تازہ ترین

موجودہ حکومت نوکریاں دینے والی نہیں چھیننے والی ہے:آزاد

راجوری //سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعرات کو کانگریس کے تئیں اپنی وفاداری کا اعادہ کیا اور کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ کے طور پر ان کی مدت ملازمت حال ہی میں ختم ہونے کے بعد کئی سیاسی جماعتوں نے ان سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے ان میں سے کسی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ کانگریس کا حصہ ہیں۔ آزاد نے یہ بات جمعرات کو ڈاک بنگلہ سرنکوٹ میں منعقدہ ایک عوامی ریلی کے دوران کہی۔کانگریس سنیئر لیڈر نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ کے طور پر ان کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد بی جے پی کے علاوہ کئی سیاسی جماعتوں نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ممبر پارلیمنٹ سیٹ کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے ان تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا ہے کیونکہ وہ پچھلی چار دہائیوں سے کانگریس کا حصہ ہیں اور وہ آئندہ بھی کانگریس کا حصہ رہیں گے ۔انہوں نے مزید کہاکہ م

فوجی کمانڈر نے پونچھ حد متارکہ کا دورہ کیا

 راجوری //راجوری اور پونچھ کے جڑواں اضلاع میں کنٹرول لائن اور اندرونی علاقوں میں موجودہ ہائی الرٹ صورتحال کے دوران ہندوستانی فوج کے شمالی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے جمعرات کو پونچھ ضلع میں بالخصوص کرشنا گھاٹی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔ایل او سی اوراگلے علاقوں کے اپنے دورے کے دوران، لیفٹیننٹ جنرل جوشی نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اورحد متارکہ سے ملحقہ علاقوں میں تعیناتی فوجی اہلکاروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔مقامی فیلڈ کمانڈروں اور کمانڈنگ افسروں نے لیفٹیننٹ جنرل جوشی کو صورتحال خصوصاً حالیہ دراندازی کی کوشش کے تناظر کے بارے میں آگاہ کیا۔اپنے دورے کے دوران آفیسر موصوف نے ایل او سی پر چوکس رہنے اور حالیہ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے فوجیوں کی تعریف کی۔ان کے ساتھ فوج کے دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی تھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوج نے

صفر لائن پر زیر تعمیر مڈل سکول ٹھیری 13برسوں بعد بھی نامکمل

مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے سرحدی علاقہ دھراٹی میں صفر لائن کے قریب قائم کردہ گور نمنٹ مڈل سکول ٹھیری گزشتہ 13برسوں سے مکمل ہی نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم طلباء سٹاف ممبران کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ مڈل سکول کی تعمیر کا عمل 2008میں شروع کیا گیا تھا لیکن کئی برس بعد عمارت پر لینٹر ڈالا گیا جس کے بعد عمارت کو قابل استعمال بنانے کیلئے کوئی قدم ہی نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عمارت صرف ایک ڈھانچے کے طورپر رہ گئی ہے اور آہستہ آہستہ کھنڈر بنتی جارہی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ اور ٹھیکیدار کی آپسی ملی بھگت کی وجہ سے عمارت کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے منظور شدہ فنڈز بغیر کام مکمل کئے وگزار کر دئیے گئے ہیں ۔غور طلب ہے کہ اس وقت سرکاری سکول میں 30سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں تاہم ان کے پاس بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ ہی دست

مڈل سکول کھتیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا

سرنکوٹ//سرنکوٹ سب ڈویژن کے کھیتاں علاقہ میں قائم کردہ گور نمنٹ مڈل سکول کا حال بے حال ہونے کی وجہ سے زیر تعلیم طلباء اور ان کے والدین بھی پریشان ہیں ۔والدین نے تعمیر اتی ایجنسی اور متعلقہ محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ عمارت کی تعمیر کے دوران انتہائی غیر معیاری ساز و سامان کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے عمارت کچھ ہی عرصہ میں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی اور بچوں کے بیٹھنے کیلئے معیاری جگہ دستیاب نہیں ہے ۔والدین نے بتایا کہ عمارت اس قدر خستہ حال ہے کہ بچوں کے بیٹھنے کیلئے نہ تو جگہ دستیاب ہے اور نہ ہی عمارت میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر نا بچوں کے مفاد میں ہے ۔انہوں نے حدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ عمارت کی دیواریں اور چھت گرنے کی دہلیز پر پہنچ گئے ہیں جبکہ اب بچوں کی حفاظت کیلئے کوئی متبادل عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ عمار ت کی دیواریں منہدم ہونے کیساتھ ساتھ چھت سے بھی پا

پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی

 تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی میں لوگوں نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف سخت احتجاجی مظاہرہ کیا ۔تھنہ منڈی قصبہ کے لوگوں نے جمعرات کو تھنہ منڈی کے شاہدرہ چوک میں جمع ہو کر جل شکتی محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کو پانی کی دستیابی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔مظاہرین نے محکمہ جل شکتی کیخلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے لیکن متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ پینے کے پانی کی عدم دستیابی سے سخت مشکلات درپیش ہیں لیکن محکمہ کو ٹس سے مس نہیں۔ اس موقع پر سماجی کارکن مقصود احمد گنائی کی قیادت میں احتجاجی لوگوں نے جل شکتی محکمہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی جس کی وجہ سے ٹریفک میں خلل پڑا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمہ کے ملازمین انہیں پانی فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں نیز محکم

