صرف2ڈاکٹر تعینات،الٹراسائونڈ مشین ٹھپ،ٹیسٹوں کی سہولت ندارد

تھنہ منڈی// پرائمری ہیلتھ سینٹر تھنہ منڈی کی صحت بہت حد تک خراب ہوچکی ہے ۔ہسپتال کا طبی نظام تقریباً مفلوج ہوچکا ہے کیونکہ ہسپتال میں ڈاکٹروںکی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ہسپتال میں صرف2ڈاکٹر تعینات ہیں جبکہ این آر ایچ ایم کے تحت ڈاکٹروںکی چاروں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔90ہزار سے زائد آبادی والے سب ڈویڑن تھنہ منڈی، جو کہ 33 گاؤں اور 35 پنچائتوں پر مشتمل ہے، کیلئے یہ طبی مرکز مذاق بن چکا ہے۔چیئر مین میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی شکیل احمد میر و دیگر لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ تھنہ منڈی ہسپتال ، مرکزی ہسپتال کا درجہ رکھتا ہے، کا درجہ نہ بڑھانا اور اسطرح ڈاکٹروں کی اسامیاں خالی رکھنا افسوسناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پر الٹرا ساؤنڈ مشین تو موجود ہے مگر اسکو چلانے والا کوئی نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ اسی طرح ایکسرے مشین بھی پرانے طرز کی ہے جس میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔انہوںنے الزام لگایا کہ ہسپتال

مینڈھر میں پانی کی نکاسی کا نظام ابتر

مینڈھر//قصبہ مینڈھر میں پانی کی نکاسی کا نظام بہت ہی خراب ہے جس وجہ سے آئے روز دکانداروں اور عام لوگوں کو مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔بیوپار منڈل جنرل سیکریٹری خورشید احمد،فیاض خان و دیگران کاکہناہے کہ قصبہ کا ڈرینیج نظام اس قدر خراب ہے کہ اس کی حالت کو بیان نہیں کیاجاسکتا۔ان کاکہناہے کہ یاتوقصبہ کو میونسپلٹی کادرجہ دیاجائے یاپھر صفائی ستھرائی اور نکاسی کے نظام میں بہتری لائی جائے نہیں تو وہ احتجاج کاراستہ اختیا رکریں گے۔انہوں نے کہاکہ صفائی ستھرائی اور پانی کی نکاسی کے نام پر ہر سال محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے اڈہ بولی لگائی جاتی ہے لیکن نکاسی کا نظام دن بدن خراب بنتاجارہاہے اور ساری گندگی نالیوں میں پھینک دی جاتی ہے جس وجہ سے بارش ہونے پر سارا پانی دکانوں اور مکانوں کے اندر چلاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ حالیہ بارش میں بھی ان کا لاکھوں روپے کا نقصان ہوااور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی لیکن انتظامی

مینڈھر میں ٹریفک جام روز کا معمول،عوام کا جینا دوبھر

مینڈھر//مینڈھر قصبہ میں ٹریفک جام کا معمول بن چکاہے جس کی وجہ سے ہر خاص وعام کو متاثر ہوناپڑتاہے۔اس جام سے جہاں طلباوقت پر سکو ل نہیں پہنچ پاتے وہیں ملازمین بھی درماندہ ہوکر رہ جاتے ہیں جبکہ روزانہ کئی مریضوں کو بھی وقت پر ہسپتال نہیں پہنچایاجاسکتا اور ان کی حالت مزید خراب ہوجاتی ہے۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ پولیس بے بس اور ٹریفک عملہ بھی اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوچکاہے۔ان کاکہناہے کہ ملازم ،سکولی طلبااور یہاں تک کہ مریضوں کو بھی گھنٹوں جام میں درماندہ رہناپڑتاہے اور روزانہ کئی گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کئی مریضوں کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو جام میں پھنسے رہتے ہیں جس ان کی زندگیوں کوخطرہ لاحق ہوجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کی صورتحال سے نجات دلائی جائے اور اگر پولیس اور ٹریفک عملہ چاہے تو اس معاملے پر ایک دن میں قابو پایاجاسکتاہے لیکن ایسا لگتاہے کہ کوئی بھی سنج

