تازہ ترین

حد متارکہ پر واقع ہائی سکول کشتی بلنوئی کا درجہ تو بڑھا لیکن عملہ نہ بڑھا

مینڈھر// سرحدی تحصیل منکوٹ کے گورنمنٹ ہائی سکول کشتی بنلوئی میں تعلیم حاصل کررہے بچوں کے ساتھ محکمہ تعلیم کے اعلی آفیسران سوتیلی ماں کا سلوک کررہے ہیں۔ 200سو سے زائد بچوں کیلئے صرف چار اساتذہ سکول میں تعینات ہیں۔گورنمنٹ ہائی سکول کشتی بنلوئی سرحد پر واقع ہے اور سرحدپر بسنے والے بچوں کیلئے سرکار نے دو سال قبل رمسا سکیم کے تحت ہائی سکول بنایا تھا تاکہ بچوں کو بغیر پریشانی تعلیم مل سکے لیکن سکول میں صرف ٹیچر گریڈ کے چار اساتذہ ہیں اور دوسو سے زائد بچے سکول میں ہیں۔ اس سلسلہ میں خاتون سرپنچ نسیم اختر نے بتایا کہ سرحد پر بسنے والے بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیاجارہاہے کیوں کہ اگر سرکار نے کسی سکیم کے تحت سکول کا درجہ بڑھا کر ہائی سکول کیا تھا تو سکول کے اندر اساتذہ تعینات کرنے چاہئے تھے لیکن محکمہ تعلیم کے اعلی آفیسران نے ایسا نہیں کیا اور بچوں کا مستقبل متعلقہ محکمہ تباہ کررہاہے ۔ان

محکمہ جل شکتی کے عارضی ملازم نے تنگ آ کر خودکشی کر لی

پونچھ//محکمہ صحت عامہ(پی ایچ ای )میں عرصہ بیس سال سے عارضی ملازمت کرنے والے محمد ریاض ولد ولی محمد ساکن محلہ اعلیٰ پیر پونچھ نے گھر کے اخراجات پورے نہ ہونے پر تنگ آ کر زہر کھا کر خودکشی کر لی۔تفصیلات کے مطابق محکمہ پی ایچ ای میں تقریبا بیس سالوں سے عارضی ملازمت کرنے والے محمد ریاض ولود ولی محمد ساکن محلہ اعلیٰ پیر پونچھ نے پیر کے روز کوئی زہریلی شے کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی جنھیں فورا ضلع ہسپتال پونچھ پہنچایا گیا جہاں ان کی نازک حالت دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے انھیں جموں منتقل کر دیا ۔جموں میڈیکل کالج میں ڈاکٹروں کی از حد کوشش کے باوجود اس شخص نے دم توڑ دیا ۔اس دوران پولیس نے متوفی کی لعش کو ضابطے کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لعش لواحقین کے حوالے کر دی۔ اس دوران پونچھ میں شام کو جل شکتی محکمہ کے ایک ڈیلی ویجر کی مبینہ خود کشی کے خلاف احتجاج کیاگیا۔مرنے والے کی شناخت فیاض احمد ولد