تازہ ترین

لاک ڈائون میں مزید 2ہفتوں کی توسیع متوقع

نئی دہلی // مرکزی سرکار ملک گیر لاک ڈائون میں ممکنہ طور پر مزید 2ہفتوں کی توسیع کرنے جارہی ہے تاہم لاک ڈائون کا مرکز ملک کے 11شہر ہونگے جہاں کل متاثرہ کیسوں کے 70فیصد موجود ہیں۔ ان 11 شہروں میں دہلی ، ممبئی، بنگلورو، چنئی، احمدآباد، کولکتہ، پونے، تھانے،جے پور، صورت اور اندور شامل ہیں۔مرکزی سرکار 31مئی کے بعد لاک ڈائون کو مزید دو ہفتوں کیلئے بڑھانے جارہی ہے تاکہ کورونا وائرس  کے پھیلائو  میں کمی لائی جاسکے۔البتہ لوگوں کیلئے بندشوں میں نرمی بھی کی جائیگی۔دو ہفتوں کی توسیع کو ’’ احساس کیساتھ لاک ڈائون میں توسیع‘‘ کا نام دیا جائیگا جس میں زیادہ تر مرکز وہ 11شہر ہونگے جہاں پورے ملک میں پائے جانے والے کیسوں کے 70فیصد ہیں۔بھارت میں فی الوقت ایک لاکھ 51ہزار سے زائد کورونا کے کیسز ہیں جن میں پچھلے 14روز کے دوران دوگناہ اجافہ ہوا ہے۔ بھارت میںمہلوکین کی تعداد م

تعلیمی ادارے فی الحال نہیں کھلیں گے : وزارت داخلہ

نئی دہلی // مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ سکول اور کالج دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہاکہابھی ریاستو ںکو سکول کھولنے کی اجازت نہیںدی گئی ہے ۔وزارت داخلہ ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی تک سرکاری سطح پر اس طرح کا کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور لاک ڈاون کے حوالے سے جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ ملک اس وبائی مرض سے محفوظ رہ سکے اور کم سے کم نقصان پہنچے ۔  سکولوں اور کالجوں کے دوبارہ کھولنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو ابھی بھی کھولنے کی ممانعت ہے۔ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ مارچ کے وسط سے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں - ان میں سے کچھ 25 مارچ سے جب ملک گیر لاک ڈاؤن شروع ہوا تھا - تاکہ اس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکے۔  

امسال اور گذشتہ سال کے سمسٹروں کے امتحانات

سرینگر// کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں کشمیر یونیورسٹی نے امسال اور سال گزشتہ سمسٹروں کے حتمی امتحانات نہ لینے کا اعلان کیا ہے جبکہ انٹر نل جائزہ(Internel Assessment) کی بنیادوں پر طلاب کو آئندہ سمسٹروں میں ترقی دی جائے گی۔ یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا تھا’’ کشمیر یونیورسٹی نے کورونا بیماری کے پیش نظر غیر معمولی فیصلہ لیتے ہوئے اس بات کا فیصلہ لیا ہے کہ امسال کے سمسٹروں اور گزشتہ سمسٹروں کے حتمی امتحانات نہیں لئے جائیں گے،جو کہ لاک ڈائون کے عرصے میں لئے جانے والے تھے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ طلاب کو آئندہ سمسٹروں میں ترقی دی جائے گی اور اس دوران یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے رہنما خطوط پر انٹرنل اسسمنٹ(اندرونی جائزہ) کو بنیاد بنایا جائے گا۔ یونیورستی ترجمان کا کہنا تھا’’ شعبہ جات کے سربراہان اپنے شعبہ جات کی متعلقہ محکمانہ کمیٹیوں کے ساتھ مشاورت کرکے منصفانہ