تنظیمی سیاست سے اوپر اٹھ کر عوامی مسائل حل کرنے کی ضرورت

منڈی//تنظیمی سیاست سے اوپر اٹھ کر عوامی مسایل کو اس وقت حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابقہ ممبر اسمبلی پونچھ اور پی ڈی پی کے سابقہ لیڈر شاہ محمد تانترے اور بلاک چیئر پرسن منڈی شمیم احمد گنائی نے منڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شاہ محمد تانترے نے کہا کہ سرکار اور ضلع انتظامیہ پونچھ کو چاہیے کہ وہ تحصیل منڈی میں رکے پڑے ترقیاتی کاموں کو جلد دوبارہ شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین برس قبل سرکار کی جانب سے منڈی میں ڈگری کالج کا اعلان کیا گیا تھا مگر تب سے لیکر اب تک کالج کی عمارت کا تعمیری کا شروع نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر نے راجپورہ علاقہ میں کالج کی عمارت کے لیے جگہ کا تعین کیا تھا جو کہ ہر لحاظ سے کالج کیلئے بہتر ہے ،اسلئے جلد از جلد کالج کی عمارت کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈی ڈبل لین پل،منڈی چنڈک سڑک، چنڈک پونچھ

ڈپٹی کمشنر پونچھ کا منڈی اور بائیلہ میں عوامی دربار

منڈی//ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ راہل یادو نے تحصیل منڈی کے علاقہ بائیلہ اور منڈی خاص میں عوامی دربار منعقد کر کے عوامی مسایل کی جانکاری حاصل کی۔ اس موقعہ پر تحصیل کمپلیکس منڈی میںہفتہ وار عوامی ازالہ کیمپ کی صدارت کی۔ بلاک چیئرپرسن منڈی شمیم احمد گنائی نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ہر ہفتہ منڈی میں عوامی ازالہ کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں جس کے نتایج آنے بھی لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر کو چاہیے کہ پہلے ہفتے اس دربار میں جو بھی عوامی مسائل ہیں کم سے کم دوسرے ہفتے تک ان مسایل میں سے 50%مسایل حل ہوئے ہونے چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ورنہ ان عوامی درباروںکومنعقد کرنے کا کوئی بھی فایدہ نہیں ہے ۔بعد دوپہر اسی طرح کا ایک عوامی دربار بائیلہ آران میں منعقد کیا گیا جس میں بائیلہ کی عوام کے ساتھ ساتھ مختلف محکمہ جات کے افسران نے بھی شرکت کی۔ دربار میں عوام نے علاقہ میں بہتر سڑک روابط

ڈی سی راجوری کاڈگری کالج ڈونگی کی مجوزہ سائٹ کا دورہ

 راجوری//ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر راجوری راجیش کے شاون نے بدھ کے روز ڈونگی بلاک کے سسالکوٹ علاقے کا دورہ کیا جہاں گورنمنٹ ڈگری کالج ڈونگی کے لئے عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔ڈی ڈی سی کے ہمراہ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس چندن کوہلی بھی تھے ۔متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر نے بتایا کہ اس منصوبے کو تخمینے کے لئے 36 کروڑ روپئے کی منظوری دی گئی ہے اور اس منصوبے کی انتظامی منظوری ملنے کے بعد اس منصوبے پر کام شروع کردیا جائے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونگی بلاک کے مقامی افراد کے ایک گروپ نے ڈی ڈی سی کو آگاہ کیا تھا کہ کالج کی عمارت نہ ملنے کی وجہ سے کالج کے طلباء کی کلاسز جی جی ایچ ایس ڈونگی میں چل رہی ہیں اور جی ڈی سی پر فوری طور پر کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کلاسوں کو نئی کالج کی عمارت میں منتقل کیا جاسکے۔بعد ازاں ڈی ڈی سی نے ایس ایس پی کے ساتھ مل کر گرین ڈرائیو کے تحت سرول کے ہائر اسکول کیری

