حالیہ برف باری اورمکررتجربہ | انتظامیہ کا اقبالِ جرم بَجا،مجرم کو سزا بھی دی جائے

جنوری کے آغاز میں وادی کے اطراف و اکناف میں بھاری برف باری ہوئی۔سرینگر میں بھی اڑھائی فٹ برف نے زندگی کا پہیہ جام کردیا ، مفصلات اور دْور دراز پہاڑی علاقوں کی حالت سب پر عیاں ہے۔ محکمہ موسمیات اور دیگر ماہرین نے یہ نام نہاد اعلان کردیا کہ چالیس سال بعد اس طرح کی برفباری ہوئی ہے اور انتظامیہ نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کردئے کہ ’’چالیس سال سے ہمارے پاس برف ہٹانے کی جدید مشینری نہیں ہے‘‘۔ مشرقی یورپ، روس، امریکہ کے الاسکا، ایریزونا اور خطہ ٔ ارض کے مختلف گوشوں میں دس دس فٹ برف ہوتی ہے، لیکن ہمارے یہاں برف باری کا مطلب کچھ اس طرح ہے؛ • بجلی بند • پانی بند • سڑکیں اور پل بند • انٹرنیٹ تو پہلے ہی بند ہے • امتحانات ملتوی • نوکریوں کے انٹریوز کا التوا • تعمیراتی کام ٹھپ • دفتروں میں کم حاضری سے کام کاج

اب برطانیہ آزاد ہے

گزشتہ چار سال 27ہفتے اور 2 دن تک چلنے والے بریگزٹ کا عمل انتہائی نازک اور پیچیدہ گفت و شنید کے بعد بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔تاریخی طور پر اس عمل کا اختتام 31دسمبر 2020ء کی رات سے کیا گیا۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ بریگزٹ کی مہم جس کی وجہ سے دو برطانوی وزرائے اعظم کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑے ، جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی تھی جس کے دوران  عوام کو گمراہ کیا گیا اور غلط و اشتعال انگیز معلومات فراہم کی گئیں جس کا نتیجہ چند سیاست دانوں کے حق میں مثبت ثابت ہوا۔ جیسے کہ بورس جانسن نمبر 10 پر قابض ہونے میں  کامیاب ہوئے۔ نئے سال کے اپنے پیام میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بڑی حد تک بریگزٹ کو نظرانداز کیا۔ یہ وہ مسئلہ تھا جس نے ان کے سیاسی کیریر کو دوسروں سے کہیں زیادہ بہتر شکل اور ثمر دیے۔ بجائے اس کے انہوں نے کوویڈ19- کی صورتحال پر اپنی توجہ مرکوز کی جسے انہوں نے 2020 ء کا المیہ قرا

دورانِ حمل ڈائٹ پلان کیا ہونا چاہئے؟

کسی بھی عورت کے لییماں بننا دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہے لیکن یہ مرحلہ آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس دوران اسے جسمانی اور ذہنی تبدیلیوں کی صورت مشکل ترین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ماں کی جانب سے بچے کے لیے اٹھائی جانے والی ان تکالیف کی بدولت ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے۔ اولاد چاہے ساری زندگی خدمت کرے مگر ماں کا قرض نہیں اْتار سکتی۔  ؛ماں بننے کا عمل جہاں عورت کے لیے نہایت خوشگوار ہوتا ہے وہیں اس کو اپنی خوراک کا بھی اتنا ہی خیال رکھنا ہوتا ہے کیونکہ ماں کو اپنی ضروریات کے ساتھ بچے کی نشوونما کے لیے بھی غذائیت بھری خوراک درکار ہوتی ہے۔ حمل کے دوران اگر آپ ڈائٹ پلان کے حوالے سے پریشان ہیںکہ کن غذائوں کا انتخاب کیا جائے تو آج کی ہماری تحریر آپ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق دورانِ حمل، عورت کو اپنی اور بچے کی حفاظت کے لیے مخصوص معدنیات، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزاء

قدرتی وسائل کی بقاء ایک اہم مسئلہ

کرّئہ اَرض پر بسنے والے اِنسانوں کے تحفظ، فلاح و بہبود اور محدود وسائل میں آبادی کی روز بروز بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر قدرتی وسائل کی ’’بقاء‘‘ یا ‘‘تحفظ‘‘ کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیوں کہ اگر دیکھا جائے تو دورِ حاضر کے ترقّی یافتہ معاشرے میں ہم جو کچھ بھی اپنی زندگی گزارنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں وہ مختلف قدرتی وسائل کی بدولت ہے۔بشمول تمام دھاتی اور بھرت (Alloys) اور ہزاروں اقسام کے ایسے ’’محاصل‘‘ جو مختلف کیمیکلز سے تیار ہوتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی حوالے سے قدرتی وسائل سے ہی دستیاب ہوتے ہیں۔  چناں چہ جب تک ان وسائل کے نئے ذخائر کی دریافت یا مختلف طریقہ ہائے متبادل کی ایجاد، انسانی آبادی اور قدرتی وسائل کے مابین توازن کے قیام، موجودہ اور آنے والی نسلوں کے ان وسائل سے استفادہ کے حقوق کی منصفانہ تقسیم ک

مشرق ومغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | اپنے مشاہیر کو نظر انداز کرنے کا غلط رویہ

کئی حضرات کے مضامین اور بیانات پڑھ سن کر بڑا تاسف ہوتاہے جب وہ اپنے مؤقف یا نقطہ نظر کو پیش کرنے میں اعتدال قائم نہ رکھنے کی وجہ سے عام قارئین کو تذبذب میں مبتلا کرتے ہیں۔ قارئین ان حضرات کے مضامین پڑھ کر کوئی خاص رخ پانے،نتائج اخذ کرنے اور ایک خاص نقطہ نظر پیدا کرنے کے برعکس نہ جانے کن کن وادیوں میں خود کو بھٹکتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ حضرات ایک طرف تو مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلاف کی قدردانی کا مزاحیہ انداز بھی اپناتے ہیں اور ساتھ ساتھ اسٹیج پہ آکے اپنے مشاہیر کو کلی طور پر نظرانداز کرتے ہیں۔ان حضرات کو کانٹ، نشطے، برنارڈ شاہ وغیرہ کو نقل کرنے میں فخر محسوس ہوتا ہے لیکن اپنے مشاہیر کا نام لینا بھی ان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔ان حضرات کی یکطرفہ نگارشات اور تقاریر میں اکثر و بیشتر احساسِ پستی کے الفاظ کا ڈھیر لگ جاتا ہے پھر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ کے اس وزنی

تازہ ترین