کوٹرنکہ کے متعددعلاقوں میں ریت بجری مافیا سرگرم

 کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کے متعدد علا قوں میں ریت بجری مافیا کھلے عام سرگر م ہو گیا ہے تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے ملوث افراد کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔سب ڈویژن کے دراج موڑا ،سموٹ ،جگلانوں ودیگر علاقوں میں دریائے آنس میں مافیا تیزی کیساتھ سرگرام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جہاں دریامیں پائے جانے والے جانداروں کو شدید خطر ہ لائق ہو گیا ہے وہائیں قدرتی ماحولیاتی توازن میں بھی بگاڑ آرہا ہے ۔متعدد معززین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ریت بجری مافیا انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے غیر قانونی طریقہ سے بھاری رقم وصول کررہا ہے تاہم اس جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ کام میں مصروف افراد انتظامیہ کے حکم کو یکسر نظرانداز کر کے اپنی مرضی کے ریٹ لگا رہے ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ دریا پر بجری کی قیمت سات ہزار روپے جبکہ ریت کے بیس ہزار روپے وصول کئے جاتے ہی

سرنکوٹ میں اے ٹی ایم کئی دنوں سے بند

سرنکوٹ//پونچھ ضلع کے سرنکوٹ قصبہ میں نصب کر دہ جموں وکشمیر بینک کی اے ٹی ایم مشینیں گزشتہ کئی دنوں سے بند ہو چکی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں ۔صارفین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر بینک کی جانب سے سرنکوٹ قصبہ میں کل چار اے ٹی ایم مشینیں نصب کی گئی ہیں تاہم ان سبھی میں سے محض ایک مشین ہی کام کررہی ہے جس کے سامنے کووڈ کے مشکل وقت میں بھی درجنوں صارفین قطاروں میں انتظار کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مشینوں کی خرابی کے سلسلہ میں کئی مرتبہ متعلقہ حکام و مقامی انتظامیہ کو بھی جانکاری فراہم کی گئی لیکن ابھی تک ان کی مرمتی کے سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ قصبہ میں سٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے بھی دو مشینیں نصب کی گئی ہیں لیکن صارفین کی مشکلات کم کرنے کیلئے ان مشینوں کی مرمت ہی نہیں کی جارہی ہے ۔صارفین نے مانگ کرتے ہوئے اے ٹی ایم م

پونچھ قصبہ میں غیر قانونی پارکنگ کا سلسلہ عروج پر

 پونچھ// قصبہ پونچھ میں محکمہ پولیس کی جانب سے قوانین بنائے تو گئے ہیں لیکن ان پر عمل آوری کس حد تک ہوتی ہے اس کا اندازہ پریڈ پارک کے سامنے بنائے گئے نو پارکنگ میں کی جانے والی گاڑیوں کی پارکنگ سے ہوتا ہے۔ محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے ہیلمٹ نہ پہننے پر ان کی تصویر کشی کرتے ہوئے انہیں بھاری چالانات کئے جاتے ہیں اور شہر کے کئی مقامات پر نو پارکنگ سے گاڑیوں کو ضبط بھی کیا جاتا ہے لیکن پونچھ کی مصروف ترین سڑکیں اور دیگر مقامات پر جہاں نوپارکنگ زون ہیں ان مقامات پر پارکنگ لگی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتا۔اگر چہ ایس ایس پی ٹریفک رورل کی ہدایات پر پونچھ کے بیشتر مصروف ترین علاقوں میں ٹریفک پولیس نے کاروائیوں میںضلع کورٹ اور ضلع ہسپتال کی مصروف ترین سڑک کے کنارے کی گئی پارکنگ کے خلاف کاروائی کی گئی۔لیکن پریڈ پارک پونچھ میلاد چوک میں نو پارکنگ زون ہونے کے ب

غلطی سے حدِ متارکہ پار کرنے والا شہری وطن روانہ

 پونچھ//11اپریل کے روز غلطی سے نادانستہ حدِ متارکہ پار کر کے ہندوستان کے حدود میں داخل ہوجانے والے شخص کو ہند فوج نے جمعرات کو چکاں دا باغ کے راستے پاکستانی فوج کے حوالے کردیا۔فوجی ذرائع کے مطابق مذکورہ شہری کو پونچھ  چکاں دا باغ کے راستے راولاکوٹ کراسنگ پوئنٹ پر پاکستانی فوج کے حوالے کیا گیا۔مذکورہ شہری کی شناخت غلام قادر ولد محمد دین ساکن گھم نکیل پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے طور کی گئی ہے ۔یہ شخص 11اپریل کے روز غلطی سیمینڈھر کے بالاکوٹ  علاقہ میں داخل ہو گیا تھا جس کے بعد اسے حراست میں لیا گیا تھا ۔واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کی افواج نے 25فروری کو2003کی جنگ بندی معاہدے پر  سختی سے عمل پر رضا مندی کا اعلان کیا جب سے کنٹرول لائن پر حالات ’دوستانہ‘ ہیں۔اس دوران سرحدی لوگوں نے کافی حد تک راحت حاصل کی ہے۔  

