تازہ ترین

ملک میں 46790 نئے کوروناوائرس متاثرین ، تعداد7597063

نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس (کووڈ۔19) متاثرین کی تعداد میں لگاتار اضافہ کے ساتھ 75.97 لاکھ ، جبکہ جان لیوا وباسے شفایاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 7.48 لاکھ ہوچکی ہے۔ منگل کے روز صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 46790نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس سے کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد7597063 ہوگئی۔  

ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 76لاکھ کے قریب

 نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ کے ساتھ 75.50 لاکھ ، جبکہ فعال کیسزکی تعداد کم ہوکر 7.72 لاکھ رہ گئی ہے ۔مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے پیر کے روز جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 55،722 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس سے یہ تعداد بڑھ کر 75،50،273 ہوگئی۔ اسی عرصہ کے دوران 66،399 مریضوں نے جان لیوا وبا کورونا کو شکست دی جس سے ملک میں شفایاب ہونے والے کورونا مریضوں کی تعداد 66.63 لاکھ ہوچکی ہے ۔ ایکٹیو کیسز 11،256 سے گھٹ کر 7،72،055 پر آگئے ، تاہم صحت مند افراد کی تعداد نئے کیسز کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ مرنے والوں کی تعداد میں ایک دن کے اضافے کے بعد اس میں ایک بار پھر کمی واقع ہوئی اور اتوار کے روز اس کی تعداد 104 کے مقابلے میں 454 کم ہوکر 579 ہوگئی ، جس کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 1،14،610 ہو چکی

نمونوں کی جانچ ساڑھے نو کروڑ سے متجاوز

نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹسٹ کے ذریعہ متاثرہ افراد کا پتہ لگانے کی مہم میں ٹسٹوں کی مجموعی تعداد18 اکتوبر کوساڑھے نو کروڑ سے تجاوز کر گئی اور یہ شرح فی 10 لاکھ پر 68 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے ۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے 19 اکتوبر کو جاری کااعدادوشمار میں کہا گیاہے کہ 18 اکتوبر تک ملک میں کورونا وائرس کے نمونوں کی کی کل جانچ 9.50 کروڑ تک پہنچ گئی۔ اس میں سے 18 اکتوبر کو 8.59 لاکھ جانچ کی گئی ہے ۔18 اکتوبر کو ملک میں فی دس لاکھ آبادی پر ہونے والی جانچ کا اعداد و شمار بھی بڑھ کر 68،821 ہو گئے ۔خیال رہے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے 24 ستمبر کو ایک دن میں ریکارڈ 14.92 لاکھ کورونانمونوں کا ٹسٹ کیا گیا تھا۔یواین آئی  

کورونا معاملات میں آئی کمی لاپرواہی کی وجہ نہ بنے :ڈبلیو ایچ او

نئی دہلی//عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے آج جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس ‘کووڈ 19’ کے نئے کیسز میں آئی کمی کودیکھ کرلاپرواہی برتنے سے اس تہواروں کے موسم میں صورتحال سنگین ہو سکتی ہے ۔ روز ڈبلیو ایچ او کی جنوب مشرقی ایشیائی خطے کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر پونم کھیترپال سنگھ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس خطے میں کورونا انفیکشن کے حالیہ کیسز میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے ، لیکن اس سے لاپروا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس خطے میں ابھی بھی کورونا انفیکشن کے بہت زائد کیسز ہیں۔ کورونا وبا کا قہر اب ابھی جاری ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مسلسل احتیاط ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تہواروں کے موسم اور سردیوں کے موسم میں لاپرواہی برتنے سے کورونا انفیکشن کی صورتحال زیادہ سنگین ہوسکتی ہے ۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مسلسل کوشش ضروری ہے ۔ انہو

وائرس کے اثرات پر2021کا حج منحصر:نقوی

نئی دہلی//اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ حج 2021 کورونا کی وبا کے پیش نظر قومی - بین الاقوامی پروٹوکول کے رہنما ہدایات پر منحصر ہوگا۔پیر کو یہاں حج 2021 کے سلسلہ میں جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے نقوی نے کہا کہ حج- 2021 جون جولائی کے مہینے میں ہونا ہے لیکن کوروناوائرس اور اس کے اثرات اور سعودی عرب اور حکومت ہند کے عوام کی صحت کا مکمل جائزہ لینے اور رہنما ہدایات کی بنیاد پر حج 2021 کا حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا ، دیگر ہندوستانی ایجنسیاں جلد ہی 2021 میں حج کے لئے درخواستیں حاصل کرنے اور دیگر تیاریاں جلد ہی شروع کردیں گی۔ حج- 2021 کی درخواست اور دیگر کارروائیوں کے سلسلہ میں سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے رہنما ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے حج انتظامات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی

عدالتیں سیر گاہ نہیں کہ جب دل میں آیاچلے آئے : عدالت عظمیٰ

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومتیں جان بوجھ کر اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کرتی ہیں ، کیونکہ انہیں عدالتیں بطور سیر گاہ نظر آتی ہیں۔جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس دنیش مہیشوری کی بنچ نے حال ہی میں مدھیہ پردیش حکومت کی خصوصی عرضی خارج کرتے ہوئے ان پر 25،000 روپے جرمانہ عائد کیا۔ دریں اثنا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریاستی حکومتیں جان بوجھ کر اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کرتی ہیں ، تاکہ ان کے پاس یہ کہنے کا بہانہ ہو کہ درخواست خارج کردی گئی ۔بنچ نے کہا کہ مقررہ مدت (لمیٹیشن پیریڈ)کونظر انداز کرنے والی ریاستی حکومتوں کیلئے عدالت عظمیٰ سیر گاہ نہیں ہوسکتی کہ جب دل میں آیا یہاں چلے آئے ۔عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو ‘عدالتی وقت ضائع کرنے کا خمیازہ برداشت کرنا چاہئے ’ اور اس کے ذمہ دار حکام سے قیمت وصول کی جانی چاہئے ۔خیال رہے مدھیہ پردیش حکومت نے ‘بھیرو لال معاملہ

تازہ ترین