کھنیال کوٹ میں محکمہ زراعت کا بیداری کیمپ

 تھنہ منڈی // بلاک تھنہ منڈی کی کھنیال کوٹ پنچایت میں محکمہ زراعت کی جانب سے نیلی اور بھٹیلی علاقے میں بیداری کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں کسانوں کو سبزیوں اور دیگر اناج کی وافر مقدار میں پیداوار اور اس حوالے سے مختلف سکیموں کے بارے میں اہم جانکاری فراہم کی گئی۔ اس موقع پر کسانوں کو محکمہ کی جانب سے مختلف سبزیوں کی پنیری اور بیج کے بارے میں ضروری جانکاری دی گئی۔محکمہ کے آفیسر سرفراز وانی نے عوام سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ سبزیاں پیدا کریں تاکہ وہ خود بھی کھائیں اور انھیں بیچ کر اپنا روزگار بھی چلائیں۔ اس موقع پر محکمہ زراعت کے مختلف افسران نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ گورنمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مختلف سکیموں سے فائدہ حاصل کریں۔ انھوں نے کسانوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ محکمہ جموں صوبہ کے مختلف سہولت کار مرکز میں اپنی پیداوار کی مارکیٹنگ میں ان کی مدد کرے گا۔ انہوں نے

کورونا وائرس کی آڑ میں غریبوں پر ہی پابندی کیوں

پونچھ//بقول ماہرین صحت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا آغاز ہوگیا ہے جس کی شدت پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ ہوگی۔اس سلسلہ میں سرحدی ضلع پونچھ میں لوگوں کو انتظامیہ کی جانب سے خبر دار کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو سختی سے ماسک پہننے اور سماجی دوریاں بنائے رکھنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔گزشتہ روز کانگریس کے ایک جلسے میں ہزاروں افراد کی شرکت پر پونچھ کی عوام سوالیہ نشا لگا رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ے کہ کیا کورونا وائرس سیاسی جلسوں میں داخل نہیں ہواتا ہے؟پونچھ کے مسافر بسوں کے چلانے والے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان کو کوڈ19کے احتیاطی تدابیر پر عمل کروانے کے لئے جگہ جگہ ناکے لگائے گئے ہیں جہاں انھیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن غلام نبی آزاد کی ریلی میں ہزاروں لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی جہاںکسی قسم کی حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا اور ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی گئ

لورن کے جنگلات میں سبز سونے کی کٹائی

منڈی// پونچھ فارسٹ ڈویژن کے بلاک لورن میں محکمہ کے ملازمین کی ملی بھگت کے ساتھ درجنوں سبز اور سوکھے درختوں کی کٹائی کا عمل گزشتہ کئی عرصہ سے چل رہا ہے اس سلسلہ میں لوگوں نے متعلقہ حکام کو مطلع بھی کیا تھا لیکن اب جا کر آفیسران کومعاملہ کی سنجید گی کا احساس ہوا ہے۔ چناچہ دو روز قبل کنزرویٹر، ڈی ایف او پونچھ اور متعلقہ رینج آفیسر نے جنگلات میں جاری کٹائی کا معائینہ کر کے بعد اس سلسلہ میں تحقیقاتی عمل شروع کیا ۔محکمہ کی جانب سے اس معاملہ کو لے کر متعلقہ فارسٹ آفیسر اور فارسٹ گارڈ کو پہلی سے ہی معطل کر دیا گیا ۔مقامی ذرائع کے مطابق منڈی تحصیل کے فارسٹ بلاک لورن کی براچھڑ بیٹ میں سبز سونے کی کٹائی متعلقہ محکمہ کے ملازمین کی ملی بھگت سے کی گئی جس کے دوران سینکڑوں سبز اور سوکھے درخت کاٹ دئیے گئے ۔محکمہ کے ذرائع نے بتایا کہ رواں برس کے ماہ اکتوبر میں انہیں اس بات کا پتہ چلا کے متعلقہ علاقہ

کوٹرنکہ کی کئی پنچایتیں پانی کے بغیر

کوٹرنکہ //کوٹرنکہ سب ڈویژن کی کئی پنچایتوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آفیسران کی لاپرواہی اور ملازمین کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ بن گئی ہے ۔پنچایت حلقہ دراج اے اور دراج بی کے مکینوں نے بتایا کہ محکمہ جل شکتی کی انتہائی لاپرواہی کی وجہ سے دونوں پنچایتوں کی متعدد وارڈو ں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں متعلقہ حکام سے کئی مرتبہ رابطہ بھی کیا گیا لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ ملازمین دیہات میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے ڈیوٹی پر حاضر ہی نہیں ہورہے ہیں ۔چوہدری سائیں خان ،مصری خان ،محمد حسین چوہدری ودیگران نے بتایا کہ گز

مزید خبریں

نئی حد بندی سے قبل پہاڑیوں کی مانگیں پوری کرنیکا مطالبہ  جاوید اقبال  مینڈھر پہاڑی ایکشن فورم کے اراکین نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں نئی حد بندی سے قبل ہی پہاڑیوں کیساتھ انصاف کیا جائے تاکہ ان کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جاسکیں ۔فورم کے اراکین نے یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پہاڑی قبائل کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان قبائل کے نوجوانوں کیساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہاڑی قبائل کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روز گار دربدر ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی برسوں سے پہاڑی قبائل اپنی مانگیں لے کر اعلیٰ حکام اور مرکزی حکومت سے رجوع کئے ہوئے ہیں لیکن اس سے قبل تمام حکومتوں نے ان کو بیو قوف بنایا ہے لیکن بھاجپا ک