سخی میدان تا کلائی سڑک پر بمقام

مینڈھر//پٹھانہ تیر میں سخی میدان تا شیندرہ کلائی سڑک پر برلب چند افراد نے دکانیں تعمیر کر رکھی ہیں، جن کی وجہ سے وہاں سڑک کافی تنگ ہے۔ مقامی لوگوں کی شکایت ہے کہ ایک شخص نے خسرہ نمبر84میں دو مرلے اراضی لی تھی لیکن ا س نے 9مرلے سے زائد اراضی پر قبضہ کر لیا اور محکمہ مال کی ساز باز سے غلط گرداوری وانتقال اپنے نام کروایا۔مکینوں نے بتایا کہ کچھ افراد کی جانب سے مینڈھر پٹھانہ تیر تا کلائی سڑک پر ناجائز قبضہ کا عمل شروع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سڑک میں چلنے والی گاڑیوں کو بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پٹھانہ تیر چوک میں تعمیر کردہ دکانیں متعلقہ محکمہ کے سروئے سے بھی باہر ہیں تاہم کچھ مقامی افراد اپنی دکانیں و ناجائز تعمیرات بچانے کیلئے شکایت کررہے ہیں ۔انہوں نے انتظامیہ سے مانگ کی کہ موقعہ پر بخوبی جائزہ لے کر قاعدہ کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی جائے ۔

ہندو مہاسبھا نے غریب جوڑے کی شادی میں معاونت کی

مینڈھر //ہند مہا سبھا کے لیڈران و کارکنوں نے مینڈھر قصبہ میں ایک غریب جوڑے کی شادی میں معاونت کی جس پر مقامی معززین نے مہا سبھا اراکین کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کارکن اس سے قبل بھی فلاحی کاموں میں سرگرم رہے ہیں ۔ہندو مہا سبھا کے صدر بلرام شرما نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مدھیہ پردیش کے ایک غریب گھرکی لڑکی کی شاد ی پونی پارک ریاسی کے ایک غریب طبقہ کے لڑکے کیساتھ کروانے میں معاونت کی ۔اس سلسلہ میں مہا سبھا کی جانب سے مقامی مندر میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے دوران غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے کو شادی کے بندھن میں باندھ گیا ۔مقامی معززین نے مہاسبھا لیڈران کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل بھی غریب طبقہ کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا گیا ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کارکن آئندہ بھی اپنی فلاحی سرگرمیاں جاری رکھیں گے ۔  

سڑک حادثے میں 1زخمی

مینڈھر //سرنکوٹ کے نوری چھم علاقہ میں ایک الٹو کار حادثے کا شکار ہوئی جسکی وجہ سے گاڑی میں سوار ایک شخص زخمی ہو گیا تاہم دیگر دو بچے بچ گئے ۔مقامی ذرائع کے مطابق نوری چھم کے مقام پر ایک تیز رفتار کار ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہو کر ایک گہری میں میں جا گری جس کے نتیجے میں گاڑ ی میں سوار ایک شخص زخمی ہو گیا ۔مقامی لوگوں اور مسافروں نے بچائو کارروائی میں شرکت کرتے ہوئے زخمی کو سرنکوٹ ہسپتال منتقل کر دیا جہاں پر اس کا علاج معالجہ کیاجارہا ہے ۔پولیس نے اس سلسلہ میں مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔  

مزید خبرں

امتحانی مراکز میں سہولیات کا فقدان  طلباء پریشان ،انتظامیہ سے توجہ دینے کی اپیل  سمت بھارگو  راجوری //راجوری ضلع میں 10ویں اور 12ویں جماعت کے امتحان کے سلسلہ میں منعقدہ سنٹروں میں بچوں کیلئے سہولیات ہی میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے امتحان دینے والے طلباء کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔مختلف امتحانی سنٹروں کے بچوں نے بتایا کہ ان کے بیٹھنے کیلئے ڈیسک بھی دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے بورڈ کی جانب سے لئے جارہے امتحان میں ان کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔طلباء نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے قائم کر دہ سنٹروں میں معقول بندوبست ہی نہیں کئے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بورڈ امتحان میں کامیابی اور معیاری کارکردگی کیلئے بیٹھنے کی معقول جگہ و دیگر سہولیات دستیاب ہونا اشد ضروری ہیں تاہم امتحانی مراکز میں مذکورہ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان