تازہ ترین

جموں کشمیر میں کسی کی اراضی نہیں لی گئی

۔ 12000کروڑ کی سرمایہ کاری کیلئے مفاہمت طے، ریاستی درجہ کی بحال کے وعدہ بند:امت شاہ      نئی دہلی/جموں// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات جاری حد بندی عمل کی تکمیل کے بعد ہوں گے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں حالات معمول پر آنے کے بعد ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا۔عملی طور پر ہندوستان کا پہلا "ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس" جاری کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک ترجیح ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے کثیر الجہتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا"جہاں تک جمہوری عمل کا تعلق ہے، حد بندی کا عمل شروع ہو چکا ہے، اس کے مکمل ہونے کے بعد، ہم اسمبلی انتخابات کرائیں گے‘‘۔ انکا کہنا تھا"کچھ لوگوں نے بہت سی باتیں کہی ہیں، لیکن میں آپ کو بتانا چ

بہتر انتظامیہ انڈیکس اجلاس

نئی دہلی// وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں مشترکہ بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو رفتار دینے کے لئے مختلف ریاستوں کے ایسے 142ضلع مجسٹریٹوں (کلکٹروں) سے سنیچر کو بات چیت کی ۔وزیراعظم نے و یڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کہاکہ جب دوسروں کی خواہش، اپنی خواہش بن جاتی ہے جب دوسروں کے خوابوں کی تکمیل ہی ہماری کامیابی کا پیمانہ بن جائے ، تو پھر وہ فرض شناسی تاریخ رقم کرتی ہے ۔ آج ہم ملک کے خواہش مند اضلاع میں یہی تاریخ رقم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔آج خواہش مند اضلاع ملک کو آگے بڑھنے میں رکاٹوں کو ختم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خواہش مند اضلا ع میں ملک کو کامیابی مل رہی ہے ، اس کی ایک بڑی وجہ ہے اجتماعیت اور ہم آہنگی کا احساس ہے ، افسر وہی ہیں لیکن نتیجہ الگ ہے ۔وزیراعظم نے زور دیکر کہا کہ خواہش مند اضلاع کی ترقی کے لئے انتظامیہ اور عوام کے مابین سیدھا اور جذباتی تعلق بہت ضروری ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ حکومت کی مختلف و

کورونا متاثرین کا اب تک کا نیا ریکارڈ قائم| 6568مثبت،7اموات

سرینگر //جموں و کشمیر میں عالمگیر وباء کے 23ماہ میں پہلی پر سنیچر کو کورونا وائرس  کی ریکارڈ تعداد درج کی گئی جو 6568رہی۔ یہ پہلی ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں مثبت کیسز کی تعداد 6500 سے زائد درج کی گئی۔ کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے  82ہزار 423ٹیسٹ کئے گئے جن میں 65سفر کرنے والوں سمیت مزید 6568افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ اس سے قبل 19جنوری 2022کو وائرس سے متاثرین کی ریکارڈ تعداد 5818درج کی گئی تھی۔متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھتے ہوئے 3لاکھ 90ہزار 949ہوگئی ہے۔ اس دوران مزید 7افراد فوت ہوگئے ہیں اور متوفین کی مجموعی تعداد 4598ہوگئی ہے۔ مثبت قرار دئے گئے 6568افراد میں جموںسے 1875جبکہ کشمیر سے 4693 افراد تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے 4693افراد میں 18بیرون ریاستوں سے سفر کرکے وادی واپس لوٹے جبکہ دیگر 4675افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر نہوئے ہیں۔ وادی میں

ہفتہ وار لاک ڈائون:کشمیر میں مکمل، جموں میں جُزوی

سرینگر// ہفتہ وار کورونا لاک ڈائون کے دوران سرینگر اور جموں میں دو مختلف صورتحال دیکھی گئیں۔جہاں سرینگر سمیت پوری وادی میں سخت ترین لاک ڈائون رہا وہیں جموں ٹائون میں جزوی لاک ڈائون دکھائی دے رہا تھا۔حد تو یہ ہے کہ جموں سٹی میں سہ پہر بعد مکمل طور پر مسافر گاڑیاں بھی چل رہی تھیں۔  65گھنٹوں کے لئے جمعہ 2بجے سے لاک ڈائون کا دورانیہ سنیچر کو بھی جاری رہا۔سنیچر کو لازمی خدمات کے بغیر ہر طرح کی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں۔ سخت ترین لاک ڈائون کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شہر اوردیگر ضلع و تحاصیل صدر مقامات پر سبزی یا میوہ فروش بھی دکھائی نہیں دیئے۔وادی میں پولیس کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے سختی برتی گئی اور گشت کر کے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کیلئے کہا۔جگہ جگہ ناکے لگائے گئے تھے اور صرف لازمی خدمات سے منسلک گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت دی جارہی تھی۔دوسرے

