تازہ ترین

پونچھ میں حدمتارکہ پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا شہری گرفتار

جموں// جموں وکشمیر کے پونچھ سیکٹر میں حد متارکہ پر فوج نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ایک شہری کو گرفتار کیا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ’پونچھ کے چکندا باغ میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ایک شہری کو گرفتار کیا گیا ہے جس کی 14سالہ شناخت اصمد علی ولد محمد بنارس ساکن ٹاٹر ینوٹ تحصیل راولاکوٹ پاکستان کے بطور ہوئی ہے ‘۔ایک پولیس آفیسر نے مذکورہ شہری کی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوج گرفتار شدہ شخص سے پوچھ تاچھ کر رہی ہیں کہ آیا وہ غیر دانستہ طور پر سرحد کے اِس پار داخل ہوا ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد کار فرما ہے ۔  

بفلیاز ۔پھاگلہ منڈی سڑک 45برسوں بعد بھی تشنہ تکمیل

سرنکوٹ// بفلیاز پھاگلہ منڈی سی آر ایف سڑک جس کا تعمیراتی کام 1972 میں شروع کیا گیا تھا 45 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہو سکی۔ 62 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کیلئے دس سال قبل سنٹر ل روڈ فنڈ سی آر ایف سے 42 کروڑ روپے واگزارکئے گئے تھیتاہم دس سال گزرنے کے باوجود بھی مذکورہ سڑک کی کھدائی کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ مقامی لوگوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام نے صرف فنڈ کو ہڑپ کیا ہے اور محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے لگ بھگ 150 میٹر سڑک راتھراں محلہ پر کٹائی نہیں کی گئی ہے اور محکمہ دعوئے کر رہا ہے کی سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بفلیاز تا پمروٹ تک اور منڈی سے سیڑھی تک نقل و حمل کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئی برس گزر گے لیکن سڑک مکمل نہیں ہو سکی ہے۔مکینوں نے کہاکہ راتھراں محلہ میں سڑک بند ہے اور کٹائی کا نام نشاں تک نہیں ہے۔بفلیاز پھاگل

دور افتادہ گائوں پٹھانہ تیر ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے محروم

مینڈھر // مینڈھر سب ڈویژن کے دور افتادہ علاقہ پٹھانہ تیر میں ہر طرح کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے ۔گائوں میں پینے کا صاف پانی ،خستہ حال سڑکیں ،ہائر سکینڈری سکول کا نہ ہوا و دیگر سہولیات کو میسر کرنے میں انتظامیہ ابھی تک ناکام ثابت ہوئی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ گائوں میں پانی سپلائی کرنے والی چھترال تا پٹھانہ تیر واٹر سپلائی سکیم گزشتہ کئی عرصہ سے بند پڑی ہوئی ہے جبکہ صرف ایک واٹر سپلائی سکیم سے کچھ حد تک لوگوں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گائوں میں کئی برس قبل بچھائی گئی پاپئیں اب بوسیدہ ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے معمول کے وقت بھی پانی سپلائی متاثر رہتی ہے ۔سماجی کارکن فیصل شاہ نے بتایا کہ گائوں میں کئی برسوں کی جدوجہد کے بعدبھی کوئی ہائر سکینڈری سکول قائم نہیں کیا گیا ہے جبکہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے کئی کلو م

پنچایت کیول میں آگاہی کیمپ کا اہتمام کیا گیا

 کوٹرنکہ //کوٹرنکہ سب ڈویژن کی کیول پنچایت میں ایک بیداری کیمپ کا اہتمام کیا گیا تاکہ ممکنہ استفادہ کنندگان بالخصوص لڑکیوں کو دیہی روزسکیموں کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔اس بیداری پروگرام کے دوران مقررین نے ’امید ‘این آر ایل ایم ،ودیگر سکیموں کے سلسلہ میں لوگوں کو بیداری کیا ۔کیول لوئر، بدھل بلاک کی پنچایت میں، مشن مینجمنٹ یونٹ، بدھل نے شرکاء ، خاص طور پر خواتین کو’ امید سکیم ‘ اور دیگر سکیموں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ایک روزہ اورینٹیشن کم بیداری پروگرام کا انعقاد کیا۔اس سلسلہ میں سیلف ہیلپ گروپس بنائے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بیدار کیا جاسکے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، ضلع نوڈل آفیسر این آر ایل ایم نے شرکاء کو دیہی آبادی کی زندگی کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کردہ سکیموں کے سلسلہ میں تفصیلی جانکاری فراہم کی ۔ا

