معروف گلوکار ایس پی بالاسبرمنیم نہیں رہے

چنئی //کھنکتی وسریلی آواز سے گلوکاری کی دنیا میں الگ پہچان بنانے والے مقبول پلے بیک سنگر ایس پی بالا سبرمنیم کا جمعہ کو کوروناانفیکشن کے سبب انتقال ہوگیا۔وہ74برس کے تھے۔کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بالا سبرمنیم کو پانچ اگست کو یہاں کے ایم جی ایم اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔اسپتال نے آج دوپہر میڈیا کو بتایا کہ بالا سبرمنیم کاانتقال ہوگیا۔ اسپتال انتظامیہ نے کل شام صحت بلیٹن جاری کرکے مشہور گلوکار کی حالت انتہائی خراب ہونے کی اطلاع دی تھی۔  بالا سبرمنیم کے بیٹے ایس پی بی چرن نے والد کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دوپہر ایک بج کر چارمنٹ پر آخری سانس لی۔ موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کے انتقال کی خبر سے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بالا سبرمنیم کی لاجواب وسریلی آواز نے دنیا بھرکے موسیقی مداحوں کو ان کا دیوانہ بنادیا تھا۔پانچ دہائیوں تک انہوں نے ا

ملک میں 86052 نئے کورونا کیس،متاثرین کی تعداد5818571

نئی دہلی// ملک میں لگاتار چھ دن تک کورونا وبا کو مات دینے والوں کی تعداد وائرس کے نئے کیسوں سے زیادہ رہنے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان میں کمی آئی اور اس دوران جہاں 81177 افراد شفایاب ہوئے، وہیں تقریبا پانچ ہزار مزید اضافہ سے 86052کیس رپورٹ ہوئے جن کے نتیجے میں فعال کیسوں میں3734 کا اضافہ ہوا۔ جمعہ کو مرکزی وزارت صحت کے جاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 86052 نئے کیس سامنے آئے ، جس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد5818571 ہوگئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران80177 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اب کورونا سے شفایابی حاصل کرنے والوں کی تعداد4756165 ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹیو کیسز کی تعداد3734 کے اضافہ سے مجموعی تعداد970116 ہوگئی ہے۔ اس سے قبل مسلسل چھ دن تک کورونا سے صحت مند ہونے والوں کی تعداد میں اضافے سے ایکٹیو کیسوںمیں کمی واقع ہ

سرحد پار عسکریت ،رابطے کو مسدود کرنا اور تجارت میں رکاوٹ کلیدی چیلنجز

سرینگر //مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ایسی کارورائیوں پر لازمی طور قابو پانا ہوگا۔ وزرائے خارجہ کی غیر رسمی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین اختلافات کی وجہ سے سرگرمیاں رک گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی ، رابطے کو مسدود کرنا اور تجارت میں رکاوٹ پیدا ہونا تین اہم چیلنجز ہیں جن پر سارک کو لازمی طور پر قابو پانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان چیزوں پر قابو پانے کے بعد ہی جنوبی ایشیاء کے خطے میں پائیدار امن ، خوشحالی اور سلامتی ممکن ہے ۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ پچھلے 35 برسوں میں سارک نے نمایاں پیشرفت کی ہے۔ لیکن شدت پسندی اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے اجتماعی تعاون اور خوشحالی کی طرف ہماری کوششیں رکاوٹ ہیں۔ایسا ماحول ہماری مشترکہ کوششوں کی

تازہ ترین