راجوری میں فوجی اہلکار کی گولیوں سے چھلنی لاش بر آمد

سرینگر//حکام نے بدھ کو بتایا کہ راجوری قصبہ میں ایک فوجی کیمپ کے اندر ایک فوجی اہلکار کی گولیوں سے چھلنی لاش بر آمد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ فوجی اہلکار راجوری کے گردان علاقے میں قائم ایک فوجی کیمپ میں تعینات تھا۔ پولیس نے فوجی کی لاش کو تحویل میں لیکر اس کی طبی جانچ شروع کی ہے۔ لاش پر گولیوں کے کئی نشان تھے اور اس کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔  

سواڑی بھگیالہ کوٹ میں سڑک کی کٹائی

 کوٹرنکہ // کوٹر نکہ کے پنچایت حلقہ سواڑی بھگیالہ کوٹ میں منگل کی صبح زمین کھسکنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف دہشت کا ماحول پیدا ہوگیااور 9کنبوںکو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا۔مقامی صدام حسین چوہدری نے بتایا کہ محکمہ تعمیرات عامہ کی ناقص کار کردگی کی وجہ سے حبی گالہ سے مراسی موڑ تک 7 کلو میٹر سڑک پر دو سال قبل کٹائی ہوئی تھی تا ہم سڑک کے گردو نواح میں حفاظتی باندھ و کلوٹ اور نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے منگل کی صبح  نو کنبے گھر سے بے گھر ہوئے انہوں نے کہا کہ عبدالرشید ولد جمادین و الطاف حسین کا رہایشی مکان دھنس گیا اور نو رہایشی مکان خطرہ کی زد میں ہیں۔ سٹیشن ہائوس آفیسرکنڈی حبیب پٹھان نے بتایا کہ کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا اور نو کنبوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا گیا۔  

جلداسمبلی انتخابات کرائے جائیں

بدھل(راجوری) //اپنی پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے جلد اسمبلی انتخابات کرانے اور جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھل کے گاؤں ترگانی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ذوالفقار علی نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی حکومت میں کوئی نمائندگی نہیں جوکہ عوامی نمائندگان کو اعتماد میں لئے بغیر کام کر رہی ہے۔ بیروکریسی کے آمرانہ رویہ سے عوامی نمائندگان اور عوام اُکتا چکی ہے۔ انہوں نے کہا’’حکومت اور اِس کی پالیسیوں کے تئیں لوگوں میں اعلیحدگی پن کا احساس ہے، یہ صورتحال جموں وکشمیر میں جلد اسمبلی انتخابات کرانے کا تقاضا کر رہی ہے تاکہ موجودہ انتظامی نظام کو منتخبہ حکومت کے ساتھ تبدیل کیاجائے‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہیں ۔ کاموں کی تاخیر کے حوالہ سے حکام میں کوئی جوابدہی نہیں نتیجہ کے طور عوام کو متاثر ہونا پڑت

گائوں کنویاں میں پانی کا نکاسی سسٹم خستہ

پونچھ// قصبہ پونچھ کے ملحقہ گائوں کنویاں میں بارشوں کے دوران نکاس آب درست نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جہاں لوگوں کو عبور و مرورمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہی پانی اور گندی لوگوں کے گھروں دکانوں اور وہاں پانی سپلائی کرنیوالے محکمہ پی ایچ ای کے ٹینک کے اندر چلا جاتا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے جہاں خشک موسم میں پانی ٹھہرا رہتا ہے وہی بارشوں کے دوران سیلاب کی شکل اختیار کر دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ سے گزارشوں کے باوجود ڈرنیج سسٹم نہیں درست نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینڈھر پونچھ سڑک کی خستہ حالت ہے ، جگہ جگہ گہرے کھڈ بن چکے ہیں جو بارشوں کے دوران جھیل کا منظر پیش کرتے ہیںاورمسافروں وٹرانسپورٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے

