تازہ ترین

جموں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے حقوق پر بڑا حملہ:عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ

سرینگر//عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے منگل کو جموں کشمیر کی زمین سے متعلق قوانین میں ترمیم کو ”غیر آئینی“ قرار دیتے ہوئے اس کوجمو ں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے حقوق پر”بڑا حملہ“ قرار دیا۔  فورم کے ترجمان سجاد لون نے کہا ”یہ جموں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے حقوق پر بڑا حملہ ہے۔فورم اس کا ہر محاذ پر مقابلہ کرے گا“۔  انہوں نے مزید کہا”یہ اُن ہزاروں مجاہدین آزادی اور کسانوںکی تذلیل ہے جنہوں نے شخصی راج کیخلاف جد و جہد کی ۔یہ آرڈر آئینی جمہوری اُصولوں کی ایک اور کھلم کھلا خلاف ورزی ہے“۔ یاد رہے کہ آج مرکزی وزارت داخلہ نے جموں کشمیر اور لداخ کی زمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کیا جس کی رو سے اب کوئی بھی غیر مقامی شہری یہاں کی زمین خرید سکتا ہے۔تاہم اس میں ذرعی زمین کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔  

مرکز کے ہاتھوں جموں کشمیر برائے سیل:لینڈ لا نوٹیفائی کرنے پر عمر و محبوبہ کا سخت رد عمل

سرینگر//سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے منگل کو جموں کشمیر و لداخ کی زمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کئے جانے کیخلاف سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو ”مرکز کے ہاتھوں جموں کشمیر کی سیل“ سے تعبیر کیا۔ اپنے ایک ٹویٹ میںعمر نے لکھا” جموں کشمیر کی زمین سے متعلق ناقابل قبول ترامیم۔اب تو ڈومیسائل کی علامتی بندش کو بھی ختم کیا گیا۔اب جموں کشمیرسیل پر ہے“۔ محبوبہ نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں ایسے ہی سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا” زمینوں سے متعلق جاری نوٹیفکیشن حکومت ہند کی طرف سے جموں و کشمیرکے لوگوں کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کے سلسلے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔دفعہ370کو منسوخ کرنے اور وسائل کی لوٹ کے بعد ان زمینوں کی کھلے عام فروخت کیلئے راہ ہموار کی گئی“۔ قابل ذکر ہے کہ آج مرکزی و

امریکی وزیر خارجہ اور دفاع کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے میٹنگ

نئی دہلی// امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر نے منگل کو یہاں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقات کی اورحکمت عملی کی اہمیت کے حامل مسئلوں اور چیلنجوں پر تفصیلی سے غور و خوض کیا۔ ہندوستان امریکہ ٹوپلس ٹو میٹنگ میں حصہ لینے آئے دونوں امریکی وزیر میٹنگ شروع ہونے سے پہلے ساو¿تھ بلاک پہنچے جہان ڈوول نے ان کا خیر مقدم کیا۔ سرکاری ذرائع نے میٹنگ کو ’بےحد تخلیقی‘ قرار دیتے ہوئے یہاں بتایا کہ سلامتی ،استحکام اور اصولوں پر مبنی علاقائی اور عالمی سکیورٹی کے ماحول کو یقینی بنانے کے مقصد سے ہر شعبہ میں صلاحیت بڑھانے کےلئے دونوں ملکوں کے درمیان حکمت عملی کی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں بحث ہوئی۔ قومی سلامتی کے مشیر اور دونوں امریکی وزرا کے درمیان یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقی لداخ میں ایکچوو¿ل لائن آف کنٹرول پر ہندوستا

زمین کا قانون نوٹیفائی، اب جموں کشمیر اور لداخ میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے

سرینگر//مرکزی سرکار نے منگل کے کوزمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیااور اب مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے۔تاہم اس میں ذرعی زمین شامل نہیں ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو ’مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ ری آرگنازیشن 2020‘کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔یہ اس سلسلے میں پاس کئے گئے قوانین کا تیسرا حکمنامہ ہے۔ بیان کے مطابق اس حکمنامہ کو فوری طور پر نافذ العمل سمجھا جانا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ اگست2019میں جموں کشمیر کو مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنانے اور اس کو تقسیم کرنے کے بعد سے اس کے اندر مرکزی قوانین نافذ کرنے کا عمل جاری ہے۔  

