بھاٹہ دھوڑیاں وارڈ نمبر 4میں 2ماہ سے پانی دستیاب نہیں | 50گھروں کی پانی سپلائی بند ،لوگ قدرتی چشموں پر دربدر

مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے بھاٹہ دھوڑیاں علاقہ میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت مکینوں کیلئے ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے لیکن محکمہ جل شکتی کے ملازمین و آفیسران زمینی سطح پر عوام کو سہولیات فراہم کرنے میںپوری طرح سے ناکام ہو گئے ہیں ۔بھاٹہ دھوڑیاں کی وارڈ نمبر چار کے مکینوں نے محکمہ جل شکتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 2ماہ سے پینے کے صاف پانی کی سپلائی بند پڑی ہوئی ہے جسکی وجہ سے لگ بھگ 50گھروں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے لیکن محکمہ سپلائی کو بحال کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہو گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ وارڈ کی سپلائی لائن پر کوئی بھی ملازم نہیں ہے جبکہ پائپ لائن کے متاثر ہونے کے بعد مکینوں کو قدرتی چشموں پر دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑرہی ہیں ۔مقامی معززین نے بتایا کہ محکمہ کی نااہلی کی وجہ سے ابھی تک ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ لائن پر کسی ملازم کی ڈیوٹ

کوٹرنکہ کے کئی دیہات میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں | محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی غیر ذمہ داری سے عام لوگوںمتاثر

کوٹرنکہ //کوٹرنکہ سب ڈویژن کے مختلف دیہات میں اس وقت پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے لیکن محکمہ جل شکتی کی جانب سے پانی کی فراہمی کیلئے زمینی سطح پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے خطہ میں چل رہے خشک موسم کی وجہ سے کئی قدرتی چشموں پر پینے کے صاف پانی میں کمی ریکارڈ کی جارہی ہے جبکہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے چلائی جارہی واٹر سپلائی سکیمیں محکمہ کی لاپرواہ و ملازمین کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑی ہوئی ہیں اور لوگ بالخصوص خواتین میلوں دور سے پینے کے صاف پانی کا بندوبست کر تی ہیں ۔سب ڈویژن کی پنچایت حلقہ اپر ترگائیں کے ملحقہ دیہات میں محکمہ کے ملازمین کی غفلت شعاری کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ۔مقامی معززین نے بتایا کہ سب ڈویژن کے اکثر دیہات میں غریب اور بی پی ایل زمرے کے تحت آنے والے لوگ رہائش پذ یر ہیں تاہم گھریل

تحصیل دفتر بالاکوٹ میں مبینہ لوٹ کھسوٹ | فائلوں کی فیس کے نام پر اضافی پیسے وصول کرنے کاالزام،تحقیقات کا حکم

مینڈھر //تحصیل دفتر بالاکوٹ میں سرٹیفکیٹوں کی فیس کے نام پر اضافی پیسے وصول کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد تحصیلدار نے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے ۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ مال کی جانب سے لوگوں کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے لگائے گئے کیمپ کے دوران اضافی پیسے وصول کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ تحصیل دفتر میں تعینات ملازمین مختلف نوعیت کے کا غذات اور سرٹیفکیٹوں کیلئے فیس کے بہانے مبینہ طورپر رشوت لے رہے ہیں ۔جاوید اقبال نامی ایک معذور شخص نے بتایا کہ بالاکوٹ تحصیل دفتر میں لگائے گئے کیمپ کے دوران اس نے 6پہاڑی سرٹیفکیٹوں پر مشتمل ایک فائل تیار کروائی جبکہ 3انکم سرٹیفکیٹ بھی حاصل کئے تاہم ان سرٹیفکیٹوں کی مجموعی فیس قاعدہ کے مطابق 180روپے سے 2سو روپے تک بنتی تھی لیکن ملازمین نے اس سے 450روپے وصول کر لئے ہیں ۔معذور شخص نے بتایا کہ ملازمین اس کو رسید نہیں دے رہے تھے

سپورٹس سٹیڈیم کی تعمیر کا کام شروع

 تھنہ منڈی // درہال کی ملہت پنچایت میں سپورٹس سٹیڈیم کے کام کا آغاز ہوا ہے جس کو بنانے کیلئے بلاک ڈولپمنٹ آفیسر درہال نے منریگا سے کچھ رقم واگزار کی ہے تاکہ اسکو استوار کر کے کھیلنے کے قابل بنایا جا سکے۔یوتھ لیڈر مرتضیٰ مرزا نے بتایا کہ یہ سپورٹس سٹیڈیم تقریباً 8 کنال رقبے پر مشتمل ہے جبکہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس سٹیڈیم کو کھیلو انڈیا کے زمرے میں لا کر ایک بہترین سٹیڈیم بنایا جائے تاکہ پورے بلاک کی ٹیمیں یہاں آکر کھیل سکیں۔ یوتھ لیڈر مرتضیٰ مرزا نے بلاک ڈولپمنٹ آفیسر درہال ملکاں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس میدان کو ہموار کرنے کیلئے رقومات فراہم کیں جس سے یہ کام ممکن ہوا ہے۔مرزا نے مزید کہا کہ اس میدان کے ٹھیک دوسری جانب تقریباً 10 کنال سرکاری اراضی ہے جس پر بچوں اور بزرگوں کی سیر و تفری کیلئے تفریحی پارک بنایا جا سکتا ہے جس پر غور و خوض اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔  

مزید خبریں

دفعہ 370کی منسوخی آئینی ترمیم ،ہم اپنائے گئے عمل کیخلاف ہیں | غلام آزاد کا پونچھ میں عوامی جلسہ ،جموں و کشمیر میں جلدانتخابات کروانے پر زور  حسین محتشم+رمیش کیسر  پونچھ//کانگرس کے سینئر لیڈر و جموں کشمیر کے سابق چیف منسٹر غلام نبی آزادنے کہا ہے کہ بھاجپا کی مرکزی حکومت کی جانب سے منسوخ کیا گیا دفعہ 370اور 35A آئینی ترمیم ہے لیکن اس عمل کیلئے اختیار کیا گیا راستہ غیر آئینی ہے اور وہ اس عمل کیخلاف ہیں ۔کانگریس سنیئر لیڈر گزشتہ روز پونچھ دورے پر پہنچے ۔اپنے دورہ کے پہلے روز انھوں نے فوارہ گارڈن پونچھ میں عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کا خصوصی درجہ چھین لیا گیا اس دوران جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ غلط تھا ۔انھوں نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے وہ یہی لڑائی لڑتے آئے ہیں کہ اگر قوانین میں ترمیم کرنی تھی تو وہ آئین کے تحت جموں کشمیر کی اسمبلی میں ہونی چاہ

تازہ ترین