اجازت نامہ لیکر بھی جموں کی طرف سفر کرنا ناممکن، بانہال قرنطین میں رہنا پڑیگا

بانہال// کووڈ19 کے وبائی سلسلے کو پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کا نفاذ سختی سے جاری ہے اور وادی کشمیر سے جموں صوبہ میں داخل ہونے کیلئے اجازت والی درجنوں گاڑیوں کو بھی روزانہ جواہر ٹنل سے واپس اپنے لوٹنا پڑ رہا ہے۔ جموں سرینگر شاہراہ پر واقع دو صوبوں کو جوڑنے والے جواہر ٹنل پر ایک مجسٹریٹ کی قیادت میں پولیس اور محکمہ صحت کے اہلکار دن رات موجود رہتے ہیں اور صوبہ جموں میں ضروری سپلائزکے ٹریفک اور انتہائی ایمرجنسی نوعیت والی یا ایمبولینس گاڑیوں کے سوا دیگر کسی بھی قسم کی گاڑی پر سختی سے پابندی عائد ہے۔ چاہے ان کے پاس ڈویژنل کمشنر کشمیر یا جموں کا پاس بھی کیوں نہ ہو۔ ایسے میں صوبائی انتظامیہ سے پاس حاصل کرکے وادی کشمیر سے جموں کی طرف آنے والے کئی درماندہ مسافروں نے پوچھا ہے کہ اگر جواہر ٹنل سے آگے بڑھنے پر پابندی ہے تو لوگوں کو پھر کیوں پاس اجراکئے جارہے ہیں؟ ۔جواہر ٹنل پر تعینات انچار

بھٹناگرکی قرنطینہ سے واپسی تک

جموں //حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر کی قرنطینہ سے واپسی تک کیلئے ایڈوائزر کے کے شرما کو ان کی زیر نگرانی چل رہے محکمہ جات کا اضافی چارج سونپاہے ۔بھٹناگر کو ان کے اہل خانہ کے دو افراد کے کورونا نمونے مثبت آنے کے بعد قرنطین بھیج دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ عمومی انتظامی کی طرف سے ایک حکمنامہ جاری کیاگیاہے جس کے مطابق لیفٹنٹ گورنر کی ہدایت کے مطابق بھٹناگر کی قرنطینہ مدت مکمل کرکے واپسی تک ان کے محکمہ جات کاچارج کے کے شرما کو دیا جارہا ہے۔بھٹناگر کی اہلیہ اور بیٹے کو آئیسو لیشن وارڈ نارائنہ ہسپتال کٹرا میں زیر علاج رکھاگیاہے جبکہ وہ خود قرنطینہ کی مدت سے گزر رہے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ بھٹناگر کے پاس محکمہ صحت و طبی تعلیم، محکمہ تعمیرات عامہ ، محکمہ پی ایچ ای، محکمہ ٹرانسپورٹ اور محکمہ اینمل ہسبنڈری کے قلمدان ہیں ۔    

شوپیان میں کمسن لڑکی اور خاتون درخت کی زد میں آکرلقمہ اجل،ایک زخمی

سرینگر//جنوبی ضلع شوپیان میں بدھ کی شام آندھی چلنے کی وجہ سے ایک درخت اکھڑ کر گرگیا جس نے ایک کمسن لڑکی سمیت تین خواتین کو اپنی زد میں لایا۔اس حادثے میں لڑکی اور ایک خاتون از جان جبکہ تیسری خاتون زخمی ہوگئی۔ یہ حادثہ ضلع کے کیلر علاقے میں شکرو نامی گاﺅں ، جو جنگل میں واقع ہے،میں پیش آیا جہاں بکر وال گھرانے کی ایک لڑکی اور دو خواتین تیز آندھی کی وجہ سے اچانک گرنے والے درخت کے نیچے آگئیں۔ درخت کی زد میں آنے والوں کی شناخت 10سالہ ببلی، 50سالہ زینہ بیگم اور25سالہ شبنم ساکنان اکھنور کے طور پر ہوئی ہے۔ ان میں سے ببلی اور زینہ از جان ہوگئیں جبکہ شبنم زخمی ہوگئی جو کیلر اسپتال میں زیر علاج ہے۔  خبر رساں ایجنسی کے این او نے بلاک میڈیکل آفیسر کیلر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کمسن بچی اور زینہ جاں بحق ہوگئی ہیں زخمی شبنم کا علاج جاری ہے۔ وادی کے کئی علاقوں سے تیز آندھی چلنے

شمالی کشمیر کے سوپور میں نوجوان بجلی کرنٹ لگنے سے جاں بحق

سرینگر//شمالی ضلع بارہمولہ کے سوپور علاقے میں بدھ کو ایک21سالہ نوجوان بجلی کا کرنٹ لگنے سے از جان ہوگیا۔ جاں بحق نوجوان کی شناخت سجاد احمد کنوال ولد نذیر احمد کنوال ساکن شیر کالونی کے طور کی گئی ہے ۔ سجاد تحصیل روڑ پر واقع ایک عمارت کی چھت پر چڑھ کر کام کررہا تھا جب وہ بجلی کی تار کے رابطے میں آکر کرنٹ کا شکار ہوگیا۔ سجاد کو فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور پہنچایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔  

