تازہ ترین

لکھیم پور کھیری سانحہ

نئی دہلی// سپریم کورٹ نے منگل کو لکھیم پور کھیری قتل کیس میں اتر پردیش حکومت کے ‘ڈھیلے ’ رویے پر ایک بار پھر کئی سوالات اٹھائے اور گواہوں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تفتیش میں تیزی لانے کا حکم دیا۔چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے حکومت کو حکم دیا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت گواہوں کی گواہی کے عمل میں تیزی لائی جائے ۔عدالت عظمیٰ نے پی آئی ایل کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے عدالتی افسر متعلقہ علاقے میں دستیاب نہیں ہے تو ضلع جج کو دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔ قریبی علاقے کا کوئی اور مجسٹریٹ اس کا انتظام کر سکتا ہے ۔بنچ نے کہا کہ ہم اترپردیش حکومت کو گواہوں کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

سونیاکا بھاجپاکے نظرئیے کیخلاف لڑنے کیلئے کارکنوں پر زور

پارٹی جنرل سکریٹریوں، ریاستی انچارجوں اور ریاستی صدور کی میٹنگ سے خطاب نئی دہلی//یو این آئی// کانگریس کی صدرسونیا گاندھی نے منگل کے روز یہاں مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریے کے خلاف سخت لڑائی لڑنے اور ان کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لئے پارٹی کے کارکنوں پر زوردیا ۔ محترمہ گاندھی نے پارٹی جنرل سکریٹریوں، ریاستی انچارجوں اور ریاستی صدور کی ایک اہم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے اتحاد اور نظم و ضبط قائم کرنے کی تلقین کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بی جے پی-سنگھ کے بدنیتی پر مبنی نظریے کا مقابلہ کرتے ہوئے پورے عزم کے ساتھ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔  

سی بی آئی کے 5افسران جبری ریٹائر

   نئی دہلی//حکومت نے سی بی آئی کے پانچ افسران، سینئر ایڈوکیٹ کو زبردستی ریٹائر کر دیا۔ذرائع نے منگل کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے سی بی آئی کے پانچ افسران اور ایک سینئر سرکاری وکیل کوزبردستی طور پر ریٹائر کر دیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ افسران اور وکیل کو بنیادی قواعد کی شق 56 (j) کے تحت مفاد عامہ میں ہٹا دیا گیا ہے۔  

بی ایس ایف کے دائرہ اختیار میں توسیع سے لوگوں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا: ممتا

 کرسیونگ //بی ایس ایف کے دائرہ اختیار میں توسیع کے فیصلے پر مرکزی حکومت کے خلاف اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو الزام لگایا کہ اس اقدام کا مقصد عام لوگوں کو اذیت دینا ہے۔بنرجی نے یہ بھی کہا کہ وہ سرحد کی حفاظت کرنے والی فورس کا اس کام کے لیے احترام کرتی ہے، لیکن اس کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کے پیچھے "ارادہ" کی مذمت کرتی ہے۔بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت نے بی ایس ایف ایکٹ میں ترمیم کی ہے تاکہ فورس کو پنجاب، مغربی بنگال اور آسام میں بین الاقوامی سرحد سے 15 کلومیٹر کے بجائے 50 کلومیٹر کے وسیع علاقے میں تلاشی، ضبطی اور گرفتاری کا اختیار دیا جائے۔ "بی ایس ایف کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کی آڑ میں، لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی، بی ایس ایف کے پاس ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار بھی نہیں ہے۔