پونچھ میں سینکڑو ں ہینڈ پمپ ناکارہ

مینڈھر//مینڈھر اور ضلع پونچھ کے مختلف علاقہ جات میں سینکڑوں کی تعداد میں ہینڈ پمپ ناکارہ بنے ہوئے ہیں جس سے نہ صرف عوام کو پانی کے بحران کاسامناہے بلکہ محکمہ کی طرف سے خرچ کئے گئے لاکھوں روپے بھی ضائع ہورہے ہیں۔کئی لوگوں نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ موسم میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے جارہی ہے اور اگر ان خراب پڑے ہینڈ پمپوں کو ٹھیک نہ کیاگیاتو بحرانی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہر سال موسم گرما میں پانی کی ہاہاکار مچی ہوتی ہے اور لوگوں اور خواتین کو کئی کئی کلو میٹر دور سے پانی لاناپڑتاہے لیکن متعلقہ حکام خواب غفلت میں سورہے ہیں جن سے یہ خراب پڑے ہینڈ پمپ ٹھیک بھی نہیں ہورہے۔ان کاکہناہے کہ لاکھوں روپے خرچ کرکے حکام نے یہ ہینڈ پمپ بنائے تھے جنہیں ایسے ہی چھوڑ دیاگیاہے جس سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پایا۔ان کاکہناہے کہ جب ان کی مرمت کیلئے حکام سے رجوع کیاجائے

مزید خبرں

دیگوار تا نور کوٹ سڑک کی تعمیری کام سست روی کا شکار، عوام برہم حسین محتشم پونچھ//ضلع پونچھ کے سرحدی گائوں نور کوٹ کی عوام دور جدید میں بھی کئی طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہیں ۔عرصہ دراز تک مطالبہ کرنے کے بعد دیگوار تا نور کوٹ سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا جو نہایت سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کا رابطہ سڑک کا خواب ادھورا ہے۔ اس سلسلہ کو لیکر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقامی باشندوں نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر کا کام کئی سال قبل شروع کیا گیا تاہم اسے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا رہا ہے جس سے عوام کو عبور و مرور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے متعلقہ محکمہ کے افسران سے سڑک کی تعمیرات جلد سے جلد مکمل کرنے کی اپیل کی تاکہ یہاں کی عوام کو درپیش مسائیل سے نجات مل سکے ۔   ہائر سیکنڈری سکول اودھن کا ٹیچر ہوسٹل سکول گرائونڈ میں تعمیر کرنے

اشتہار ات، بینروں کی غیر قانونی تنصیب | ڈی سی راجوری نے ہٹانے کے احکامات صادر کئے

راجوری//ڈپٹی کمشنر راجوری راجیش کمار شون نے شاہرئوں ، عوامی سڑکوں اور پیدل چلنے والے راستوں پر کھمبوں اور فریموں والے تمام غیر مجاز اشتہاری بورڈ ، محراب ، ہورڈنگز ، پلے کارڈز اور بینر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شہر کو صاف ستھرا بنانے میں یہ سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ غیر قانونی بینرز ، ہورڈنگز اور پوسٹر جیسے اشتہارات کی غیر مجاز غیر منطقی اور غیر معقول ڈسپلے شہر کو خوبصورت بنانے میں سب سے بڑی پریشانی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا "میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ بجلی کے ہر کھمبے ، دیوار اور ہر انچ جگہ ان ہورڈنگز سے بھر گئی ہے"۔وہ لوگ جو ہورڈنگز / بینرز / پلے کارڈز لگا رہے ہیں انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں بھی برابر کے اسٹیک ہولڈر ہیں اور شہر کو ڈیفاکس کرکے اس کو عام کرنا مناسب نہیں ہے۔راجوری کے عوام نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو بے حد سراہا ہے اور شہر