۔2روز میں 3اموات، منگل کو101کیس مثبت

سرینگر //جموں و کشمیر میں پیر اور منگل کو کورونا وائرس سے متاثر مزید 3افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں اس طرح وائرس سے مرنے والے کی تعداد 24ہوگئی ہے۔مہلوکین میں 3جموں اور 21کا تعلق کشمیر صوبے سے ہے۔منگل کو بی ایس ایف انسپکٹر، 2سی آر پی ایف اہلکار ، ایک صحافی اور 4حاملہ خواتین کے علاوہ دبئی سے لوٹنے والے 3افراد، اور 8اہل خانہ سمیت 101 متاثرین میں اضافہ ہوا ہے۔مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر میں متاثرین کی تعداد 1769تک پہنچ گئی ہے جن میں سے348جموں جبکہ 1421کشمیر سے ہیں۔101مریضوں میں سے8سرینگر،ایک کولگام، 4کپوارہ، 4بانڈی پورہ، 10 بارہمولہ،12بڈگام،4گاندربل،2شوپیان، 2پلوامہ،10جموں،29رام بن، 4کٹھوعہ،2ادھمپور، 2سانبہ،4پونچھ اور 3کا تعلق ریاسی سے ہے۔  ۔2 دن میں تین اموات  کھل کولگام سے تعلق رکھنے والے 90سالہ شخص کی موت کے ساتھ ہی پچھلے دو دنوں کے دوران وائرس سے فوت ہونے والے مریضوں ک

لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر ہند چین افواج کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال

نئی دہلی // چین نے لداخ کے نزدیک اپنے فوجی ہوائی اڈے کی توسیع کی ہے جہاں اس نے لڑاکا طیارے تیاری کی حالت میں رکھے ہوئے ہیں۔این ڈی ٹی وی رپورٹ میں سٹیلائٹ سے لی گئیں تصاویر ،لداخ میں دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کے سامنے آنے کے بعد لی گئیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان لداخ میں فوجیوں کیا ایک دوسرے کے سامنے آنے سے جو تشوناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے ایسا 1999میںکرگل جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔سٹیلائٹ تصاویر میں صاف طور پر چین کی طرف سے بڑے پیمانے پر چین کے فوجی اڈے کے نزدیک تعمیراتی سرگرمی دیکھی جاسکتی ہے۔ مذکورہ فوجی اڈہ لداخ میں پنگانگ جھیل سے 2سو کلو میٹر دور ہے جہاں 5اور 6مئی کو دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تصادم ہوا تھا۔نگری گونسا فوجی ائر پورٹ تبت میں تعمیر کیا گیا ہے۔فوجی اڈے کی پہلی تصویر 6اپریل کی ہے جس میں برائے نام تعمیراتی سرگرمی دکھائی دیتی ہے لیکن دوسری

ڈاکٹر کورونا جنگ کے ہیرو،نقل و حرکت یقینی بنائی جائے،پولیس کو ہدایت

سرینگر // جڈی بل سرینگر اور چیف میڈیکل آفیسر بانڈی پورہ کے ساتھ پیش آئے بدسلوکی کے مبینہ واقعات کے بعدپولیس حکام نے وادی کے سبھی پولیس افسران کو پیغام بھیج کر سختی کیساتھ ہدایات دیں ہیں کہ وہ طبی اور نیم طبی عملے کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت کو یقینی بنائیں۔ زونل پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے26ئی کو فوری طور پر وادی کے سبھی ایس ایس پی اور ڈی آئی جیز کو وائر لیس کے ذریعہ خصوصی پیغام بھیجا گیا ہے، جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ کورونا وائرس کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو سختی کیساتھ ہدایت دی جائے کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے والے طبی اور نیم طبی عملہ کی بلا رکاوٹ آمددرفت کو یقینی بنائیں۔ خصوصی پیغام میں تمام پولیس افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ ضلع میں تعینات چیف میڈیکل آفیسران کے ساتھ میٹنگ کرکے انہیں اس بات پرقائل کریں کہ طبی اور نیم طبی عملہ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے

جموںوکشمیر کے 94,621 درماندہ شہریوں کو واپس لایا گیا

 جموں//کووِڈ لاک ڈاون کے سبب بیرونِ یوٹی درماندہ مسافروں کوبحفاظت واپس لانے کے اِقدامات کے تحت حکومت نے اب تک 94,621 جموں وکشمیر کے شہریوں کو براستہ لکھن پور اور خصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے عالمی وَبا سے متعلق تمام قواعد و ضوابط پر عمل پیر ا رہ کر واپس یوٹی لایا ۔متعلقہ ضلع اِنتظامیہ ایک منظم لائحہ عمل کے تحت واپس آنے والوں کی طبی جانچ بشمول کووِڈ۔19 تھرمیڈیکل سکریننگ اور 14دِن قرنطین میں رہنے کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ اِس وَبا پر روک لگائی جاسکے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں وکشمیر میں اب تک جموں اور اودھمپور سٹیشنو ں پر 26,797 درماندہ مسافروں کو لے کر33کووِڈ خصوصی ریل گاڑیاں مختلف رِیاستوں اور یوٹیز سے پہنچی ہیںجبکہ براستہ لکھن پور 67,172 اَفراد کو واپس جے کے لایا گیا۔دریں اثنأ وَندے بھارت مشن کے تحت چار کووِڈ خصوصی پروازوں کے ذریعے 652مسافر بشمول طلباء سر ی نگر

