تازہ ترین

جمالیات، ارفع ادب اور غالب

خالق کائنات نے انسان کو احساس کی جس نعمت سے نوازا ہے اس کا اظہار انسان مختلف صورتوں میں کرتا ہے۔ عقل و اخلاق کی حسیات انسان کو مخلوقات کے درمیان بے شک ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں، لیکن حس جمالیات انسانی شخصیت کے مختلف دائروں کو حسین و جمیل بنادیتی ہے۔ یہ حس انسانی زندگی میں اس طرح رنگ بکھیر دیتی ہے کہ انسان کی صناعیت اور ظرافت پھیکی پڑجاتی ہے اور نہ پژمردگی کا شکار ہوتی ہے۔ یہی حس عقل کی مجرد دنیا میں کی جانے والی جولانیوں کو پرکشش بنادیتی ہے اور اسی سے اخلاق و عمل کی دنیا میں کی جانے والی سعی و جہد بھی پرکشش بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حس کے زیر اثر وقوع پذیر ہونے والی انسان کی عقلی و عملی کاوشوں نے ایک باضابطہ فلسفے یعنی جمالیات (ایستھٹکس) کو جنم دیا۔ اس فلسفے کو کبھی کبھی فلسفہ ہنر سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں فن پاروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، جبکہ مجرد جمالیات میں ذوق و جمال کی ت

زندگی میں اخلاق واخلاص کی اہمیت

 ذہنی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے ۔تعلیم یافتہ معاشروںمیںانسانیت ،اخلاقیت ،مروت ،یکسانیت ،جمہوریت، ہمت و طاقت اور اعتباریت کی وسعت ہوتی ہے۔ جدید دور میں تعلیمی اعتبار سے شہرت حاصل ہوتی ہےکیونکہ ہر مسئلے اور ہر معاملے تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔اس جدید دور میں انسان کی اصل پہچان اُس کی تعلیم اور رہن سہن سے کی جاتی ہے۔کسی کے ساتھ گفت وشنید اُس کے علمی شعور کو مدنظر رکھ کے کی جاتی ہے ۔مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کی ٹھاٹھ باٹھ ،بہترین لباس ،رعب دار آوازسے اُس کو علمی شخصیت مانا جائےبلکہ کسی کی بھی شخص کےعلمی شعورعلمی شعور کا اندازہ اُس کی گفتگو،سلیقہ مندی ،دور اندیشی،اخلاق،خُلق،قوت ِ برداشت ،غیر جانبداری،انصاف پسندی اور یکسانیت سے لگایا جاتا ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ معاشرے میںوہ نامدار بنا ہوا ہو،یا اُس میں صرف وہی اُس علم  سے واقف ہو، جس سے وہ محض دولت

امن کی فضا ضروری ہے ترقی کے لئے

کوئی بھی معاشرہ تبھی ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے جب سماج میں امن و امان کا ماحول ہو اور عوام کو بنیادی سہولت میسّر ہو۔اگر لوگ ذہنی انتشار کے شکار ہوں گے تو معاشرے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور پھر ذہنی کشمکش کا انجام یہ ہوگا کہ لوگوں کی کارکردگی پر اس کا بُرا اثر پڑے گا،پھر شکست خورد ہ سماج میں امید کی کوئی علامت باقی نہیں رہے گی۔آج کل دنیا کے جو حالات ہیں، اس میں ہر طرف ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہر کوئی اپنے مستقبل کے لئے فکر مند نظر آتا ہے ۔کورونا کے اس دور میں لاکھوں لوگوں کی نوکریا ں ختم ہو چکی ہیں ۔معاشی بد حالی کی وجہ کر لوگوں کی زندگیاں جہنّم بن چکی ہیں، خاص کر اوسط درجے کے لوگوں کو بڑھتی مہنگائی اور بیکار ی نے پریشان کر رکھا ہے ۔لوگوں کی آمدنی کے ذرائع کم ہوتے جارہے ہیں، بےکار ی کی وجہ سے نوجوان نسل بے راہ روی کی شکار ہو رہے ہیں۔اگر ان کے اندر بگاڑ پیدا ہو جائے گا تو پ