بالاکوٹ کو علیحدہ اسمبلی حلقہ بنایاجائے،عوام کا مطالبہ

مینڈھر//سرحدی تحصیل بالاکوٹ کے عوام نے مانگ کی ہے کہ اس علاقے کو ایک علیحدہ اسمبلی حلقہ بنایاجائے۔مقامی لوگوں نے کہاکہ اس وقت بالاکوٹ میں سترہ پنچایتیں ہیں اور یہ وسیع علاقہ پر محیط ہے۔ان کاکہناتھاکہ مینڈھر حلقہ میں نوے ہزار سے زائد ووٹ ہیں اور بالاکوٹ کی آبادی بھی لگ بھگ پچاس ہزار ہے۔انہوں نے کہاکہ حد بندی کمیشن قائم کیاگیاہے جس کو نئے حلقے بنانے کا کام سونپاگیاہے لیکن اس میں بالاکوٹ کو کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیاجاناچاہئے اور اس علاقے کو الگ سے اسمبلی حلقہ بنایاجائے کیونکہ آج تک اس کی ترقی نہیں ہوسکی ہے اور سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کے عوام نے صرف مشکلات اور مصائب ہی برداشت کئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ بالاکوٹ علیحدہ اسمبلی کیلئے مستحق بھی ہے اور 1965سے قبل یہ ایک تحصیل ہواکرتی تھی جسے پھرسال 2014میں دوبارہ سے تحصیل کادرجہ دیاگیا۔مقامی سیاسی و سماجی کارکنان کاکہناہے کہ سرحد

بین الاقوامی سرحد کے مکینوں کیلئے ریزرویشن | حد متارکہ کی آبادی برہم،فیصلہ کو حقوق کے منافی قرار دیا

مینڈھر//حد متارکہ پر بسنے والے عوام نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیاہے جس میں بین الاقوامی سرحد پر رہنے والے عوام کو بھی ملازمت اورداخلوں وغیرہ میں ریزرویشن دی گئی ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں کے عوام نے کہاکہ آج تک ملازمتوں میں اے ایل سی کیلئے ان کی خاطر ریزرویشن رہی ہے جس کا کچھ نوجوانوں کوفائدہ بھی ملاہے لیکن اب حکومت نے بین الاقوامی سرحد پر بسنے والے عوام کو بھی اسی زمرے میں رکھ دیاہے جو ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ان کاکہناتھاکہ وہ بین الاقوامی سرحد کے مکینوں کے مخالف نہیں لیکن حکومت کو ان کیلئے الگ سے کوٹہ مختص کرناچاہئے تھانہ کہ حد متارکہ کے ساتھ ہی جوڑ دیناچاہئے تھا۔انہوں نیکہاکہ حد متارکہ کے عوامی مسائل بالکل مختلف ہیں اوران کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سرحد تو راجستھان، گجرات اور دیگر ریاستوں م

بین الاقوامی سرحد کے مکینوں کیلئے ریزرویشن | حد متارکہ کی آبادی برہم،فیصلہ کو حقوق کے منافی قرار دیا

مینڈھر//حد متارکہ پر بسنے والے عوام نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیاہے جس میں بین الاقوامی سرحد پر رہنے والے عوام کو بھی ملازمت اورداخلوں وغیرہ میں ریزرویشن دی گئی ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں کے عوام نے کہاکہ آج تک ملازمتوں میں اے ایل سی کیلئے ان کی خاطر ریزرویشن رہی ہے جس کا کچھ نوجوانوں کوفائدہ بھی ملاہے لیکن اب حکومت نے بین الاقوامی سرحد پر بسنے والے عوام کو بھی اسی زمرے میں رکھ دیاہے جو ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ان کاکہناتھاکہ وہ بین الاقوامی سرحد کے مکینوں کے مخالف نہیں لیکن حکومت کو ان کیلئے الگ سے کوٹہ مختص کرناچاہئے تھانہ کہ حد متارکہ کے ساتھ ہی جوڑ دیناچاہئے تھا۔انہوں نیکہاکہ حد متارکہ کے عوامی مسائل بالکل مختلف ہیں اوران کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سرحد تو راجستھان، گجرات اور دیگر ریاستوں م

جمولہ میں سیرتِ نبوی کانفرنس21مارچ کو

کوٹرنکہ //ضلع راجوری کے سب ڈسٹرکٹ کوٹرنکہ کے پنچایت حلقہ جمولہ لویر نزد ہائیر سیکنڈری سکول میں 21مارچ کو ایک عظیم الشان سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تقریب سعید کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں مولانا عرفان القادری چترویدی تشریف لارہے ہیں۔ یہ عظیم الشان پروگرام گاہی علی شان میدان میں منعقد ہو ہوگا۔تمام ملت اسلامیہ سے مولوی منیر حسین امام وخطیب جامعہ مسجد جمولہ،لکچرر محمد امین،حوالدار طالب حسین،ممبر صدام حسین اورمحمد نصیر خان کی طرف سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس سیرتِ نبوی کانفرنس میں شرکت فرمائیں  

