تازہ ترین

کیرالہ میں سیلاب کی صورتحال سنگین | ہلاکتوں کی تعداد 35 ہوگئی، بچائو کارروائیاں جاری

نئی دہلی //کیرالہ میں سیلاب کی صورتحال بہت سنگین ہے اور سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 20 تاریخ سے ریاست میں پھر زبردست بارش کے امکان ہیں۔دوسری جانب کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سیلاب زدہ علاقوں سے نکالے گئے لوگوں کی بحالی کے لیے یہاں 105 امدادی کیمپ کھولے ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس مینجمنٹ (این ڈی آر ایف) کی کل 11 ٹیمیں بارش اور ممکنہ سیلاب اور کئی اضلاع میں سیلابی پانی کی وجہ سے اعلان کردہ ریڈ الرٹ کے پیش نظر امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ وزیراعلی نے بتایا کہ این ڈی آر ایف کی ایک ایک ٹیم پٹھانمٹھیٹا ، اڈوکی ، الپپوزہ ، ارناکولم ، تریشور اور ملاپورم اضلاع میں تعینات کی گئی ہے۔ اڈوکی ، کوٹیم ، کولم ، کنور اور پلکڈ اضلاع میں این ڈی آر ایف کی اضافی پانچ ٹیمیں تعینات کرنے کے لیے

اُتراکھنڈ میںبارشوں کا قہر | 3نیپالی مزدور ہلاک، چاردھام یاترا عارضی طورمعطل

دہرادون// اتراکھنڈ میں مسلسل دوسرے دن مسلسل بارش سے نیپال کے تین مزدور ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ۔حکام نے چاردھام یاتریوں کو مشورہ دیا کہ موسم بہتر ہونے تک ہمالیائی مندروں میں نہ جائیں۔ضلع مجسٹریٹ وجے کمار جوگڈنڈے نے بتایا کہ مزدور ضلع پاڑی کے لینس ڈاون کے نزدیک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے جب بارش کی وجہ سے اوپر کے کھیت سے ملبہ نیچے بہہ رہا تھا۔وہ اس علاقے میں ایک ہوٹل کی تعمیر کے کام میں مصروف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو کوٹدوار بیس ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔دریں اثنا ، چاردھام یاتری جو اتوار تک ہریدوار اور رشی کیش پہنچے ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ جب تک موسم بہتر نہیں ہوتا آگے نہ بڑھیں ، جبکہ ہمالیہ کے مندروں کے لیے گاڑیوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔چار دھام جانے والے عقیدتمندوں سے انتظامیہ نے محفوظ مقامات پر رہنے کی اپیل کی ہے۔ کئی عقیدت مند ہری دوار ریلوے اسٹیشن اور رش

’ریل روکو‘ تحریک | شمالی بھارت میں 200سے زائد ٹرینیں متاثر

نئی دہلی// اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے سنیکت کسان مورچہ کی ‘ریل روکو’ تحریک کا پنجاب،ہریانہ ،اتر پردیش اور راجستھان میں وسیع پیمانے پر اثردیکھنے کو ملا اور شمالی ہندوستان میں 200سے زیادہ ٹرینیں متاثر ہوئی جن میں تقریباً 40 گاڑیوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ریلوے بورڈ کے سرکاری ذرائع کے مطابق دو سو سے زیادہ گاڑیوں کے چلنے پر کسانوں کی تحریک کے سبب اثر پڑا ہے ۔ تقریباً 40 گاڑیوں کو رد کرنا پڑا۔ تمام گاڑیوں کو جزوی طور پر رد کیا گیا اور کچھ کو تبدیل شدہ راستوں پر چلایا گیا۔ شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تک صورتحال معمول پر آ پائی۔شمالی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن افسر دیپک کمار نے بتایا کہ تقریبا 150 مقامات پر تحریک کے سبب ریل ٹریفک متاثر ہوا۔ سب سے زیادہ 23 ٹرینیں دلی ڈویژن میں، 19 گاڑ

لکھنؤ:جھڑپ میںبنگلہ دیشی گروہ کا سرغنہ ہلاک

لکھن// اترپردیش میں لکھنؤ کے گومتی نگر علاقے میں پولیس نے ایک مختصر مڈھ بھیڑ کے بعد 50ہزار روپئے کے انعامی بدمعاش کو مار گرایا جبکہ بدمعاشوں کی گولی لگنے سے تین سپاہی زخمی ہوگئے ۔پولیس نے پیر کو بتایاکہ بنگلہ دیشی دوراندازوں کے ایک گروہ کے راجدھانی میں آنے کی اطلاع پر پولیس نے گومتی نگر علاقے میں سہارا پل کے نزدیک گھیرابندی کی تھی۔ جس دوران  بدمعاشوں نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ بدمعاشوں کے حملے میں تین سپاہی زخمی ہوگئے ۔انہوں نے بتایا کہ جوابی کاروائی میں گروہ کا حمزہ جس پر 50ہزار روپئیکا  انعام تھا،ماراگیا اس کے قبضے سے ہتھیار اور گولی بارود برآمد کیا گیا ہے ۔