عملی زندگی میں ناکامی کی بنیادی وجہ احساس محرومی،احساس کمتری اور اپنی ذات پر بھروسہ نہ ہونا ہے، جن لوگوں میں خوداعتمادی

دھان کی کاشت کاری کیسے کی جائے | پنیری لگاتے وقت ایک جگہ دو یا تین پودے لگائیں

آج کل کسان حضرات دھان کی کاشتکاری میں مصروف ہیں۔دنیا کے پچاس فیصد لوگوں کا کھانا چاول ہی ہوتا ہے،چاول 'اوریزا سٹایوا نامی پودے کا ایک دالیہ بیج ہے، جو گھاس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ توانائی کا بڑا ذریعہ ہے اور عالم انسانی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی غذا ہے، خاص طور پر مشرق، جنوب مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مکئی کے بعد دنیا میں دوسری عظیم پیداواری فصل کی حیثیت رکھتا ہے۔چونکہ مکئی کی پیداوار انسانی استعمال کی بجائے کئی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے،اس لیے ایک اندازے کے مطابق چاول انسانی خوراک کی ضروریات اور توانائی کے حصول میں سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انسان اپنی تمام تر توانائی کی ضروریات کا پانچواں حصہ چاول سے پورا کرتے ہیں۔کشمیر کے لوگوں کی بنیادی غذا چاول ہی ہے، لہٰذا دھان سب سے اہم پیداواری فصل ہے ۔کشمیر میں دھان قریباً ایک

کامیاب ہول سیل مارکیٹنگ کی حکمت ِ عملی

ہول سیل ڈسٹری بیوٹر کے طور پر، آپ کو اپنی مصنوعات خریدنے کے لیے وضع دار گاہکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بار بار آپ کی مصنوعات خریدنے والے گاہکوں کی موجودگی سے آپ کو اپنے کاروبار میں مہمیز ملتی ہے۔ پھر بھی یہ بہت اہم ہے کہ آپ نئے ہول سیل گاہک حاصل کریں تاکہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔ اگرچہ یہ آسان معلوم ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے کاروبار کا طاق (niche) اور موجودہ صنعتی رجحانات نئے گاہکوں کو جمع کرنے کی آپ کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہول سیل مارکیٹنگ کی مؤثر حکمت عملی، کاروبار کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہے۔ اکثر، تیز فروخت کی حکمت عملیوں کے مقابلے میں ’مارکیٹنگ‘ کی اصطلاح کم مؤثر لگ سکتی ہے۔ تاہم ہول سیل مارکیٹنگ کی حکمت عملی میں سرمایہ کاری آپ کو طویل مدت میں گاہکوں کو راغب کرنے میں مدد دے گی۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ مسلسل فروخت کا باعث بنے گا۔جب آپ ہول س

روحِ جدید

اللہ کا شکر ہے میرے پاس دوستوں کی اچھی خاصی تعداد ہے مختلف قدوقامت، رنگ و روپ، شکل و صورت،جداگانہ صلاحیت کے مالک، منفرد جذبات و برداشت کے حاکم ،دنیاوی اعتبار سے مختلف حیثیت کے وارث لیکن ادبی اور تہذیبی اعتبار سے سب اچھے صحت مند جسم والے مزدوروں کی طرح مضبوط ہیں۔ خدا ان کی عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے۔انہی میں سے ایک عظیم دوست جو میرے دل اور روح کے قریب ہے کا ذکر چھیڑ رہا ہوں ۔ حضرت کا قد درمیانہ ہے ساڑھے پانچ فٹ کے قریب لمبائی لیکن صحت مند اتنے کہ ماشا اللہ ! خوبصورت بڑا سا سر اور موٹے موٹے نرم گال جن پر دو کالے تل اور خوبصورت نظر آتے ہیں۔ خوشنما ہونٹ جن کے اندر بڑے بڑے دانت ہر چھوٹی سی ہنسی میں مکمل جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بچوں کی طرح پیاری ٹھوڑی، چھوٹی سی ناک ،چاند جیسی بھویں جن کے درمیان فاصلہ خاندانی اعتبار سے تھوڑا زیادہ ہی ہے ۔اسی طرح آنکھیں مثل بادام گویا کسی خوبصورت لڑکی سے چرائ

! چترال کاتشنۂ تکمیل پُل ؟ | زندگی کی رفتار میں بڑی رکاوٹ کا سبب

'سال 2015 اور2016 کے بیج 37 سالہ ایک سو مو ڈرائیور کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ اُس کا کہنا ہے بارش بہت تیز ہونے کی وجہ سے دریا بہت تیز رفتار سے بہہ رہا تھا اور ساری گاڑیاں آر پار رُکی پڑی تھی۔ میں نے جیسے ہی گاڑی پل کے اندر لی گاڑی فوراً بند ہو گئی اور اس کے ٹائر گھوم گئے۔باہر کھڑے لوگوں نے بہت شور مچایا مگر مجھے باہر نکلنے کا راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔چاروں طرف مجھے موت نظر آ رہی تھی ، جیسے تیسے میں گاڑی سے نکل آیا اور پانی سے باہر آنے لگا تو پانی کی تیز رفتار نے مجھے اپنے ساتھ لپیٹ لیا اور میں تقریبا پانچ سو میٹر تک بہتا چلا گیا، مجھےیقین ہوگیا تھا کہ اب میں زندہ نہیں رہوں گا۔ لیکن خوش قسمتی سے ایک پانی کی لہر نے مجھے جیسے ہی اُوپر اُچھالا تو میں کنارے پر جا کے لگا اور ہاتھ میں ایک پتھر آ گیا۔ جس کے سہارے میں رُک گیا اور لوگوں نے آکر مجھے وہاں سے نکالا۔یہ واقع ہے جموں کشمیر

تازہ ترین