درجہ چہارم کی اسامیوں کے لئے تحریری امتحان جاری | ڈوڈہ میں دوسرے روز 4682 امیدواروں نے شرکت کی

ڈوڈہ //سروس سلیکشن بورڈ کے تحت نکالی گئی درجہ چہارم کی آسامیوں کے لئے تحریری امتحان میں آج دوسرے روز ڈوڈہ کے 28 مراکز میں 4682 امیدواروں نے حصہ لیا۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کی زیر نگرانی صاف و شفاف امتحانات منعقد کرنے کے لئے انتظامیہ نے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں۔اے ڈی سی کشوری لال شرما جو کہ ان امتحانات کے لئے بطور نوڈل آفیسر و ابزرور نامزد کئے ہیں نے ہفتہ کے روز مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔اس دوران انہوں نے صاف و شفاف طریقے سے امتحانات منعقد کرنے کیلئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا. انہوں نے انتظامات کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ابزرورس، مجسٹریٹ و سپرنٹنڈنٹس کو ہدائت دی کہ وہ و شفاف و احسن طریقے سے امتحانات منعقد کرنے کے لئے آپسی تال میل بنائے رکھیں۔اس موقع پر انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ دوسرے روز 4682 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی. ضلع انفارمیشن آفیسر محمد اشرف وانی بھی ا

سرحدی گائوں ڈھوکری کے لوگ صاف پانی سے محروم

پونچھ//ضلع پونچھ کے دور دراز سرحدی گائوں ڈھوکری کے باشندوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے کئی طرح کی پریشانیوں  کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ گائوں کے لوگوں نے انتظامیہ سے جلد از جلد صاف پانی فراہم کرانے کی اپیل کی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق کئی سالوں سے انہیں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، جس کے نتیجے میں وہ دور دراز پہاڑی علاقوں سے گھر کے استعمال کے لئے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بیماریوں کے پھوٹنے کا بھی اندیشہ برابر بنا رہتا ہے کیونکہ علاقے میں لوگوں کو کھانے پینے کے لیے صاف پانی دستیاب ہی نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلعی صدر کو ایک اجلاس کے دوران بتایا کہ انہوں نے متعدد دفعہ اس سلسلے میں انتظامیہ تک اپنے مسائل پہنچائے ہیں تاہم انہیں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا " اس دور میں انسا

سرنکوٹ تا گورسائی روٹ پر ٹرانسپورٹ کرایہ میں اضافہ | مسافر پریشان، متعلقہ محکمہ سے کیا کاروائی کا مطالبہ

پونچھ//ضلع پونچھ کے سرنکوٹ تا گورسائی مہری اور دیگر روٹوں پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ نے کرایوں میں خودساختہ اضافہ کررکھاہے جس کے باعث مسافروں اورکنڈیکٹروں کے مابین لڑائی جھگڑے معمول بن گئے۔سرنکوٹ تا موہری گورسائی 12کلو میٹر سفر کا سوموں ڈرائیوروں نے کرایوں میں خود ساختہ اضافہ کرتے ہوئے کرایہ60روپے کر دیا ہے جبکہ گورسائی نالہ تا ہنڈی6کلو میٹر سفر کا مسافروں سے 50روپئے ، اور سرنکوٹ تا نکر ڈھاراں کے12کلو میٹر سفر کا 70روپے،سرنکوٹ پٹھانہ تیر22کلو میٹر کا 100روپئے اورسرنکوٹ تا شاہ ستار16کلو میٹر کا 70روپئے مسافروں سے وصولا جا رہا ہے ۔پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے مذکورہ کرایہ وصول کرنے پر مقامی لوگ سخت پریشان ہیں ۔سماجی کارکن غلام جیلانی نے بتایا کہ اضافی کرایہ وصولی کے باعث سواریوں اور ڈرائیوروں کے درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن گئے تاہم دوسری جانب محکمہ ٹرانسپورٹ اوردیگرمتعلقہ اداروں نے

تازہ ترین