تحصیلدار کی قیادت میں کووڈ پر بیداری پروگرام

کوٹرنکہ //تحصیلدار کوٹر نکہ کی قیادت میں کووڈ کی روکتھام کے سلسلہ میں ایک بیداری پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔کوٹرنکہ میں منعقدہ اس بیداری پروگرام میں ایس ایچ او کنڈی ودیگر متعلقہ آفیسران بھی موجود تھے ۔آفیسران نے لوگوں کو تلقین کرتے ہوئے کہاکہ وہ کووڈ کی تیسری لہر سے ہوشیار رہیں جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر سختی کیساتھ عمل کریں ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے مقررہ کردہ عمر کی حدود میں آنے والے سبھی افراد کو چاہئے کہ وہ کووڈ کی ویکسین حاصل کریں تاکہ وائرس کے پھیلائو کو کم کرنے کیلئے ہر ایک شخص کو اپنا رول ادا کر نا ہو گا ۔پولیس آفیسران نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے بتائے گئے قاعدہ کیخلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

دھار کس واٹر سپلائی سکیم لوگوں کیلئے سودمند ثابت نہ ہو سکی

مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کے دھار کس علاقہ میں بنائی گئی جدید واٹر سپلائی سکیم سے بھی عوام کو فائدہ حاصل نہیں ہو جبکہ سکیم کے چلائے جانے کے باوجود بھی کئی ملحقہ دیہات میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ علاقہ میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے ایک جدید واٹر سپلائی سکیم بنائی گئی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ جدید خود کار واٹر سپلائی سکیم کے ذریعہ ایک وسیع علاقہ کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی لیکن ابھی تک ملحقہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کو ممکن نہیں بنایا جاسکا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ علاقہ مکین بالخصوص خواتین کئی کلو میٹر کی مسافت طے کر کے پینے کیلئے صاف پانی لانے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کی جانب سے نصب کر دہ خود کار مشینری پہاڑی علاقوں میں پانی کی سپلا

لام میں وی ڈی سی ممبران کو تربیت دی گئی

راجوری //فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع دیہاتوں میں گاؤں کی دفاعی کمیٹی کے اراکین کی فائرنگ کی مہارت میں اضافہ کرنے کے ایک تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔فوج کی لام علاقہ میں واقع راشٹریہ رائفلز بٹالین نے گاؤں کی دفاعی کمیٹی کے اراکین کیلئے منعقدہ تربیتی پروگرام میں اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ اس دوران فو نے انسداد منشیا ت کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام بھی کیا ۔اس تربیتی مشق میں لام ،قلعہ ودیگر ملحقہ دیہات کے وی ڈی سی اراکین نے شرکت کی جبکہ فوج کے ماہرین نے ان کو مختلف ہتھیاروں کے سلسلہ میں تفصیلی جانکاری فراہم کی ۔اس دوران ہتھیاروں کی صفائی اور اس سلسلہ میں اٹھائے جانے والے احتیاطی اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کی گئی ۔دوسری جانب لام میں قائم فوج کی راشٹریہ رائفلز بٹالین نے انسداد منشیات کے موضوع پر ایک بیداری سیمینار کا انعقاد کیا۔آرمی گرونڈ می