توسہ میدان بڈگام میں بارودی شل دھماکہ، 3زخمی

کولگام+سرینگر// توسہ میدان یوسمرگ میں بارودی شل پھٹنے سے3 افراد زخمی ہوئے جبکہ جنوبی ضلع کولگام کے میر ونی کھڈ ہانجی پورہ نور آبادگائوں میں دوسری عید ، پیر کو ایک خونریز تصادم آرائی میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔بڈگام کے توسہ میدان کے پرانے فائرنگ رینج علاقے میں منگل کی سہ پہر ایک پرانا بارودی شل اچانک پھٹ گیا ، جس کی زد میں آکر 3افراد زخمی ہوئے جنہیں کھاگ اسپتال منتقل کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔مذکورہ فوجی فائرنگ رینج میں اپریل 2014 تک یہاں قریب 70شہری اسی طرح کے واقعات کے دوران لقمہ اجل بن گئے جبکہ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے تھے۔2014کے بعد یہاں فائرنگ رینج بند کردیا گیا اور فوج نے دور دور تک موجود بغیر پٹھے بارودی شلوں کو ناکارہ بنانے کی شروعات کی جو تین ماہ تک جاری رہی۔ادھرپولیس کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد پیر کو 34آر آر، پولیس

توسہ میدان میں دھماکہ، تین افراد زخمی

سری نگر//وسطی ضلع بڈگام کے کھاگ علاقہ میں واقع توسہ میدان میں ایک ان پھٹے بارودی شیل کے پھٹنے سے تین افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ توسہ میدان میں منگل کو دوپہر کے وقت پھٹنے سے رہ گئے ایک بارودی شیل کے اچانک پھٹنے سے تین افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو قریبی پبلک ہیلتھ سینٹر میں فرسٹ ایڈ دینے کے بعد بہتر علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر منتقل کیا گیا۔ یاد رہے کہ توسہ میدان1964سے 2014 تک فوج کا فائرنگ رینج تھا جس دوران یہاں دھماکوں کی وجہ سے70شہری جاں بحق جبکہ بیسیوں زخمی ہوگئے۔  

شمالی ضلع کپوارہ میں تلاشی آپریشن کے دوران دو یو بی جی ایل گرینیڈ بر آمد

سرینگر//سیکورٹی فورسز نے منگل کے روز شمالی کشمیر میں ضلع کپوارہ کے زونہ ریشی علاقے سے تلاشی آپریشن کے دوران دو یو بی جی ایل گرینیڈ بر آمد کئے۔ خبر رساں ایجنسی جی این ایس کے مطابق فوج اور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے زونہ ریشی گاﺅں کے چوپان محلہ کو مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے دوران دو یو بی جی ایل گرینیڈ بر آمد کئے گئے۔    

شمالی کشمیر کے سوپور میں30سالہ نوجوان کی خود کشی

سرینگر//شمالی کشمیر کے سوپور میں گذشتہ رات دیر گئے ایک 30سالہ نوجوان نے مبینہ طورخود کو لٹکا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ خبر رساں ایجنسی جی این ایس کے مطابق مہاراج پورہ سوپور کے رہنے والے شہری نے مبینہ طور اپنے ہی گھر میں خود کو لٹکا کر خود کشی کی۔ گھر والوں نے اُسے سب ضلع اسپتال سوپور پہنچایا تھا تاہم وہاں ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔ پولیس نے خبر رساں ایجنسی کے این او کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے مذکورہ نوجوان کی ہلاکت کے سلسلے میں تحقیقات شروع کی ہے۔  