جنوبی ضلع پلوامہ میں ریچھ کے حملے میں4شہری زخمی

سرینگر//جنوبی ضلع پلوامہ کے روہمو گاوں میں منگل کو ریچھ نے حملہ کرکے چار شہریوں کو زخمی کردیا۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق ریچھ آج صبح سویرے نمودار ہوکر چار افراد پر حملہ آور ہو،ا اور چاروں کو زخمی کردیا جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ زخمی شہریوں کو پبلک ہیلتھ سینٹر روہمو پہنچایا گیا جہاں سے اُنہیں ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا۔ زخمی شہریوں کی شناخت عبد الاحد ڈار، اشفاق احمد ڈار، عمر گل اور تاجہ بیگم ساکنان روہمو کے طور ہوئی ہے۔ دریں اثناءمقامی لوگوں نے اُنہیں ایمبولینس فراہم نہ کئے جانے پر پی ایچ سی روہمو کیخلاف احتجاج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمبولینس کی عدم دستیابی کے باعث اُنہیں سبھی زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں پلوامہ پہنچا نا پڑا۔  

کنگن میں پانی کی عدم دستیابی کیخلاف لوگوں کا احتجاج،لیہہ۔سرینگر شاہراہ پر ٹریفک میں خلل

کنگن//وسطی ضلع گاندربل کے چکی پرنگ کجپارہ کنگن میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف لوگوں نے منگل کو سرینگر ۔لیہہ شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیکر گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑا۔  چکی پرنگ کجپارہ کنگن کے مردو زن نے سرینگر۔ لداخ شاہراہ پر محکمہ جل شکتی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا جس کے نتیجے میں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت ایک گھنٹے تک متاثر رہی۔  مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی بستی میں گذشتہ بیس دنوں سے پینے کے پانی کی شدید قلت ہے اور لوگ مجبور ہوکر مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے یہاں مہلک بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہے۔  کنگن پولیس نے جائے وقوع پر جاکر احتجاجی مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے اس مسلے کو جلد حل کیا جائے گا جس کے بعد انہوں نے پرامن طور پر دھرنا ختم کیا اور شاہراہ پر ٹریفک بحال ہوگیا۔

پشاور پاکستان کے مدرسے میں دھماکہ، 5 ہلاک، 55 زخمی

اسلام آباد// پاکستان کے شہرپشاور میں ایک مدرسے میں دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور 55 زخمی ہو گئے ہیں۔ پشاور خیبر پختون خوا ہ کا دارالخلافہ ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق پشاور پولیس نے بتایا کہ دھماکہ ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جبکہ دھماکہ خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں 19 بچوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔ جیو نیوز نے بچاو¿ کام میں لگے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ ڈیر کالونی میں ہوا ہے۔زخمی بچوں کو لیدی ریڈنگ اسپتال میں اور دیگر طبی سہولیات مراکز میں داخل کرایا گیا ہے۔ کئی زخمی بچوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔  

ضلع راجوری میں بچے کی لٹکتی لاش بر آمد

سرینگر//ضلع راجوری میں ایک بارہ سالہ بچے کی لاش اس کے ہی گھر میں لٹکتی حالت میں پائی گئی ہے۔یہ واقعہ ضلع کے بہروٹ گاوں میں گذشتہ شام پیش آیا۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق بچے کی لاش ملتے ہی پولیس کو مطلع کیا گیا جس کے بعد تھنہ منڈی پولیس سٹیشن سے ایک ٹیم جائے مقام پر پہنچ گئی۔ پولیس کے مطابق لاش کو قانونی لوازمات کیلئے تحویل میں لیا گیا۔اس سلسلے میں دفعہ174سی آر پی سی کے تحت تحقیقات شروع کی گئی ہے۔  

ملک میں کورونا انفیکشن کے36470 نئے معاملے ،تین ماہ میں سب سے کم

نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس انفیکشن کی رفتار سست ہوتی جارہی ہے اور ایک دن میں سامنے آنے والے معاملے 40 ہزار سے نیچے آگئے ہیں اور ہلاک شدگان کی تعداد مسلسل دوسرے دن 500 سے نیچے رہی۔ صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کی جانب سے منگل کو جاری اعدادو شمار کے مطابق پچھلے 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 36470 نئے معاملے سامنے آئے جبکہ 63842 لوگوں نے اس وبا کو مات دی ہے۔ اس سے فعال معاملے 27860 گھٹ کر 625,857 رہ گئے ہیں۔ اس دوران 488 مریضوں کی موت ہونے سے اس سے جان گنوانے والوں کی تعداد 119,502 ہوگئی ہے۔ کورونا سے اب تک 79.46 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 72.01 لاکھ صحت مند ہوچکےہیں۔ اس سے صحت مند ہونے والوں کی شرح بڑھکر 90.62 فیصد اور فعال معاملوں کی شرح 7.88 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ موت شرح 1.50 فیصد ہے۔ کورونا کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر مہاراشٹر میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران

تازہ ترین