میتھالی شرما کی کھٹمنڈو کے ڈانس مقابلوں میں کامیابی

نوشہرہ //راجوری ضلع کے سندر بنی سب ڈسٹرکٹ کی رہائشی میتالی شرما نے نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں منعقدہ ایک بین الاقوامی ڈانس مقابلے میں گولڈ میڈل جیت کر اپنے والدین، ضلع اور ملک کا نام روشن کیا ہیجس کے بعد علاقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔۔ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راجیش کمار شاون نے میتھالی شرماکو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد دی اور نیک تمنائیں دیتے ہوئے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ میتھالی شرما نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ضلع انتظامیہ کیساتھ ساتھ علاقہ مکینوں نے اس کو مبادکباد پیش کی ہے تاہم لوگوں کی دعائوں و نیک خواہشات اور والدین کی سپورٹ کی وجہ سے اج وہ اس مقام تک پہنچی ہیں ۔ متھالی نے کہاکہ ٹرائلز کیلئے سکول میں منتخب کیا گیا تھاجس کے بعداس نے ضلعی اور قومی چمپئن شپ جیتی تھی۔ اس کے بعد مذکورہ مقابلوں میں چار ممالک جن میں سری لنکا، نیپال، ہندوستان، بھوٹان وغیرہ شامل تھے جبکہ سخت مقابلے

مڑہوٹ میں ’قومی ایکتا میٹنگ ‘کا انعقاد

پونچھ //فوج کی جانب سے سرحدی ضلع پونچھ کے مڑہوٹ علاقہ میں ’قومی ایکتا میٹنگ ‘کا اہتمام کیا گیا ۔فوجی آفیسران نے بتایا کہ اس میٹنگ کا اصل مقصد فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کیساتھ ساتھ مختلف معاملات میں اشتراک حاصل کرنا تھا ۔اجلاس میں مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اس دوران مقامی لوگوں کو درپیش مسائل جن میں خستہ حال تعلیمی نظام ودیگر مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔فوجی آفیسران نے لوگوں کو تلقین کرتے ہوئے کہاکہ وہ آپسی اتحاد و مذہبی بھائی چارے کو قائم رکھتے ہوئے ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا رول ادا کریں ۔انہوں نے کہاکہ فوج لوگوں کی مشکل وقت میں مدد کیلئے ہر وقت تیار ہے جبکہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے خطہ پیر پنچال میں کئی پروگرام منعقد کررہی ہے اور اس سلسلہ کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا ۔  

گھانی پنچایت میں بجلی کا ڈھانچہ تباہ حال

مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کی سرحدی پنچایت ’گھانی ‘میں بجلی پانی و سڑکوں کیساتھ ساتھ دیگر بنیای سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ پسماندہ طرزکی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں و پنچایتی اراکین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ضلع انتظامیہ اور انتظامیہ کے زیر تحت کام کرنے والے محکموں کی جانب سے سرحدی گائوں میں بنیادی سہولیات کی فراہم نہیں کی جارہی ہیں جبکہ لوگ مختلف سرکاری دفاتر میں چکر کاٹ کر بے بسی کی حالت میں آگئے ہیں ۔مقامی سرپنچ شفیق چوہدری نے بتایا کہ گائوں میں 150سے زائد ایسے کنبے موجود ہیں جن کے گھروں کے قریب محکمہ بجلی کی جانب سے اس جدید دور میں بھی پختہ کھمبے نصب نہیں کئے جاسکے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں بجلی نظام سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کے حوالے کیا گیا ہے جو کہ انسانوں کیساتھ ساتھ دیگر جانوروں کیلئے انتہائی خطر ناک ہے ۔انہوں نے بتایا ک

مزید خبریں

نئی حد بندی سے قبل پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دینے کی مانگ  جاوید اقبال  مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پہاڑی قبائل کے معززین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر میں ہونے والی نئی حد بندی سے قبل پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ آئندہ اس پسماندہ قبائل کی فلاح و بہبود ممکن بنائی جاسکے ۔معززین نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پہاڑی قبائل کے لوگوں ایک منفرد شناخت رکھنے کے باوجود بھی ایس ٹی کے درجے سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پہاڑی قبائل کے طلباء اعلیٰ تعلیم کیساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں حاصل کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں جبکہ مذکورہ قبائل کے لوگ مرکزی حکومت کی جانب سے نکالی جارہی پوسٹوں کے اہل بھی نہیں ہو سکتے ۔انہوں نے سابقہ تمام حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پہاڑی قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کیا جاتا