کولگام کا90سالہ شہری کورونا سے جاں بحق، جموں کشمیر میں تعداد24

سرینگر//جنوبی ضلع کولگام کا ایک شہری، جس کو کورونا وائرس کے انفکشن میں مبتلاءپایا گیا تھا ،منگل کی صبح جاں بحق ہوگیا۔ اس طرح جموں کشمیر میں کورونا ہلاکتوں کی تعداد24تک بڑھ گئی ہے۔ ضلع کے کھالورہ نامی گاوں کا 90سالہ شہری سکمز میں زیر علاج تھا جہاں آج صبح اُس نے آخری سانس لی۔ خبر رساں ایجنسی جی این ایس  نے پروفیسر فاروق جان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مذکورہ بزرگ شہری نمونیا میں مبتلاءتھا اور اُس کا کورونا ٹیسٹ گذشتہ روز مثبت آیا تھا۔  کورونا میں مبتلاءپانے کے بعد اُسے الگ تھلگ وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا جہاں اُس نے وفات پائی۔  

لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر کی بیوی اور بیٹا کورونا وائرس میں مبتلا

سرینگر//جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مُرمو کے ایک مشیر کی بیوی اور بیٹا کورونا وائرس میں مبتلاءپائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کے کورونا ٹیسٹ رپورٹ مثبت آگئے ہیں جس کے بعد مشیر موصوف ریاسی ضلع میں سپر سپیشلٹی اسپتال کے اندر قرنطین میں گئے ہیں جہاں اُن کی بیوی اور بیٹے کو ایک الگ تھلگ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مشیر موصوف کی بیوی اور بیٹا حال ہی میں نئی دلی سے لوٹے تھے اور وہ ایک گیسٹ ہاﺅس میں مقیم تھے۔ اُن کے کورونا ٹیسٹ رپورٹ اتوار کے روزمثبت آگئے۔ مشیر موصوف کے بھی نمونے لیکر اُنہیں جانچ کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔  

کولگام کی خاتون کورونا سے فوت، متوفین کی مجموعی تعداد 23

سرینگر//جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کے بعد پیر کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئی ۔اس طرح مرکز ی زیر انتظام جموں کشمیر میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی جی این ایس نے جی ایم سی، سرینگر کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر سلیم خان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 65سالہ مذکورہ خاتون نمونیا میں مبتلاءتھی اور وہ صدر اسپتال میں زیرعلا ج تھی ۔وہ23مئی کو انتقال کرگئی جس کے بعد اُس سے کورونا کے نموبے حاصل کئے گئے جس کی رپورٹ اُس کی موت کے بعد مثبت آگیا۔  کولگام کی مذکورہ خاتون کے جاں بحق ہونے سے وادی کشمیر میں مہلک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد20ہوگئی ہے جبکہ3افراد کی موت جموں صوبے میں ہوئی ہے۔

جموں میں کورونا کی وجہ سے وکیل جاں بحق،جموں کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد22

سرینگر//پیر کے روز جموں کشمیر میں اُس وقت کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد22ہوگئی جب جموں کے ایک اسپتال میں داخل ایک وکیل کورونا کی وجہ سے دم توڑ بیٹھا۔ 63سالہ وکیل کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ASCOMS سدرا کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر روندر رتن پال نے خبر رساں ایجنسی جی این ایس کو بتایا کہ مہلوک ترکوٹہ نگر جموں کا رہنے والا تھا جس کا کورنا ٹیسٹ رپورٹ اُس کی موت کے بعد مثبت آگیا۔ انہوں نے کہا کہ مریض کے نمونے کچھ دن قبل لئے گئے تھے اور وہ گذشتہ روز جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہلوک کی لاش کو ورثاءکے حوالے کیا جارہا ہے تاکہ اُس کی کووڈ پروٹوکول کے مطابق آخری رسومات انجام دی جاسکیں۔ واضح رہے کہ جموں میں ابھی تک کورونا کی وجہ سے تین ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 19ہلاکتیں وادی کشمیر میں واقع ہوئی ہیں۔  

وزیر اعظم مودی کی طرف سے عید الفطر کی مبارک باد

نئی دہلی// وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو عید الفطر کے موقع پر تمام ہم وطنوں کوعید کی مبارکباد دیتے ہوئے تمام لوگوں کیلئے صحت وتند رستی اور خوشحالی کی دعا کی۔  مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا "عید الفطر کی مبارک باد، یہ خاص موقع معاشرے میں ہمدردی، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے جذبے کو اور آگے بڑھائے۔ تمام لوگ صحت مند اور خوشحال رہیں“۔ اس سے پہلے صدر رام ناتھ کووند نے بھی عید کے موقع پر اتوار کو ہم وطنوں کو مبارکباددی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صدر نے کہا”یہ تہوار محبت، امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کے اظہار کا ایک تہوار ہے۔ اس موقع پر، ہم معاشرے کے سب سے کمزور حصوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کے اپنے ایمان کو مزید مستحکم کرتے ہیں“۔