میدانی وبالائی علاقوں میں بارشیں و ہلکی برفباری

سرینگر //سنیچر کو پیر پنچال کے آر پار بیشتر بالائی علاقوں میں دوسرے روز بھی ہلکی برف باری اور میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج دوپہر سے 31جنوری، چلہ کلاں کے اختتام تک موسم میں بہتری آئے گی۔ سرینگر کے ساتھ ساتھ وادی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شب بارشوں اور ہلکی برفباری کا تازہ سلسلہ شروع ہوا جو ہفتہ کو بھی وقفے وقفے سے جاری رہا۔ کپوارہ، ہندوارہ،بارہمولہ اور شمالی کشمیر کے دیگر کئی علاقوں میں برف کی چادر بچھ گئی تھی۔سرحدی ضلع کپواڑہ میں موسم نے جمعرات کے شام 7 بجے کروٹ لی اور رات بھر برف باری اور بارشوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ کپواڑہ ضلع کے با لائی علاقوں میں بھاری  جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی برف با ری ہو ئی ۔ گلمرگ ، کونگہ ڈوری اور افروٹ پہاڑیوں اورمضافاتی علاقوں میںبرفباری کا سلسلہ پورادن وقفہ وقفہ سے جاری رہا۔ سونہ مرگ

مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کیلئے پُراُمید ہوں:گیوٹرس

اقوام متحدہ//اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگیوٹرس نے کہا ہے کہ اُنہیں اُمید ہے کہ کشمیرکامسئلہ بھارت اورپاکستان کے درمیان پرامن طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔گیوٹرس نے جمعہ کو کہا کہ اقوام متحدہ کاموقف اور قراردادیں جو اُس وقت پاس ہوئی تھیں،وہی ہیں۔ہماراکام وہاں امن کو قائم رکھنا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اورہم اس کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کئی باراپنے دفترکوپیش کیا اور ہمیں امید ہے کہ یہ کچھ ایسا ہے جسے پرامن طور حل کیاجاسکتا ہے اورکشمیرمیں جوصورتحال ہے ،اُس میںانسانی حقوق کااحترام کیاجارہا ہیں اوراس میں لوگ امن وسلامتی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ گیوٹرس کشمیر کے بارے میں پوچھے گئے ایک پاکستانی صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔نئی دہلی نے واضح کیا ہے کہ اُسے مسئلہ کشمیرپربھارت اور پاکستان کے درمیان کسی تیسرے فریق کی ثالثی منظور نہیں ہے اور کہہ رہا ہے کہ اُس کا موقف دہائیوں سے وا

سب سے لمبی ریل ٹنل کا ایک حصہ آر پار ہوا

بانہال // بانہال کے کھڑی آڑ پنچلہ علاقے میں کشمیر ریل پروجیکٹ تعمیر کرنے والی IRCON کمپنی نے اب تک کے سب سے لمبی ریلوے ٹنل کے دو کلومیٹر کے حصے کو آر پار کرکے ایک اور سنگ میل عبور کرلیاہے۔ ٹنل کو آر پار کرنے کی تقریب ہفتے کے روز عمل میں لائی ۔ اِرکان انٹرنیشنل حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کٹرہ اور بانہال کے 110 کلومیٹر کے سیکٹر میں کھڑی اور سمبڑ کے درمیان تقریبا ً13 کلومیٹر لمبی ٹنل کے دو کلومیٹر حصے کو  ہفتے کے روز آر پار کیا گیا اور یہ ادہمپور ۔ سرینگر ۔ بارہمولہ ریل پروجیکٹ کا ایک سنگ میل ہے اور خصوصی طور بانہال کٹرہ سیکٹر میں بڑی پیش رفت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قریب دو کلومیٹر لمبی ٹنل کا یہ حصہ کنڈن اور آڑ پنچلہ کے درمیان ٹنل نمبر 49B میں تعمیر کیا گیا ہے اور یہ اب تک کے سب سے لمبی  ریلوے ٹنل کا حصہ ہے جو کھڑی اور سمبڑ کے درمیان تعمیرکی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کٹراہ ا

دہی علاقوں میں عمارتوں کی تعمیر

سرینگر// انتظامیہ نے دیہی علاقوں میں رہائشی مکانات و تجارٹی عمارات کی تعمیرات،تعمیر نو اور مرمت کی منظوری کیلئے حکام کو نامزد کیا ہے۔محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ پنچایتی راج قانون مجریہ1989 کی دفعہ2 شق12 کی ذیلی شق (IV) اور جموں کشمیر پنچایتی راج ضوابط مجریہ1996 کے ضابطہ 155اور156 کے تحت حاصل اختیارات دیہی علاقوں میں رہائشی مکانات و تجارتی عمارات کی تعمیر ،تعمیر نو اور مرمت کی منظوری کیلئے با اختیارحکام کی نامزدگی کو منظوری دی گئی ہے۔ حکم نامہ کے مطابق پنچایتوں کے حدود میں رہائشی مکانات کی اجازت کا اختیار حلقہ سرپنچ،ولیج لیول ورکر( پنچایت سیکریٹری) اور پٹواری حلقہ کو ہوگا،جبکہ تجاری عمارات اور دکانات کے اجازت ناموں کیلئے متعلقہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ(چیئرمین)،متعلقہ تحصیلدار،ٹائون پلاننگ افسر،بلاک ڈیولپمنٹ افسر اور متعلقہ حلقہ سرپنچ کو ہوگا۔ آرڈر میں مزید کہا