کہیں ہم منافقین میں شامل تو نہیں؟

 لفظ منافق اگر دیکھا جائےتو یہ "نفق "سے نکلا ہے، جسکا معنی ہے ایک طرف سے نکل کر دوسری طرف جانا ۔ منافق لوگ کبھی بھی ایک جگہ پہ نہیں بیٹھ سکتے یہ تو کبھی اِدھر جاتے ہیں کبھی اُدھر ، یہ انسان کو کبھی بھی مکمل نقطہ نظر نہیں دیتے اور نہ ہی یہ لوگ زندگی میں کسی ایک انسان کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ محبت سے خالی ہوتے ہیں ۔ انکا دعویٰ صرف زبان تک محدود رہوتا ہے لیکن دل میں کسی قسم کے جذبۂ ایثار و قربانی اور ہمدردی نہیں ہوتی ۔ ان کا غرض صرف دوسروں سے مفاد حاصل کرنے کا ہوتا ہے، اس لئے یہ تھوڑی دیر کے لیے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں اور مفاد حاصل کرنے کے بعد انسان کو پہچانتے تک نہیں ۔ منافق کے ساتھ رشتہ کبھی برقرار نہیں رہتا ،آخرکار وہ ٹوٹ ہی جاتا ہے۔ کیونکہ مفاد اور خودغرضی سے جڑے ہوئے رشتے کبھی قائم و دائم نہیں رہتے۔ یہ لوگ اگر کوئی اچھا کام کرلیتے ہیں تو صرف اور صرف دکھا

باشعور اور متحرک نسلِ نو کہاں ہے؟

  نوجوان دنیا بدل سکتے ہیں، اقلاب بپا کرسکتے ہیں اور قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں جب بھی اور جہاں بھی انقلاب آیا ، اس کی قیادت نوجوانوں نے ہی کی۔ ہر ورق پر ان کا کردار بڑا اہم اور کلیدی نظر آتا ہے۔ زمانہ قریب میں مشرق وسَطِی میں یکے بعد دیگرے کئی ممالک میں آنے والے انقلابات میں بھی نمایاں کردار نوجوانوں کا ہی تھا ۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ماضی میں بھی ہر چھوٹی بڑی تبدیلی نوجوانوں ہی کے ذریعہ سے آئی۔ستّر کے عشرے کے آخری برسوںمیں ایران کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بیس فیصد تھا اور 1989 میں ایران میں انقلاب بپا ہوا۔ نوجوانوں نے اپنے جوش و خروش اور ولولے سے ہی قوموں کی تقدیریں بدل ڈالی ہیں۔ اسی لئےہر نیا زمانہ نوجوانوں کے عزم و استقلال کو یاد کرتا ہے۔زمانہ حال میں بھی ہر چھوٹی بڑی تنظیم یا تحریک چاہے سیاسی ہو یا مذہبی وسماجی ان می

بُرے گمان اور غلط نظریہ سے بچنا چاہئے

معمول کے مطابق عشاء نماز کی اذان سنتے ہی میں لایبریری سے نکلا کہ راستے پہ ایک شخص پر نظر پڑی۔ جو شکل سے تو عرب ممالک کا لگ رہا تھا ۔ بوڑھا رسید عمر کا بزرگ، لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا کہ اس کا پیٹ پھولا ہوا تھا۔ چنانچہ میں لایبریری میں دن بھرمختلف ڈیزیز / بیماریوں کے بارے میں پڑھ رہا تھا اوریہاںاس شخص کو دیکھ کر من ہی من میں سوچ رہا تھا کہ اگر انسان جوانی سے ہی اپنی صحت کا خیال رکھتا تو بوڑھاپے میں اتنی ساری بیماریاں آ نہیں گھیرتیں۔ خیر میں گھر کی جانب چل پڑا اور وضو کرکے مسجد میں نماز پڑھنے گیا۔ اس پھولے ہوئے پیٹ والے بزرگ شخص کو بھی پہلی صف میں پایا، جو کرسی پہ نماز پڑھ رہا تھا۔ بہرحال نماز پڑھ کے میں گھر واپس آ گیا۔ بہت دیر تک میرے بڑے بھائی مسجد سے واپس نہیں آئے، جن کے ساتھ میں جموں میں رہتاتھا ۔ میں اُنہیں ڈھونڈنے پھر مسجد گیا۔ وہاں زور زور سے آوازیں آرہی تھیں گو یا جیسےکوئی ل