کورونا وائرس کے نئے 17معاملات سامنے ، 28,545 اَفراد زیر نگرانی

جموں//حکومت نے سنیچر کو کہا کہ جموںوکشمیر میں آج کورونا وائر س کے 17نئے معاملات سامنے آگئے ۔ ان میں 3 کا تعلق جموں صوبے اور 14 کا تعلق کشمیر صوبے سے ہے۔اس طرح جموں وکشمیر میں مثبت معاملات کی کل تعداد 92تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 92 مثبت معاملات میں سے 86 سرگرم معاملات ہیں ،چار مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور دو کی موت واقع ہوئی ہے۔ اب تک 28,545 ایسے اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفری پس منظر ہے یا جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں ۔ ان میں سے 10,606 اَفراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ682 اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔86کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 12,795 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی

صورتحال قابو میں،گھبرانے کی کوئی بات نہیں: صوبائی کمشنر

سرینگر//صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے سنیچر کے روز کہا کہ کوروناوائرس کے مشتبہ افراد جو بیرونِ ممالک سے واپس لوٹے ہیں اور اس وقت انتظامی کورنٹین میں رکھے گئے ہیں ، کا ٹیسٹ اگر منفی پایا گیا کو تین دنوں کے اندر اپنے گھروں کو بھیج دیا جائے گا جہاں وہ 14 دن اور ہوم کورنٹین میں رہیں گے ۔  ان باتوں کا اظہار صوبائی کمشنر نے کے سی سی آئی کے نمائندوں اور سول سوسائیٹی گروپوں کے ممبران کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران کیا ۔ میٹنگ کا انعقاد وادی بھر میں صوبائی انتظامیہ کی طرف سے کووڈ 19 وباءکو پھیلنے سے روکنے کے سلسلے میں کی جا رہی تیاریوں اور انتظامات کے بارے میں معلومات فراہم کرنی تھیں ۔  انہوں نے کہا کہ اس وقت کووڈ 19 کے مختلف معاملات سامنے آ رہے ہیں اور اُن کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ ایسے افراد کو سی ڈی ہسپتال ڈل گیٹ ، سکمز صورہ اور سکمز بمنہ کے علاوہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال پٹن اور س

اقامتی قانون میں ترمیم بناوٹی: نیشنل کانفرنس

سرینگر//جموں کشمیر نیشنل کانفرنس نے سنیچر کے روز مرکز کے زیر انتظام علاقہ کیلئے نئے اقامتی قانون کی ترمیم کو ”بناوٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ مرکز کے ہاتھوں جموں کشمیر اور اس کے لوگوں کے ساتھ ایک اور کھلواڑ کی مثال ہے“۔پارٹی نے کہا کہ مذکورہ ترمیم سے یہاں کے آبادی کے تناسب کو بگڑنے سے بچانے کی کوئی گارنٹی حاصل نہیں ہوگی۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اقامتی قانون کی ترمیم کو”بناوٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے ”محض غیر مقامی باشندوں کا راستہ بدل دیا ہے جبکہ منزل اب بھی کھلی ہے“۔ انہوں نے کہا”نوکریوں کیلئے براہ راست درخواست دینے کے بجائے غیر مقامی افراد کو اب پہلے اقامتی سند فراہم کی جائے گی اور بعد میں نوکری،اقامت کو سات سال کا عرصہ گذارنے والے ہر فرد کیلئے کھلا رکھنے سے یہاں موجود لاکھوں غیر مقامی افراد اس زمرے م

ڈوڈہ میں دینی مدرسہ کی ہوسٹل عمارت قرنطین مرکز کیلئے وقف

سرینگر//ضلع ڈوڈہ میں قائم ایک معروف دینی مدرسہ کی انتظامیہ نے سنیچر کے روز ہوسٹل عمارت کو کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطین کرنے کیلئے وقف کیا جس کے اندر100بستروں پر مشتمل خصوصی مرکز قائم کیا جائے گا۔ انتظامیہ کو لکھے ایک خط میں غنیة العلوم واقع اکھیر پورہ نامی مدرسہ کے پرنسپل مفتی برہان الحق گانی پوری نے کہا کہ مذہبی ادارے کی ہوسٹل عمارت کو کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطین کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا تاکہ اس مہلک وائرس کو ضلع میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔ غنیة العلوم جموں صوبے کا سب سے بڑا دینی مدرسہ ہے جو ضلع ڈوڈہ میں بھلیسہ کے تحصیل چلی پنگل میں قائم ہے۔ مفتی نے مزید کہا”ہم ہوسٹل عمارت کو قرنطین مرکز کیلئے وقف کرنے کیلئے تیار ہیں جو ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں کوئی اسپتال یا سرکاری عمارت موجود نہیں ہے“۔انہوں نے کورو نا وائرس سے پیدا صورتحال کا م

کولگام میں مسلح جھڑپ،4جنگجو جاں بحق: پولیس

سرینگر//جنوبی ضلع کولگام میں ہفتے کوسیکورٹی فورسز کے ساتھ خونریز تصادم آرائی کے دوران چار جنگجو جاں بحق ہوگئے۔یہ جھڑپ ضلع کے دمحال ہانجی پورہ ، کھوری بٹہ پورہ علاقے میں اُس وقت پیش آئی جب فورسز نے ہردہ منگری گاﺅں کو گھیرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ پولیس نے کہا کہ یہ آپریشن فوج، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس نے مشترکہ طور شروع کیا تھا جس کے دوران چھپے جنگجوﺅں کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے دوران چار جنگجو جاں بحق ہوگئے۔  پولیس نے مزید کہا کہ جس مکان کے اندر جنگجوﺅں نے پناہ لی تھی وہ مکمل طور تباہ ہوگیا۔ پولیس کے مطابق اس جھڑپ میں جاں بحق جنگجوﺅں میں سے دو کی شناخت مقامی جنگجوﺅں کے طور ہوئی ہے جبکہ ماقی ماندہ دوکی شناخت کی جارہی تھی۔ پولیس نے مزید کہا کہ جنوبی کشمیر میں گذشتہ12روز کے دوران جو چار شہری ہلاکتیں ہوئیں، مذکورہ جنگجو گروہ اُن ہلاکتوں میں ملوث تھا۔

جموں کشمیر میں کورونا وائرس کے مزید3مثبت کیس

سرینگر//جموں کشمیر میں سنیچر کو مزید تین افراد کورونا وائرس میں مبتلاءپائے گئے جب مذکورہ افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔اس طرح جموں کشمیر کے اندر مہلک کورونا وائرس میں مبتلاءمریضوں کی تعداد78ہوگئی ہے،جن میں سے دو فوت ہوگئے ہیں۔ سرکاری ترجمان اور پرنسپل سیکریٹری پلاننگ روہت کنسل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ نئے تین مریضوں کا تعلق جموں صوبے کے نارسو، اُدھمپور علاقے سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ تینوں افراد حال ہی میں باہر کے ممالک سے آئے تھے۔ واضح رہے کہ ابھی تک وادی کشمیر میں54جبکہ جموں صوبے میں 19افرادکورونا وائرس میں مبتلاءپائے گئے ہیں۔  

جموں کشمیر میں زلزلے کے ہلکے جھٹکے

سرینگر//جموں کشمیر میں سنیچر کو زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت4.0تھی۔ یہ جھٹکے علی الصبح6بجکر14منٹ پر محسوس کئے گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے 60کلو میٹر نیچے تھا۔  

تازہ ترین