تازہ ترین

تلخ سانحات سے سبق سیکھنا لازمی

یہ حقیقت ہے کہ موت کے بغیر ہر بیماری کا علاج ہے مگر جہالت اور بےوقوفی کا کوئی علاج نہیںجبکہ ربط و ضبط اعلیٰ ترین معالج ہے۔ بے خوف اور نڈر انسان بسا اوقات مشکلات اور خطرات سے بچ جاتا ہے لیکن مشکلات و خطرات سےبچاو کے تدابیر پرعمل نہ کرنا ہلاکت کا موجب ہو تا ہے۔ جو کوئی بیمار’پرہیز‘کی چیزوں کے ضرَرسے واقف ہواور پھر اِنہی کو کھاتا ہوتو انجام کار موت کا ہی نوالہ بن جاتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندگی بغیر عقل کے حیوانیت ہے اور مشکل اوقات میں عقل سے زیادہ کوئی دستگیر نہیں۔ قارئین کرام ! جموں و کشمیر میں کووڈ۔ 19اوراس کی نئی قسم اومیکرون کے واقعات میںجس طرح کا اضافہ دیکھنے میںآ رہا ہے۔اُس سے کورونا وائرس کی نئی لہر کے آغاز کی نشان دہی ہوتی ہے۔ محکمہ صحت بھی متنبہ کررہا ہے کہ اس لہر کے پھیلائو کو روکنے کے لئےویکسی نیشن کرانااور احتیاطی تدابیرپر عمل پیرا رہنا ضروری ہے۔ چنانچہ

بہاریں لوٹ آئیں گی حالات سنور جائیں گے

اس وقت عالم اسلام تاریخ کے نازک ترین اور خطرناک دور سے گذر رہا ہے۔ مشرق سے مغرب تک کی ساری اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے پیچھے پڑگئی ہیں۔ انہیں ہر جگہ نشانہ بنایاجا رہا ہے، انکے شیرازے کوبکھیرنے، ان کے اجسام کو ٹکڑے کرنےاور انکا نام و نشان مٹانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ بالخصوص وطن عزیز ہندوستان میں بھی بعض منافر عناصر کے ہاتھوں مظالم کا شکار ہورہے ہیں۔ ان کو کو سر راہ پکڑ کر ’جے شری رام‘ کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، انکی مآب لنچنگ کی جاتی ہے، ’لو جہاد‘ کے نام پر قید کیا جاتا ہے، ’گئو رکشا‘کے نام پر ناحق پیٹ پیٹ کے قتل کیا جاتا ہے۔مسلم پرسنل لاء‘ اور ’شریعت ‘میں مداخلت کی کوشش کی جاتی ہے،مساجدکو گرانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس صورت حال سے مسلمان اور دوسری اقلیتیں ڈری اور سہمی ہوئی ہیں۔ فرقہ پرست عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ

’’ الہا م سے پہلے‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نام کتاب: الہام سے پہلے،    شاعر: اشرف عادل صفحات:122،اشاعت:2021 ناشر:ایجو کیشنل پبلشنگ ہائود نئی دہلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقول آل احمد سرورؔ   غزل میں   ذات بھی ہے کائنات بھی ہے   ہمارے بات بھی ہے تمہارے بات بھی ہے اس بات میں شک کئی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ اردو غزل کا دامن بہت وسیع ہے، اتنا و سیع ہے کہ شاعر انسانی ذات اور کائنات کو ایک ہی شعر میں قید کر سکتا ہے۔اب جہاں تک جموں وکشمیر کے ادبی دبستان کا تعلق ہے یہاں کے شعراء نے بھی اردو ادب کی اس مقبول ترین صنف’’غزل‘‘ کے دامن کوزینت بخشنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں اشرف عادل بھی خاص اہمیت کا حامل  ہے ۔’’الہام سے پہلے‘‘ اشرف عادل کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جو کہ ۶۰ غزلوں پر مبنی ہے جو انھوں نے آن لا

ایس معشوق کی کتاب’’میں نے دیکھا‘‘کا مختصر جائزہ

نام کتاب:    میں نے دیکھا،مصنف :    ایس معشوق احمد  نوعیت :    انشائیے / خاکے،صفحات :     110،مبصرہ  :    ڈاکٹر شبنم افشا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وادی کشمیر میں باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی  ذہانت اور تخلیقی صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر ادبی دنیا میں الگ پہچان بنائی۔ایسا ہی ایک باصلاحیت نوجوان ایس معشوق احمد ہے۔ ایس معشوق احمد دبستان کشمیر کے گلشن کا ایسا پھول ہے جو اپنی تحریروں سے ہر سمت خوشبو بکھیر رہا ہے۔ایس معشوق احمد کا تعلق کشمیر کے ضلع کولگام   کے ایک گاؤں کیلم سے ہے۔کیلم میں ہی  1992ء کو پیدا ہوئے۔ادب سے لگاؤ بچپن ہی سے ہے۔ کالج دور سے انہوں نے شاعری شروع کی اور پہلی نظم ’’ عشق لازوال ‘‘کے عنوان سے لکھی ۔شاعری میں عروض کو ضروری سمجھتے ہیں اور باقاعدہ

منور رؔانا۔۔۔اردو شاعری کا درخشندہ ستارہ

منور رانا کا اصل نام سعید منور علی ہے ۔اُن کا شمار اردو کےعالمی شہرت یافتہ شاعروں میں ہوتا ہے۔ یہ اُن گنے چنے شاعروں میں گردانے جاتے ہیں۔جنہوں نے غزل میں ماں کے موضوع کو پیش کرنے کی شروعات کی ہے ۔منور رانا ہندوستان کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہترین شعراء میں سے ہیں، جو پچھلے پانچ دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں  مشاعروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ چمکتا تارا 26 نومبر 1952 میں رائے بریلی اترپردیس میں طلوع ہوا ، تاہم انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ کلکتہ میں گزارا۔تقسیم ہند کے وقت منور رانا کے رشتہ دار پاکستان ہجرت کر گئے، منور رانا کے والد نے ہندوستان میں ہی رہے ۔ منور رانا سے پہلے اردو غزل گوئی میں صرف حسن و عشق کے موضوعات پیش کیے جاتے تھے۔لیکن مزکورہ شاعر نے غزل میں ماں جیسا موضوع پیش کیا ۔منور رانا سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ غزل میں ماں جیسے موضوع کو پیش کرنے کی کیسے سوجھی؟۔ توانہ

تازہ ترین